Tere hissar mei epi 31

ہیوسٹن امریکہ کی ریاست ٹیکساس کا سب سے بڑا شہر  جہاں کے نورتھ ویسٹ ہوسٹن میں کیان علی شاھ بڑی شان سے اپنے آفس میں سفید پینٹ کوٹ پہنے شہزادوں سی آن بان لیۓ ُکرسی پہ برا جمان تھا ,

عاصم یہ پروجیکٹ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے ِاس لیے کسی بھی طرح کی کوتاہی ِاس پروجیکٹ میں, میں بلکل بھی برداشت نہیں کروگا,سارے اسٹاف کو میٹنگ روم میں بلاؤ اور انہی  گائیڈ کرو ۔کیان علی شاھ نے فائیل پہ نظر دوڑاتے ہوۓ عاصم کو کہا ۔

یس سر۔عاصم فائیل ُاٹھا کے باہر چلاگیا پھر شاھ نے اپنی ٹیبل سے سیگریٹ ُاٹھا کے ُسلگھائ ایک گہرا کش لیا اور اپنی سیٹ سے کھڑا ہوگیا پھر آٹومیٹیک بٹن سے ونڈو سلائیدڑ پردہ ہٹایا اور کھڑکی میں جا کے کھڑا ہوگیا ڈوبتے سورج کی شعائیں  اونچی نیچی عمارتوں سے گزرتی ہوئ اپنے اختتام۔کو پہنچ رہی تھی تاکہ پھر ایک نئ روشن صبح کے ساتھ استقبال کرسکے, کیان نے سیگریٹ کش لیتے ہوۓ اپنی ٹیبل کی جانب آیا اور اپنے فون سے ایک کال کرنے لگا ۔کچھ بیلز کے بعد فون ُاٹھا لیا گیا۔

“ہیلوں”۔

ماؤتھ پیس پہ گھمبیر آواز گونجی ۔

“کیسی ہو”۔

“ٹھیک ہوں “۔

“میرا نہیں پوچھوں گی”۔

“آپ کیسے ہے”۔

ماؤتھ پیس پہ حیا کی مدھم ُسریلی آواز گونجی۔

“تمہارے بغیر بلکل ُاداس بے چین “۔کیان علی شاھ اپنے آفس کے سوفے پہ بیٹھ کے سیگریٹ کا آخری کش لینے لگا ۔

“تو آپ آجاۓ واپس”۔

“میں واپس آجاؤں گا مگر ِاس شرط پہ کے تم واپس چلو گی میرے ساتھ”۔

“شاھ ابھی تو صرف دو دن ہی ہوۓ ہے مجھے بابا اور بی جان کے پاس آۓ ِاسی لیے میں کہ رہی تھی آپ یہی نیویارک میں شفٹ ہوجاۓ “۔

“ہنی یہ پوسیبل نہیں شاھ اندسٹریز  کے لیے یہ پروجیکٹ بہت اہمیت رکھتاہے میں ُاسے بیچ میں چھوڑ نہیں سکتا اور بی جان جسے اپنا گھر مان لے تو ُاسے چھوڑتی نہیں خیر بی جان سے آکے نمٹے گے محترمہ میں تھوڑے دن مصروف ہوں تمہیں ٹھیک سے ٹائم۔نہیں دے سکتا تھا اس لیےتمہیں  وہاں رہنے کی اجازت دے رہا ہوں جس دن یہاں کا کام نمٹالو ُاس کے اگلے دن تم یہاں ہیوسٹن میں ہوگی “۔

“لیکن کیان”۔

نوکیان”۔

“بہت جلد ملے گے مجھے اب ایک میٹنگ میں جانا ہے ہنی پھر بات کرتے ہے “۔شاھ نے اپنی گھڑی پہ نظر دوڑاتے ہوۓ کہا۔

“اللہ حافظ”۔




                      ٔ۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“ہیلو حیا کیسی ہو”۔حیا جو اپنے دیھان میں لان میں چہل قدمی کررہی تھی ایک دم سے پلٹی ۔

“او واؤ حدیقہ تم کب آئ “۔حیا نے اپنی سہیلی کو دیکھا جو کچھ مہینوں پہلے ہی پارک میں بی جان کے توسط سے ُاسے ملی تھی ۔

“ابھی آئ ہوں جب آپ جناب کسی کے خیالوں میں کھوئ ہوئ تھی”۔

“آؤاندر چل کر بیٹھے”۔حیا پیلی میکسی  میں جھلکتے اس کے جسم کو دیکھا جو اسے ُچھپانے میں ناکام۔ہورہا تھا 

“نہیں دیڑ آج اندر نہیں ہم باہر چلے گے آج تمہیں میں لیونڈر لیک لے کر جاؤ گی میرے دوست نے میرے لیے برتھ ڈے پاڑٹی رکھی ہے اور تم میرے ساتھ ابھی جارہی ہو “۔

او واؤ ہیپی برتھ ڈے حدیقہ تم نے مجھے بتایا ہی نہیں ورنہ میں کوئ گفٹ کا ارینج کرلیتی “۔حیا نے افسردہ سی شکل بناتے ہوۓ کہا۔

“تمہارا گفٹ یہی ہوگا کے تم میرے ساتھ جارہی ہو میں بی جی سے پوچھ کے آئ تم تیار ہو جلدی سے “۔


“ؓحدیقہ میں نہیں جاسکتی ڈیڑ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں میں پھر کبھی چلو گی تمہارے ساتھْ”۔


“بلکل نہیں تم۔ابھی چلوگی ُاٹھو ورنہ می  کبھی بات نہیں کروگی “۔

“جاؤ چلی جاؤ بیٹا میں نےسب سن لیا ہے  اتنے پیار سے کہ رہی یے آج اس کی سالگرہ ہے  منع مت کرو ُاسے “۔بی جان اپنا غرارہ سنبھالتی ہوئ صوفے پہ براجمان ہؤ گئ۔


“یاہوں اب تو بی جان نے بھی اجازت دے دی ہے لڑکی اب شرافت سے ُاٹھ جاؤ “۔۔


حدیقہ نےحیا کو ہاتھ سے پکڑ کے ُاٹھایااور ُاس کے کمرے کی طرف لے جانے لگی ۔

“بہت ہی ُسست ہوگئ ہو حیا تم دو چار دن سے اب شرافت سے ٹھیک ہوجاؤ,چلو یہ والی میکسی پہنو”۔


حدیقہ نے ُاس کی وارڈروب کھول کے ایک گاجری رنگ کی  میکسی ُاس کی طرف بڑھائ جس میں کینکن لگنے کی وجہ سے وہ پھولا ہواتھا۔

“نہیں حدیقہ یہ کچھ زیادہ ہوجاۓ گا میں کچھ اور نکالتی ہو ۔”حیا نے میکسی کو دیکھتے ہوۓ کہا۔

“نو وے ُاٹھوآج میرا دن ہے جو میں کہوگی وہی تم۔کروگی اب ُاٹھو شرافت سے”۔

پھر حیا منہ بناتی ہوئ میکسی تھامے ڈریسنگ روم۔کی جانب بڑھ گئ۔۔

                      ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

عاصم میں کچھ دنوں کے لیے نیویارک جارہا ہوں سب  سنبھال لینا یہاں “۔

“یس سر یو ڈونٹ وری”۔

“چلو پھر ملتے ہے “۔

ٹیک کیر۔

                      ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

واؤ حیا تم۔تو بلکل پریوں کی طرح لگ رہی ہو “۔حدیقہ نے حیا کو دیکھا ُفل لمبی گھیر دار میکسی پہنے جس کے بازو نیٹ کے تھے بنا میک اپ کے بھی اتنی حسین لگ رہی تھی ۔

“میں یہ سوچ رہی ہوں اگر میں لڑکی ہوکر تم پرفلیٹ ہورہی ہوں تو لڑکوں کا کیا حال ہوگا “۔

حدیقہ پلیز ایسی باتیں مت کرو “۔حیا نے میچنگ اسکارف نکالتے ہوۓ اس کی طرف دیکھا۔

“اوکے اوکے اب جلدی سے میک اپ کرو آج تم کچھ بھی نہیں بولوگی “۔ان دو مہینوں میں حدیقہ اور حیا میں کافی اچھی دوستی ہوگئ تھی کچھ حد تک اس میں ہاتھ خود حدیقہ کا تھا۔حیا نے اپنے بالوں کا میسی ُجوڑا بنایا پھرنیچرل رنگ کی ِپنک لپ اسٹک لگائ اور ہلکے َپنک کلر کا بلاشن لگا کےہائ ہیلز پہنے اور اپنی تیاری کو اوکے کردیا ۔پھر حدیقہ کے ساتھ بی جان سے مل کے باہر نکل آئ۔

حدیقہ نے اپنی گاڑی ریورس کی پھر حیا کے لیے دروازہ کھولا ۔یہ تمہارے گاڑدز بھی جاۓ کے ہمارے ساتھ حدیقہ نے بیک ویئو مرر سے گاڑدذ کو گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ دیکھا ۔

“ہممممم ان کے بغیر میں یہاں سے باہر نہیں جاسکتی “۔حیا کے سر ہلانے پرحدیقہ نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

” چلواچھا ہے ہماری کمیونٹی میں میری شو لگ جاۓ گی۔” کے حدیقہ علوی گاڑدز کے ساتھ آئ ہے۔

                     ۞۞۞۞۞۞۞۞

تین گھنٹے کی فلائیٹ لے کر وہ ہیوسٹن سے نیویارک پہنچا جہاں ُاس کے گاڑدز پہلے سے ُاس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ُسرمئ رنگ کا پینٹ کوٹ پہنےاپنی صحر انگیز آنکھوں پہ چشما لگاۓ وہ ٹام کروز کو بھی مات دے رہا تھا 

“سر کدھر جانا ہے “۔ڈرائیور نے خالص انگلش میں سوال کیا ۔

“گھر”۔کیان نے باہر جھانکتے ہو ۓدیکھا جہاں کچھ کالج گلز کا ُگروپ کہی ٹڑپ پہ جانے کے لیے کھڑا تھا جو اب باقاعدہ طور پر کیان کو اشارے کررہی تھی ۔جنہیں دیکھ کر کیان نے نظریں سامنے شیشے پر مرکوز کردی۔پھر زیر لب مسکرا پڑا۔

                ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞


حدیقہ پیلی شورٹ میکسی پہنے جو ُاس کے گھٹنوں تک آرہی تھی اپنی دراز قد کے ساتھ ہائ ہیلز پہنے شانے پہ پرس لٹکاۓ وہ حیا کے لیے کھڑی ہوگئ جو اپنی میکسی سنبھالے سہج سہج کے چلتی ہوئ ُاس کی طرف آگی ۔


“چلے”۔


“یا”۔لیوینڈر لیک کے اندر حدیقہ آرام۔دہ لباس پہننے کی وجہ سے جلدی داخل ہوگئ جب کے حیا میکسی کو دونوں ہاتھوں سے تھامے آہستہ آہستہ چل رہی تھی جیسے ہی وہ اندر  داخل ہوئ کئ نظروں نے ُاسے نظر ُاٹھا کے دیکھا جس نے دیکھا ُاس نے نظریں پلٹانا بھول گیا ایسی معصومیت اور پاکیزگی حیا کے چہرے پہ تھی کے ہر کوئ حیا پہ نظریں گاڑے ہوۓ تھا جیسے وہ ہی برتھڈے گرل ہو ۔حیا نے خاموشی سےکونے میں  پڑی چیرز پہ سے ایک پہ بیٹھ گئ۔


“حیا ان سے ملو یہ ہے میرے بیسٹ فرینڈ جواد خانزادہ,میری برتھ ڈے کے اعزاز میں انہوں نے ہی پاڑٹی دی ہے۔

“ہیلوں پڑیٹی گرل کیی ہے آپ “۔جواد خانزادہ نے اپنا ہاتھ حیا کی طرف بڑھایا جسے ُاس نے نظرانداز کرکے ہاتھ کو سر کی جانب لے جاکے سلام کیا ُاس کے اس دلکش انداز پہ جواد خانزادہ کو اپنی انسلٹ بھول گئ جو ُاس نےحیا کی طرف بڑھا کے کیا تھا ۔

“وعلیکم سلام مشرقی لڑکی آپ سے مل کر بہت اچھا لگا گمان ہورہا ہے جیسے ایلس ِان ونڈرلینڈ آگئ ہو, جو بھی ہو آپ کے آنے سے پاڑٹی میں چار چاند لگ گۓ ہے “۔

جواز خانزادہ کی نظرہیں حیا کو دسٹرب کررہی تھی جب ہی حدیقہ نےکہا چلو کیک کاٹےتو سب ٹیبل کی جانب چل پڑے جہاں سب لوگوں نے مل کر حدیقہ کو وش کیا پھر حدیقہ نے کیک کاٹا اور باری باری جواد اور حیا کو کھلایا ۔

            ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“اسلام علیکم بی جان “۔کیان نے انہیں گلے لگاتے ہوۓ کہا جو کاؤچ پہ بیٹھی تسبیح کے دانوں پر زکر اللہ کررہی تھی ۔

“ارے میرے چاند کب آۓ تم “۔

“بس ابھی, آپ نے تو میری دوڑیں لگوائ ہوئ ہےآپ چلتی کیوں نہیں میرے ساتھ وہاں “۔

“بس بیٹا ان بوڑھی ہڈیوں میں اتنی جان نہیں اب اپنا آبائ گھر چھوڑ کے یہی ایک گھر ہے جہاں آتی رہتی تھی اب مزید کہی نہیں جاؤ گی اور ویسے بھی ہم تمہیں اور حیا کو الگ رکھنا چاہتے ہے تاکہ وہ جلد سے جلد ٹھیک ہوجاۓ اب آۓ ہو تو لے کر جانا میری بیٹی کو بہت اداس ہوگئ ہے  تمہارے بغیر “۔

“جی بی جی ضرور”۔

“ویسے آپ کی پیاری بیٹی اور ہمارے چاچو کہا ہے”۔کیان نے صوفے پہ پاؤں پسارتے ہوۓ پوچھا ۔

چاچو تمہارے تو حدیقہ کے اباں کے ساتھ باہر تک گۓ ہے جب کے بیوی تمہاری کو میں نے زبردستی حدیقہ کی سالگرہ میں بھیجا ہے”۔

“what”.


“کہابھیجا ہے بی جان آپ نے ُاسے اور مجھ سے ہوچھا بھی نہیں گاڑدز کہا ہے سارے مجھے انفارم۔کیوں نہیں کیا “۔شاھ  شیر کی طرح ڈھاڑا اور باہر کی جانب جانے لگا جب بی جان کی آواز پہ ُرک گیا ۔


“شاھ ُاسے میں نے بھیجا ہے وہ نہیں جارہی تھی اور گاڑدز کو بھی میں نے منع کیا تھا تمہارا بس چلے تو ُاسے سانس بھی اپنی مرضی سے دلاؤ ,بیٹا یہاں ہمارے کوئ دشمن نہیں ہے اسے جانے دیا کرو ُکھلی آب وہوا میں لوگوں میں ُگھلنے ملنے دیا کرو تاکہ جو خلا اس کی شخصیت میں پیدا ہوگیا ہے وہ ُاسے ختم کرسکے “۔کیان نے پلٹ کر بی جان کو دیکھا اور خاموشی سے باہر کی جانب چل دیا گاڑدز کی عزت افزائ کرنے کے لیے۔

              ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

حیا ایک کونے میں بیھٹی ِاس ماحول میں خود کو ِمس ِفٹ محسوس کررہی تھی جہاں  لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے ِ اس حد تک ُکھلے عام ملتے تھے کے انہیں دیکھ بندہ نظریں ُجھکا جاۓ ۔

“لگتا ہے اکیلے اکیلے انجواۓ کرتی ہے آپ “۔جواد خانزادہ نے حیا کے برابر رکھے لکڑی کے صوفے پہ بیٹھ گیا۔

“ن ن ن نہیں ایسی تو کوئ بات نہیں میں یہاں کسی کو جانتی نہیں “۔

“اچھا تو جاننے میں کتنا وقت لگتا ہے میں جواد خانزادہ, خانزادہ گروپ آف اندسٹریز کا مالک یہاں کی کمیونٹی کا موسٹ وانٹڈ بیچلر لڑکا کیا آپ مجھ سے دوستی کرنا پسند کرے گی”۔

“حیا کو ُاس کا دیکھنے کا  انداز بلکل اچھا نہیں لگا ِاس لیے ُاس نے جواد کی بات کو رد کردیا ۔

“سوری میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی “۔حیا نے چہرے کے تاثرات سخت کرکے ُاسے جواب  دیا۔جواد ُاس کے کھرے جواب پہ لاجواب ہوگیا آج تک کسی لڑکی نے ُاس کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو کبھی رد نہیں کیا تھا حیا شاید پہلی لڑکی تھی جس نے ُاسے صاف منع کیا تھا جواد سخت آف موڈ۔کے ساتھ اندر بنے بار میں سے دو تین گلاس شراب کے پی گیا ۔

“مجھے منع کرتی ہے نہ تیرے تو اچھے بھی مجھ سے دوستی کرے گے ,ویٹر!!!…

“یس سر”۔جواد ُاسے کونے میں لے جا کے کچھ سمجھانے لگا پھر حیا کی طرف اشارہ کیا جس پہ ویٹر نے سر ہاں میں بلایا جواد نے اپنی جیب سے کچھ نوٹ نکالے اور ویٹر  کی ُمٹھی میں دبادیے۔

                  ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“تم لوگ کس کے پاس نوکری کرتے ہو میرے پاس یا بی جی کے پاس مجھے بتاۓ بغیر حیا کو باہر کیوں لاۓ “۔کیان گاڑی میں ڈڑایونگ سیٹ پہ بیٹھتے ہوۓ گارڈز پہ فون پہ  غرایا۔

“اڈریس بتاؤ کہا ہو تم۔لوگ “۔

ٹھیک ہے۔کیان اس جگہ کے لیے نکل پڑا جہاں اس کی حیا اکیلی تھی ۔

                    ۞۞۞۞۞۞۞۞۞

میم یہ آپ کی سوفٹ دڑنک حدیقہ میم نے بھیجی ہے “۔


“شکریہ”۔حیا گھونٹ گھونٹ بھر کے اس سوفٹ دڑنک کو پینے لگی جس میں جواد نے ویٹر سے کہ کے کچھ ملوایا تھا ۔کچھ ہی دیر میں حیا پر ُاس کا اثر ہونے لگا

۔

“حیا یار اس سے تو اچھا تھا میں تمہیں لاتی ہی نہ تم۔تو بہت بور ہورہی ہو۔”حدیقہ نے حیا کی طرف آتے ہوۓ اسے  دیکھا جو اسے کہی سے بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی ۔

“حدیقہ میرا سر گھوم۔رہا ہے مجھے گھر جانا یے “۔

“حیا تم۔نے کہی غلطی سے کوئ ڈرنک تو نہیں پی لی “۔حدیقہ نے اپنے کندھے سے لگی حیا کو دیکھا ۔


ٹھروں میں تمہیں بجھواتی ہوں پارٹی چھوڑ کے نہیں جاسکتی ورنہ میں خود جاتی, جواددددد!!!!

ہا  حدیقہ ۔جواد نے حدیقہ کی طرف آتے ہوۓ پوچھا ۔

“یار میری ہیلپ کرو یہ دیکھوں حیا کو پتہ نہں اس نے لگتا ہے کوئ دڑنک پی لی ہے تم اسے ڈراپ کرسکتے ہو اس کے گارڈز بھی باہر ہے۔


میں انہیں سمجھادیتی ہوں تم۔ان کے پیچھے گاڑی لگا کے اسے ڈڑاپ کردو۔

“ضرور ہنی تم۔اتنی فارمل کیوں ہورہی ہو میں ڈراپ کردوگا اسے”۔تم دو تو صحیح گاڑدز کے ساتھ جاۓ کا کون ہم۔تو انجواۓ کرے گے اور الگ جگہ نکل جاۓ گے۔جواد نے للچائ ہوئ نظروں سے حیا کو دیکھا ُجو ُکھلتی بند ہوتی آنکھوں سے اپنے چکراتے سر کو تھام۔رہی تھی ۔حدیقہ حیا کا بازو تھامے کھڑی ہوئ جو لڑکھڑارہی تھی ۔

“جواد ِاسے تم۔سنبھالوں میں گارڈز کو انفارم۔کرلو”۔

“ٹھیک ہے”۔جواد یہ کہتا ہوا ہاتھ آگے بڑھانے لگا ,اس نے مسکراتی ہوئ نظروں سے حیا کے لڑکھڑاتےوجودکو اپنے بازوؤں میں تھامنا چاہا اسے امید نہی  تھی وہ حیا کو اتنی آسانی سے ٹڑیپ۔کرلے گا ۔تب ہی کسی کا ہاتھ پیچھے سے آیا جس نے ُاس کے ہاتھ کو پیچھے کی جانب جھٹکا دیا۔اور خود حیا کے وجود کو اپنے محفوظحصار میں لے لیا۔

“کیا ہوا ہے حیا کو”۔کیان علی شاھ کی بارعب شخصیت جو دیکھ کر حدیقہ  نے ُاسے ایک لمحے میں پہچان لیا۔

“آپ ک ک کون “۔

“کیان علی شاھٖ”۔

“س س سسر وہ پتہ نہیں حیا نے مجھے لگتا ہے غلطی سے سوفٹ دڑنک سمجھ کر کچھ اور پی لیا ہے ۔یہ میری مدد کرنے ہی آۓ تھے, جواد خانزادہ, خانزادہ گروپ آف اندسٹریز کے مالک ,کیان نے ایک نظر  اسے سرد مہری سے دیکھا اور بنا کچھ کہے  حیا کو اپنے مضبوط بازوؤں میں ُاٹھاۓ باہر کی جانب چل دیا۔

“ہاؤ روڈ تم سے ملا بھی نہیں جواد “۔

جواد کے چہرے پہ ایک کمینی سے مسکراہٹ چھا گئ۔

“تم۔نہیں سمجھوگی ابھی ۔حدیقہ “۔

                    ۝۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

کیان حیا کو ُاٹھاۓ اپنی گاؑڑی کی جانب بڑھا جس کا دروازہ گاڑد پہلے سے کھول۔کے کھڑے تھے ۔

کیان نے احتیاط سے حیا کو اپنے برابر میں بٹھایا پھر اس کے سیٹ بیلٹ باندھنے لگا۔کھلتی بند ہوتی آنکھوں سے کیان کو اپنے اتنے نزدیک دیکھ رہی تھی ۔

“کہا چلے گۓ تھے آپ “۔حیا نے کیان کے چہرے پہ اپنا ہاتھ پھیرا جو اس کی داۓ جانب کی بیلٹ باندھ رہا تھا۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *