Rooh Ka Sakoon Episode 9

 ملائکہ اوزکان کے ساتھ سٹی اسپتال پہنچی جہاں ایمرجنسی میں سہیل بھائ اور خالہ تھے ۔ملائکہ ایمرجنسی کے باہر جلے پیر کی بلی کی طرح چکر لگا لگا کے تھک گئ تھی مگر دل کو قرار نہیں مل رہا تھا۔


وہ داکٹرز کے باہر نکلنے کا انتظار کررہی تھی ۔اس دوران۔اوزکان صالیح بھی راہداری میں دیوار سے ٹیک لگاۓ ملائکہ کو چکر لگاتے دیکھ کر کئ بار ٹوک ُچکا تھا۔

تب ہی  دوداکٹرز باہر نکلے۔

“داکٹر میری آنٹی اور بھائ کیسے ہے “۔(اس نے خالص انگریزی میں داکٹر سے سوال کیا)…


ان کو شدید انجریز (زخم)آۓ ہے, لیکین دونوں خطرے سے باہر ہے ,جو لیڈی ہے ان کی ٹانگ کی سرجری ہوئ ہے  خاص باقی جو لڑکا۔ہے ان کو کافی چوٹیں آئ ہے صبح تک ہی انہے  ہوش آۓگا۔ااپ پریشان مت ہو ص ؓ تک ہوش میں آجاۓ گے۔

ڈاکٹر میں ان سے مل۔سکتی ہو۔

نو ڈیڑ وزیٹنگ آورز ختم ہوگۓ ہے ویسے بھی وہ آئ سی یو میں ہے۔آپ باہر سے دیکھ لیجے گا ۔

اوکے شکریہ داکٹر۔اوزکان۔ نے داکٹر سے ہاتھ ملایا پھر ملائکہ کی طرف پلٹا جو آئ سی یو کی دیوار میں نصب شیشے کےآگے کھڑی تھی جہاں سے اسے اس کی خالہ نظر آرہی تھی ۔

I am sorry khala.

یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ملائکہ نے دیوار سے سر ٹکاۓ رونے میں مشغؤل ہوگئ۔اوزکان جو ملائکہ کو کافی دیر سے روتا دیکھ رہاتھا اس کے نزدیک آکر کھڑا ہوگیا۔

ملائکہ وہ ٹھیک ہوجاۓ گے۔زخم گہرے ہے مگر بھر جاۓ گے ۔اوزکان نے اس کے پیچھے کھڑے ہوکر دھیمی آواز میں اسے تسلی دی۔ملائکہ نے پلٹ کے آنسوں پونچھے رونے کی وجہ سے ملائکہ کا چہرہ لال انگار کی طرح ہوگیا تھا کچھ پل کے لیے اوزکان بھی اس معصومیت سے بھرے چہرے کو دیکھ کر مسمرائز ہوگیا ساتھ ہی اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ اور ُرخ پھیر کے کھڑا ہوگیا۔

سر آپ لوگ پلیز باہر جاکے بات کرے یہاں شور کرنا منع ہے, وزیٹنگ آورز میں آیۓ گا ۔نرس نے اوزکان اور ملائکہ کو باہر جانے کے لیے کہا ۔

ملائکہ بوجھل قدموں کے ساتھ اوزکان کے ساتھ اسپتال کے باہر آگئ جہاں آکے اسے ایک دم سے کپکپی سی محسوس ہوئ ۔

میرا نہیں خیال تمہیں اب یہاں رکنا چاہیے میرے گھر چلو کچھ دیر آرام کرو پھر صبح آجانا۔اوزکان نے ُرخ پھیرے ملائکہ کو ساتھ چلنے کو کہا۔

“اوزکان آپ کا بہت شکریہ آپ نے میری اتنی مدد کی ورنہ میں اس وقت دھکے کھارہی ہوتی خالہ کو دھونڈنے کے لیے میں یہی اسہتال میں رہوگی خالہ کے پاس آپ اب گھر چلے جاۓ پلیز۔ملائکہ نے گلوگیرلہجے میں اوزکان صالیح کو کہا ۔جو اس کی بات پر اپنی اوور کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالیں ایک دم سے پلٹا اس کے صحر انگیز چہرے پر پل بھر کے لیے مسکراہٹ چھاگئ۔

تم اسپتال میں رہوگی, اچھا کہا رہوگی ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے ۔اوزکان نے یہ کہتے ہوۓ اپنی جیب سے سیگریٹ نکالی۔اور ملائکہ سے اشارے سے پوچھا۔

do you mind if i? .

ملائکہ نے سر نہ میں ہلایا تو اوزکان نے اپنی سیگریٹ جلالی پھر ایک کش لیتے ہوۓ ملائکہ سے پوچھا ۔

بتاؤ کہا رہوگی۔ملائقہ نے سردی سے اس کے منہ سے نکلتے دھواں کو دیکھا۔

“م م م میں یہاں بینچ پہ گزارلوگی رات, ویسے بھی مجھے نئ جگہ پہ نیند نہیں آتی میں سوؤ گی نہیں اور انشاللہ صبح تک تو خالہ کو ہوش آجاۓ گا پھر میں ان کے گھر چلی جاؤ گی۔۔

آیڈیہ اچھا ہے لڑکی پر کیا ہے نہ ابھی ٹیمپریچر مائنس پہ جارہا ہے تواور گہری رات میں یہ مزید گرے گا تو آپ کی قلفی جمے اس سے بہتر ہے آپ میرے ساتھ چلے ۔اوزکان نے ملائکہ کو سمجھاتے ہوۓ کہا ۔

اوزکان پلیز آپ مجھے شرمندہ مت کرے آپ میرے ساتھ صبح سے خوار ہورہے ہے آپ چلے جاۓ میں مینج کرلوگی ۔مجھے عادت ہے ۔

تمہیں میرے ساتھ جانے میں کیا پروبلم ہے اینجل جب تک وہ واڑد میں شفٹ نہیں ہوگے اٹینڈنٹس  اندر نہیں جا سکتے, مزید وقت ضایع مت کرو اور چلو ویسے بھی دیکھوں برف ہڑنا شروع ہوگئ ہے۔اوزکان نے برف گرتے دیکھ کر اس بار تھوڑا غصہ میں کہا۔

آ آ آ پ کے گھر میں کون کون ہے “۔

ملائکہ کے غیر متوقع سوال پہ اوزکان نے چونک کے اسے دیکھا ۔

کوئ بھی نہیں میں اکیلا رہتا ہوں۔کیوں ۔

پ پ پھر میں نہیں آرہی اگر آپ کے گھر میں کوئ لیڈیز ہوتی تو میں آجاتی ہر اب یہ ممکن نہیں آپ جاۓ پلیز اور اب مت مجھے کہیۓ گا ۔میں آپ کا یہ احسان ساری زندگی نہیں اتارسکتی جو آج آپ نے میرے لیے کیا ہے ۔

یہ کہ کے ملائکہ بینچ کی طرف بڑھنے لگی تو اوزکان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔

میری بات ابھی ختم۔نہیں ہوئ میرے گھر اکییلے ہونے سے تمہیں کیا پروبلم۔ہے کیا میں تمہارے ساتھ پچھلے چوبیس پچیس گھنٹوں سے نہیں ہوں کیا تم۔نے میرے کریکٹر میں کوئ خرابی دیکھی یا کتنی بار میں تمہارے نزدیک ہوا جو تم۔نے مجھے ایسے کہا۔اوزکان صالیح کی انگلیاں ملائکہ کو لگا اس کی بازوؤں میں پیوست ہوجاۓ گی۔

اوزکان پلیز چھوڑےمجھے درد ہورہا ہے ۔ملائکہ نے روہانسی آواز میں کہا جس پہ اوزکان کے ہاتھوں کی گرفت ایک دم۔سے ڈھیلی پڑی ۔

م م میں نے آپ پہ کوئ شک نہیں کیا بلکہ میں نے آپ کو اس لیے منع کیا تھا کے آ پ میرے لیے نامحرم ہے میں آپ کے ساتھ ایک چھت تلے رات نہیں گزار سکتی, میں مانتی ہوں کے میں بہت اچھی مسلمان نہیں پر میں بنیادی تمام اسلام کےاور ہمارے معاشرے کے اصولوں کی پابند ہوں ۔اوزکان اس کی غیرمتوقع بات سن کے حیران رہ گیا تھا ۔اس نے کہا سنا تھا کے کوئ لڑکی اور لڑکا رات ساتھ نہیں گزارسکتے تھے ہمارے نزدیک تو یہ عام سی بات تھی پر اوزکان صالیح کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹ چھاگئ۔اوزکان نے ملائکہ کا ہاتھ تھاما اور پارکنگ کی جانب لے جانے لگا ۔

اوزکان کہا جارہے ہے۔میں نے منع کیا ہے نہ آپ کو ۔

شششششش۔اوزکان اپنی انگلی اپنے لبوں پہ رکھ کر اسے خاموش رہنے کے لیے کہا ۔پھر اپنی گاڑی کے نزدیک پہنچ کر اس کا آٹومیٹک لاک کھولا ملائکہ کا ہاتھ تھام۔کے اسے پیچھے بٹھایا پھر دروازہ بند کرکے خود آگے بیٹھ کر ہیٹر چلایا ,پیچھے ملائکہ کی جانب پلٹ کر اس کی جھولی میں اپنی گاڑی کی چابیاں پھینکی ۔

گاڑی کو اندر سے لاک کرلو اور سوجاؤ۔اوزکان صالیح نے ملائکہ کا جواب سنے بغیر گاڑی سے نیچے اتر آیا اور باہر کی جانب چل دیا ملائکہ شیشے پہ پڑتی نمی کو صاف کرکے اس مہربان شہزادے کو دور ہوتا دیکھ رہی تھی  ۔

ملائکہ نے حفاظت کے طور پر ایک بار سارے لاک چیک کیے پھر ہیٹر کی حرارت میں اسے سکون ملنے لگا دن بھر کی تھکاوٹ اس پہ حاوی ہونے لگی نیند سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگی اور وہ گہری غنودگی میں  چلی گئ۔

رات کے جانے کس پہر ملائکہ کی آنکھ شیشہ کھٹکھٹانے پر ُکھلی اس کی آنکھوں میں شدید روشنی ُچھبنے لگی اس نے اپنی آنکھیں  آہستہ سے کھولی تیز روشنی اس کی آنکھوں پہ پڑنے سے اس نے اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رات رکھ لیا اب کی بار پھر کھڑکی بجی ملائکہ نے اس کی جانب دیکھا جس کے داڑھی پہ  جگہ جگہ برف کے ذرات لگے ہوۓ تھے ملائکہ کو اس۔سے ایک دم۔خوف سا محسوس ہوا باہر برفانی طو فان آیا ہوا تھا اگر یہ اندر آگیا تو میرہ اس شور میں کوئ میری آواز بھی نہیں  سنے گا۔ملائکہ پیچھے گاڑی کی ِسیٹ کے ساتھ لگ گئ۔وہ آدمی مسلسل دروازہ بجاۓ جارہاتھا ۔ملائکہ نے اس سے اشارے سے پوچھا کیا چاہیے تو اس نے ہاتھ کا اشارہ کیا باہر آؤ۔

ملائکہ کی ِسیٹ کے ساتھ اور لگ کے بیٹھ گئ اور اسے اشارے سے جاؤ مگر وہ بجاۓ جانے کے مسلسل اسے باہر بلارہا تھا اب تو ایک اور آدمی برفانی ٹوپی  پہنے ملائکہ پہ ٹارچ مارتا اپنے ساتھی کو کچھ کہنے لگا جس پہ وہ ہسنے لگے گاڑی میں ہیٹر چلنے کی وجہ سے شیشے پہ بار بار نمی آرہی تھی ۔ملائکہ خوف سے کپکپانے لگی اور اللہ کو پکارنے لگی کتنا کہ رہا تھا وہ میرے ساتھ چلو میں اگراسے روک ہی لیتی کیا چلاجاتا پر وہ تو میری بات سنے بغیر ہی چلاگیا تھا ۔۔اب ایک آدمی ملائکہ کے پیچھے والی ِسیٹ بھی کھٹکھٹانے لگا ۔ملائکہ بیچ میں بیٹھ کے دونوں کھڑکیوں کی جانب دیکھنے لگی اس نے ایک کھڑکی کا شیشہ صاف کیا اور اس آدمی کو اشارے سے کہنے لگی جاؤ ۔تب ہی ملائکہ نے ایک جانے پہچانے انسان کو اپنی دھندلائ ہوئ آنکھوں سے دیکھا جو اسے ان آدمیوں سے کچھ بات کررہا تھا ملائکہ نے اہنی آنسوؤ سے بھری آنکھیں پونچھی اور اسے دیکھا ۔وہ کوئ اور نہیں بلکہ اوزکان صالیح تھا جو ان سے بات کرکے اب ملائکہ کی جانب آرہا تھا اس نے  گاڑی کا شیشہ بجایا۔جسے ملائکہ نے فورًا  نیچے کیا ۔

دروازہ کھولو۔ملائکہ نے فوراً  دروازہ کھولا اوزکان صالیح ڈرایئونگ ِسیٹ پہ آ کر بیٹھا اور گاڑی کو ریورس کرنے لگا جب بیک ویو مرر سے اس کا رویا ہوا چہرہ دیکھا تو دل۔کو کچھ ہوا, مگر کچھ بولا نہیں اور خاموشی سے گاڑی کو سایڈ پہ پارک کرنے لگا۔پارک کرکے ملائکہ کی طرف پانی کی بوتل بڑھائ جس کی سسکیوں کی آواز ابھی بھی گاڑی میں گونج رہی تھی۔

ڈر گئ تھی۔اوزکان کی گھمبیر آواز نے گاڑی کی خاموشی کو توڑا ۔

ہممم! !!!!!۔ملائکہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگی جو اپنے ساتھ ساتھ کسی کا دل۔بھی بہا لے گئ۔

اوزکان نے اس کی طرف ٹشو باکس بڑھایا جسے اس نے تھام۔لیا ۔

جلدی میں جب ہم۔اسپتال۔آۓ تھے تو غلط جگہ گاڑی پارک کردی تھی جس کی وجہ سے جن کی گاڑی ہماری گاڑی کے پیچھے کھڑی تھی وہ ہٹانے کے لیے گاڑی نوک کرہے تھے ۔جنہیں تم۔کچھ اور سمجھ کے ڈر گئ تھی ۔

میری آنکھ لگ گئ تھی ورنہ تمہیں ڈر نہیں لگتا ۔

اوزکان کی اس بات پہ ملائکہ نے اسے چونک کر دیکھا ۔

آپ گۓ نہیں تھے ۔

نہیں میں نے اپنے ڈرایئور سے ایک اور گاڑی منگوالی تھی میں اسی میں تھا پھر پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئ۔

اوزکان کی اس بات پہ کے وہ اس کے نزدیک ہی تھا ملائکہ کے اندر ایک طمانیت کی لہر ڈوڑ گئ۔

اب گھر کیوں نہیں گۓ ۔

اوزکان نے بیک ویومر سے اسے دیکھا جس کی رونے کی وجہ سے آنکھیں ُسوج کےاور خوبصورت ہوگئ تھی اوزکان نے اپنی نظریں اس پہ گاڑیں ہوۓ اسے دیکھا پھر سر کو ُجھکایا اپنے چہرے پہ آئ ہلکی آئ ڈاڑھی پہ ہاتھ پھیرا اور دھیمی آواز میں بولا۔

بتایا تو تھا ہم ُترک ہے مصیبت میں کبھی کسی کو چھوڑا نہیں  کرتے” ۔

اوزکان کی اس بات پہ ملائکہ کے چہرے پہ روتے ہوۓ مسکراہٹ چھا گئ۔

کوفی پیوگی ۔ملائکہ نے نظریں ُاٹھا کے اسےبیک ویومرر میں دیکھا پر جواب نہیں دیا اوزکان نے اس کی خاموشی سے دیکھنے پر گاڑی کو اسٹارٹ کیا اور اسپتال کی پارکنگ سے باہر نکال لایا رات کے اس پہر ہر طرف برف کی سفید چادر نے شہر کو ڈھکا ہوا تھا۔جہاں سارا شہر سویا ہواتھا وہی اوسٹلر مارکیٹ میں بنی اس کافی شاپ پہ دن کا سما تھا ۔اوزکان نے گاڑی بند کی اور ملائکہ کو باہر ُاترنے کے لیے کہا, وہ خاموشی سے اس کے پیچھے آگئ۔اوزکان نے دروازہ کھول کے اس کو اندر آنے کا راستہ دیا پھت دروازہ بند کرکے اس کے پیچھے ہولیا, اس نے خالی ٹیبل چیر کے لیے نظریں دوڑائ تو اسے ایک کونے میں نظر آگئ۔ پھر ُایک جانب کھڑا ہوکرکرسی کھینچ کے ملائکہ کو بیٹھنے کے لیے کہا, پھر خود بھی سامنے والی کرسی پہ برا جمان ہوگیا ۔

پہلے تم فریش ہوکے آؤ وہ رہا واش روم جاؤ ۔اوزکان کی نشاندہی پر ملائکہ خاموشی سے واشروم۔کی جانب چلی گئ۔

کچھ دیر بعد جب لوٹی تو اوزکان نے ٹیبل پہ سینڈوچیز  اور کوفی منگوائ تھی ۔

آجاؤ بہت ُبھوک لگ رہی تھی سوری میں نے پوچھا بھی نہیں اور منگوالیا  ۔

نہیں کوئ بات نہیں ۔

چلو شروع ہوجاؤ پھر۔اوزکان نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔

نہیں مجھے بھوک نہیں ہے میرا سر بھاری ہورہا ہے آپ بس مجھے کوفی دےدو۔

کوفی بھی لو مگر پہلے تھوڑا سا کچھ کھالو ۔اوزکان کے بار بار کہنے پر ملائکہ نے ایک سینڈوچ کا ٹکڑا تھام لیا ساتھ میں کوفی بھی پینے لگی ۔۔

ابھی وہ دونوں کوفی پی ہی رہے تھے کے برابر والی ٹیبل پہ بیٹھے ایک لڑکے نے دوسرے لڑکے کو بہت ُبرے طریقے سے مارنے لگا سارے کسٹمرز کھڑےہوگۓ ۔اوزکان نے غیر ارادی طور پر ملائکہ کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی جانب کھڑا کرلیا کیوں کے وہ دونوں لڑکے ملائکہ کے پیچھے ہی لڑ رہے تھے۔

اگر کل تک تو نے پیسے نہیں دیے تو تجھے جان سے ماردو گا ورنہ تیری ماں کو لے جاؤ گا۔یہ کہ کے اس انگریز نے اس لڑکے کو جس کا گریبان اس کے ہاتھ میں تھا اسے زمین پہ پٹخ دیا ۔اس لڑکے کے چہرے پہ خون ہونے کی وجہ سے ملائکہ اس لڑکے کا چہرہ نہ دیکھ پائ مگر اوزکان نے شروع لڑائ میں ہی اس لڑکے کو دیکھ لیا تھا ۔وہ لڑکا لڑکھڑاتا ہوا ُاٹھا اور باہر کی جانب چل دیا

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *