rooh ka sakoon episode 46,47

“آباں کیا ہوگیا ہے، آپ کو یہ میرا معاملہ ہے۔ میں خود ہینڈل کروگا، آپ میرے کاموں میں دخل اندازی مت کریں۔” نواب داؤد یوسف نے اپنے ہاتھوں کے زخموں پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔ “وہ تو نظر آ رہا ہے، تم اپنے معاملے کس طرح حل کرتے ہو، ہم خود دیکھیں گے سب، نواب یوسف کے بیٹے پر ہاتھ اُٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے، جاؤ جمال ہم۔ نے تمہیں جو کہا ہے وہ کرو:۔ “جی سر۔” جمال نواب یوسف کی آواز پر سر ہلاتا ہوا باہر کی جانب چلا گیا۔ “اور سنو برخودار، جب تک یہاں ہو، جو مرضی کرو پر اب ہم تمہیں اس طرح مار کھاتا ہوا نہ دیکھے۔” نواب یوسف نے ہنکار بھرا اور باہر کی جانب چلے گئے۔ نواب داؤد یوسف نے اپنے بابا کو جاتا دیکھ کر اپنے موبائیل سے کال کرلائی۔ “یاں جمال، اگر اپنی ٹانگیں سلامت چاہتے ہو تو، اباں کو کچھ نہیں بتانا، اب ہن سنو میری بات میں تمہیں ایک گاڑی کا نمبر بھیج رہا ہوں، معلوم کرو کہ یہ کہا ہے۔” “یس سر، آپ بے فکر ہو جائیے، میں آپ کو پتہ کرکے بتاتا ہوں۔” نواب داؤد یوسف نے جمال کی بات سن کر کال بند کردی۔ “تمہیں تو میں ناکوں چنے چباؤں گا، اوزکان صالیح تم بھی یاد کروگے کہ تمہارا کسی سے پالا پڑتا ہے۔”

“امی، کیا ہوا، آپ پریشان لگ رہی ہیں؟” سنعایا نے کمرے سے باہر آتی فرزانہ بیگم کو دیکھا جو ہاتھ میں موبائل تھامے باہر آرہی تھی۔ سنعایا کی بات پر لیپ ٹاپ پر کام کرتے اوزکان صالیح اور میگزین کو پڑھتی ملائکہ نے بیک وقت درزانہ بیگم کو دیکھا۔ “بیٹا، وہ تمہاری خالا نے بات ہی ایسی کی ہے کہ میں پریشان ہو گئی ہوں۔” فرزانہ بیگم صوفے پر بیٹھتے ہوئی بولی۔ “ایسی کیا بات ہے، اماں؟” ملائکہ اور سنعایا فرزانہ بیگم کے دائی باائی بیٹھے ان کے شانے کے گرِد ہاتھ پھیرتے دیکھیں۔ “بیٹے، وہ کیہ رہے ہیں، یہ آنے والے پیر کو سہیل اور وہ پاکستان آ رہے ہیں۔” “تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ یہ تو اچھی بات ہے۔” 

ملائکہ نے فرزانہ بیگم کے شانے گرد اپنا ہاتھ پھیلا کر کہا۔

 .کیابات

“میں سوچ رہا ہوں کہ دونوں کی آپ کی ایک بیٹی کوتوں کی بہن بنایا ہے، پر دوسری بیٹی کو کچھ اور بنایا ہے۔ لگے ہاتھوں ان کے ہمیں بھی نبٹا دے۔” اوزکان نہایت توجہ سے ملائکہ کے بالوں کو چہرے سے ہٹا کر پیچھے کی جانب کر رہا تھا، جس سے ملائکہ کو سکون مل رہا تھا۔ مگر اوزکان کی پوری بات سن کر اس نے جھٹ سے اپنی بند آنکھیں کھولی، جو اوزکان کی بالوں میں انگشت پھیرنے کی بنا پر بند تھیں۔

“کیا؟” ملائکہ ہلکے سے بل چکی جس پر اوزکان نے ان گلاب پنکھڑیوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

“ششششششش۔”

“کیا کر رہی ہو، اینجل؟” وہ ایک ہاتھ سے اس کے لبوں کو ڈھکے، جب کے دوسرے ہاتھ سے اس کے کمر کے گرد اپنے بازو حمائیل کی طرف لگا رہا تھا، جس سے اسے اپنے مضنوعی غصے سے ڈانٹ رہا تھا۔

“تم اٹھوں، یہاں سے تم سے مجھے خفیہ میٹنگ کرنی ہے، جو کہ یہاں بالکل نہیں ہوسکتی کیوں کہ تم بہت شور کرتی ہو۔” اوزکان نے ملائکہ کو احتیاط سے اپنے اوپر سے ہٹاتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔

“مجھے نہیں کرنی ہے، آپ سے کوئی میٹنگ شیٹنگ میں جا رہی ہوں اور خبردار جو مجھے پکڑ لے۔” اوزکان نے ہمیلہ کو اپنی باندھنے والی بغض سے دانٹ رہا تھا۔

“یہ تو ناممکن بات ہے، ملائکہ، اوزکان صالح کے، میں آپ کو نہیں ٹھاموں، اور آپ سے دور رہو۔” اوزکان نے اسے کمر سے تھام کر اپنے حصار میں لے لیا، پھر اپنے دونوں بازوں سے اس کے گرد حمائیل کی طرف بھینچا کر ملائکہ کو خود میں شدت سے بھینچا کر دیا، اور اس کی پسلیاں ٹوٹ کر باہر نکل آئیں گی۔

“اب بتاؤ، کروگی میٹنگ؟” اوزکان نے اس کے گرد حمائیل کی طرف اپنے ہاتھ کو اس کی گردن کے گرد بھینچا، اور اس کا چہرہ اپنے نزدیک کیا۔ ملائکہ کو اوزکان کی آنکھوں میں دیکھنا اس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام تھا، لگتا تھا وہ اپنی لرزتی ہوئی حیا کے بوجھ سے جھکی پلکوں کو کبھی اوپر کی طرف کرتی، تو کبھی  انہیں اوزکان کے سینے سے جھانکتی جو اس چیز پر 

گاڑتی جو اسے کمیز ک

“ہورہی تھی۔”

“اوزکان، آپ کیا کررہے ہیں؟ چھوڑیں مجھے، بہت سارے کام ہیں، پلیز۔” ملائکہ سے جب اوزکان نے اپنی کمر کو پھیر کر باہر ہٹا تو وہ بول ٹھی، جو حیا کے مارے اپنے جھکے سر کو اٹھا نہیں پارہتی تھی۔

“ہاں، یا نہ؟” اوزکان نے اس کے چہرے پر چھائے ان آتے جاتے رنگوں کو دیکھ کر مبہوت ہوگیا تھا، جو اس کے چہرے کو چھوئے ان سبب سے گلنے لگے تھے۔

“ہاں، بس آتی ہوں، پلیز بجوا کوئ ملازم۔ آگئی تو کیا سوچے گا میرے بارے؟”

ملائکہ کی آگے کی بات اوزکان کے لبوں نے چن لی۔ ملائکہ، جو کھڑکی کے سہارے اوزکان کے حصار میں کھڑی تھی، اپنے دونوں ہاتھوں سے پردے کو تھام گئی، جو اسے جذبات میں دیوار کے ساتھ جلاگیا تھا۔ کچھ لمحوں کے بعد، اوزکان صالح نے اپنا سر اٹھایا، جو ہلکا ہلکا کپکپا رہا تھا۔ اوزکان کے سینے پر سر ٹکا کر لمبے لمبے سانس لینے لگی۔

“ریلیکس ہو جاؤ، ہنی۔ یہ تو تریلر تھا ہماری میٹنگ کا، تم تو ابھی سے گھبر گئی؟ شرافت سے دس منٹ بعد، مجھے تم اپنے کمرے میں دیکھنا چاہئے، ورنہ جہاں بھی چھپی ہو، اٹھا کر لے جاؤں گا۔” اوزکان نے اس کے ماتھے پر اپنا لبس بخشتا ہوا باہر کی جانب کیا۔

“موم، آپ نے تیاری کر لی ہے؟ آپ کو پتا ہے نہ کہ ہم نے پاکستان جانا ہے؟” سہیل باہر سے سودا سلف لے کر اندر داخل ہوا۔

“جی بیٹا، مجھے معلوم ہے کہ آپ نے ٹکٹسٹ کرا لی ہیں۔”

“جی موم، کرادی ہے اب بس تیاری کریں۔”

“انشاءاللہ، سب خیریت سے ہوجائے گا، بس۔” نگہت نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اللہ سے سب ٹھیک ہوجانے کی دعا کی۔

“موم، ارحم۔ کیا کیا سن ہے؟ کہاں ہے وہ؟” سہیل گلاس میں جوس انڈیل کر نگہت بیگم کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھنے لگا۔

“بیٹے، بات نہیں ہوئی، میری بیٹی سے بات کی ہے یا ابھی بھی نارضا ہوں؟”

“موم، میں نے آپ کو کہا تھا، وہ نہیں بات کرتی میرے ساتھ، اب تو روبرو بات ہوگی

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *