Rooh Ka Sakoon Episode 7

 آپ گۓ نہیں ,آپ چلے جاۓ وہ لوگ سورہے ہوگے شاید اسی لیے نہیں کھول رہے”۔ملائکہ نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے کہا ۔

“ہم ُترک ہے مصیبت میں کسی کو اکیلا نہیں چھوڑاکرتے”۔

یہ کہتے ہوۓ اوزکان نے دروازے پہ نظر دوڑائ جہاں اوپر اسے دروازے کے شیڈ کے پاس گلابی رنگ کی پیپر کی ِچٹ نظر آئ۔ 

“ارحم ہم لوگ ایرپوڑٹ جارہے ہے ملائکہ کو لینےتم انتظار مت کرنا”۔اوزکان نے انگریزی میں لکھا ہوا نوٹ پڑھا۔

“اس کا مطلب وہ تمہیں لینے گۓ تھے تو پھر کہا گۓ تم۔تو جہاز سے آلڑیڈی بیت دیر سے آئ تھی پھر باہر بھی کافی دیر ُرکی تھی تو وہ لوگ گۓ کہا”۔اوزکان نے ملائکہ کی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا ۔

“ہوسکتا ہے وہ ٹڑیفک میں پھس گۓ ہو یا نکلے ہی دیر سے ہو “۔ملائکہ بے اوزکان کو جواب دیا۔

“اب تو وہ لوگ واپس آرہےہوگے آپ چلے جاۓ پلیز مجھے بہت شرمندگی ہورہی ہے “۔

“تم پاکستان کال کرو اپنی گھر والوں سے پوچھوں انہیں کوئ کال آئ تمہاری آنٹی کی یا پہلے اس ارحم کو کال کرو وہ کون ہے”۔

اوزکان نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ باہر کی طرف دیکھا جہاں اندھیرا ڈھلنا شروع ہوگیا تھاپھر ملائکہ کی طرف دیکھا جس کی ناک سردی سے لال ہورہی تھی ۔اوزکان نے اپنا فون ملائکہ کی طرف بڑھایا پھر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا ملائکہ کو لگا وہ شاید کہی جارہا ہے مگر وہ اپنی گاڑی سے اوور کوٹ نکال کر لارہا تھا ۔

“یہ لو سردی اور بڑھ جاۓ گی بیمار پڑگئ تو حالات کا مقابلہ کیسے کرو گی”۔

ملائکہ نے خاموشی سے تھام لیا پھر ُرخ دوسری جانب کرکے جلدی جلدی اوور کوٹ پہنا ۔

“”ارحم کون ہے نمبر ہے اس کا”۔

“ارحم میری خالہ کا چھوٹا بیٹا ہے وہ خالہ کے ساتھ نہں رہتا اس کے برے لوگوں میں ُاٹھنے بیھٹنے کی وجہ سے خالہ نے کبھی ہم سے اس کا تعارف نہیں  کرایا اور بی ہی وہ ان کے ساتھ رہتا تھا ,اس لیے ہم لوگوں کے پاس اس کا کوئ کونٹیکٹ نہیں “۔

“گریٹ تو پھر اب ,اپنی امی کو کال کرو بہانے سے پو ھوں خالہ کی کال کا”۔

اوزکان کی بات پہ ملائکہ نے سر ہاں میں ہلایا ہھر نمبر دائیل کرنے لگی۔

“ہیلوں کون می می بات کررہی ہو”۔انٹرنیشنل نمبر دیکھ کر  سنعایا نے جلدی جلدی پوچھا ۔



“جی آپی میں ملائکہ آپ کیسی ہے”۔

“ہم ٹھیک ہے ملائکہ میں اور امی کب سے دعائیں مانگ رہے تھے تم خیریت سے ہو نہ خالہ کا نمبر آن تھا نہ ُان کا آن تھا میں اور امی تو پریشان ہوگئ تھی شکر اللہ کا تمہاری آواز سن لی,  خالہ نے بھی نہیں بتایا اور تم نے بھی حد کردی کے ہمیں کال کرتی یہ چار گھنٹے ہم نے کس ازیت سے گزارے ہے”۔سنعایا نے بہن کی آواز سن کر روتے ہوۓ کہا۔

“بجو میں تھیک ہوں یار خالہ اور بھائ کا فون چارج نہیں تھا اس لیے کال نہیں کی امی کہا ہے “


تمہاری آواز اسپیکر پہ سن کر وہی شکرانے کے  نوافل ادا کررہی ہے لو یہ آگئ بات کرلو”۔

می می میری جان کیسی ہو کہا چلی گئ تھی پردیس جاتے ہی ماں کو تنگ کرنا شروع ہوگئ”۔

امی سوری اب نہیں کروگی بس آپ میرے حق میں دعا کیا کرے اچھا امی میں سم لے کر آپ کو اپنا نمبر سینڈ کروگی اب میں سورہی ہو یہ فون کسی کا ہے تھیک ہے اللہ حافظ”۔ملائکہ نے ماں کا جواب سنے بغیر فون بند کردیا جانتی تھی وہ خالہ سے بات کرنے کا کہے گی ابھی وہ انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ملائکہ نے ایک لمبی سانس لی پھر اوزکان کی طرف دیکھا 

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *