Rooh Ka Sakoon Episode 45

 اوزکان آپ کے ہاتھ پہ پہلے سے لگی ہوئ تھی یہ دیکھے اور خون رس رہاہے یہاں سے “۔ملائکہ نے اوزکان کا ہاتھ تھاما جس پر پہلے سے ہی پٹی بندھی ہوئ تھی

یہ کچھ بھی نہیں ہے معمولی سا زخم ہےاینجل صبح اسپتال سے پٹی کروالوں گا تم پریشان مت ہو

میں پٹی کردیتی ہوں آپ چھوڑے مجھے “۔ملائکہ اوزکان کے ِحصار میں کسمسائ۔

میں نے کہا نا اینجل مجھے ضرورت نہیں ہے صبح کروالوں گا”۔۔دونوں کے ِبیچ میں کچھ پلوں کے لیے گہری خاموشی چھاگئ تھی دونوں اپنی اپنی سوچوں میں کہی ُگم تھیں جب ہی ملائکہ کی آواز نے خاموشی کو توڑا ۔

اوزکان آپ مجھے سچ بتاۓ وہ کیا کہ رہے تھے کانٹریکٹ کے بارے میں کس نے مجھے دیکھ کر بزنس کیا تھا”۔ملائکہ نے اوزکان کی جیکیٹ پر ِگرفت مضبوط کی۔

ملائکہ ایک دفعہ کہ دیا نہ یہ تمہارے سوچنے کی باتیں نہیں ہے تم سب کچھ مجھ پر چھوڑدو صبح کا کوئ خاص پلین ہے تمہارا۔اوزکان ُاس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ ُاس سے پوچھنے لگا۔

جی ہاں صبح میں نے بوڑڈ آفس جانا ہے کچھ لینا ہے وہاں سے میں ِردا کے ساتھ جاؤ گی۔

کوئ ضرورت نہیں ہے میں خود جاؤ گا جہاں بھی تمہیں جانا ہوگا سمجھی اب سوجاؤ صبح جلدی ُاٹھنا ہے “۔اوزکان نے ُاس کی پیشانی پر اپنی مہر ثبت کی پھر لہاف برابر کرتے ہوۓ آنکھیں موند گیا۔

اوزکان یہ تو آپ کا کمرہ ہے میرا کمرہ کون سا ہے میں وہاں جا کے سوجاتی ہو پتہ نہیں بجو مجھے ڈھونڈتی ہوئ آنہ جاۓ۔

اینجل تمہارا کمرہ یہی ہے تمہاری بجو یہاں ِبلکل نہیں آۓ گی اب اللہ کا نام۔لو اور سوجاؤ۔


مگر او—“۔آگے کے الفاظ اوزکان نے اپنے لبوں میں قید کرلیے کچھ پلو بعد اوزکان نے اپنا ِجھکا سر ُاٹھایا۔

اب ایک اور بار اگر تم۔نے یہاں سے جانے کی بات کی تو میری جسارتیں اور بڑھے گی ِاسی لیے شرافت ِاسی میں ہے کے تم سوجاؤ ورنہ مجھے آدم خور بننے میں کچھ ہی سیکینڈ لگے گے”۔اوزکان کے ِاس قدر منہ پھٹ انداز پر لال انار ہوئ ملائکہ نے اپنا چہرہ اوزکان کی جیکیٹ میں ُچھپالیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی ۔

۞۞۞۞۞۞۞۞۞

ارحم بیٹے اب کیسی طبیعت ہے ۔۔فرزانہ بیگم نے اپنے بھانجے کو دیکھاجو ایک ہی دن میں ُمرجھایا ہوا لگ رہاتھا۔


بہت بہتر ہوں خالا “۔ارحم نے اٹک آٹک اپنی بات مکمل کی وہ ابھی نیم غنودگی میں تھا ۔


خالہ ایک بات کرنی تھی موم کا فون تو نہیں آیا”۔ارحم نے فرزانہ بیگم کی جانب دیکھا۔


نہیں بیٹا ابھی تک تو نہیں آیا میں تو ُشکر ادا کررہی ہوں کے تمہاری ماں سے جھوٹ نہیں بولنا پڑا ورنہ کہا پراۓ دیس پریشان ہوتی پھرتی ,میں تو جب تک تم ہوش میں نہیں آتے ُاسے کبھی بھی نہ بتاتی ,دیکھوں کیسے ایک ہی دن میں ُمرجھا سے گۓ ہو”۔فرزانہ بیگم آنکھوں میں آنسوں سموۓ اپنے بھانجے کو مامتا بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔


شکریہ آنٹی میں بھی بس یہی کہ رہا تھا کےموم کا بی پی کاایک منٹ میں ہائ ہوجاتا ہےمیرا ُسن کر تو وہ ویسے ہی بیمار ہوجاتی”۔

بیٹے کچھ کھانے کے لیے لاؤ “۔فرزانہ نے ارحم کو کچھ بہتر حالت میں دیکھ کر ناشتے کا پوچھ بیٹھی ۔

نہیں خالا بس ایک گلاس ُجوس منگوادے۔

اچھا بیٹے میں ابھی منگواتی ہوں اور کسی کو تمہارے پاس بھیجتی ہوں تاکہ تمہیں ُاٹھا کر ِبٹھادے اللہ تمہیں اپنے ِحفظ و امان میں رکھے”۔فرزانہ ارحم کے ماتھے پر بوسہ دیتی ہوئ باہر کی جانب ِنکل گئ۔فرزانہ کے نکلتے ہی ارحم نے پاس پڑا ُکشن ُاٹھا کے سامنے مارا جس پر اسے شدید تکلیف ہوئ اور وہ ِچلا ُاٹھا۔

Bloody old woman.

وہ اپنے ماتھے سے فرزانہ بیگم کا لمس ِمٹانے کی کوشش کرنے لگا۔

۞۞۞۞۞۞۞۞

اے بہن ذرا ِادھر تو آؤ “۔فرزانہ نے ملازمہ کو آواز لگائ جو جھاڑپونچھ کررہی تھی۔

بہن ذرا اوپر دیکھ کر تو آو میری بیٹیاں ُاٹھ گئ ہے کے نہیں اگر نہیں ُاٹھی تو انہیں ُاٹھاؤ اور بولو آپ کی امی نیچے ُبلارہی ہے اگر دروازہ نہ کھولے تو اندر چلی جانا ظلم دیکھوں صبح کے دس بج رہے ہے اور دونوں کو کوئ ہوش ہی نہیں کے کسی گھر پر آئ ہوئ ہے ماں کو تو چھوڑو اس کا تو کوئ ہوش ہی نہیں کے اس نے بھی کچھ کھانا پیناہےاتنا ہی کرلے ارحم کو کچھ کھلا ِپلادے تم جاؤ اور لاؤ انہیں فوراً”۔فرزانہ صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہنے لگی۔

جی بیگم صاحبہ”۔ملازمہ اوپر کی جانب سنعایا کے کمرے کا دروازہ بجانے لگی مگر جواب نہ پاکر وہ اندر داخل ہوگئ جہاں خالی کمرہ ُاس کا منہ ِچڑارہا تھا۔مگر باتھ روم سے پانی گرنے کی آوازیں آرہی تھی۔

سنعایا بی بی “۔

کون “۔

بی بی میں ملازمہ آپ کی اماں بہت غصہ کررہی ہے کہ رہی ہے فوراًنیچے آجاۓ”۔

انہیں بولو میں فریش ہوکر آتی ہوں “۔

جی بی بی”۔

پھر وہ دوسرے گیسٹ روم میں گئ پھر تیسرے اسی طرح ُاس نے اوپر پورا پورشن چھان مارا سواۓ اوزکان کےپر اسے ملائکہ کہی نہ ملی وہ انہی پیروں نیچے آگئ ۔

اماں جی سنعایا بی بی شاور لے رہی ہے وہ آرہی ہے پر ملائکہ بی بی اوپر کہی نہیں ہے میں نے پورا پورشن دیکھ لیا ہے “۔

ملازمہ کی بات پر فرزانہ بیگم پریشان ہوگئ۔

بہن ٹھیک سے دیکھوں اوپر ہی ہوگی اوزکان بیٹا انہیں اوپر ہی لے کر گیاتھا کمرہ دکھانے کے لیے”۔

اماں جی میں نے سارا پورشن دیکھا ہے وہ اوپر نہیں ہے ہوسکتا ہے کہی باہر گئ ہو “۔

نہیں بہن میری بچیاں بغیر بتاۓ کہی نہیں جاتی سنعایا کو آلینے دو وہ خود یکھ لے گی آپ ایسا کرو کچن میں کوئ ہے تو اسے بولو ارحم۔بیٹے کو ُجوس دے دو “

۞۞۞۞۞۞۞۞۞

ُمسلسل موبایل کی بجتی بیل سے اوزکان کی آنکھ ُکھل گئ ُاس نے نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں کو کھول کر دیکھنے کی کوشش کی تو ملائکہ ُاس کے سینے پہ آنکھیں موندے گہری نیند میں ُگم تھی اوزکان نے سب سے ہہلے ہاتھ بڑھا کر موبائیل کی بجتی بیل کا گلا گھونٹا پھر اپنی زندگی کی طرف دیکھا جو ُاسے آج کس موڑ پر لے آئ تھی کے ُاس کے ِبنا ایک پل بھی گزارنا اب انتہائ ُمشکل لگتاتھا۔اوزکان کی نظروں کی تپش نے ملائکہ کو گہری نیند سے بیدار کردیا وہ نیم وا آنکھوں سے اوزکان کو دیکھنے لگی جو ُاسے جانے کب سے اپنی نظروں کی َتپِش سے ُجھلسا رہاتھا۔ملائکہ نے ُپھونک مار کر ُاس کی محویت کو توڑنے کی کوشش کی جس پر اوزکان صالیح کے چہرے پر نمودارہوتا گڑھا ُاس کی ُمسکراہٹ کو اور بھی قاتلانہ بنا رہاتھا ملائکہ نےجزبات کی رو میں بہ کر اپنی انگشت سے ُاس گڑھے کو ُچھوا۔

مجھے آپ کا یہ ڈِمپل بہت پسند ہے “۔ملائکہ کی اس قدر جسارت پر اوزکان نے ُاس کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو تھام کر اپنے لبوں سے لگالیا۔

یہ تمہارا ہی تو ہے اینجل “۔اوزکان کی بھاری آواز پہ ملائکہ کے لبوں پر ُمسکراہٹ چھاگئ۔

۞۞۞۞۞۞۞۞۞

اماں میں سارا دیکھ آئ ہو می می اوپر نہیں ہے لگتا ہے کہی باہر گئ ہوگی آپ یہاں آرام سے بیٹھے میں باہر دیکھ کر آتی ہوں “۔سنعایا ماں کو تسلی دیتے ہوۓ ملائکہ کو کوسنے لگی جس کا فون بھی آف تھا۔

بہن جی ذرا بات ُسننا “۔فرزانہ بیگم نے ملازمہ کو پھر سے آواز لگائ ۔

جی بیگم صاحبہ”۔

بہن جی میرا دل پتہ نہیں کیوں بیٹھا جارہا ہے آپ اوزکان بیٹے کا دروازہ بجاؤ انہیں بولو کے ملائکہ بی بی نہیں مل رہی آپ نے انہیں کون سے کمرے کا کہا تھا”۔

“ابیگم صاحبہ اوپر صرف چار کمریں ہے جن میں تینوں کو میں دیکھ آئ ہوں پر آپ کہ رہی ہے تو میں صاحب جی کو کہ آتی ہوں “۔ملازمہ اوزکان کے کمرے کی طرف جانے لگی

۞۞۞۞۞۞۞۞۞

اوزکان میں وہ ُگزرا وقت یاد کرتی ہوں نہ تو آج بھی میرے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہے کے اگر ُاس وقت آپ میرے ساتھ نہیں ہوتے تو میں کیا کرتی اتنے دن “۔ملائکہ اوزکان کے دل کے مقام پر اپنی انگشت سے بار بار اپنا نام لکھ رہی تھی ۔

تم اکیلے کیسےہو سکتی تھی اللہ نے ہمارا ساتھ ایسے ہی لکھا تھا میری جان اب گزرا وقت سوچنا چھوڑدو بس اچھی باتیں یاد رکھو”۔اوزکان نے ُاس کی خوبصورت ِجھیل سی آنکھوں پر اپنے ُسلگتے لب رکھیں جب ہی دروازہ بجا ۔

ِاس سے پہلے اوزکان کی جسارتیں مزید بڑھتی اوزکان نے وہی ملائکہ کو ِحصار میں لیے آواز لگائ ۔۔

کون”۔

صاحب جی میں”۔

کیا بات ہے اماں”۔

صاحب وہ بیگم صاحبہ بہت پریشان ہے ان کی چھوٹی والی بیٹی نہیں ِمل رہی وہ صبح سے انہیں تلاش کررہی ہے پر وہ پورے گھر میں کہی نہیں ہے اب انہوں نے آخری بار آپ کی پاس بھیجا ہے کے آپ نے ان کی بیٹی کو ِکس کمرے میں ٹھہرایا تھا “۔

ملازمہ کی آواز پر ِاس سے پہلے ملائکہ کچھ کہتی اوزکان نے ُاس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔اور خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔

بیگم صاحبہ کو کہے میں آرہا ہوں نیچے”۔

جی صاحب “۔

آپ نے مجھے خاموش کیوں کرایا “۔
میری عقلمند بیوی تم ِاس وقت میرے کمرے میں ہو اماں کے لیے تم اور میں غیر شادی ُشدہ ہے سمجھی “۔۔

اچھا پھر ٹھیک ہے چھوڑے مجھے میں جاؤ جلدی سے “۔

جاسکتی ہو پہلے جگگا ٹیکس دینا ہوگا پھر جاؤ گی “۔

یہ جگگا ٹیکس کا آپ کو کیسے پتہ یہ تو ہم خاص ٹیپیکل پنجابی الفاظ استعمال کرتے ہے “۔

ملائکہ میرے بڑیڈفوڑد اور منچسٹڑ میں بے شمار پاکستانی اور انڈین دوست ہے تو مجھے اور بھی بہت کچھ ایشین زبان کے بارے میں معلوم۔ہے اور سب سے بڑی بات میں نے اردو زبان میں ؔمہارت بہت ساری حاصل کی ہے جس کے پیچھے میرے ایک بہت بہترین دوست کا ہاتھ ہے اب ٹیکس دو اور جاؤ ِاس سے پہلے کے اماں آۓ “۔

ٗاوزکان آپ مجھے بلیک میل کررہے ہے “۔

آف کورس”۔

پیار کرنے کے لیے تو میں تمہیں بہت زیادہ بلیک میل کروگا”۔

آج ٹیکس یہاں دینا پڑے گا “۔

اوزکان نے اپنے لبوں پر انگشت رکھی “۔

اوزکان دیکھے تنگ مت کرے مجھے جانے دے مجھ سے نہیں ہوگا”۔

ٹھیک ہے پھر لیٹی رہو”۔

اوزکان “۔

ٹیکس”۔

اچھا اپنی آنکھیں بند کرو “۔

ضرور “۔اوزکان نے اپنی آنکھیں بند کی ۔ملائکہ کچھ دیر تک اپنے لبوں کو ُکترتی رہی پھر اوزکان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی گلاب کی سی پنکھڑیاں اوزکان کے ماتھے پر رکھ دی۔

جس پر اوزکان صالیح کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئ ۔

اتنا ساٹیکس ِاس سے کام نہیں چلے گا”۔

اوزکان میں نے کیا تو ہے نہ آپ کو نہیں چھوڑنا تو مت چھوڑے اماں خود مار لگاۓ گی آپ کی بھی اور میری بھی ِاس سے زیادہ مجھے نہیں آتا”۔

آپ کو نہیں آتاتو کیا ہوا ہمیں تو آتا ہے “۔یہ کہ کر اوزکان نے ملائکہ کو کروٹ کے بل اپنے نیچے کیا پھر ان گلاب کی سی پنکھڑیوں کی ساری شادابی کو ُچن لیا کچھ لمحوں بعد جب ملائکہ کا تنفس بگڑنے لگا تواس کی پکڑ اوزکان کے کالر کے گرد مضبوط ہوگئ ۔

جب ہی اوزکان نے اسے آزاد کیا جس کے سارے جسم کا خون نچوڑ کر چہرے پہ ِسمٹ آیاتھا۔

بہت ُبرے ہے آپ اب ہٹے آگے سے “۔

“دل تو نہیں کررہا پر اب ٹیکس پے کیا ہے تو جانے دےرہاہوں کیا یاد کروگی کسی سخی سے پالا پڑا تھا “۔اوزکان نے یہ کہ کر اس کے ماتھے پر مہر ثبت کی پھر اسے بیڈ سے نیچے ُاترنے کی جگہ دی ۔

“ہیۓ سنو اماں کو کہنا تم چھت پر تھی موسم اچھا تھا “۔اوزکان نے دروازے سے باہر نکلتی ملائکہ کو ہانک لگائ ۔ملائکہ نیچے اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوۓ نیچے اترنے لگی۔جہاں اماں پریشانی سے ٹہل رہی تھی ۔

اماں کیا ُہوا آپ پریشان کیوں ہے “۔

تم کہا تھی ملائکہ میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہی تھی “۔

اماں میں تو چھت پر تھی آنکھ ہی نہیں لگ رہی رھی ِاس لیے صبح صبح آنکھ ُکھل گئ تھی اتنا خوبصورت موسم یورہا ہے نہ کیا بتاؤ اوپر سے چھت کا منظر اتنا حَسین ہے کے آنکھوں کو خیر کر رہاہے دور دور تک پھیلا سمندر آنکھوں کو اتنا بھلا سا لگ رہا تھا کے کیا بتاؤ”۔

ملائکہ کی تابو توڑ زبان چلتے دیکھ کر فرزانہ بیگم بھی بیٹی کی باتوں میں آگئ ۔جب ہی کچھ دیر بعد ِنکھرا نکھرا سا اوزکان صالیح سفید ڈینم جینز پر کالی جیکیٹ اور کالی ٹی شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیۓ ایک ہاتھ میں موبائیل تھامے فرزانہ بیگم کے سامنے سر ُجھکاکے کھڑا ہوگیا۔

مرحبا آننے کیسی ہے آپ معزرت چاہتا ہوں دیر سے آنے کے لیۓ رات میں شاید دیر سے سویا تھا”۔

جی بیٹا ہوجاتاہے ہم تو صبح سویرے ُاٹھنے کے آدی ہے “۔اوزکان سر ُجھکاۓ ان کی باتوں پر سر کو جنبش دےرہاتھا۔جب ہی ملازمہ کمرے میں داخل ہوئ۔

بی بی جی آپ کہا تھی آپ کو پتہ ہے ہم صبح سے آپ کو ڈھونڈرہے ہے آپ کی تو اماں اتنی پریشان ہورہی تھی “۔

“وہ وہ میں صبح صبح نا چھت پر چلی گئ گھی موسم بہت اچھا تھا”۔جہاں ملائکہ کی نظریں اوزکان سے چار ہوئ وہی ملازمہ کی کڑی نظریں ان دونوں کو بوکھلا گئ ۔

“آننے آپ نے ناشتہ کیا “۔

جی بیٹے میں نے تو صبح ہی کرلیا تھا بس یہ دونوں بہنیں رہ گئ ہے “۔

چلے پھرآپ لوگ ناشتہ کرلے “۔اوزکان نے ملازمہ کو آواز لگائ ناشتہ لگانے کے لیے۔

“اماں میں فریش ہوکر آتی ہوں “۔ملائکہ جلدی سے ُاٹھ کر اوپر کی جانب دوڑی ۔

بلکل جھلی ہے میری ُچڑیا”۔

فرزانہ کی بات پر اوزکان صالیح نے بھی گواہی دی ۔

آننے جب تک یہ لوگ نیچے آرہے ہےمیں ذرا ارحم سے مل لو”۔

جی ُپتر جی! ست بسمہ اللہ” ۔

اوزکان ارحم کے کمرے میں داخل ہوا جو بیڈ پر نیم دراز پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔

کیسے ہے آپ جناب وہ کیا کہتے ہے اردو میں بیوی کے بھائ کو “۔کچھ توقف کے بعد “سالے صاحب”۔

“کیسے گزر رہی ہے آپ کی امید ہے اچھی گزر رہی ہوگی”۔اوزکان نے ُاس کی ٹانگ کے زخم پر ہاتھ رکھ دیا جس پر وہ ِچلا ُاٹھا۔

چلاؤ جتنا ِچلانا ہے ِچلاؤافسوس تمہاری آواز یہاں سے باہر نہیں جا پاۓ گی “۔

“کیا سوچا تھا تو نے ملائکہ اکیلی ہے تو شکار آسانی سے ہاتھ آجاۓ گا ,بول “۔اوزکان نے ُاس کے بال ُمٹھی میں پکڑ کر کھینچھے۔

“چھوڑ مجھے”۔ارحم شیر کے شکنجے سے خود کو ُچھڑانے لگا۔

تجھے معلوم ہے وہ کس کی بیوی ہے”۔بالوں کو پھر جھٹکا دیا ۔

وہ اوزکان صالیح کی بیوی ہے,ُسنا وہ اوزکان صالیح کی بیوی ہے”۔اوزکان ہلک کے بل چیخا۔

اسے ہاتھ لگانے والے کے ہاتھ توڑدیتا ہوں میں یہ تجھےتو اچھے سے معلوم ہی ہوگا۔اب اچھے بچوں کی طرح اپنی بہن کے گھر میں رہو پھر جب میں کہو تو اپنی منہوس شکل لے کر یہاں سےدفعہ ہوجانا سمجھے”۔اوزکان اسے پیچھے کی طرف جھٹکا دے کر خود کو کمپوز کرتا ہوا ڈایننگ کی طرف آیا جہاں ملائکہ اور سنعایا بیٹھی آپس میں کسی بات پر ُگپ ُچپ کررہی تھی اوزکان کو آتا دیکھ کر خاموش ہوگئ۔

۞۞۞۞۞۞۞۞۞

یہ کس نے کیا ہے نواب یوسف کے بیٹے کاحال بولو کس کی اتنی جراءت ہوئ جو میرے بیٹے پر ہاتھ ُاٹھاۓ جواب دو جمال “۔نواب یوسف, داؤد یوسف کے بابا اپنے مینیجر پر سخت برہم ہورہے تھے۔

مجھے آج کے دن میں ہی پوری رپورٹ چاہیۓ میرے بیٹے کا یہ حال کس نے کیا میں اسے عبرتناک سزا دوگا سمجھے تم فوراًپتہ کرو۔

یس سر”۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *