Tere hissar mei episode 33

شاہ ُرکے پلیز۔حیا کیان کے ساتھ کھینچھی چلی جارہی تھی آس پاس سے گزرتے لوگوں کے اس خوبصورت جوڑے کو دیکھ کر واؤ, بیٹی فل جیسے جملے سنتے کیان اور حیا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔

کیان نے فرنٹ ِسیٹ کا دروازہ کھول کر حیا کو بٹھایا پھر اس کی میکسی زمین سے ُاٹھا کر اندر رکھی اور خود بھی ڈڑایئونگ ِسیٹ پہ آ کر بیٹھ گیا۔اور گاڑی لیونڈر لیک سے باہر نکال لایا ۔

اب بتاؤ کیا کہ رہی تھی ۔کیان نے موڑ  موڑتے ہوۓ پوچھا۔

کچھ بھی نہیں ۔حیا نے اپنے چہرے پہ سختی لاتے ہوۓ باہر کی جانب نظریں موڑ دی ۔

او ہو تو یہاں کی ہوا لگ ہی گئ حیا کیان علی کو۔۔

۔شاھ نے اسے چھیڑتے ہوۓکہا جو اپنے غصہ کو اندر دباتی ہوئ لال ہورہی تھی ۔کیان کے چہرے پہ مسکراہٹ چھا گئ۔

حیا۔

حیا۔

شاھ نے اسے دو بار آواز دی پر حیا نے اسے جواب نہیں دیا بلکہ اپنے ِگرد ہاتھ لپیٹے باہر دیکھتی رہی ۔پھر کیان نے بھی اسے مخاطب نہیں کیا اور گاڑی کی رفتار بڑھادی۔

گھر پہنچ کر حیا نے شاھ کے دروازہ کھولنے کا بھی انتظار نہیں کیا اور اندر کی جانب بڑھ گئ۔کیان اسٹیرنگ پہ ہاتھ رکھے مسکرانے لگا۔۔

پھر گھر کے اندر قدم بڑھادئیے۔جہاں حیا بی جان کے ساتھ صوفے پہ بیٹھی شاھ کی شکایتیں لگارہی تھی۔کیان کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر حیا نے خاموشی اختیار کرلی۔

ہاں جی کچھ کمی تو نہیں رہ گئ تمہاری حیامیں, کہی سے ٹوٹی پھوٹی تو نہیں,پھر تم بعد میں ہم۔پہ نام لگاؤ  ۔

بی جان کی بات پہ کیان نے جاندار قہقہ لگایا اور حیا کے برابر میں بیٹھ گیا جو بی جان کے ساتھ لگ کے بیٹھی ہوئ تھی ۔

بخدا بی جان یہ الزام۔ہے مجھ پہ میں نے بس تھوڑا سا غصہ کیا تھا۔کیان نے بی جان کے ساتھ بیٹھی حیا کا ہاتھ تھاما جو ُاٹھنے کے لیے پر تول۔رہی تھی ۔

“اسے تم۔تھوڑا کہتے ہے سن رہی تھی میں باہر کا شور جو تم۔گاڑدز کے اوپر کررہے تھے ۔قسم اللہ کی میں جب سے جاۓ نماز پہ بیٹھی تھی کے تمہاری حیا میڈم صحیح سلامت آجاۓ ورنہ تم۔نے پورا نیویارک ہلادینا تھا۔بی جان نے حیا کے ساتھ بیٹھے کیان کو مخاطب کیا جو اب صوفے کے ساتھ ٹیک لگاۓ حیا کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا ۔اور حیا بی جان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی ۔

“تو کیا کرو جب سے یہ محترمہ میری زندگی میں آئ ہے میں خود کوبزنیس مین کم اور ڈون زیادہ سمجھنے لگا ہوں ۔کیان نے بی جان کے ساتھ لگ کے بیٹھی حیا کو کندھے سے تھام۔کے اپنے ساتھ لگایا ۔

چل پگلے۔بی جان ہسنے لگی۔

کیان یہ کیا کررہے ہے آپ بی جان بیٹھی ہے۔حیا اپنا کندھا ُچھڑا کے سیدھی ہوکر بیٹھ گئ۔

ڈیڑ بی جان میری بیسٹ بڈی ہے کیوں بی جان۔کیان نے بی جان کو دیکھا ۔

بس بیٹا اب ان۔ہڈیو میں جان نہیں باقی کب اللہ کا بلااوا آجاۓ کچھ معلوم نہیں بس اب تمہارے بچوں کو کھیلانا ہے  اب تم۔دونوں کا ریسیپشن۔کرکےپھر رحمان کے ساتھ عمرے پہ جانا ہے ۔اب پہلے والی غلطی نہیں دھراؤگی بس تم۔دونوں مجھے تاریخ بتادو کب رکھنا ہے ریسیپشن ۔۔

بی جان جب مرضی رکھ لے اس ہفتہ میں آپ حیا سے پوچھ لے ۔

 اس نے بی جان کی نظرو سے بچا کے حیا کی کمر کے ِگرد بازو حمایئل کیے اپنی بولتی گہری  نظریں حیا پہ ڈالی جو اس کی ُاس حرکت پہ ہل بھی نہیں پارہی ۔

بتاؤ حیا ۔کیان نے اپنی انگلیوں کا دباؤ اس کی کمر پہ ڈالا جو ُاس کی ِاس حرکت پہ لال ہوگئ تھی۔حیا اسے نظروں سے خود کو چھوڑنے کے لیے بول رہی تھی۔جو اس کی التجاؤ پر اپنا حصار اور مضبوط کرتا جارہا تھا۔۔

بی جان مجھے واشروم جانا ہے۔۔کیان کا حیا کی بات پہ فلک شگاف قہقہ نکل پڑا ۔

اس میں ہسنے کی کیا بات ہے ۔حیا غصے سے شاھ کی طرف پلٹی جو بات بات پہ مسکرارہا تھا۔

میرے خیال۔سے تم۔دونوں ُکھل کے لڑلو پہلے پھر صبح تک مجھے بتا دینا کب کی تاریخ رکھو میں عشا کی نماز پڑھ لو۔بی جان اپنے کمرے کی جانب چل پڑی۔

حیا ایک دم سے شاھ کی طرف پلٹی ۔

کیان مجھے چھوڑے مجھے سچ میں واشروم۔جانا ہے ۔کیان نے حیا کے دوبارا کہنے پہ اسے ایک جھٹکے سے خود میں سما لیا ۔

تم۔نہیں جانتی تم۔میرے لیے کیا ہو حیا ۔تم میرے لیے میرے جسم۔کا ایک ایسا ُجز ہو جسے ذرا سی آنچ بھی آجاتی ہے تو میرے پورے جسم۔میں ہلچل مچ جاتی ہے ۔کیان نے اسےسینے سے لگاۓ اپنے لب اس کے کندھے پہ رکھے ۔جس میں  گرماہٹ کے ساتھ شدت تھی جو حیا کی جسم میں  برقی سی دوڑا گئ۔



آج تم۔نے یہ جملا کہ کے مجھے ہمارا گزرا وقت یاد دلادیا۔جس میں بہت ُبری یادیں بھی رھی اور اچھی بھی مگر مجھے اب تمہارے ساتھ نئ یادیں بنانی ہے جس میں کوئ تلخی نہ ہو صرف ہمارا پیار ہو جسے ہم۔دن بدن ا پنی محبت سے پروان چڑھاۓ گے ۔شاھ سرگوشی کے انداز میں حیا سے اپنا دل کا حال بیان کررہاتھا جو کیان کے اتنی شدت۔سے تھامنے پر اس کی ہر بات پہ لبیک کرر ہی تھی ۔۔

بولو دوگی نہ میرا ساتھ ۔کیان نےاپنا سر ُاٹھاتے ہوۓ پوچھا۔جو اس کے حصار میں خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت ترین سمجھ رہی تھی ۔

میں شایدآپ سے بہت نراض ہوں ۔

اچھا کیوں مجھے تو نہیں لگتا یہ ناراض ہونا کسی کی ڈکشنری میں لکھا ہے۔کیان نے سر جھکا کے اسے دیکھا جو ُاس کی کمیز پہ اپنی انگلیوں سے کچھ لکھ رہی تھی۔

آپ بہت لوز ٹیمپرمنٹ کے ہے۔آپ ہر کسی کو مارنا شروع کردیتے ہے یہ بہت غلط بات ہے ایسے تو میں آپ کے ساتھ کہی بھی نہیں جاؤ گی مجھے یہی خوف ہوگا کے آپ کسی سے لڑائ نہ لڑے۔

خوف!!!!

کس چیز کا خوف ہوگا حیا کیان علی کو, کیا میں پوچھ سکتا ہوں ۔شاھ نے اس کے ُجوڑے میں سے نکلتے ہوۓ بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓ نہایت توجہ سے ُاسے دیکھا جس کی گھنی مڑی پلکیں کیان کی گرم لو دیتی نگاہوں سے لرز رہی تھی۔

بتاۓ حیا کیان علی شاہ میں اس خوف کی وجہ جاننا چاہتا ہوں جو آپ کو میرے ساتھ باہر جانے سے ہوگا ۔کیان نے تھوڑی سے ُاس کا چہرہ اوپر کیا۔جس کی آنکھوں پہ لرزتی پلکوں کا پردہ ابھی بھی تھا۔

میری طرف دیکھے حیا کیان علی شاھ اور مجھے میرے سوال کا جواب دے۔

آپ کو کوئ نقصان پہنچے مجھے اس چیز کا خوف ستاۓ رکھتا ہے ۔مجھے بی جان نے سب بتایا ہے مجھے سب پتا چل گیا ہے جو مجھے یاد نہیں آتا۔میری وجہ سے آپ کو کتنی پریشانی ُاٹھانی پڑی تھی۔میں نہیں چاہتی اب کچھ بھی ایسا ہو۔حیا نے کیان کے سینےمیں منہ ُچھپاتے ہوۓ اپنے خوف کی وجہ بیان کردی۔جسے سن کر شاھ کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹ چھا گئ۔۔

میری اتنی پرواہ ہے تمہیں ۔۔کیان نے سرگوشی کی حیا کے کان کے نزدیک ۔

بتاؤ۔

میری تمہیں اتنی پرواہ ہے حیا کیان علی شاھ۔اب کی بار شاھ نے انتہائ نرمی سے ُاس کے بالوں سے پکڑ کر سر اوپر کیا۔۔

میرے سوال کا جواب دو حیا کیا تمہیں میری اتنی پرواہ ہے ۔کیان علی شاھ نے حیا کی طرف دیکھا۔

I WANT YOUR ANSWER HAYA Do YOU CARE ABOUT ME?..

کیان نے اپنا سوال ُدھرایا 

 YES!!!!

You have no idea how much i care about you shah, how much you make me smile, how much i love talking with  you .YOU HAVE NO IDEA HOW MUCH I LOVE YOU ..

حیا شاھ کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے اپنی محبت کا اسم سرگوشیوں کی صورت میں پھونک رہی تھی ۔

حیا کے اقرار پر کیان علی شاھ کے اندر خون کی گردش مانو بہت تیز ہوگئ ہو۔اس پل کا ُاس نے کتنا انتظار کیا تھا جو اللہ نے اسے آج دے دیا تھا۔

“اب مجھے جانے دے شاھ۔حیا نے اب بھی اس کی آنکھوں پہ اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

تم نے مجھے کہی جانے دیا ہے جو میں تمہیں جانے دوگا۔۔شاھ نے ایک ہاتھ سےاسے اپنے حصار میں لیے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹایا۔پھر اس پری وش کو دیکھا جو اس سے نظریں نہیں ملارہی تھی بلکہ اس کے حصار میں کپکپارہی تھی ۔کیان نے اس کی لرزتی پلکوں پہ اپنے لب باری باری رکھے ۔

THANK YOU FOR BEING THE RESON I SMILE..

شآھ نے اس کے شرم سے گلنار ہوتے چہرے کے نزدیک سرگوشی کی, پھر اس کے کپکپاتے لبوں کی ساری کپکپاہٹ چن لی اور کچھ لمحوں بعدسر ُاٹھا کے اسے دیکھا جس کا چہرہ شاھ کی پیار کی تپش سے ُسرخ ہوگیا تھا۔

THANK YOU FOR LOVING ME ENDLESSLY..

تم میری روح میں تن کی طرح ُاتر گئ ہو حیا کیان علی شاھ تمہارا مجھ سے دور جانا اب ممکن نہیں  ۔یہ کہتے ہوۓ کیان اسے اپنی مضبوط بازوؤ میں ُاٹھاۓ اپنی خواب گاہ کی جانب قدم بڑھادیے۔۔اپنے کمرے میں لا کے حیا کو بیڈ پہ بٹھایا پھر اپنا کوٹ اتارا اور قدم حیا کی طرف بڑھاۓ جو بیڈ سے ُاتر کر ڈڑیسنگ روم کی طرف بڑھ رہی تھی ۔شاھ نے اسے ایک جھٹکا دے کر خود کے نزدیک کرلیا۔

کہا جارہی ہو۔

چ چ چینج کرنے۔۔

مگر میں نہیں چاہتا تم ابھی چینج کرو ۔یہ کہتے ہوۓ کیان نے اس کے لمبے سلکی بال کھول دیے جو اس کی کمر کو ُچھپاگۓ۔

پھر اس کا ہاتھ تھام کر شیشے کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا ۔اور اپنے بیگ کی جیب سے ایک جیولری پاؤچ نکال کر لے آیا اس میں سے ایک ڈائمنڈ لاکٹ نکالا اور حیا کے بال گردن کے پاس سے پیچھے کیے۔اور اسے نیکلیس پہنانے لگا۔

کیسا لگا۔کیان نے اس کا عکس شیشے میں دیکھتے ہوۓ پوچھا۔

بہت اچھا بہت خوبصورت۔

مگر میری حیا سے زیادی نہیں۔یہ کہتے ہوۓ کیان اپنا چہرہ اس کے بالوں میں ُچھپانے لگا,اس کا لمس اپنی گردن پہ محسوس کرتے ہوۓ حیا کے دل کی ڈھڑکن تیز ہوگئ۔وہ بہکنے لگا تھا ُجو ُجو اس کی لمس میں۔شدتیں بڑھتی جارہی تھی حیا کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔آہستہ آہستہ کیان کے ہاتھ پیچھے حیا کی ِزپ کی طرف بڑھنے لگے جسے کیان نے آہستہ سے کھول دیاپھراسے اپنے مضبوط بازوؤ کے حصار میں لیے بیڈ تک لے آیا اورروم کی ساری لائٹز آف کردی ۔سواۓ لیمپز کے ۔اپنی کمیز کے بٹن کھولتا وہ حیا کے پاس ایک بار پھر اپنے کام۔میں مشغول ہوگیا وہ اس کے چہرے سے ہوتا ہوا اس کے کندھےتک پہنچ گیاا۔

ش ش شاہ۔حیا کی ڈر کے مارے کپکپاتی ہوئ آواز نکلی جس کو آج اپنا بچنا ناممکن دکھ رہاتھا۔  

بولو جانے شاھ ۔کیان نے اپنا سر ُاٹھا کے اسے دیکھا ۔

م م مجھے ۔حیا نے جملہ مکمل۔نہیں کیا۔

مجھے کیا حیا بولو ؟ 

۔ڈر لگ رہا ہے؟۔

شاھ کے سوال کرنے پر حیانے بنااس سے نظریں ملاۓسر ہاں کے جواب میں ہلادیا۔شاھ کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹ چھا گئ۔

ڈڑنے کی ضرورت نہیں کچھ بھی نہیں کررہا۔

آج تمہارے اتنے خوبصورت اقرار کے بعد تمہاری اور اپنی جان ایک کردینا چاہتا ہوں مگر وصل کی اس رات کو میں ریسیپشن تک کے لیے چھوڑ رہاہوں اپنے سارے ڈر بھگا کے آنا ورنہ میں خود بھگادوگا۔یہ کہتے ہوۓ کیان نے ایک بار پھر اس کے چہرے پہ اپنی محبت کے بے تہاشاپھول کھلاۓ کے حیا کا چہرہ لال انار ہوگیا وہ بوکھلا گئ حیا نے اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھ لیے

کیان کے چہرے پہ مسکراہٹ چھا گئ۔

ابھی سے بھاگ رہی ہو مجھ سے اتنا۔کیان نے اس کا سر اپنے سینے پہ رکھے آہستہ آواز میں سرگوشی کی۔ 

Baby,

 you’re all that I want 

when you’re lying here in my arms,

 I’m finding it hard to believe 

we’re in heaven…

حیا نے طمانيت سے اپنی آنکھیں موند لی۔

                  ۞۞۞۞۞۞۞۞

صبح حیا کی آنکھ  شاھ سے پہلے ُکھل گئ اس نے خود کو شاھ کی مضبوط بازووں میں پایا جو اسے خود میں سماۓ کسی معصوم بچے کی طرح آنکھیں ؔموندے سویا ہوا تھا۔ حیا نے کیان کی پیشانی پہ اپنی شہادت کی انگلی پھیری جس پہ ہماوقت بَل پڑیں رہتے تھے حیا کے چہرے پہ مسکراہٹ چھاگئ۔اس نے اپنی نازک ُانگلیوں کیان کی گھنی ُمڑی پلکوں پہ پھیرنا چاہا پر ڈڑ کے ہاتھ واپس کھینچ لیا ۔

اگر یہ آدم ُبو جاگ گیا تو تیری خیر نہیں حیا۔

حیا خاموشی سے اس کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانے لگی مگر شاھ نے اسے اور زور سے خود میں بھینچ لیا۔

آدم بو کسے بول رہی تھی۔ُاس نے اپنی ایک آئ برو ُاٹھا کے اسے دیکھاجس نے اپنی انگلی دانتوں تلے دبالی جوبند آنکھوں سے اس سے سوال کررہاتھا۔

م م میں نے تو نہیں کچھ بولا حیا ایک دم سے بوکھلا گئ۔

آآپ پ سوۓ نہیں تھے۔حیا نے نظریں ُاٹھا کے اس کی طرف دیکھاجو والہانا نظروں سے اسے دیکھ رہاتھا۔

آپ کے ہوتے ہوۓ کون ظالم ہوگا جو سوۓ گا پورے دو مہینے بعد ایسی سکون کی نیند آئ ہےحیا صاحبا آپ کتنی ظالم یے اپنے شوہر کو کتنا ترساتی ہے ۔کیان نے اس کے بالوں میں اپنا چہرہ ُچھپایا جو اس کے قلعے میں قید تھی۔

شاھ آپ مجھ پہ الزام لگارہے ہے آپ کب موقع چھوڑتے ہے ۔۔حیا کے جواب پر اس کی گردن پہ ُجھکا شاھ مسکرا ُاٹھا اور سر تھوڑا سا ُاٹھاۓ اس کی طرف دیکھنے لگا جو شاھ کے پیار کی شدت سے لال گلاب ہورہی تھی۔

تو کیوں چھوڑو تمہیں اتنی مشکلوں سے توہاتھ لگتی ہو میرے ۔کیان یہ کہتے ہوۓ اس کے لبوں کی طرف جھکنے لگا پر حیا نے اپنا چہرہ اس کے سینے میں ُچھپالیا۔

شاھ بس مجھے باہر جانا ہے ۔

ہاہا ہا ۔

ابھی تو میں نے آغاز کیا ہے ڈیڑ اب بھاگنے کی نہیں ہورہی ۔اس چھوٹےموٹے پیار سے تم مجھے بلکل نہیں روک سکتی۔

چھوٹا موٹا ۔حیا نے اس کی شرٹ کو دونوں ہاتھوںسے تھامے سر ُاٹھا کے اسے غم سے دیکھا جو اپنے لمبے لمبے پیار کو چھوٹا موٹا کہ رہاتھا۔

تو اور کیا ۔کیان ایک دم۔سے پھر بڑھنے لگا اس کے چہرہ کی طرف تو حیا نے سر اور پیچھے سرکا لیا۔اس سے پہلے شاھ کوئ کاروائ کرتا اس کا فون بجنے لگا۔

کیان آپ کا فون ہے ۔

میں نہیں  ریسیو کرو گا ۔کیان نے صاف جوا  دے دیا۔

ہو سکتا ہے کوئ امپورٹنٹ کال ہو۔حیا کو بھاگنے کے لیے اس سے اچھا موقع نہیں نظر آرہاتھا۔

تم مجھ سے بھاگنا چھوڑ دو لڑکی ۔یہ کہتے ہوۓ کیان بیڈ سے ٹیک لگاتا ُاٹھ بھیٹا اور ہاتھ بڑھا کے فون تھام لیا جو مسلسل بج رہاتھا۔دوسری جانب سے حیا اترنے لگی تو شاھ نے اس کی کوشش ناکام۔کردی اور فون ریسو کرلیا ۔

بولو فریدون کیا مصیبت آگئ تھی کال بند نہیں  کررہے تھے۔کیان ایک ہاتھ فون کان پہ لگاۓ دوسرے ہاتھ سے حیا کو اپنے حصار میں لیے بیٹھا تھا ۔

سر وہ لیونڈر لیک والی ویڈیوں واٹس ایپ ہوگئ ہے ۔سر وہ جواد صاحب نے میڈم۔کے جوس میں دوائ ملوائ تھی۔

فریدون نے پوری بات بتاکے فون بند کر دیا۔

کیان لب بھینچے اپنا غصہ اندر دبا رہا تھا وہ ایک دم۔سے بستر سے اترا ۔

کیا ہوا کیان آپ کو کس کی کال تھی ۔حیا کیان کے پیچھے بھاگی جو تیزی سے ڈڑیسنگ روم۔کی جانب چلاگیاتھا۔

کیان اپنی کبڑڈ سے اپنے لیے کپڑے نکال رہا تھا ۔

شاہ بتاۓ نہ مجھے حیا اس کے ہیچھے جا کے کھڑی ہوگئ۔کیان جو اپنے غصے میں کپڑے نکالتا ہوا پلٹ رہا حیا کے ایک دم سےپیچھے آنے سے حیا سمیت نیچے گر گیا مگر گرتے گرتے بھی شاھ نے اپنے ہاتھ حیا کے سر کے نیچے رکھ دیے۔جس سے اسے چوٹ نہیں آئ۔کیان نے اسے ُاٹھاتے ہوۓ پوچھا۔

لگی تو نہیں ۔حیا نےسر نہ میں ہلایا کیان نے ہاتھ بڑھا کے اسے کھڑا کیا۔

شاھ آپ کہا جارہے ہے اتنے غصہ میں ۔حیا نے اس کی شرٹ کو تھامتے ہوۓ پوچھا۔

حیا میں کہی نہیں جارہا ایک ارجنٹ کام ہے بس وہ کرنے جارہا ہو۔

شاھ نے اس کے ُرخصار پہ ہاتھ رکھے اسے دھیمی آواز میں سمجھایا۔

تو پھر آپ غصے میں کیوں ہے ۔

میری جان میں تو بلکل غصہ میں نہیں ہوں ۔کیان نے اسے کمر سے تھامتے ہوۓ اس کی ِزپ آہستہ سے بند کی جو رات سے ُکھلی ہوئ تھی ۔

اب سب پریشانیوں کو باۓ کردو اپنی زندگی سے ہمیں بہت سارا انجواۓ کرنا ہے ۔میں چینج کرلو پھر تم۔بھی فریش ہو جاؤ ۔یہ کہتے ہوۓ کیان نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور واش روم۔کی جانب بڑھ گیا۔ ۔۔

               ۞۞۞۞۞۞۞۞

سر مسٹر کیان علی شاھ آۓ ہے آپ سے ملنے ۔

انہیں کہو میں بہت امپورٹنٹ میٹنگ میں ہوں۔

جواد نے فون بند کردیا ریسیپشنسٹ کی بات سن کر۔

سر بزی ہے آپ بعد میں آیۓ گا ۔وہ کیان کی شخصیت سے مرعوب ہوگئ تھی ۔سیکٹری کی بات سن کر کیان غصے میں اندر کی جانب بڑھ گیا۔وہ بنا دروازہ کھٹکھٹاۓ اندر داخل ہوگیا جہا جواد اپنے آفس میں بے چینی سے چکر لگا رہاتھا۔۔

یہ کیا طریقہ ہے کسی کے آفس میں داخل ہونےکا۔۔۔

کیان علی اس کی جانب غصے سے بڑھا جو اپنی ٹیبل کے گرد گھوم۔رہاتھا شاھ سے بچنے کے لیے۔۔


ٹھوڑی دیر تک روح کا سکون بھی اپلوڈ ہوگا اور میں آپ سب کوبتا چکی ہوں یہ ناول۔ہفتہ میں دو بار اپلوڈ ہوگے تو پلیز باربار پوچھ کے مجھے شرمندہ نہ کرے شکریہ

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *