Tere hissar mei episode 34,35

کیان دیکھوں میرے نزدیک مت آنا ورنہ میں پولیس کو کمپلین کروگا۔جواد کیان سے بچنے کے لیے ٹیبل کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔

“اچھا ذرا میں بھی تو دیکھوں بلی خود کو شیر کب سے سمجھنے لگی “۔کیان نے اس کی جانب پیپر ویٹ پھینکا جسے جواد نے فورًا  کیچ کرلیا ۔کیان نے اسے تھوڑی جدوجہد کے بعد پکڑ لیا کیوں کے جواد ٹیبل کے گرد گھوم رہاتھا۔

“اب بول تجھ میں اتنی ہمت کیسے آئ کے تو نے حیا کو نشہ آور چیز ِکھلائ”کیان نے اس کے منہ پہ ایک ٹھپڑ جڑ دیا۔

“میں نے مزاق کیا تھا کیان میں بول رہا ہوں “۔

“مزاق کررہاتھا یہ کیسا مزاق ہےاگر میں نہ پہنچتا تو پھر اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہوجاتا تو “۔کیان نے جواد کا گریبان پکڑ کے ُاسے دیوار کے ساتھ لگایا ۔اور اس کے منہ پہ ُمکا مارا ۔

“میں نے فریدون کو کال کی تھی اس سے پوچھا تھا تم کہا ہو کل بڑی یاد آرہی تھی تمہاری تو اس نے خبر دی تھی کے سر  لیوندڑ لیک جارہے۔بس پھر حیا کو تو پہلے سے دیکھا ہوا ہے بی جان کے ُتھرو تو میرے دماغ میں آئیڈیا آیا تمہیں تنگ کرنے کا “۔

“پہلی بات حیا نہیں بھابی بول دوسری بات بہت ہی بھونڈا مزاق تھا آیئندہ ایسا مزاق کرنے سے پہلے سوبار سوچنا اگر تو میرا بچپن کا دوست نہ ہوتا تو ایسا کرنے والے کا سر ڈھڑ سے الگ ہوتا “۔یہ کہ کے کیان نے جواد کو گلے لگالیا۔۔


“ویسے تو تیری میری بات چیت بند ہے کیوں کے تونے مجھے بغیر بتاۓ شادی کرلی  پر میں اتنا لمبا عرصہ تجھ سے دور نہیں رہ سکتا اسی لیے کل فریدون کو کال کی تھی  “۔

کیان اور جواد آفس میں رکھے صوفے پر جا کے بیٹھ گۓ۔

“اچھا تو پھر دو مہنے سے تو میں امریکا میں ہوں کیوں نہیں آیا”.کیان نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے سیگریٹ سلگاہتے ہوۓ جواد کی طرف دیکھا۔

“کیوں آتا میں تیرا اکلوتا بچپن کا دوست ہوکے تو نے مجھے اپنی شادی میں نہیں بلایا میرے بھی کچھ ارمان تھے اپنے یار کی شادی میں کرنے کے لیے”۔جواد نے افسردہ ہوکر کیان کے ہاتھ سےسیگریٹ لے کر ایک گہرا کش لیا۔

“تو پھر تو اپنے ارمان پورے کرلےجواد ,میری شادی ابھی نہیں ہوئ ,بی جان اسی ہفتے میں کرنے کا پلین کررہی ہے”۔

کیان نے سیگریٹ پیتے ہوۓ جواد کودیکھا جو کیان کو گلے لگانے لگا۔

ْ”بہت بہت مبارک ہو میرے یار بس اب بلکل برداشت نہیں ہوتا اب تجھے دیکھ کر میں بھی اپنے ہاتھ نیلے کرلوگا”۔

جواد کی بات پہ کیان کا بلند بالا قہقہ گونجا ۔

“گدھے نیلے نہیں پیلے, اب ُاٹھ گھر چل تجھے تیری بہن سے انٹڑوڈیوس کراؤ پھر بی جان سے کہ کے تیرے ہاتھ بھی نیلے کرانے ہے “۔شاھ کے چہرے بے مسکراہٹ چھا گئ پھر دونوں باہر کی جانب چل دیے حیا اور بی جان سے ملنے۔

                        ۞۞۞۞۞۞۞۞۞ 

“چاچو آپ تو عید کا چاند ہوتے جارہے ہے میں جب بھی آتا ہوں آپ مجھے ملتے ہی نہیں ہے “۔کیان نے رحمان صاحب کو گلے لگاتے ہوۓ کہا۔

“بس بیٹا اتنے عرصے کے بعد اپنے ُپرانے جاننے والے جہاں مل جاۓ وہاں وقت گزرنے کا پتہ نہیں لگتا تم سناؤ میرے  شیر اتنا لمبا عرصہ کوئ رہتا ہے دور “۔

بس چاچو کام ہی ایسا ہے  آپ اس سے ِملے یہ میرا دوست ہے جواد خانزادہ “۔

“کیسے ہے انکل آپ”۔

جواد نے ان سے ہاتھ ملاتے ہوۓ کہا۔

“مالک کا کرم۔ہے بیٹے آپ آۓبیٹھے “۔

“جواد تم چاچو سے گپ شپ کرو میں ذرا آیا”۔

کیان گھر کے اندرونی حصے میں حیا کو آواز لگاتے ہوۓ اوپر کی جانب آیا۔اپنے کمرے میں جھانکا جہاں حیا اسے اپنے بالوں کے ساتھ ُالجھی ہوئ ملی ۔کیان بے دبے پاؤ حیا کو پیچھے سے حصار میں لیا جس پہ حیا دڑ کے مارے ُاچھل پڑی۔

“شاھ آپ نے تو مجھے ڈڑا دیا ایسے کوئ کرتا ہے “۔حیا نے آنکھیں ترچھی کرکے کیان کو دیکھا جو اسے اپنے حصار میں لیے  یٹھا تھا۔

“جی ہاں ایسا صرف آپ کے شوہر نامدار کرسکتے ہے”۔یہ کہتے ہوۓ کیان نے اس کے ُرخصار پہ اپنے لب رکھے  ۔حیا کیان کی حرکت پہ بلش کرگئ۔

“کہا تھے آپ صبح کے گۓ ہوۓ اب شام کے وقت آرہے ہے”۔

“اوووو! !! تو حیا کیان علی شاھ مجھ ناچیز کو ِمس کررہی تھی “۔کیان نے ذرا سا اونچا کر کے حیا کو ڈڑیسنگ ٹیبل کے اوپر بٹھادیا ۔

“جی نہیں بہت سارے کام۔ہوتے ہے میرے پاس آپ کے علاوہ “۔حیا کی بات پہ اس کے بال چہرے سے پیچھے کرتے ہوۓ جیان علی شاھ کے ہاتھ ُرک گۓ۔

rEALLY..

کیان نے ایک ابرو ُاچکاۓ اسے دیکھا جو کمرے کی کھڑکی سے باہر کچھ ڈھونڈ رہی تھی ۔

“اچھاذرا مجھے بھی تو پتہ چلے وہ ضروری کام”۔ کیان نے اسے اپنائیت سے دیکھا پھر انگشتِ شہادت اس کی تھوڑی تلے رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا۔

حیا سے اسے کوئ جواب دیا ہی نہیں گیا۔۔

“آپ تو بتاۓ گی نہیں اب میں ہی بتادیتا ہوں حیا کیان علی شاھ کی زندگی میں صرف ایک ہی ضروری کام۔ہے اور وہ اپنے شوہر کیان علی شاھ کو پیار کرنا “۔

کیان نے یہ کہتے ہوۓ حیا کے دونوں ہاتھ اپنے گردن کے ِگرد رکھ لیے ۔حیا نے ہٹانا چاہا تو کیان نے سر نہ میں ہلایا ۔

اور اس کے پاس ہوا بہت پاس اور مہر۔محبت ثبت کی ۔پھر حیا کو ڈڑیسنگ سے نیچے اتارا اور اس کا ہاتھ تھامے صوفے کے نزدیک لایا ۔

جلدی سے ڑیڈی ہوکر نیچے آؤ مجھے تم سے کسی کو ملوانا ہے”۔

“بس میں یہ بال باند کے آئ “۔

نہیں جلدی سے میرے سامنے باندو وہ آلریڈی بہت لیٹ ہے اسے کہی جانا ہے”۔

“آپ کو میں نے اسی لیے کہا تھا پچھلی بار بھی یہ بہت لمبے ہوگۓ ہیں اب یہ مجھ سے سنبھالے نہیں جاتے پر آپ کٹوانے نیں دیتے ,آپ کے آنے سے پہلے میں انہی سے ُالجھی ہوئ تھی”۔حیا کا منہ ُہھلاۓ چہرہ دیکھ کر کیان کے چہرے پہ مبہم سی مسکراہٹ چھاگئ۔

“محترمہ آپ کا یہ خادم۔کس مرض کی دوا ہے ادھر آؤ”۔حیا نے نا میں سر ہلایا مگر وہ کیان علی شاھ ہی کیا جو مان جاۓ۔ُاس نے ہاتھ بڑھا کے حیا کو کھینچا وہ لچکیلی ڈال کی طرح کیان علی  اھ کے سینے سے آ لگی ۔

“اب دیکھوں آج تمہارے بال میں کیسے بناتا ہوں “۔یہ کہ کے شاھ نے حیا کا ُرخ شےیشے کی طرف کیا۔

“نہیں شاھ میں خود کرو گی “۔حیا نے شاھ کو پیچھے کیا اور  بالوں کو ہاتھوں میں لپیٹ کے میسی سا ُجوڑا بنایا اور کیان کی طرف دیکھا جو اسے کنفیوز کرنے کے لیے اپنی تھوڑی پہ ہاتھ رکھے مبہم سی ہونٹوں پہ مسکراہٹ لاۓ اسے دیکھ رہاتھا۔

“آپ مجھے ایسے مت دیکھے شاھ “۔حیا نے کیان کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا ۔

کیوں نہ دیکھوں “۔کیان نے اس کا ہاتھ ہٹا کر لبوں سے ُچھولیا ۔ اس بے ساختا حرکت پر حیا شرم۔سے ُسرخ  پڑگئ ۔

میرے خیال سے اس وقت تمہارا میرے ساتھ رہنا خطرے سے خالی نہیں۔شاھ کی مدھم سرگوشی پہ بلش ہوتی حیا نے اپنا سر مزید ُجھکالیا۔

چلو آؤ باہر چلے۔کیان حیا کا ہاتھ تھامے باہر جواد خانزادہ سے انٹروڈیوس کرانے لگا ۔

مجھے بہت اچھا لگا آپ سے مل کے بھابی پرسو آپ کا ریسیپشن ہے اس سے پہلے میں آپ دونوں کو اپنے فارم۔ہاؤس پہ انوائیـٹ کرنا چاہتا ہوں۔جواد کی بات پہ کیان نے اسے دیکھا ۔۔”ایسا ہے کے بیٹا کل کیا ہم تجھے اگلے تین مہینے تک  کوئ شرف نہیں  بخشے گے کل ہمارا شاپنگ کا ارادہ ہے آج تجھے بھگا کے ہم۔لانگ دڑائیو پہ جاۓ گے پھر پرسو ریسیپشن “۔

“اور اس کے بعد تم دونوں َہنیا ُمنیا پہ جاؤ گے”۔جواد نے کیان کی بات بیچ میں سے ُاچک کے اپنا ُجملہ ڈالدیا جس پہ جواد کے َہنیا ُمنیا کہنے پر کیان اور جواد کا فلک شگاف قہقہ مینشن میں ُگونجا۔جب کے حیا شرما کے بی جان کی اوٹ میں ہوگئ ۔

                     ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

شاھ ہم۔کب سے ایسے ہی ُگھوم رہے ہے اب چلے گھر”۔حیا نے ِسیٹ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوۓ کہا۔


بلکل نہیں تم۔ابھی سے تھک گئ حیا  ابھی تو میں نے آغاز کیا ہمارے سفر کا, بے شک ہمارا گزرا وقت کامل نہیں تھا مگر وہ وقت ہمارا اپنا تھا اور میں چاہوں گا میری زندگی کے ہر سفر  میں تم یونہی میری ہمسفر بنو اور ہم اسے تکمیل تک پہنچاۓ “۔

کیان کی اتنی گہری بات پہ حیا چند لمحوں کے لیے اسے دیکھتی رہی پھر اپنی نظروں کاُرخ بدل لیا۔

 اب مجھ سے اتنی دور مت بیٹھنا یہاں آؤ میرے قریب”۔یہ کہ کے کیان نے حیا کو اپنے حصار میں لے لیا۔

“تمہیں پتہ ہے ہیوسٹن میں ایک دن میری نظروں سے ایک ایسی نظم گزری تھی جو میرے دل پہ نکش ہوگئ تھی اور جب جب میں اسےپڑتا تھا تو تم۔بہت شدت سے یاد آتی تھی ۔اب ملکہ عالیہ ہمارے نزدیک آگئ ہے تو آپ اجازت دے تو آپ کا یہ غلام۔آپ کی شان میں کچھ سنانا چاہتا یے “۔شاھ کے انداز پہ حیا ِکھلکھلا کے ہنس دی ۔

اارشاد ارشاد ۔حیا کا ہاتھ ماتھے تک لے جانے پر ڈڑایئو کرتا کیان اس کی جانب دیکھ کے نظرے ہٹانا بھول گیا۔کیان نے اچانک بریک لگائ۔

اب ایسے کروگی نہ کون دشمن ہوگا جو گاڑی چلاۓ گا۔کیان نے یہ کہتے ہوۓ حیا کو اپنے حصار میں کچھ اس طرح  لے لیا  کے حیا کو کیان کی ڈھرکنیں سنائ دینے لگی ۔پھر کیان کی فسو خیز آواز گاڑی کی خاموشی کو ٹوڑنے لگی ۔


 تمہارے ہے کہواک دن 


کہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہے 


کہو اک دن 


جسے تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمہارا تھا 


ستارہ سی جنہیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمہاری ہیں 


جنہیں تم شاخ سی کہتے ہو وہ بانہیں تمہاری ہیں 


کبوتر تولتے ہیں پر تو پروازیں تمہاری ہیں 


جنہیں تم پھول سی کہتے ہو وہ باتیں تمہاری ہیں 


قیامت سی جنہیں کہتے ہو رفتاریں تمہاری ہیں 


کہو اک دن 


کہو اک دن 


کہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہے 


اگر سب کچھ یہ میرا ہے تو سب کچھ بخش دو اک دن 


وجود اپنا مجھے دے دو محبت بخش دو اک دن 


مرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر روح میری کھینچ لو اک دن

کیان کا جادوئ  طلسم حیا کے ارد گرد اپنی مہکتی محبت کا پندار بنا رہاتھا جو حیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہاتھا۔شاھ کے سینے سے لگی حیا کو اپنے دل کی ڈھرکنوں کے شور کے آگےکو کچھ سنائ نہیں دے رہاتھا ۔وہ کیان علی شاھ کی محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی۔

شاھ! !!

حیا نے دوبارہ پکارہ 

شاھ!!!

ہم م م۔م!!!!!کیان نے سر ُاٹھا کے حیا کودیکھا۔

کیا ہوا دیڑ۔

شاھ مجھے دڑ لگ رہا ہے آس پاس دیکھے جنگل ویرانہ ہے بلکل مجھے ڈڑ لگ رہا ہے “۔

حیا نے باہر جھانکتے ہوۓ کہا جہاں دور دور تک کوئ گاڑی نہیں تھی کیان اسے جنگل۔کی طرف جانے والے روڈ پے خود لایا تھا کیوں کے رات کے وقت یہاں ٹڑیفک نہیں ہوتی تھی۔

“حیا تم۔نے پھر ایسی باتیں شروع کردی میں نے تمہیں کیا سمجھایا تھا۔اپنے آپ کو مضبوط بناتے ہے چلو اترو گاڑی سے”۔

کیا میں نہیں ُاترو گی “۔حیا نے کیان کو دیکھا جو گاڑی سے اتر رہاتھا۔حیا نے کیان کا ہاتھ تھاما ۔

نہیں پلیز کیان یہ وقت نہیں ہے ایڈوینچر کا پلیز “۔

شاھ نے اپنا ہاتھ نرمی سے ُچھروایا  اور  باہر نکل آیا ہھر حیا کی طرف کا دروازہ کھول دیا ۔

باہر آؤ۔

میں نہیں آؤ گی شاھ”۔

تو تم نہیں آؤ گی ۔

نہیں شاھ اور آپ  بھی اندر آۓ یہاں ہر طرف جھاڑیا ں ہے کو ئ جنگلی جانور نہ آجاۓ۔حیا نے خوف کے مارے کیان کو اندر آنے کے لیے کہا۔کیان حیا کا دروازہ کھولے چند پل اسے دیکھتا رہا پھر حیا کو اچانک سے گود میں ُاٹھا کے باہر بونٹ پہ لاکر بٹھادیا اس دوران حیا مزاحمت کرتی رہی پر وہ شاھ ہی کیا جو اپنی بات نہ منواۓ ۔

“اب بولوں کیا کہ رہی تھی ۔کیان نے اپنی سیگریٹ ُسلگھاتے ہوۓ کہا پھر حیا کے نزدیک کھڑا ہوگیا ۔

کچھ بھی نہیں  کہ رہی اب پلیز۔مجھے نیچے اتارے۔حیا نے کیان  کے شانے پر ہاتھ رکھا جوگاڑی کے بونٹ کے ساتھ ٹیک۔لگاۓ  سیگریٹ پینے میں  مصروف تھا۔۔آ

ان جنگلوں کو دیکھ کر کبھی کچھ یاد آتا ہے تمہیں حیا۔

کیا یاد آتا ہے شاھ ؟۔حیا نے شاھ کی طرف دیکھا جو اپنے شوز سے سیگریٹ زمین پر ُبجھا رہا تھا۔

کچھ نہیں چلو۔یہ کہتے ہوۓ کیان نے حیا کو نیچے اتارا ۔

“آؤ واک کرتے ہے”۔کیان نے حیا کا ہاتھ تھاما اور چلنے لگا۔

کیان بہت اندھیرہ ہے آگے پلیز وہاں اسٹریٹ لیمپ بھی نہیں آپ پلیز واپس چلے”۔

حیا سڑک پہ ُرکتے ہوۓ بولی جس پہ کیان کے چہرے پہ ُمسکراہٹ چھاگئ ۔

اگر تم۔چلو گی نہیں تو میں ُاٹھا کے لے جاؤگا حیا شرافت سے چلو ۔پھرز کیان حیا سے باتیں کرتا ہواواک کررہاتھا مگر حیا کا سارا دیھان ان درختوں کی طرف تھا اس کے کانوں میں ایک آواز گونجی۔

“رک ُخشیا”۔حیا نے کیان کا بازو کے ساتھ لگ کے چلنے لگی۔۔

میرے بابا کو چھوڑ دو۔حیا کو پھر آواز آئ۔اس نے اپنے داۓ جانب دیکھا مگر وہاں کوئ نہیں تھا۔

“جان پیاری ہے یا عزت”۔ساری آوازیں ایک ساتھ حیا کے کانوں میں گونجنے لگی حیا نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔کیان نے حیا کو دو تین بار ُپکارا مگر وہ اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھے آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔اب کی بار کیان نے

اسے زور سے جنجھوڑا ۔

حیا!!!!!

حیا نے کیان کی طرف بے یقین نگاہوں  سے دیکھا۔

شاھ م م مجھے بچالو وہ وہ ُخشیا مجھے لے جاۓ گا شاھ مجھے بچالاو پلیز۔ حیا بے قابو ہورہی تھی کیان نے اسے اپنے مضبوط بازوؤں سے تھاما ۔

حیا ہوش میں آؤ کوئ ُنہیں آرہا یہاں دیکھوں میری طرف۔ کیان نے اسے بازوؤ سے تھام۔کے جنجھوڑا, حیا نے ساکت نظروں سے کیان کو دیکھا  پھر شاھ کے سینے سے لگی زاروقطار رو پڑی ۔

شاہو مجھے گھر جانا ہے پلیز۔مجھے بہت چکر آرہے ہے مجھے گھر لے جاؤ ۔

اچھا ہم۔جارہے ہے ریلیکس!!!!

کیان نےاسے سر ُجھکاۓ دیکھا پھر اپنے مضبوط بازوؤں میں ُاٹھاۓ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

راستے بھر حیا شاھ کے بازو کے ساتھ سر ٹکاۓ بیٹھی رہی شاھ نے اسے ایک دو بار آواز لگائ مگر حیا شایدسو ُچکی تھی۔

کیان اسے مینشن لانے کے بجاۓ اپنے اسٹوڈیو اپارٹمنٹ میں لے آیا۔حیا کو اپنے مضبوط بازوؤں میں ُاٹھاۓ بستر پر احتیاط سے لٹا کر اس کے نازک پیروں سے اس کے سینڈلز اتارے پھر کمرے کا اے سیُ فل کرتا حیا پہ کمبل اوڑایا  اور خود داکٹر کو حیا کی طبیعت کا بتانے لگا پھر مزید چند باتیں کرکے فون بند کردیا ۔حیا جے داکٹرز کے مشورہ پہ ہی بی جان رحمان صاحب اور کیان حیا کو کچھ نہ کچھ ایسا کرتے جس سے اسے آہستہ آہستہ کچھ باتیں یاد آبے لگتی مگر ساتھ یی حیا کو چکر آنے لگ جاتے جو کیان علی شاھ کے لیے سب سے پریشان ُکن بات تھی۔کیاں مسلسل کمرے کے ساتھ بنی چھوٹی سی بالکنی میں کھڑا سیگریٹ پر سیگریٹ سلگھارہا تھا۔وہ پچھلے تین چار گھنٹے سے مضطرب سا کبھی کمرے میں کبھی بالکنی میں چکر لگالیتا۔

“اگر میں ذرا سی دیر آنکھیں بند کرلو تو آپ ساتھ ہی میری سوتن کو منہ سے لگا لیتے یے “۔حیا کی آواز پہ کیان نے چونک کے پیچھے دیکھا جو کالے ٹڑاوزر پہ کالی گھٹنوں تک آتی ٹاپ پہنے بنا اسکارف کے ُکھلے بالوں میں نیند میں کیان کی تلاش میں ِادھر ہی آگئ۔حیا نے آگے بھڑ کے شاھ کے منہ سے سیگریٹ نکالی اور اسے ایش ٹڑے مین ُبجھادیا اس دوران شاھ نے جو ُکرسی پہ بیٹھا ہواتھا حیا کو اپنے پاس گرالیا۔

شاھ یہ دیکھے ایش ٹرے پوری بھری ہوئ ہے اتنی کوئ پیتا ہے جتنی آپ پیتے یے “۔حیا نے نیند سے بھری اپنی آنکھیں پوری کھول کے کیان کی طرف دیکھا جو اس کی بات پہ مبہم سا ُمسکرایا ۔

“اسی لیے تو کہتا ہو تم۔دونوں میرے لیے نشہ کی طرح ہو جن کے بغیر کیان علی شاھ نہیں رہ سکتا, اب اگر تم اس سے پیچھا ُچھڑانا چاہتی ہو تو زیادہ سے زیادہ میرے نزدیک رہا کرو “۔کیان نے یہ کہتے ہوۓ اس کے چہرے پہ بکھرے بالوں کو پیچھے کیا۔پھر اس پر اپنی گرفت مضبوط کرلی, حیا نے ہاتھ میں پکڑا ایش ٹڑے گرل پر رکھ دیا ۔

“آپ سوۓ کیوں نہیں تھے ابھی تک “۔حیا نے سوال کرتے ہوۓ شاھ کی بولتی نظروں سے بچنے کے لیے اس کے سینے میں خود کو مقید کرلیا”۔

“آپ جو ہمیں چھوڑ کر سو گئ تھی “۔کیان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا ۔

م م مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا وہاں جنگل کو دیکھ کر میں اب ایسی جگہ پہ نہیں جاؤگی “۔حیا نے کیان کے ٹی شرٹ پہ اپنی شہادت کی انگلی سے کچھ لکھتے ہوے کہا۔

“محترمہ جسے آپ ہماری دل پہ لکھنے کی کوشش کررہی ہے وہ محترمہ پورے حق سے اندر بیٹھی ہے “۔

کیان نے حیا کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔

“آپ کو کیسے پتہ میں کیا لکھ رہی ہوں “۔حیا نے سر ُاٹھا کے کیان کی طرف دیکھا ۔۔

“جس گھر کے باہر آپ لکھ رہی ہے وہاں کی مالکن نے “۔کیان نے سر حیا کے سر سے ٹکراتے ہوۓ کہا۔

“کیان ایک بات بولوں مجھے نہ نہیں سن نی مجھے بی جان سب باتیں بتاتی تھی مجھے یاد ہے انہوں نے مجھء بتایا تھا آپ نے پاکستان میں اپنی سوتیلی ماں اور ان کی بیٹی کو قید کیا ہوا ہے آپ پلیز انہیں آزاد کردے”۔

“حیا تم دنیا کی جس چیز پہ یاتھ رکھوگی کیان علی شاھ اسے تمہارے قدموں مین لا کر رکھے گا پر ان دونوں کے علاوہ “۔۔

کیان نے سرد نگاہوں سے ان دونوں کے زکر پہ حیا کو دیکھا ۔

“پھر ٹھیک ہے میں بھی آپ سے بات نہیں  کرو گی اگر آپ نے انہیں آزاد نہیں کیا تو “۔حیا کہتے ہوۓ کیان کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی جس کی مضبوط پناہوں کے قلعے سے نکلنا حیا جیسی نازک اندام لڑکی کے لیے مشکل تھا۔

“جتنی مرضی کوشش کرلو میری جان تمہاری پناہ گاہ یہی ہے کیان علی شاھ کے  سینے میں رہی بات ہر وہ انسان جو تمہیں تکلیف پہنچانے کا باعث بنے گا اسے میں ساری زندگی اسی طرح ٹڑپاؤگا میں اسے یہ آخری دم تک احساس دلاؤ گا کے اس نے کس کی زندگی پہ ہاتھ ڈالا تھا”۔

“شاہو پلیز میری بات مان جاۓ میں اپنی زندگی کا آغازکسی کی بددعائیں لے کر نہیں شروع کرسکتی پلیز یہ میری ریکیوسٹ ہے”۔

حیا نے شاھ کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام۔کر اس سے التجا کی ۔

پل”پہلے کیا میں کم گھائل ہو جو تم مجھے اور مارنا چاہتی ہو اس طرح میرے ساتھ رات کے اس پہر مت کرو میں تمہارے ساتھ وہ لمحات اپنے ریسیپشن کے بعد گزارنا چاہتا ہوں مگر تم۔مجھے مجبور کررہی ہو ۔اور تم التجا نہیں حکم دیا کرو اپنے غریب شوہر کو کیوں کے تم کیان علی شاھ کے دل کی ملکہ ہو “۔یہ کہتے ہوۓ کیان نے حیا کا چہرہ تھامے اس کی پیشانی مہر محبت ثبت کی ۔

“اگر تمہیں وہ دونوں آزاد چاہیے تو اس کی آپ کو میڈم۔قیمت ادا کرنی پڑے گی”۔

“قیمت! !!! آپ مجھ سے قیمت لے گے شاھ ؟۔چلے بتاۓ کیا قیمت ہے آپ کو نہیں معلوم۔میرے شوہر کتنے امیر ہے “۔۔

کیان نے اپنی ایک ابرو ُاچکائ پھر حیا کو مسکراتے ہوۓ دیکھا۔

“جو قیمت آپ کو ادا کرنی ہے محترمہ اس کے لیے تو آپ کے شوہر خود بہت غریب ہے کیوں کے ان کی بیوی انہیں دیتی ہی نہیں اگر وہ دیتی تو پھر آپ کہ سکتی تھی کے وہ بہت امیر ہے “

“ایسا کیا ہے کیان جو آپ کے پاس نہیں ہے “۔حیا نے پریشانی سے پوچھا ۔کیان نے کچھ پل اپنی معصوم  بیوی کو دیکھا پھراسےایک جھٹکا دیا اورگلا ب کی ان پنکھڑیوں کی ساری شبنم چرالی کچھ لمحوں بعد کیان نے سر ُاٹھایا تو حیا گلاب کے پھول کی طرح گلابی ہورہی تھی ۔

“اب دیکھوں تمہیں میں نے امیر کردیا اب مجھ غریب پر بھی رحم۔کھاؤ ورنہ بھول جاؤ کسی کیان علی نے تمہیں آفر دی تھی کسی کو آزاد کرانے کی “۔حیا جو شاھ کی گرفت میں کپکپارہی تھی کیان کے سینے پہ ایک ُمکا مارا۔

“بہت ُبرے ہے آپ کیان “۔

تو پھر میں نہ سمجھوں “۔کیان کی پھر آواز آئ ۔حیا نے کچھ لمحے شاھ کو دیکھا پھر ان بولتی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا ۔کیان اور حیا کو کیان کی سانسوں کی حدت ُجھلسارہی تھی ُاس کے دل۔کی ڈھرکن اتنی تیز رفتار سے چل رہی تھی کے اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا دل باہر آجاۓ گا ۔حیا نے کپکپاتی ان گلاب کی پنکھڑیوں کی ساری شبنم پاس بیٹھے اپنے شریک حیات کو سونپ دی, شاھ نے واپس سر ُاٹھاتی حیا کے بالوں پہ زور دے کر اسے ہٹنے سے منع کیا پھر یونہی رات ڈھلتی رہی چاند انہیں دیکھ کر مسکرانے لگا۔

             ۞۞۞۞۞۞۞۞

حیا تم اس دیزائنر کے اوپر پورا ٹڑسٹ کرنا جو پسند آۓ لے لو بٹ برائیڈل ڈریس میں خود اپنی پسند کا لوگا۔

کیان کی بات پہ حیا کے چہرے پہ مسکراہٹ چھاگئ۔

“پر آپ جا کہا رہے ہے “۔

“یار وہ خبیث جواد باہر آیا ہے اندر نہیں آرہا میں اس کی بات سن کر آیا”۔

ٹھیک ہے”

کیان علی شاھ جیسے ہی باہر جواد کی گاڑی کے پاس آیا ُاس میں سے بیس یا بائیس سال کی سنہرے بالوں والی گھٹنوں تک آتے ایش گرے رنگ کا فراک پہنے ماڈرن سی لڑکی نکلی۔جس نے باہر نکلتے ہی کیان علی شاھ کو گلے لگالیا۔کیان علی شاھ اسی وقت اسے پیچھے کی طرف کیا۔

“آج بھی ویسے کے ویسے ہو تم کین”۔اس لڑکی نے انگریزی لہجے میں کیان کا نام۔اپنی زبان میں کہنے کی کوشش میں کیان سے کین کردیا سامنے بوتیک کے شیشے سے جھانکتی حیا کے اندر ایک جلن سی شروع ہوگئ ۔

“اس ِچپکوں کو یہاں تو کیوں لے کر آیا ہے”۔کیان نے خالص اردو میں جواد سے پوچھا جو کیان اور سویٹا کو دیکھ کر ہنس رہاتھا کیان سویٹا اور جواد اسکول سے لے کے کر  یونیورسٹی تک ایک ساتھ پڑھے تھے مگر کیان کو اس کی طرح کی بے باک لڑکیاں پسند نہیں تھی جو بار بار اپنی نسوانیت کو نامحرموں کو پیش کرتی تھی بے شک ان کے ماحول میں یہ چیزیں عام۔سمجھی جاتی تھی پر کیان علی شاھ کو ان چیزوں ِچڑ تھی ۔جب کے سویٹا پاگلوں کی حد تک کیان علی شاھ  سے محبت کرتی تھی ۔

یار اتنا رورہی تھی تیرے لیے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا اسی لیے لے آیا میں اور بھابی کے سامنے اس لیے نہیں گیا اسے لے کر کیوں کے یہ تجھے پپیہ جھپیہ بہت دیتی ہے اور میں نہیں چاہتا میری بھابی کو کچھ ہوا اسی لیے ہم باہر آگۓ۔کیان نے چند پل سویٹا کو دیکھا پھر اس کے چہرے پہ مسکراہٹ چھاگئ۔

“سویٹا کل میرا ریسیپشن ہے کاڑد تمہیں پہنچ جاۓ گا تم۔نے کل آنا ہے تمہاری بھابی ابھی اندر بزی ہے ہم۔برایڈل دڑیس لینے آۓ ہے تو اچھا نہیں لگتا اس لیے کل شام۔کو پاڑٹی میں ملتے یے”۔

“کیا کین تم شادی کررہے ہو مجھے بتایا بھی نہیں تم۔جانتے ہو نہ میں تمہیں کتنا پسند کرتی ہو پھر بھی تم نے میرے بارے میں نہیں سوچا”.سؤیٹا کے آنکھوں سےآنسوں نکل آۓ۔

آگے جاری ہے۔۔۔ 


About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *