Rooh Ka Sakoon Episode 5

 ملائکہ ِاس بے نیاز شہزادے کو دیکھنے لگی جو سخت بھینچے ہوۓ لبوں کے ساتھ ُاس کا ہاتھ تھامے چلاجارہا تھا ۔

یہاں کھڑی ہو اب دیکھ کے چلنا یہ تمہارا ملک نہیں ہے اپنے ہوش وحواس قائم رکھ کر چلو لڑکی, ورنہ تمہارا یہاں رہنا بہت مشکل ہوجاۓ گا “۔

“کوئ لینے آۓ گا تمہیں یا خود جاؤ گی “۔اوزکان صالیح نے اس کی جانب دیکھا جو زمین پہ نجانے کیا تلاش کررہی تھی ۔

 “میری خالہ نے آنا تھا مجھے لینے پر وہ ابھی تک آئ نہیں “۔ملائکہ نے برف سے ڈھکے درختوں کو دیکھا ۔

“توکال کرو انہیں “۔جانے کیوں اوزکان صالیح ُاسے اکیلا چھوڑ کے جانا نہیں چاہ رہا تھا ۔

“میرے پاس فون ہے پر یہاں کی ابھی ِسم۔نہیں ہے میں کوئ ٹیلیفون بوتھ چیک کرتی ہوں وہ پلٹنے لگی جب اوزکان نے ُاس کا ملائم ہاتھ تھام لیا ۔

“یہ لو میرا فون کال کرو انہیں “۔

ملائکہ نم ر ڈائل کرنے لگی مگر نمبر مسلسل آف جارہا تھا ۔

ملائکہ نے دو تین بار ٹڑائ کیا مگر نمبر پاوڑد آف جارہاتھا 

ُاس نے روہانسی ہو کر اوزکان کو دیکھا پھر اپنے بہنوئ کا نمبر ڈائل کرنے لگی ُاس کا نمبر بھی پاور آف جارہا تھا,اب ملائکہ نے ہمت ہار دی اورُاس کی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہوگۓ جنہیں دیکھ کے اوزکان صالیح کے اندر ایک عجیب سی بے چینی شروع ہوگئ۔

“رو مت ُان کا اڈریس ہے آپ کے پاس “۔

ُاس نے ملائکہ سے پوچھا جس پہ ُاس نے اقرار میں سر ہلایا اور جلدی سے اپنے پرس سے نکالنے لگی ۔

“بڑیڈ فوڑڈ جانا یے تمہیں تو وہاں کی فلائیٹ کیوں نہیں کرائ”۔اوزکان نے پرچی پہ لکھا پتہ دیکھ کر ملائکہ سے سوال پوچھا۔

“ٹکٹ نہیں مل رہا تھا “۔

“چلو ِاسے تم اتفاق سمجھ لو یا کچھ بھی میں وہی کا رہائشی ہوں اگر میرے ساتھ جانا چاہتی ہو تو موسٹ ویلکم اگر بس میں جانا ہے تو میں تمہیں ڈراپ کردیتا ہوں “۔۔اوزکان صالیح جو ِبلا ضرورت ہی کسی سے بات کرتا تھا آج اس معصوم چہرے والی کو دیکھ کے خود بخود باتیں کررہا تھا ۔

ملائکہ شش وپنج میں تھی کیا کرو بھروسے کے علاوہ دوسری کوئ راہ نہیں تھی ُاس نے اوزکان صالیح کے ساتھ جانے کو ترجیع دی آگے جاکے ہوسکتا تھا وہ لوگ گھر بھی نہ ہو جو فون بند کرسکتے ہے وہ کچھ بھی کرسکتے تھے ۔۔

میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں ۔

“ٹھیک ہے میں ایک بار انتظامیاں سے کہ کے اعلان کرواتا ہوں اگر وہ نزدیک ہوگی تو آ جاۓ گیاوکے                “۔

۔پھر اوزکان نے دو تین اعلان کرواۓ مگر آدھا گھنٹہ رک کر بھی کوئ ریسپونس نہیں آیا پھر اوزکان نے اپنا کانٹیکٹ نمبر ان کے پاس چھوڑ کر باہر گاڑی کی طرف ملائکہ کے ساتھ آگیا۔تمہارا سامان کہاہے۔“وہ رہاسامنے پلر کے پاس میں لاتی ہو”۔

” نو تم رکو یہی “۔۔یہ کہ کر اوزکان صالیح ملائکہ ادریس کا سامان خود ُاٹھانے لگا۔

“ڈینیل یہ سامان گاڑی میں رکھو”۔اوزکان صالیح کا ڈرایئور  ُاس کے نزدیک آکے کھڑا ہوگیا۔

اوزکان نے ملائکہ کے لیےفرنٹ ِسیٹ کا دروازہ کھولا وہ خاموشی سے بیٹھ گئ پھر ُگھوم کے ڈرائیونگ  ِسیٹ کی طرف آیا ۔اور ڈینیل کو آواز لگائ۔۔

یس سر۔

ڈینیل تم ٹیکسی سے گھر چلے جاؤ میں گاڑی خود ڈڑائیو کرو گا۔

یس سر۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *