Tere hissar mei episode 32

بیلٹ لگاتے کیان نے کچھ پل کے لیے ُرک کر حیا کو دیکھا پھر ُاس کے چہرے پہ ایک جاندار ُمسکراہٹ چھاگئ۔شاھ نے مسکراتے ہوۓ اپنے لب اس کی پیشانی پہ رکھ دیے ۔

“اب نہیں جاؤگا”۔یہ کہ کے شان نے اس کی زمین پہ پڑی میکسی ُاٹھا کے گاڑی میں رکھی  پھر دروازہ بند کرتا ہوا خود بھی ڈڑایونگ ِسیٹ کی طرف آگیا۔

ُاب بولے محترمہ کیا فرمارہی تھی آپ “۔کیان نے حیا کو دیکھا جو ُدھندلائ آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کررہی تھی ۔

“میں کچھ بھی تو نہیں “۔حیا نے اس انداز میں  بات کی کے کوئ بھی دیکھ کے بتا سکتا تھا کے حیا کو اس وقت نشہ ہوگیا ہے ۔

کیان نے گاڑی چلاتے ہوۓ حیا کو دیکھا جو اب ڈیش بوڑد سےچیزیں ُاٹھا ُاٹھا کے دیکھ رہی تھی ۔کیان گاڑی کے ساتھ ساتھ حیا پہ بھی نظر ڈال رہا تھا جو بار بار و نڈ اسکرین کی طرف آگے ہوکر بڑھ رہی تھی جب کے شاھ گاڑی چلاتے ہوۓ  بار بار اپنا ہاتھ آگے کرکے حیا کو پیچھے کررہاتھا۔

“تم۔لگتا ہے گاڑی نہیں چلانے دوگی “۔کیان نے موڑ کاتٹے ہوۓ لیونڈڑ لیک کے نزدیک ایک۔تنہا گوشے میں گاڑی کھڑی کردی

کیان نے حیا کو دیکھ جو اپنی بیلٹ کو کھینچنے کی کوشش کررہی تھی شاھ نے ہاتھ بڑھا کر کھول دیا ۔

اب بتاؤ کیا کہ رہی تھی اتنا وقت تم سے دور رہا ہوں میں  اس وقت ایکسپریس نہیں کرسکتاکے میں نے تمہیں کتنا مس کیا حیا۔کیان نے یہ کہتے ہوۓ اسے اپنے حصار میں لے لیا اور انتہائ گرم جوشی سے حیا کو اپنے قلعہ میں قید کیا۔کچھ لمحے یونہی گزرگۓ جب شاھ نے اسے عقیدت سے پیچھے کیا۔

اب بتاؤ یہ کیا ہے, پر تم۔کیسے بتاؤ گی تم۔ تو خود تھیک حالت میں نہیں ہو۔ابھی کیان سوچ ہی رہا تھا کے حیا  ایک دم سے ِچلائ۔

vomittt..

Its ok honey.

کیان نے اس کی طرف کا دروازہ کھول دیا وہ سر جھکاۓ کرتی رہی کیان اسے پیچھے سے تھامے ہوۓ آوازیں  دے رہاتھا۔

اب ٹھیک ہو حیا ۔

ہم ۔

یہ لو پانی اسے چہرے پہ ڈالوں اب بیٹر فیل کروگی۔۔

حیا نے اس سے بوتل۔تھام۔لی۔کچھ دیر بعد حیا نڈھال سی سیٹ پہ واپس پیچھے سرکی اور سر ِسیٹ کے ساتھ لگادیا۔کیان نے اس کی کنف کے گرد سے بازو نکال۔کر اسے اہنے حصار میں لے لیا اس کا سر اپنے کندھے سے ٹکا کے اس کے چہرے پہ بکھرے بالوں کو پیچھے کیا ۔پھر اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھے ۔

اب ٹھیک ہو ۔

ہم ۔

حیا۔

ہم۔

کیا ہوا۔

کچھ نہیں۔

تو خاموش کیوں ہوگئ ہو۔

شاھ آپ اتنے د وں بعد آۓ ہے دو گھڑی اپنے پاس بیٹھنے نہیں دے گے۔حیا غصہ میں کیان کو سر ُاۓھا کر دیکھنے لگی۔

اوووو۔یعنی پھتر میں جونک لگ گئ حیا کیان علی شاھ مجھے ِمس کررہی تھی۔کیان نے اب کے بار اور سختی سے اسے خود میں بھینچ لیا ۔

میں نہیں کررہی تھی ۔حیا نے کپکپاتی ہوئ آواز میں کہا ۔جو اپنے آنسوں کو روکنے کی کوشش میں روئ ہوئ آواز میں بولی۔۔

اوو حیا کیا ہوا میری زندگی رو کیوں رہی ہو۔

کیان نے حیا کوسر ُجھکا کے دیکھا ھو اپنے آنسوں چھپانے کی کوشش کررہی تھی۔

مجھے نہیں معلوم مجھے خود بخود رونا آرہا ہے ۔م م  م میں اب آپ کو کہیں نہیں جانے دوگی میں نے آپ کو بہت ِمس کیا۔حیا نے یہ کہتے ہوۓ ایک بار پھر آنسوؤں کی برسات کردی ساتھ ہی ساتھ شاھ کے کوٹ پہ اپنی پکڑ مضبوط کردی۔اور کیان ُاس پہ تو مانو سکتا ہی ہوگیا حیا کے اس ڈھکے ُچھپے اظہار محبت پر اس کی روح تک کو ایک سکون مل گیا ۔شاھ نے فرط جزبات سے حیا کے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے صاف کردیا۔

کہی نہیں جاؤگا اب اپنی حیا کو اپنے ساتھ رکھوگا ہر جگہ جہاں جاؤگا وہاں ساتھ لے کر جاؤ گااب ُچپ کرجاؤ ورنہ ابھی لے جاؤگا ہیوسٹن۔کیان کی اس دھمکی پر حیا نے رونا بند کردیا مگر ہچکیاں ابھی بھی لے رہی تھی۔کیان اس کی ڈھلتی شام کے ساۓ میں گاڑی کی لائٹس بند کیے دنیا جہان سےبےخبر اس وقت صرف اپنی حیا کو محسوس کررہا تھا جو اس کے سینے سے لگی دنیا جہاں کا سکوں حاصل کررہی تھی جب ہی شاھ کے موبائیل کی بیل بجی حیا کسمسائ ۔

کیان فون آرہا ہے۔

آنے دو ۔

کیان ہوسکتا ہے امپورٹینٹ کال ہو۔

اوہو اب جب میں ہوچھ رہا تھا تو رونے لگ گئ کے آپ مجھے اپنے پاس رہنے نہیں دیتے اب میں پاس ہوں تو بھگا رہی ہو۔

بھگا نہیں رہی فون ُاٹھا لے بس۔

کیان نے بدمزہ ہوکر فون ُاٹھایا۔

کہا ہو بچے حیا کہا ہے میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے اس وقت سے حیا بیٹا ٹھیک ہے نہ۔بی جان کی شفیق آواز سن کے شاھ کے چہرے پہ مسکراہٹ چھاگئ۔اس نے حیا کو ایک بار پھر کمر اے تھام۔کے اپنے ساتھ لگا لیا ۔

جی بی جان بلکل ٹھیک ہے حیا ۔کیان نے محبت پاش نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بی جان کو جواب دیا۔۔

اچھا چلو ہم پھر شکرانے کے نوافل پڑھ لے کے تمہاری حیا ٹھیک ہے چیک کرلینا تھا کوئ چیز میں کمی نہ آگئ ہو ۔ بی جا  نے کیان کو شرمندہ کراتے ہوۓ کہا جس ہہ اس بات کا الٹا اثر ہوا ۔

ارے کہا بی جان یہ موقع ہی نہیں دیتی چیک کرنے کا ۔

کیان کا جاندار قہقہ گاڑی میں گونجا۔

بس اسی ہسنی کے لیے ہم ترس گۓ تھے تم۔نے تو آتے سار ہی ایسا غصہ دکھایا جیسے ہم تمہاری حیا کو کچھ کردے گے اتنا غصہ توبہ ہے کیان اب گھر آؤ جلدی میں تو اپنے بیٹے کو ملی بھی نہیں۔

بس آرہے ہے بی جان راستے میں ہے ۔جی ٹھیک ہے آپ اپنا خیال رکھے آرہاہوں میں۔شاھ نے یہ کہےے ہوۓ کال دسکنیکٹ کرکے فون ڈیشبوڑد پہ رکھ دیا۔

اب بتاؤ تمہارا سارا حال گھر جا کے لوگا پہلے یہ بتاؤ تم۔نے کسی بھی اسٹرینجر سے لے کر ڈرنک کیوں پی ۔

ش ش شاھ مجھے نہیں معلوم۔تھا اس میں کچھ تھا ویٹر نے مجھے کہا کے حدیقہ نے بھجوائ ہے میرے لیے اس لیے میں نے وہ سوفٹ درنک لے لی ۔

ویٹر کو پہچانتی ہو۔

جی

۔کیان نے اپنے جبڑے کو بھینچھا گاڑی کو ریورس کیا اور طوفان کی طرح ُاڑاتا واپس لیونڈر لیک کے وینیو پہ گاڑی لا کے روک دی ۔

کیان ہم واپس کیوں آۓ ہے۔

ویسے ہی دیکھنے کےلیے کے کون جی دار تھا جو میری بیوی کو ملاوٹ بھری دڑنک پلاتا ہے ۔یہ کہ کے کیان گاڑی سے نیچے اترآیا پھر حیا کی  طرف کا دروازہ کھولا ۔

come baby.

No shah.

I said come outside.

کیان نے حیا کا ہاتھ تھام کے اسے نیچے اتارا ۔

چلو میری جان ۔

شاھ اس کا ہاتھ تھامے اندر لے گیا جہاں پاڑتی اپنے اختتام۔کو پہنچ چکی تھی ۔ویٹرز اندد کی صفائ کررہے تھے۔

کیان اونچی اونچی آوازمیں مینیجر کو بلانے لگا جو اس کی آواز سن کے فورًا  آگیا۔

جی سر کوئ پروبلم ۔

اپنے تمام اسٹاف کو بلاؤ ۔

سر آپ مجھے بتاۓ کیا پروبلم۔ہوئ ہے ہم۔سورٹ آؤٹ کردے گے آپ مجھے بتاۓ ۔

میں نے کہا اپنے اسٹاف کو بلاؤ۔

اوکے میں بلواتا ہوں جو بھی شکایت ہوگی آپ مجھے کہے گے وایلینس نہیں پھیلاۓ گے ۔کیان کے دوبارہ کہنے پر مینیجر نے تمام اسٹاف کو بلوایا سارا تو وہی موجود تھا بس جو ان کو دیکھ کر ُچھپا ہوا تھا وہ سامنے آنا تھا۔ ۔

کیان نے حیا کا ہاتھ تھام۔کے اسے آگے کیا جو اس کی ڈھاڑ پہ پیچھے ہوگئ تھی ۔

بتاؤ ان میں سے کون تھا ۔

ش شاہ ہمیں کچھ نہیں کرنا پلیز چلے نہ ۔

چلے گے پہلے بتاؤ کون تھا۔



آپ کیا کرے گے پلیز چلے ۔حیا روہانسی ہوگئ ۔۔

حیا اگر تم۔نہیں بتاؤ گی اس کا نام تو میں جتنے بھی یہاں کھڑے ہے نہ میں سب کو بہت ماروگا ۔کیان کی اس دھمکی پہ حیا نے کانپتی ہوئ شہادت کی انگلی اس ویٹر کی طرف کی ۔جو اپنا منہ ُچھپارہاتھا۔

سر اس نے کیا ِکیا ہے آپ ہمیں بتاۓ ہم اس کے خلاف ایکشن۔لے گے ۔

تم اس کے خلاف کیوں ایکشن لوگے ۔کیان اپنی چھاجانے والی شخصیت کے ساتھ اس ویٹر کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

اور خالص انگریزی میں اس سے سوال کیا۔

کس نے کہا تھا نشہ ملانے کے لیے۔کیان کے سوال پہ ویٹر بوکھلا گیا۔

مجھے نہیں پتہ کچھ۔۔

ایک آخری بار سوال ُدھراؤں گا ۔کس نے کہا تھا نشہ ملانے کے لیے۔

مجھے کچھ نہیں پتہ سر۔

ویٹر کے جواب پر شاھ کے زور دار تھپڑ سے ویٹر پیچھے کی جانب گر گیا کیان کو معلوم تھا اب وہ مشکل سے ہی ُاٹھے گا۔۔

کیان مینیجر کی جانب پلٹا اگر چاہتے ہو کے تمہارا ہوٹل بند نہ ہو تو مجھے سی سی ٹی وی فوٹیج سے دیکھ کے پتہ کرواؤ کے اسے کس نے کہا تھا میری بیوی کی دڑنک میں نشہ ملانے کے لیے۔۔

سر آپ اتنے یقین سے کیسے کہ سکتے ہے کے ان کی دڑنک میں نشہ ملایا گیا ہے ۔۔اس لیے کے اگر وہ شراب ہوتی تو یہ اسے پی ہی نہیں پاتی اس کو سوفٹ درنک دی تھی اس کا مطلب کیا ہوا اب سمجھاؤ یا سمجھ گۓ۔

سر سمجھ گیا ہم آپ چیک کر کے بتاتے ہے آپ بات باہر مت آنے دیجیے گا ہمارا نام خراب ہوگا۔۔کیان نے اپنا ویزیٹنگ کاڑد اس کی طرف بڑھایا پیچھے کھڑی حیا کا ہاتھ تھاما اور باہر کی جانب نکل گیا۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *