Tere Hisar Mein Episode 2

ایک نقاب پوش نےاپنےدوسرےساتھی کو کہا۔۔۔
تم سب کو ہم نے بندی بنا لیا ہیں۔جب تک حکومت ہماراساتھی نہیں چھوڑتی ۔تم سب کو ہمارےساتھ رہنا ہوگا۔۔جو زیادہ ہوشیاری دیکھاۓگا,وہی اس کواس بڑھیا کی طرح بھون کے رکھ دوں گا ۔۔اس لیے سب لائن سے جنگل کے اندر چلو۔۔
ایک دہشتگر نے بندوق کندھے پے ڈالے سب کو کہا ۔۔
۔سب لوگ ڈر کےمارے ان کے پیچھے چلنے لگیں۔۔
اوائل نومبرکی ٹھر ٹھرا دینے والی سردی میں دھوپ چھاوں کی ہوتی آنکھ مچولی میں وہ اونچی نیچی ڈھلانوں سےگزرتےہوۓدرختوں کےساۓمیں مرجھاۓ پتوں پہ قدم رکھتیں ,تو فضا میں اک عجیب ساساز پیدا ہوتا۔۔جو کانوں کو بہت بھلا سا لگتا۔۔
حیاقدرت کے ِان حسین مناظر کو دیکھ کر مبہوت ہورہی تھیں کے اچانک آواز آئ ۔۔۔
ُرک جاوں!!!!ِان سب کی آنکھوں پہ کپڑا باندھوں اور  ِاس رسی سے سب کے ہاتھ باندھوں۔۔۔جلدی!!!!
اس نے اپنے کندھے سے رسی اور کپڑا اتار کے اپنے دوسرے ساتھی کی جانب پھینکا۔۔
بیٹا آپ لوگ یہ ٹھیک نہیں کر رہیں۔۔
مولوی صاحب نے سر جھکا کےاونچی آواز میں کہا ۔۔۔
 اوۓ مولوی کے بچے اگر اپنی زندگی چاہتا ہے توزبان بندھ رکھ!!!!!! ورنہ بڑھیا کےپاس بھیجنےمیں مجھے ایک لمحہ نہیں لگے گا۔۔۔۔
نقاب پوش نے غصے میں مولوی صاحب کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
مولوی صاحب دڑ کےپیچھےہوگۓ۔۔۔پھر وہ سب کو باندھنیں لگیں۔۔
پانچ چھ لوگوں کے بعد جب باری حیا کی آئ تو۔وہ چلائ۔۔
نہیں! !ہمیں ہاتھ مت لگانا ۔۔۔!!!
حیانے چللا کے کہا۔۔۔حیا کو ایسےلگا جیسے بلال لشاری اس کی طرف بھڑ رہا ہے۔۔
۔ہاہاہاہاہا۔۔
وہ تینوں نقاب پوش ہسنیں لگیں
اچھا! !!تو ہم ہاتھ نہ لگایئں۔۔۔۔
اس نے حیا کی طرف بڑھتے ہوۓ کہا۔۔
۔نہیں! !!دیکھو میرے قریب مت آنا۔۔۔
حیا دو قدم پیچھے کو چلی۔۔۔
نقاب پوش دو قدم آگے آیا۔۔
اس سے پہلے کے وہ حیا کو چھوتا۔۔
اچانک حیاکا ہاتھ کسی نے کھینچااوراسے اپنےحصارمیں لے لیاجس سے حیا کا سر اس کےمضبوط سینے سےٹکڑایا۔۔حیا نے سر ُاٹھاکےدیکھا۔۔۔
وہی اجنبی جو بس میں اس کےساتھ بیٹھا تھا۔۔۔اسے اپنے حصار میں لۓ کھڑا تھا۔۔جیسے ہر سردوگرم ہوا سے وہ اسے محفوظ کرلیں گا۔۔۔۔
شاھ نے اپنے سینے سے لگی حیا کو نہایت احتیاط سےدونوں بازو سے تھام کےاپنے پیچھےکیا۔۔۔
 شاھ اپنے دانتوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کۓہاتھوں کی مٹھیوں کوسختی سے بھینچےحیااوردہشتگر کےبیچ میں دیوار بن کے کھڑا ہوگیا۔۔
حیا نے اس کی ُپشت کودیکھایہ دوسری بارہوا تھا کےوہ ایک مضبوط ڈھال بن کر ُاس کے سامنے آیا تھاُاسےایسے لگا جیسے وہ تپتی دھوپ سے ساۓمیں آگئ ہو۔۔۔
جب وہ تجھے کہرہی تھی, ہاتھ مت لگا۔۔۔۔
تو آگے کیوں آیا۔۔۔
شاھ نے اسے زور سے پیچھےکی طرف دھکا دیتے ہوۓ چللا کے کہا۔۔۔
اچانک دھشتگر پیچھے کی طرف لڑکھڑایااوراس کےغصےسے پڑتےلال چہرہ, درازقدوقامت, سفید ڈریس شرٹ سے جھلکتیں سڈول بازوں جو کےاس کےباڈی بلڈرہونےکا ثبوت دے رہیں تھیں۔۔دیکھ کے چوک گیا۔۔۔۔
اس سے پہلےوہ اسے کوئ جواب دیتا
تبہی ایک زنانہ آواز گونجی ۔۔ُرک خوشیا!!!!!
نقاب پوش نے چہرے سے کپڑاہٹایا تو وہ ایک تیس اکتیسس سال کی درمیانے قد کی سانولی سی عورت تھی۔جس کے کندھے پہ رائفل لٹکی ہوئ تھی۔۔اس کے ساتھ دو اور دہشتگر بھی تھیں جو شاید سب کا انتظار کررہے تھیں آگے لےجانےکےلیے۔۔
وہ سب جدیداسلحےسےلیس تھیں۔۔۔
کیوں وقت ضائع کر رہا ہے!!!!
شام سر پے پہنچ گئ ہےاورتواس چھوری کےساتھ لگاہے۔۔۔۔
 سردارکو اگرپتہ لگا تو تیرےساتھ ساتھ میں بھی ماری جاوں گی۔۔۔سمجھے!!!دارو نے غصے سے نتھیں ُپھلایئں خشیا کو مخاطب کیا۔۔۔۔
!جی دارو!!! معاف کردو۔۔خوشیا نے سر جھکا کے کہا۔۔
اے چھوری ادھر اآا ۔۔۔۔دارو نے حیا کو پکارا ۔۔جو ابھی بھی شاھ کے پیچھے ُچپھی ہوئ تھی۔۔۔
جی۔۔حیا نےکانپتی ہوئ آواز میں کہا۔۔
ادھر آ۔۔۔دارو نے حیاکو کہا۔۔
حیا نے نظر ُاٹھا کے ُاس شہزادے کو دیکھاجو ابھی بھی اس کے آگے سیسہ پلائ دیوار بن کے کھڑا تھا۔۔۔
 جو ابھی بھی ُخشیاکو بھینچے ہوۓ لبوں سے غصے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کا تنفس غصےسےبڑھتاجارہا تھا۔۔
دارو کے حیا کو پکارنے پرشاھ نےاپنےپیچھےُچپھی حیا کو سرسری سادیکھا۔۔۔۔
حیاشاھ کو دیکھنے لگی جیسے پوچھ رہی ہوکے میں جاؤ۔۔۔
شاھ نے سر کو خم کیا۔۔۔جاؤ۔۔اس کے منہ سےدھواں نکلا۔۔۔۔
حیا نے بے بس نظروں سے شاھ کوپھرسےدیکھا۔۔۔جیسے کہ رہی ہو۔..
You are the last hope for me!!!!
dont let me go..
 (تم میرے لۓ آخری امید ہو !!!!مجھےجانے مت دو۔۔)
شاھ نے اسےبنا دیکھے کہا۔۔۔۔
Trust Me !!!𝐈 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐍𝐞𝐯𝐞𝐫 𝐋𝐞𝐚𝐯𝐞 𝐘𝐨𝐮,  𝐈’𝐦 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐘𝐨𝐮 𝐔𝐧𝐭𝐢𝐥 𝐌𝐲 𝐋𝐚𝐬𝐭 𝐁𝐫𝐞𝐚𝐭𝐡…
(میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔میں تمہارے ساتھ ہوں ۔میری آخری سانس تک۔۔۔۔)
شاھ کے آہستہ آواز میں کہنے پہ حیا کو کچھ سمجھ نہیں آئ ۔۔حیانے نے شاھ کے تعقب میں دیکھا۔۔کیوں کے وہ بات اس سے کر رہا تھا۔پر وہ دیکھ کسی اور کو رہا تھا۔۔۔
اس بار شاھ نے چللا کے کہا۔۔ جاؤ!!!!!شاھ غصےمیں شیر کی طرح دھاڑا۔اس کاچہرہ غصے سےلال ہوگیاتھا۔۔
کیوں کے ُخشیاابھی بھی حیاکو للچائ ہوئ نظروں ںسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ 
شاھ کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ خشیا کو دنیا کے کسی آخری جزیرےمیں پھینک آۓ ۔جہاں سےاس کی پلیدنظریں حیا پر نہ جایئں ۔۔۔
شاھ کاحیا کوبھیجنےکامقصدصرف اس کی حفاظت کرنا تھا۔ کیوں کے وہ سب جدید اسلحیں سے لیس تھیں۔۔ اور وہ خود خالی ہاتھ۔۔ 
تو جو بھی کرنا تھا نہایت سمجھداری سےکرنا تھا۔تاکےحیا کو یہاں سےباحفاظت نکالاجاسکے۔۔۔۔
حیا دارو کے پاس گئ۔۔۔ 
جی !!!!حیا نےکانپتی ہوئ آواز میں کہا۔
اگر شام سر پہ نہ ہوتی تو قسم ہے ُسردارکی میں تیرے سارے نا محرم ابھی نکال دیتی۔۔۔دارو نے حیا کی آنکھوں پہ پٹی باندھتے ہوے کان میں آہستہ سےکہااور زور سے ہاتھوں پہ رسی باندھ کےکھینچا۔۔۔چل!!! 
ِاوراےچھورےتوسمجھ آج تو بچ گیا ۔۔۔وہ کیا کہتےہےنہ انگریزی میں lucky day !!!!!!
سردار کا حکم ہے ابھی کسی کو نہیں مارنا۔۔ورنہ میرے آدمی کو ہاتھ لگانے پہ تیرا سر ڈھر سےالگ کردیتی۔۔۔
دارو نے شاھ سےکہا۔۔۔
شاھ نےاپنے چہرے پہ آئ ہلکی داڑھی پہ ایک ہاتھ پھیرتےہوۓدوسرا ہاتھ اپنی پینٹ کی جیب میں ڈالیں نظریں نیچیں زمین پہ مرکوز کیں, جیسےاس وقت اس سے ضروری کوئ کام ہوہی نہ, پھر اس کی گھنی منچھوتلیں لب مسکرایئں۔ُاس نے دارو کی طرف سر ُاٹھا کےدیکھااور اپنےکندھےاُچکایں۔جیسے کہرہاہوتم جو بھی کہوں مجھےذرافرق نہیں پڑتا۔۔۔دارو نے کچھ پل ان خود سر آنکھوں کو دیکھا اور آگے کی طرف بڑھ گئ۔ایک ایک کر کے سب کی آنکھوں اور ہاتھوں پہ کپڑا باندھ کے وہ سب کو گھنے جنگل میں ایک مخصوص جگہ پرلے جا نے لگیں۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ سب رک گیئں ۔آنکھوں پہ کپڑے کی وجہ سے کچھ دیکھائ نہیں دے رہا تھا پر پانی کے گرنے کی آوازیں آرہی تھی جیسے کوئ ندی ہو پاس میں۔۔۔
آگئیں براتی سب۔۔
مہمانوں کوکوئ تنگی تو نہیں ہوئ؟؟
ُسردار نے ُاونچی آواز میں پوچھا۔۔۔
نہیں سایئں۔۔۔
خشیا نے سردار کو ہاتھ باندھ کے جواب دیا۔
شاباش! !! مہمانوں  کی آنکھوں سے کپڑا ہٹاو!!!ان کی خاطر مدارت کرو !ُسردار نے کہا۔
ُخشیا اور اس کے دو تین اور ساتھی سب کی آنکھوں سے پٹیاں ہٹانیں لگیں اور ہاتھ کھولنیں لگیں ۔۔
شاھ نے آنکھوں کو دو تین با ر جھپکا واضع ہونے پر قدرت کے اس حسین نظاریں کو دیکھ کے کچھ پل کے لۓ آنکھیں چکاچوندہوگئ۔۔پہاڑوں سےگرتاہواآبشارجو پھتروں سےٹکرا کے ایک خوبصورت سا ِارتعاش پیدا کررہا تھا ۔گھر لوٹتے پرندوں کاچہچہانا کانوں کو بہت بھلا سا لگ رہا تھا ۔۔فضا میں ایک عجیب سی ُخنکی تھی۔جو بھی ہو  یہ سب اگر نہ ہوا ہوتا تو یہ جگہ شاید  میرے لۓ جنت ہو تی۔۔۔۔
شاھ نے اپنی سوچ کو خیر آبادکہ کےاپنی نظریں اس کی تلاش میں دوڑائ, پاس ہی وہ اسے درخت کےنذدیک اپنے آپ سے ناراض, ہواکےدوش پہ اپنی بےقابو ہوتی کالی چادر کو سنبھالنے کی کوشش کرتی نظر آئ جس کی وجہ سے اس کا  سفید لباس کالی چادر میں سے جھلک رہا تھا۔۔۔
 شاھ زیر لب ُمسکرا ُاٹھا۔۔۔۔MY GIRL ❤
وہ آہستہ آہستہ بنا کسی کی نظروں میں آیئں حیا کی بایئں جانب آکر کھڑا ہوگیا ۔۔کچھ مسافر ابھی بھی آہستہ آہستہ اونچیں نیچیں پھتروں سے جگہ بناتےہوۓ نیچے آرہیں تھیں۔۔
سب کو پتہ تو لگ ہی ُچکا ہوگاتم سب یہاں کس مقصد سے لاۓ گیئں ہوں۔حکومت جیسے ہی ہمارے ساتھی کو چھوڑے گی تب ہی تم۔سب کی  ِرہای ممکن ہو گی ۔اس لیے جو جہاں ہے وہی بیٹھ جائیں۔۔
سردارنے اونچی آواز میں سب سے کہا ۔۔۔اور پھر سب سےاوپراونچی ڈھلان پہ جا کے بیٹھ گیا۔۔۔
حیاتیز ہوا میں چادر کو سنبھالتی سر ُجھکاۓسردی سےکانپ رہئ تھی۔گھر سے جلد بازی میں نکلتے وقت اس نے سفید کلیوں والے ریشمی فراک پہ ہلکا سا سفید سویٹرزیب تن کر رکھا تھا۔نظریں اونچی کر کے ُاسےدیکھنے لگی جو سر پہ سندھی ٹوپی پہنےکندھوں پہ اجرک ڈالےُدراز۔قدپہ سانولی سی رنگت ,چہرے پہ بڑی بڑی منچھیں اور داڑھی بڑھاۓ کو ئ سندھی معلوم ہورہا تھا۔جس کی دایئں آنکھ پہ کٹ کا نشان تھا ۔جو ماتھیں کے پاس سے گزرتا ہوا دایئں آنکھ کے نیچے تک جارہا تھا۔۔
حیا کو ایک دم سے ُجھرجھری سی آئ۔۔۔وہ خاموشی سے درخت کی اوٹ میں ہو کے بیٹھ گئ۔صبح سے جو واقعت اس کے ساتھ گزر ُچکے تھیں ان کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔میں نے تو ابھی اپنے باپ کا غم بھی نہ منایا تھا ۔۔اللہ جی آپ نے ُمجھے ایک نئ آزمائش میں ڈالدیا ہے۔۔حیا نے اپنے گھٹنوں پہ سر رکھیں آنکھیں بند کی تو قیمتی موتی بند آنکھو سے لڑیوں کی صورت میں بہنں لگیں۔۔۔۔
شاھ جو زمین پہ درخت کے سہارے بیٹھا ٹانگ پہ ٹانگ رکھیں چھوٹے چھوٹے کنکر اٹھا کےندی میں پھینک رہا تھا سسکی کی آواز پہ اپنی داۓ جانب دیکھا ۔۔وہ اس کے قریب ہی مولوی صاحب کے برابر میں بیٹھی گھٹنوں پہ سر رکھےسسک رہی تھی ۔۔
ایک انجانی سی درد کی لہر شاھ کے اندر دوڑ گئ۔۔ 
۔شاھ نے اپنے جبڑے کو زور سے بھینچااور اسے دیکھتے ہوۓ اپنی جیب سے ایک سیگریٹ نکال کے ُسلگایا اور ایک گہرا کش لے کرہوا میں ُدھوا چھوڑا,پھرخود سے ہمکلام ہوا۔۔۔
ایک دن آۓ گاحیارحمٰن!!!! جس دن میں تم کواس شدت سےاپنی پناہوں میں لوگا۔کے تم۔مجھ سے پناہ مانگو گی۔ تمھارے ناتواں شانےمیرا بوجھ سہارنہیں پایئں گیں۔ اس دن میں اس ٹوٹی بکھری حیا کوپھر سے جوڑوں گا۔۔۔
یہ میرا تم سےوعدہ ہے۔۔۔
لبوں پہ سیگریٹ دبایئں پھر سےندی میں کنکرپھینکنا شروع کر دیئں۔۔
====================================
بیٹا مت رو انشااللہ۔۔۔
اللہ نے کیا تو ہم اس مصیبت سے جان چھڑالے گیں ۔۔۔۔
وہ  “رحمٰن ہے اگر مشکل دی ہے۔۔ تو اس کے ساتھ کوئ آسانی بھی دی ہوگی۔آپ مت روۓ اللہ آپ کے گھر والوں کو اس مشکل وقت میں صبر عطا فرمایئں۔۔آمین
مولوی صاحب کی اس بات پہ حیا اور زیادہ رونے لگی۔۔۔
بیٹامجھے معاف کردو اگر میری کوئ بات بری لگ گئ ہو۔۔مولوی صاحب نے حیا کے جھکے سر پہ ہاتھ رکھتےہوۓ کہا۔۔
بیٹی ُ چپ کرجاؤ وہ لوگ متوجہ ہوجایئں گیں۔۔۔
آپ نے جب مجھے بیٹی کہا نہ تو ایسے لگا میرے بابا نے مجھے پکارا ہو۔۔۔حیا نے مولوی صاحب کو دیکھتے ہوۓسر اٹھایا۔۔۔
مولوی صاحب نے حیا کو دیکھا ۔۔۔آنسوؤ سے بھرا چہرہ ہچکیوں کے دوران کہتے ہوۓ سر پھرُجھکاگئ۔۔۔
بیٹا میں آپ کے باباکی طرح ہی ہوں۔۔
ویسے معزرت چاہتا ہو آپ کی ذاتیت میں داخل ہو رہا ہوں مگر بیٹا جی میں مسجد کا پیش ِامام ہوں۔اور چونکہ ہم اغواءہوۓ ہیں اور آپ اکیلی اس طرح بیٹھی ہے۔ ایک بات پوچھوں اگر آپ برا نہ منا یئں؟ ۔
مولوی صاحب نے حیا سے پوچھا ۔
جی پوچھیں؟حیا نے کہا۔۔
 اچھی بیٹیاں اپنے شوہروں سے ناراض نہیں ہوا کرتی آپ اپنے شوہر سے ناراض ہیں,جو میرے برابر میں آکے بیٹھ گئ؟؟ ؟
کون شوہر ؟ حیا نے ہکلاتے ہوے پوچھا۔۔۔
یہ جو ُان ظالموں سے آپ کے لۓ لڑ رہا تھا؟
مولوی صاحب نے اپنے برابر میں بیٹھے شاھ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
مولوی صاحب کی اس بات پر سیگریٹ پیتے شاھ کے وجہیہ چہرے پہ نرمی سی چھائ, عنابی لب ُمنچھوتلیں مبہم سا مسکراۓ ۔۔
 پھر اس نےاپنا شغل دوبارہ جاری کردیا۔۔۔
حیا نے مولوی صاحب کے برابر میں بیٹھےاس مغرور اکھڑ بادشاہوں جیسی شان والےانسان کو دیکھا,جو بظاہر تو بے نیازی سے سگریٹ کو دو ُانگلیوں میں دبایئں کش لے رہا تھا پر دھیان اس کا حیا کے جواب میں اٹکا تھا۔۔۔ 
نہیں!!!!وہ میرے شوہر نہیں ہے۔۔
حیا نے بہت آہستہ سے جواب دیا۔۔پھر بھی سن نے والے نے سن لیا۔۔اس کے وجہیہ چہرے سے نرمی بھاپ کی مانند ُاڑی تھی۔۔عنابی لب ضبط سے ایک دوسرے میں پیوست کیۓتھیں۔۔
تو پھر کوئ رشتہ دار یا جاننے والا؟
مولوی صاحب نے پھر پوچھا۔
نہیں!!!میں انھیں نہیں جانتی۔۔۔
حیا کےجواب پہ شاھ نے اپنی بے تاثر نظریں حیاپہ کچھ پل کے لیے گاڑدی۔۔اور پھرایک گہرا کش لے کر سیگریٹ مسل دی زمین پہ۔۔۔
تو پھر یہ جوان آپ کے لیۓ اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے اس بہادری سے کیوں لڑا؟
اب ان۔کا ُرخ شاھ کی طرف تھا۔مولوی صاحب کو تجسس ہوا۔
شاھ نے مولوی صاحب کو دیکھتے ہوۓ سر کو ٹھورا پیچھے کی طرف کیے اس پری پیکر کی طرف دیکھا جو مولوی صاحب کی اوٹ میں ہو کے بیھٹی تھی ۔تا کہ شاھ کی نظریں اس پہ نہ پڑیں۔۔حیا کو شاھ کی پرتپش نگاہیں خود پہ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
keep sharing girls
baki inshallah next saturday i hope so you like my novel girls lots of loves for you….

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *