Tere Hisar Mein Episode 1



﷽میرانام آرزرشب ہے۔اس ناول کاآغازکرنے سےپہلےمیں چاہتی ہوکےآپ سب میرے لیے دعاکرے۔اس خوبصورت زندگی میں ایسے بہت سےواقعت گزرتےہے جوانسان کی زندگی میں بہت گہرا اثر چھوڑتےہےتو آۓ آج آرزکی دنیا میں چلےجہاں آپ کو ایک نئ دنیا سے متعرف کرائے ۔۔۔۔اس کہانی کے تمام کردار ,جگہیں فرضی ہے,اس کہانی کے پیچھے کوئ مقصد نہیں ۔۔

                                 ❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
بس کی آرام دہ سیٹس پے بیٹھےمسافراپنی منزل کےانتظارمیں اپنی نگاہیں بچھایئں بیٹھے تھےکےکب منزل آۓاور وہ اپنے پیارو سےمل سکے۔انھی کے بیچ مںیں کھڑکی سے سر لگائےوہ کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔
۔کیوں بابا!!!
 آپ نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ۔۔ کیوں مجھے تنہاچھوڑ دیا اس دنیامیں بابا۔۔۔۔
 ہم آپکے بغیر کیسے رہے گے۔آپ نے اپنی قسم دے کر ہمیں باندھ دیا ہےبابا۔۔۔
ہم کوئی ہل نکال لیتے ۔
۔کاش ہم آپ کو بچا پاتے۔۔اآپ سے تو ہماری زندگی کی سانسیں جڑی تھیں۔۔
تو پھر کیو ں چھوڑ گۓ ہمیں۔۔
ہمیں بھی ساتھ لےجاتےاپنے بابا۔۔۔
آپ کی حیا کیسے رہیگی آپ کے بغیر۔۔۔
۔(اسکی جھیل جیسی  آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ گرکراپنی بےبسی کا اعلان کر رہےتھے)
         ❤❤❤❤❤
دین محمد کیا خرابی ہوئ ہےگاڑی میں!!
(ٱس نے اپنی پراڈوسےسرباہر نکالتے ہوےپوچھا!!!!!)
صاحب شاید گاڑی میں کچھ مثلاہوگیاہے!!!!!
(دین محمد نےاپنےمالک کے لیےدروازہ کھولا۔ جوٱسکی بات سن کراب گاڑی سےنیچےٱتر آیا۔چھ فٹ دوانچ سےنکلتاقد۔۔۔بالوں کوجیل سےسیٹ کیۓ۔۔سن گلاسز سے اپنی صحرانگیز آنکھوں کوآزادکرتا گھنی منچھو تلے لب بھینچےاپنے مضبوط بازوں پےنیوی بلو کوٹ ڈالے وہ کسی سلطنت کا مغرور شہزادہ معلوم ہورہاتھا۔ )
دین محمد میرااسلام آباد پہنچنا بہت ضروری ہے!!!!ٱسنے چہرےپےبیزاریت لاتے ہوےکہا۔

صاحب إس سنسان روڈپےمکینک ملنامشکل ہے۔میں 

 گھرسےدوسری گاڑی منگوادیتاہوں!!!!!

نہی ٱسےآنےمیں شاید وقت لگ جاے۔تم کوئ گاڑی دیکھوں۔مجھے ُاس سے پہلے وہاں پہنچناہے۔۔
۔جی صاحب!!!کچھ ہی پلو بعد ۔۔۔
صاحب بس آرہی ہے!!آپ کہےتو روکوں !!
شاھ نےسرکوہلاکےکہا!!!!yes!!!!
تبہی گاڑدنے شاھ کے نزدیک سر جھکاۓ کچھ کہا۔۔
تمہیں پورا یقین ہے؟
شاھ نے گاڑد سے پوچھا ۔
یس سر۔۔یہ دیکھے بس کا نمبر ۔۔۔
تصویر دیٹیکٹیو نے جو بھیجی تھی وہ تو آپ کےپاس ہی ہے۔۔
گاڑد نے سر جھکاۓ شاھ سے کہا۔۔۔ٹھیک ہے۔۔شاھ نے جواب دیا
سر بس میں ایک ہی سیٹ خالی ہے۔۔دین محمد نے شاھ سے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔فروزتم دین محمد کے ساتھ گھر سے گاڑی منگا کے اسلام آبادآؤ۔۔
سرآپ اکیلے کیسے جاۓگے۔۔ میں آپ کے ساتھ جاؤ گا۔۔
No! !!!i dont need you r help!!!!
i know how to protect my self!!!!
you just go!!!!
yes sir ….
                                              ❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
میں نے تو آپ سے وعدہ کیا تھانامیں آپکودادا جی سے ملاؤں گی!!!!آپ ٱن سے ملے بغیر ہی چلے گۓبابا!!!!
وہ رونے میں اتنی مشغول تھی کے ٱسے محسوس ہی نا ہوسکاکے کوئ اسکے برابر میں آکے بیھٹاتھا۔جو بہت غور سےٱسے دیکھ رہاتھا۔۔۔۔بس میں صرف ایک ہی سییٹ خالی ہونے کی وجہ سےوہ اس کے برابر میں نہایت کوفت سے بیٹھا۔۔۔کیوکےصنف نازک سےاسے خدا واسطے کا بیرتھا۔۔۔اچانک شاھ کی نظرٱس ہلتے وجود پر پڑی۔۔۔جو شاید رورہی تھی 
شاھ اسکی کھلتی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کے مبحوس رہ گیاتھا۔۔۔۔بڑی بڑی کالی گھور سامنے والے کو اپنے حصار میں جکڑ لینے والی آنکھیں ۔۔۔جس پے گھنی پلکوں کی جھالر پھیلی ہوی تھی۔۔۔
کھولی کتاب کی مانند روشن چمکتا کالی چادر میں چھپاچہرہ !!!!!!جیسے چاند بدلیوں میں سے جھانک رہا ہو۔۔
خوبصورت گلاب کی پتیوں کے ماند کدرے موڑے ہوے ہونٹ اس کی خوبصورتی کو اور نکھار رہیں تھیں
مگر اگلے ہی پل اس نے بڑی مشکل سے اس جادوگر چہرے سے نظریں پھیر لی۔۔۔۔۔
اک کشش تھی جو میں نےاسے نظر بھر کےدیکھا۔۔۔گھنی ُمنچھوتلیں لب مسکراۓ
شاھ نے سوچتےہوۓاپنےآپ کوملامت کرنےلگا۔۔اور اپنی  چہرے پہ پہلے والی سختی لاتے ہوے نظریں سامنے مرکوز کردی۔۔
 اچانک فائیرنگ کی آواز گونجی بس کے ٹائر چرچراۓ۔۔۔۔بس کے ڈڑائیور نےبےقابو ہوتی بس کو بریک لگائ۔۔۔
حیا جو فائیرنگ کی آواز سن کےخوف زدہ ہوگی تھی۔۔اچانک بریک لگنے سے سامنے والی سیٹ کے لوہے کی راڈ سے ٹکراتی۔۔۔شاھ نےاپنابازوغیرمحسوس انداز میں راڈ کے  ُاوپر رکھ دیاجس سےٱس کاسرشاھ کے مضبوط بازوں کو چھو گیا۔۔۔۔حیا جو ایک دم سے بوکھلا گئ تھی ۔۔شاھ کی طرف متوجہ ہوئ۔۔۔۔ 
شاھ نے بنا ٱسکی طرف دیکھےسر جکھاۓآہستہ آوازمیں       کہا۔۔۔Relax!!!!
بس میں تین نقاب پوش ہاتھوں میں جدید گنزلیےداخل ہوے۔۔
سب اپنے ہاتھ اوپر کرو جلدی۔۔۔اور باہر نکلو۔۔
ان میں سے ایک نقاب پوش نے زور سے کہا۔
۔حیانےخوف کے مارے اپنےچہرےکومزید ڈھک لیا۔۔
کہی یہ بلال لاشاری کے بندےتونہیں۔۔۔
یااللہ میری عزت کی حفاظت کرنا۔۔اس کی خاطر میرے بابا کی جان چلی گئ!!!!
حیانےخودسےآہستہ آواز میں کہا۔۔۔مگر ساتھ بیٹھے شاھ نے اس کی بات سن کے اپنی ہاتھوں کی ُمٹھیوں کوزور سےبھینچا۔۔۔۔
عورتیں اور بچیں چیخنیں لگیں۔۔۔ان میں سے ایک عورت آگے آئ۔۔۔۔بھائی ہمیں جانیں دو۔۔۔۔تمھیں اللہ کا واسطہ لگے۔میرے بچے  میرا انتظار  کر رہیں ہو گے۔۔
 بوڑھی عورت اس دہشتگر کے آگے ہاتھ جوڑے التجا کر رہی تھی۔۔۔
اچانک اس نےبوڑھی عورت پے فائر کھول دیا۔۔۔اور وہ لہرا کے نیچے گری۔۔۔
 نقاب پوش نےبندوق کا رخ مسافروں کیطرف کر کے زور سے کہا۔۔۔۔اور کوئ ہے جسے جلدی گھر جانا ہے۔۔۔
سب نے دڑ کے مارے سرنامیں ہلایا۔۔۔
نیچے اترو سب۔۔۔ان کی تلاشی لو اورسب کے فون چھینو ۔۔۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *