Rooh Ka Sakoon Episode 43-44

“آپ کی ہر بات میرے لیے بیے اہمیت کا حامل ہے اگر آپ منع کرے گی تو کچھ سوچ سمجھ کر کرے گی مگر ِاس وقت ایک آپ کے انکار سے یہ ہوگا کےمجھے بار بار ِادھر آنا جانا پڑے گا جو شاید آپ کو سخت گراں گزرے کیوں کے ِاس نیک انسان کو میں ِبلکل بھی اکیلا نہیں چھوڑسکتا۔ آپ کا نظریہ بھی ِبلکل ٹھیک یے کے محلے والے باتیں کرے گے مگر  ہم سب کے حق میں یہی بہتر ہے کے آپ سب میرے ساتھ چلے جب تک یہ ٹھیک نہیں ہوجاتا پھر تو ہماری فلائیٹ ہی ہوگی بڑیڈفوڑڈ کی ارحم اور میں زیادہ دن نہیں ُرک سکتے”۔اوزکان نے ان کا ہاتھ تھامے اپنی ساری بات ان کے گوشوار کرکے کھڑا ہوگیا ۔

“بیٹا مجھے جانے میں کوئی قباحت نہیں پر میں انہیں کیسے چھوڑ کر جاؤ اکیلے”۔



فرزانہ بیگم نے سنعایا کی طرف دیکھ کر اوزکان کو مخاطب کیا ۔

“آنٹی میں نے آپ کو ابھی کیا کہا کے آپ میری آننے ہے یہ میری چھوٹی بہن ہے میں آپ کو مایوس نہیں کروگا اب میں آپ کی کوئی بات نہیں ُسن رہا آپ اپنے بیٹے کے گھر جارہی ہے آپ سب میرے ساتھ جارہے ہے ,اپناضروری سامان پیک کرلے میں ڈڑایئور کو ُبلوارہا ہوں”۔یہ کہ کر اوزکان نے فون پہ اپنے ڈڑایئور کو ُبلوایا۔

“بیٹا ارحم کیسے جاۓ گا”۔


“آنٹی اسے تو اسپیشل والی ایمبولینس میں لے کر جانا پڑے گا تاکہ ِاس کی مزید کوئی ہڈی نہ ہلے”۔اوزکان نے صوفے پہ لیٹے ارحم کو دیکھا جو آنکھیں موندے دوائیوں کے زیرِاثر تھا۔ُ

                           ۞۞۞۞۞۞۞۞

“اٹھو میڈم کہا ُدبکی بیٹھی ہو سامنے تو آؤ ذرا کچھ پتہ بھی ہۓباہر کیا ہورہا ہے اور تم ُگھنی کہی کی بتایا کیوں نہیں اوزکان بھائی پاکستان میں  تھے ,پر سب باتوں کی ایک بات می می اوزکان بھائی تو بہت ہینڈسم ہے “۔ملائکہ اتنے سنگین ماحول میں بھی ُمسکرا ٹھی ۔

“باہر کیا ہورہاہے بجو”۔ملائکہ نے اوزکان کی آواز سمجھنے کی کوشش تو بہت کی تھی پر سمجھ کچھ نہ آیا جب ہی بجو سے پوچھا۔

“باہر اوزکان بھائی اماں کو سمجھا رہے ہے کے ہم لوگ ان کے گھر چلے “۔

“پھر,پھر کیا ہوا “۔ملائکہ نے پریشانی سے سنعایا کو دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔

“ہونا کیا تھا اماں مان گئ ” ۔سنعایا کے پرتجسس انداز پر ملائکہ اسے دیکھنے لگی جب ہی سنعایا کی پوری بات بتانےپر ملائکہ کے منہ سے “یاہوووووووو”, ۔نکلا۔جو سنعایا کو خود کو ُگھورتا پاکر جھینپ گئ۔

“اب شرمانا بند کرو اور سامان پیک کرو جلدی جلدی”۔جب ہی فرزانہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی ۔

“سانی ,می می تم دونوں  مشورہ دو مجھے کیا کرو میں, کبھی ایسی مجبوری ہوئی بھی تو نہیں وہ بچہ مان نہیں رہاتھا پر وہ اپنی جگہ صحیح بھی ہے ہمارے گھر میں کون سا کوئی مرد ہے جو ارحم کو سنبھالے گا اور پورا کا پورا اس  بچے پر ارحم کو چھوڑ نہیں سکتے کیا کہے گا سگی خالہ کے موجود ہوتے ہوۓ اسے اکیلے بھیج دیا ,میں نے ٹھیک کیا ہے نہ فیصلہ ساتھ جانے کا  سانی بتاؤ “۔اماں دروازے کے بیچ کھڑی ہلکی آواز میں ان دونوں سے ُمخاطب ہوئی ۔

“اماں آپ نے ِبلکل ٹھیک کیا ہے ہماری محلے کی ِوچولن نسرین آنٹی ہی نہیں مان ذرا جو انہوں نے گھر میں اوزکان بھائی کو دیکھ لیا کے یہ تو شکل سے انگریز لگ رہا ہے ضرور ملائکہ نے شادی کرلی ہے باہر تو پورے محلے میں آج کی تازہ خبر پہنچ جانی ہے آپ زیادہ سوچے نہ دنیا بڑا کچھ ُچھپ ُچھپا کے کرتی ہے ہم بھی چلے جاۓ گے تو کیا ہوجاۓ گا جیسے ہی ارحم۔بھائ ٹھیک ہوجاۓ گے ہم۔واپس آجاۓ گے “۔

“ہم ٹھیک ہے چلو ُاٹھو دونوں پھر جلدی جلدی  اپنے چھوٹے چھوٹے بیگ بنالو ویسے بھی وہ بتارہا تھا ُاس کے گھر میں کوئ رہتا نہیں ہے ورنہ اچھا نہیں لگتا اس کی فیملی کے ساتھ رہنا خیر اللہ بہتر کرے گا”۔

                                ۞۞۞۞۞۞۞۞

“بیٹا ایک بات کہنی تھی آپ ایک دو بندے اور ُبلوا سکتے ہو کیا”۔

فرزانہ بیگم ِجھجک کر اوزکان سے بولی جو صوفے پر بیٹھا ُان کو دیکھنے لگا ۔

“آننے آپ ِجھجھک کیوں رہی ہے حکم کریے”۔اوزکان ان کے نزدیک سر ُجھکا کر بیٹھ گیا۔

“بیٹے اصل میں اگر ایمبولینس آۓ گی تو لوگ متوجہ ہوگے کے ہمارے گھر میں کچھ ہوا ہے اسی لیۓ میں کہ رہی تھی کے ایک دو بندے ہوتے تو وہ ارحم کو آسانی سے اٹھا کے گاڑی میں لے جاتے “۔

“آننے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جب تک میں ہوں آپ کو کسی بھی بات کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں ہر بات کا خیال رکھوگا”۔اوزکان نے عقیدت سے ان کے ہاتھ پہ بوسہ دیا اور کھڑا ہوگیا۔فرزانہ بیگم ُاس اونچے قدو کاٹھ کے  نوجوان کو دیکھا جو شہزادو ں سی آن بان لیۓ کسی سے فون پر مصروف ہوگیا۔

“سامان رکھ دیا بچیوں “۔

“جی اماں ان کا ڈڑایئور لے گیا ہے سارا سامان “۔ملائکہ نے اماں کو جواب دیا ۔

“چلو پھر تالے لگاؤ گھر کو ساری کھڑکیاں دروازے اچھے سے چیک کرلینا اور چولہا بھی دیکھ لینا صحیح سے بند ہوا یے کے نہیں “۔اماں ان دونوں کو ہدایتیں دیتی ہوئی باہر کی جانب چلی گئ جہاں اوزکان دروازے کے پاس کھڑا فون پہ کسی سے مصروف تھا۔جو اماں کو ُاس کی طرف آتا دیکھ کر فوراًاپنا فون بند کرتا ان کی جانب بڑھا۔

“آئیے آننے”۔اوزکان ان کا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب بڑھا جہاں ڈرایئور پہلے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑا تھا۔

اوزکان نے انہیں فرنٹ ِسیٹ پہ بٹھایا ۔

“اللہ ُجگ ُجگ جیو “۔آماں نے اپنے انداز میں اوزکان کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار دیا جو اوزکان کے لیے نہایت عقیدت بھرا لمس تھا۔

جب ہی ملائکہ اور سنعایا دروازہ بند کرتے ہوۓ گاڑی کی جانب بڑھی ۔جہاہ اوزکان صالیح نظریں ُجھکاۓ گاڑی کا ِپچھلا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔سنعایا کے چہرے پر ُاک ُپر لطف سی مسکراہٹ چھاگئ جو اپنا گلا کھنکھارتے ہوۓ گاڑی کے اندر بیٹھ گئ ِجس پہ دروازے  کے ساتھ کھڑے اوزکان کے لبوں پہ معدوم سی مسکراہٹ چھاگئ,  جب کے سنعایا کے پیچھے آتی ملائکہ کو اوزکان نےِاس سارے گزرے وقت میں اب ُفرصت سے دیکھا تھا جوکل والے سلوٹوں بھرے سفید سوٹ میں بالوں کا اونچاسا ُجوڑا بناۓ اپنی َگھنی ُمڑی پلکوں کو سایہ فگن کیۓ معدے سی رنگت پہ سردی سے تمتماتے رخصار پہ چھائی لالگی لیے ُ اس کے دل کے تار ہلاتی ہوئی ئ گاڑی میں بیٹھ گئ ۔

“چلے پھر “۔اوزکان فرنٹ ِسیٹ پر بیٹھتا ہوا فرزانہ سے مخاطب ہوا۔

“جی بیٹا “۔اوزکان نے گاڑی تیزی سے چلاتے ہوۓ اپنی منزل کی طرف گاڑی دوڑادی۔جہاں کھڑکی کے ساتھ باہر جھانکتی سنعایا نے گاڑی کو دروازے کے باہر ُرکنے پر گھر کو باہر سے دیکھنے لگی جس کی دیوار پر سفید محل لکھاتھا۔ہارن کی آواز پر چوکیدار نے دروازہ کھولا جہاں اوزکان گاڑی اندر کی جانب لے گیا۔اوزکان نے گاڑی محل کے دروازے کے پاس لاکر کھڑی کی۔

“آئیے آننے “۔اوزکان نے فرزانہ کا ہاتھ تھام کر انہیں گاڑی سے اتارا جس پر فرزانہ کی آنکھیں بھر آئی جو  ِبلکل ان کا  ایک بیٹے کہ طرح خیال رکھ رہاتھا۔

“ماشاءاللّٰہ بیٹا آپ کا گھر تو بہت پیارا ہے “۔اماں سفید محل کے اندر داخل ہوکر اوزکان سے بولی جو انہیں ڈڑایئنگ روم کے صوفے پر ِبٹھارہا تھا۔

“شکریہ آنٹی میرا نہیں یہ آپ کا گھر ہے آپ کے بیٹے کا اور آپ لوگ بھی بیٹھیں پلیز میں آیا “۔یہ کہ کر اوزکان گھر کے احاطے میں داخل ہوگیا۔

“می می تیرا گھر تو بہت خوبصورت ہے سفید محل لکھا ہوا اب سمجھ آرہا ہے دیکھ جہاں تک نظر جارہی ہے ہر چیز سفید ہے کیا اوزکان بھائ نے یہ خود بنوایا ہے ہے “۔

“نہیں بجو یہ بنا بنایا لیا ہے فرنشڈ اور یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ان کے بڑیڈفوڑد والے گھر کے آگے ُاس کا تو خالی باغ ہی اتنا بڑا ہے “۔

“ہاۓ می می ِاس کا مطلب میں نوکری چھوڑدو “۔

“کیا آپ کی نوکری کا ِاس سے کیا تعلق “۔ملائکہ نے اچھنبے سے اپنی بجو کو دیکھا ۔

“بھئ سیدھی سی بات ہے بہن امیر تو میں امیر “۔سنعایا نے رازدانہ انداز میں ملائکہ کے کان میں کہا جس پر ملائکہ نے سنعایا کی کمر پر صوفے پر پڑا ُکشن دے مارا۔

“کیا کررہی ہو تم دونوں انسانوں کی طرح بیٹھو”۔سنعایا اور ملائکہ تابیدار بچوں کی طرح سیدھی ہوکر بیٹھ گئ جب ہی اوزکان کےبپیچھے ایک بڑی عمر کی عورت کھانے والی ٹڑالی لیتی ہوئ اندر آئ ۔

“آننے آپ لوگ پلیز یہ چاۓ پیجیۓ جب تک میں آتا ہوں آپ سب کا سامان کمروں میں لگوادیا ہے یہ اماں حاجن ہے آپ لوگوں کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو گی تو انہیں بتادیجیے گا “۔

“بیٹے آپ ُبرا نہ مناۓ تو ارحم کا بتادے وہ کہا ہے اور ِاس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں تھی بیٹے “۔

“پہلی بات آننے آپ بیٹا بھی کہ رہی ہے  ساتھ ہی آپ مجھے پرایا بھی کررہی ہے میں کسی تکلف میں نہیں پڑرہا بلکہ آج کا دن آپ کو آرام کرنے دے رہاہوں کل سے تو میں اپنی آننے کے ہاتھ کے بنےکھانے کھاؤ گا”۔

“کیوں نہیں بیٹے ضرور میں آپ کو بنا کر دو گی “۔فرزانہ بیگم مسکرا کر ِاس خوبصورت نوجوان کو دیکھا جو اب تک انہیں صرف ظاہری نہیں بلکہ باطنی طور پر بھی خوبصورت  ِدکھ رہا تھا۔

“اور اماں میں ارحم کو ہی دیکھنے جارہا تھا کے وہ آرام سے لیٹا ہے کے نہیں”۔

“اللہ تمہیں لمبی زندگی دے میرے بچے ہر قدم پہ کامیابی تمہارے قدم ُچومے “۔شکریہ اماں اوزکان ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہوۓ باہر کی جانب چلاگیا ُاس بیچ اوزکان نے ایک بار بھی نظر ُاٹھا کر ملائکہ کی جانب نہیں دیکھا

آنٹی آپ لوگ چاۓ پیۓ میں آیا پھر میں خود آپ کو کمرے میں چھوڑ کر آؤ گا ۔


                                     ۞۞۞۞۞۞

“آننے آپ کا کمرہ اوپر کی جانب ہے آپ سیڑھیاں چڑھ لے گی”۔اوزکان نے فرزانہ کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا۔

“بیٹا کیا یہاں نیچے کوئ کمرہ نہیں اگر نہیں ہے تو کوئی بات نہیں میں یہ صوفے پر سوجاؤ گی پتہ کیا ہے کے میرے جوڑوں میں گیپ آگیا ہے مجھ سے سیڑھی نہیں چڑھی جاتی “۔

آننے کیسی باتیں کررہی ہے ۔رحیم !رحیم جلدی آؤ “۔اوزکان نے اپنے ملازم کو آواز لگایئ

“جی صاحب “۔

“نیچے والا گیسٹ روم کھولو “۔

“جی سر”۔

“آئیے آننے ِاس طرف اوزکان انہیں لیۓ راہداری سے گزرتا ہوا ایک کمرے میں داخل ہوگیا۔

“اماں یہ کمرہ آپ کا ہے یہ گھر کے ِبلکل وسط میں ہے تاکہ آپ کے سب چیزیں نزدیک رہےآپ آسانی سے چل ِپھر سکے ٹھیک ہے “۔

“میں شکریہ نہیں کہوگی بیٹے “۔اوزکان ان کی بات پر دھیرے سے مسکرادیا۔

“ہاۓ اس کی تو مسکراہٹ ہی بڑی قاتل ہے می می ُتو تو گئ”۔سنعایا ملائکہ کے کان میں منمنائ۔

“بجو ُسدھر جاؤ بہنوئی ہے تمہارا”۔

“کیا کرے اللہ نے چیز ہی ایسی خوبصورت بنائی  ہے اسے سراہے ِبنا کیسے رہو “۔

“بجو”۔ملائکہ کے اونچے بولنے پر اوزکان اور اماں دونوں ان کی طرف متوجہ ہوۓ۔

ہاہاہاہاہا۔

تمہیں تنگ کرنے میں بہت مزا آرہا ہے ملائکہ “۔سنعایا ملائکہ کے کان کے نزدیک آہستہ سے بولی پر اماں کی کھاجانے والی نظروں سے خائف ہوکر دھیمے سے بولی ۔

سوری اماں۔

“آننے آپ اب آرام کرے میں زرا اپنی بہن کو ان کا کمرہ ِدکھادو “۔اوزکان نے سنعایا کو دیکھتے ہوۓ کہا۔

“جی بیٹا جاؤ بھائی کے ساتھ اور زیادہ تنگ مت کرنا دونوں”۔

“جی اماں “۔دونوں آگے پیچھے اوزکان کے باہر نکلی جو انہیں سیڑھیاں چڑھتا ہوا نظر آیا ۔

“سنعایا سسٹڑ یہ سیدھے ہاتھ والا کمرہ آپ کا ہے “۔

“شکریہ اوزکان بھائی سب کچھ اتنا اچانک ہوا کے مجھے آپ سے ملنے کاموقع ہی نہ مل۔سکا آپ کیسے ہے مجھے بڑا اشتیاق تھا آپ سے ملنے کا پر قسمت نے اتنے عجیب انداز میں آپ سے ملوایا ہے “۔سنعایا نے خالص انگریزی میں اوزکان کو مخاطب کیا۔

“وہ سب تو چلتا رہتا ہے مجھے خود اپنی بہن سے مل کر بہت خوشی ہوئ یے “۔اوزکان صالیح نے سنعایا کے سر پر ٹھیک ادریس صاحب کی طرح ہاتھ رکھا جیسے وہ اوزکان کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی شفقت کا اظہار کرتے تھے۔

“شکریہ بھائی آپ کا میں ذرا فریش ہوجاؤ “۔سنعایا دانستہ ان دونوں کو اکیلے ہونے کا موقع دے کر کمرے کا دروازہ بند کرتی اندرچلی گئ ۔ِاس سے پہلے کےملائکہ بھی سنعایا کے پیچھے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر ُگھماتی اوزکان صالیح نے وہ بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا ۔اسے ایک جھٹکا دیتے ہوۓ اپنے مضبوط بازوؤں میں ُاٹھایا اور  اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ملائکہ دھیمے آواز میں اوزکان پر غرائی ۔

“نیچے اتارے مجھے اوزکان ورنہ اچھا نہیں ہوگا “۔سامنے دیکھ کر چلتے ہوۓ اوزکان کے چہرے پر اک دلفریب سی مسکراہٹ چھاگئ جو ٹام ُکروس کو بھی مات دے رہاتھا۔

اوزکان جوتے کی نوک سے دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا ۔

“اچھا!!میں تو چاہتا ہوں تم میرے ساتھ بہت ُبرا کرو ِبلکل وایئلڈ کیٹ کی طرح “۔اوزکان اسے لیے کمرے میں رکھے صوفے کی جانب بڑھ گیا۔

“اوزکان بجو اماں مجھے دھونڈریی ہوگی”۔۔

“ِبلکل بھی نہیں آننے کو میں آرام کرنے کے لیے کہ کر آیا ہوں اور میری بہن نے تو مجھے خود موقع دیا ہے اب سب باتیں چھوڑو اور یہاں دیکھوں “۔اوزکان صالیح ُاس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر صوفے پہ بیٹھا اسے خود کو دیکھنے پر مجبور کر گیا۔

“کھانا نہیں کھاتی کیا کتنی ُمشکلوں سے میں نے تمہاری جان بنائی تھی جو تم نے تھوڑے سے دنوں میں ہی خراب کردی”۔اوزکان صالیح نہایت توجہ سے ُاس کی لرزتی پلکوں کو عارض پہ ُجھکے دیکھ رہاتھا جو ُاس کے اتنے نزدیک آنے پر دہک ُاٹھے تھے۔

“اوزکان مجھے لگا آپ پتہ نہیں کتنی خاص بات کرنے لگے ہے پر آپ “۔اوزکان نے ُاس کی بات مکمل ہوۓ بغیر ُاسے خاموش کرادیا۔اپنی انگشت کو ان گلاب پنکھڑیوں پہ رکھ کر۔

ششششششششش

“تم سے زیادہ دنیا میں کچھ بھی خاص نہیں تم وہ واحد عورت ہو میری زندگی میں جسے میں بہت غور سے دیکھتا ہوں بہت دیھانٔ سے ُسنتا ہوں اوربہت احتیاط سے ُچھوتا ہوں تو اب یہ فضول بات مت کرنا اب بتاؤ مجھے جو پوچھاہے “۔

“کچھ بھی نہیں اوزکان بس روٹین بدل گئ ہے نیند پوری نہیں ہوتی  شاید اسی لیۓ “۔ملائکہ اپنا سر اوزکان کے کندھے پر ِٹکاتی پیچھے ہوکر بیٹھ گئ جس پر اوزکان نے ُاس کے شانے کے ِگرد اپنا مضبوط بازو کا ِحصار کیا ۔

“ہم۔یعنی اینجل کی نیند کا کچھ کرنا پڑے گا “۔اوزکان اپنی جیب سے موبائیل نکالتے ہوۓ مبہم سا ُمسکرایا پھر ملائکہ کو مزید خود میں بھینچتے ہوۓ ایک سیلفی لی جس میں اوزکان نے کیمرے میں مسکراتے ہوۓ جب کے ملائکہ اوزکان کی طرف غصے میں دیکھتے ہوۓ ایک یادگار لمحے میں قید ہوگئ۔

“اوزکان کیا کررہے ہے “۔

“یادگار لمحوں کو قید کررہاہوں “۔

“آپ نے اسے اتنا مارا ہے تو پھر خیال کیوں رکھ رہے ہے ان کا”۔

ملائکہ نے اوزکان کو مخاطب کیا جو ُاسے ِحصار میں لیۓ ُاس کے شانے پہ اپنا سر ِٹکاۓنیم دراز تھا اپنے چہرے کا ُرخ تھوڑاسا اوپر کیۓ اسے دیکھا۔

“اینجل اسے مرمت کی مزید ضرورت ہےتم نے  ُسنا نہیں کیا کہ رہا تھا کے میں وہی رہوگا توایسی حالت میں ُاس رزیل کو میں وہاں کیسے چھوڑدیتا”۔اوزکان باتوں کے دوران ِمسلسل ملائکہ کا ہاتھ تھامے اپنے ہاتھ سے سہلا رہا تھا۔

“آپ ُان سے اب لڑائ مت کریۓ گا “۔

“وجہ”۔اوزکان نے ہاتھ تھامے رکھا پر سہلانا بند کردیا۔

“مجھے وجہ نہیں معلوم بس میں کوئ خون خرابہ نہیں چاہتی یہ دیکھے کتنا زخمی ہے آپ کا یہ ہاتھ “۔ملائکہ نے اوزکان کا دوسرا ہاتھ تھاما ِجس پر پٹی بندی تھی اپنے لبوں کو بھینچھے خاموشی سے ُسنتے اوزکان کے لبوں پر اک دلفریب ُمسکراہٹ چھاگئ ۔اک بار پھر سے ُاس نے اپنا ُشغل جاری کردیا پر ِاس بار ان پہ اپنی مہر لگانا نہیں ُبھولا۔

“اور میری جان یہ ہاتھ ُاس کی ُٹھکائی لگاتے ہوۓ زخمی ہوا ہے تمہارے اوپر سے  اوزکان صالیح کے ایسے ہزار بار بھی ہاتھ زخمی ہوتو کم ہے ِاس لیۓ اپنے ِدماغ پر زیادہ اثر مت ڈالو ِاس کا استعمال صرف مجھ سے  نۓ نۓ طریقوں سے پیار کا  اظہار کرنے میں لگایا کرو “۔وہ ذرا سا شانے سے سر ُاٹھاتا اپنے یخ بستہ لب ملائکہ کی خوبصورت گردن پہ رکھتے ہوۓ سرگوشیاں کرنے لگا۔

“اوزکان اپنا سر ُاٹھاۓ اتنا وزنی ہے “۔ملائکہ شرم سے ُگلنار ہوئ اپنی خفت مٹانے کے لیۓ ُاس کو اپنے نزدیک سے ہٹانے لگی۔

“سوری ڈیڑ میں سر ہٹالیتا ہوں پر ِاس کا ہر ِگز یہ مطلب نہیں کے میں تمہیں خود سے دور کرنے والا ہوں “۔یہ کہ کر اوزکان اپنا سر ملائکہ کی ُجھولی میں رکھتے ہوۓ لیٹ گیا۔

” ہمارے پاس تین ہفتوں کا وقت ہے دوہفتوں کے بعد تم میرے ساتھ انکارا جاؤ گی “۔

“انکارا کیا ہے کوئ جگہ ہے پاکستان میں یا یوکے میں “۔ملائکہ کا ِدماغ فوری طور پر کام نہیں کیا۔

ہاہاہاہاہا۔

“مجھے بتایا گیا تھا کے شاید آپ کافی زہین ہے پر افسوس میری بیوی کی جرنل نولج کافی کم ہے کیا تمہیں سچ میں نہیں معلوم “۔اوزکان نے ملائکہ کے بالوں کو ہلکا ساکھینچ کے اسے اپنے اوپر ُجھکایا۔


“اواواو یس !!انکارا ُترکی کا شہر میں کتنی ِاسٹوپڈ ہوں پر ہم وہاں کیوں جاۓ گے اور میرے بال چھوڑے “۔اوزکان نے اپنا سر نہ میں ہلایا پھر بالوں کو مزید ہلکا سا ِکھینچا ۔

“تمہیں اپنے ُترکی والے گھر لے کر جانا ہے “۔اوزکان نے اپنے لب ملائکہ کی پیشانی پر رکھے جو ُاس کے نزدیک آنے پر اپنی آنکھیں موند گئ تھی ۔

مگر ہم۔کیسے جاۓ گے “۔ملائکہ نے اپنا سر پیچھے کرتے ہوۓ پوچھا جو اوزکان کی بڑھتی ہوئ جسارتوں  پر اپنے بےقابو ہوتے دل کو قابو کرنے کی کوشش میں ہلکا ہلکا کپکپارہی تھی۔

“جیسے سب جاتے ہے ظاہر سی بات ہے ویزٹ ویزا بہت جلدی لگ جاتا ہے ہنی ,یہ باتیں تمہارے سوچنے کے لیے نہیں ہے “۔

“پھر وہاں کے بعد کیاکرے گے”۔ملائکہ نے اوزکان کے ِسرکتے ہاتھ کو تھاما جو زیادہ ہی چلنا شروع ہوگیاتھا۔

“پھر ہم انشاللہ واپس بڑیڈفوڑڈ جاۓ گے تمہارا یونی میں ایڈمیشن کراۓگے 

“اچھا ُاٹھےمیرے اوپر سے مجھے ُبھوک لگی ہے”۔

“اینجل تمہارے یہ بہانے پاکستان میں بھی شروع ہوگۓ “۔

“میں سنجیدہ ہوں اوزکان مجھے سچی بہت ُبھوک لگی ہے “۔

“اچھا پھر تو کچھ کرنا پڑے گا کاڑدلیس پکڑاؤ “۔

اوزکان نے ملائکہ کو اپنے پیچھے پڑے سائیڈ ٹیبل سے کاڑڈلیس ُاٹھانے کوکہا۔ملائکہ نے ُبرا منہ بناتے ہوۓ اوزکان کو تھمایا ۔

“میرے روم میں جلدی سے کچھ کھانے کے لیے لے کر آۓ “۔اوزکان نے دولفظی بات کرکے کاڑڈلیس ملائکہ کو تھمادیا ۔جب ہی اوزکان کا فون آگیا جس پر وہ مصروف ہوگیا ُاس دوران وہ مسلسل ملائکہ کا ہاتھ کبھی اپنی آنکھوں پر توکبھی سر پر رکھتا فون کا دورانیہ دس منٹ رہا ۔جس میں سے سب باتیں ملائکہ کے سر اے گزرگئ۔کیوں کے وہ ُترک زبان میں بات کررہاتھا

جب ہی دروازہ بجا ۔اوزکان ُاٹھ کر ٹڑالی اندر لےآیا ۔

“چلو اینجل تمہارے پاس صرف دس منٹ ہے اسے جلدی سے کھاؤ “۔اوزکانlنےملائکہ کی طرف سینڈوچ کی پلیٹ بڑھاتے ہوۓ بولا 

“جلدی سے کیوں “۔ملائکہ نے پلیٹ تھامتے ہوۓ پوچھا۔

“کہی جانا یے جلدی کھاؤ پھر بتاؤ گا بلکہ ایسا کرو اسے ہاتھ میں پکڑو اور چلو “۔

“پر جانا کہا ہے اور ایسے کیسے جاؤ میں بڑیڈ فوڑد میں نہیں ہوں اوزکان اماں ہے باہر “۔ملائکہ نے اوزکان کی طرف اچھنبے سے دیکھا۔

“اماں نے ڈنڑ سے منع کیا یے وہ دوائی لے کر سوگئ ہے رہی تمہاری بجو ,تو میرے خیال سے تم اپنے شوہر  کے ساتھ ہو اسے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اب چلو اگر مزید کوئ سوال کروگی تو ُاٹھا کے لے جاؤ گا”۔اوزکان کی ُکھلی دھمکی پر ملائکہ نے جلدی سے سینڈوچ ہاتھ میں پکڑا پھر اوزکان کے پیچھے چل دی جو باہر پورچ کی طرف ِنکل گیاتھا۔ملائکہ دبے پاؤ سنعایا کے کمرے سے گزر رہی تھی جب ہی اس کا دروازہ ُکھلا ۔

“کہا جایا جارہا ہے ُچھپ ُچھپ کے “۔سنعایا کی آواز ُسن کر ملائکہ جو سنعایا کے دروازے کے باہر سے گزر ُچکی تھی اپنی آنکھیں زور سے میچتیں ہوۓ پلٹی۔

“ِشٹ”۔

“میری پیاری بجو میں تو بس ایسے ہی نیچے جارہی تھی کچن میں “۔ملائکہ نے اپنے بازوں سنعایا کی گردن کے ِگرد حمائیل کیۓ 

“لڑکی تمہارا شوہر مجھے بتا ُچکا ہے دیھان سے جانا ماں کو میں دیکھ لوگی  “۔

“او لوو یو بجو تم دنیا کی بیسٹ آپا ہو:۔ملائکہ سنعایا کو زور سے جھپی ڈالتے ہوۓ نیچے کی جانب بھاگی۔جہاں اوزکان گاڑی کے ساتھ کمر ِٹکاۓ کھڑاتھا۔

“کہا جانا ہے اوزکان اب تو بتادو میں ایسے کیسے ُبرے حال میں جاؤ “۔ملائکہ نے اپنے سلوٹوں بھرے کپڑوں کو دیکھ کر کہا۔

“تم اس وقت کیسی لگ رہی ہو اگر میں نے تمہیں عملی طور پر بتادیا تو ہم۔اس وقت کہی بھی  نہیں جا پاۓ گے اب تم بتادو میں تمہیں بتاؤ”۔اوزکان نے دوپٹے سمیت ملائکہ کو اپنی جانب کھینچھ کر پوچھا ۔

“نہیں نہیں میں جارہی ہوں ایسے ہی “۔ملائکہ جلدی سے گاڑی کے اندر بیٹھ گئ جس کا دروازہ کھول کر اوزکان کھڑاتھا۔ملائکہ کے اس طرح بیٹھنے پر اوزکان کے لبوں پر ُمسکراہٹ چھاگئ۔

“ہاں جی اب بتاۓ آپ میڈم۔جی کہا چلنا ہے “۔

“کیا مطلب آپ کو جانا تھا کہی مجھے تو آپ نے بٹھایا ہے ساتھ”۔

“چلو چھوڑو سب یہاں کی سب سے پیاری جگہ بتاؤ جہاں تم جانا چاہتی ہو پر ابھی تک گئ نہیں “۔

“یہاں کی سب جگہیں پیاری ہے پر مجھے ایک جگہ جانے کا بہت دل کرتا ہے پر ہم دونوں وہاں کبھی نہیں گئ “۔

“کون سی جگہ نام بتاؤ “۔اوزکان نے سیگریٹ کی طرف اشارہ کیا کے میں پینے لگا ہو ں ساتھ ہی ُاس نے اپنی طرف کی کھڑکی کھول دی ۔

“دودریا !!مجھے اور بجو کو رات کے وقت دودریا جانے کا بہت کریز ہے پر وہ کافی سنسنان جگہ پر ہے وہاں بغیر مرد کے جانا ممکن نہیں وہ بھی رات کے وقت میں اور بجو ایسے ووت میں اپنے بابا کو اور نہ آنے والے بھائ کو بہت ِمس کرتے تھے “۔

یہ کیا ہے دودریا”۔اوزکان نے گہرا کش لیتے ہوۓ کھوئی کھوئ سی ملائکہ کو دیکھا جو باہر اندھیرے میں جانے کیا تلاش کررہی تھی۔

“دودریا ایک سمندر کے کنارے جگہ ہے جہاں مشہور ریسٹورنٹس لکڑیوں کے سہارے کھڑیں ہوتے ہیں جہاں رات کی خاموشی میں ِاک ویران گوشے میں بنی یہ جگہ کسی نخلستان کی طرح لگتی ہے جہاں  سمندر کی لہروں کی ٹکڑانے کی آوازیں کانوں کو بہت بھلی سی لگتی ہے آپ کو معلوم ہے لکڑی کے بنے فرش کے نیچے بہتی لہروں کو دیکھنے کا مجھے بہت شوق ہے اب آپ سوچے گے جب میں گئ نہیں تو مجھے معلوم کیسے …..؟ تو اوزکان صالیح جی میں نے ٹی وی پر لائیو شو میں دیکھا تھا ایک یہ دودریا اور دوسرا پوڑٹ گرانٹ میں دونوں جگہوں پر جاؤگی “۔اوزکان ُاس دوران سگریٹ کے کش لیتے ہوۓ بڑی محویت سے ملائکہ کی باتیں ُ سن رہاتھا گاڑی کا نیویگیشن آن کیۓ اسے ہوا کے دوش پر ُاڑارہاتھا۔

“اوزکان آپ نے میرا پورا انٹڑویو لیے لیا اب بتادے ہم۔کہا جارہے ہے”۔ملائکہ نے باہر جھانکتے ہوۓ پوچھا جہاں دور دور تک صرف اندھیرا تھا۔

“اوزکان یہ آپ کہا جارہے ہے باہر تو دور دور تک کوئی روشنی نہیں .”وہ ہڑبڑا کے بولی.

یہ تو بنجر علاقہ ہے یہاں کوئی ڈاکوں نہ ہو واپس چلے اور یہ اندر کی لائیٹ بھی بند کرے”۔ملائکہ نے ہاتھ بڑھا کر لائیٹ بندکی پھر اوزکان کا بازوں تھام کر ُاس کے نزدیک ہوکر بیٹھ گئ۔

“کیا ہوگیاہے ہنی! تم۔میرے ہوتے ہوۓ بھی ڈڑ رہی ہو “۔اوزکان نے سگریٹ کا آخری کش لے کرگاڑی میں لگے ایش ٹڑے میں ُبجھائی ۔

“ظاہر سی بات ہے آپ نۓ ہے یہاں آپ کو تو راستوں کا بھی نہیں  پتہ اور مجھے خود بھی نہیں پتہ ہم۔کہا ہے “۔ملائکہ کی سہمی ہوئی آواز سن کر اوزکان کے لبوں پر مسکراہٹ چھاگئ۔جب ہی ملائکہ کی پکڑ اوزکان کے بازوں پر اور مضبوط ہوگئ ُاس نے گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوۓ اسے اپنےایک ہاتھ سے ِحصار میں لیا ۔

“میری جان اس وقت سے ُلطف اندوز ہو یہ وقت جو ہم گزار رہے ہے بعد میں ِاسے ہم۔یاد کرکے اپنے بچوں کو سنایا کرے گے اور میں انہیں یادسے بتاؤں گا کے ان کی وائیلڈ کیٹ موم بھی کسی سے ڈڑتی ہے “

وہ شریر سے انداز میں مسکرایا ۔

“آپ بتاکر تو ِدکھاۓ میں آپ کو چھوڑو گی نہیں “۔

ہاہاہاہا۔اوزکان کے قہقہ لگانے پر ملائکہ جھینپ گئ۔

“میں نے کب کہا تم مجھے چھوڑو “۔اوزکان نے اپنا بازو ملائکہ کی گردن کے ِگرد حمائل کرکے اسے اور نزدیک کیا ۔

“اوزکان مت تنگ کرے مجھے سچ میں دڑ لگ رہا ہے…. بہت سنسنان ہے سب آپ گاڑی تو تیز چلاۓ پلیز”۔

ملائکہ کی روہانسی آواز سن کراوزکان نے گاڑی کی رفتار تیز کردی  جو اس کےِحصار میں خود کو اب محفوظ محسوس کررہی تھی ۔

“اینجل یہ تم کیا آہستہ آہستہ بول رہی ہو”۔کچھ دیر بعداوزکانے خود کے ساتھ لگی ملائکہ کی گلاب پنکھڑیوں کو ہلتے دیکھا تو ُاس سے پوچھا جو اسے ہاتھ کے اشارے سے ُرکنے کا کہ رہی تھی  جب ہی ملائکہ نے خود پر اور اوزکان پر ُپھونک مار کر ِحصار کیا۔

“یہ کیا کررہی ہو”۔اوزکان نے سامنے نظریں مرکوز کیۓ اس سے پھر پوچھا۔

“میں آیت الکرسی پڑھ کر ِحصار کررہی تھی”۔ُاس کی بات ُسن کر اوزکان نے اپنے لب ملائکہ کی ُکشادہ پیشانی پر رکھے ۔

“سامنے دیکھ کر چلاۓ اوزکان کیا کررہے ہے “۔ملائکہ نے ِاس لمبی ُسنسان سڑک کے اختتام پر بہت ہی روشن سا علاقہ دیکھا جہاں ڑیسٹورنٹس اور گاڑیوں کا ہجوم تھا ۔

“یہ کہا آگۓ اوزکان “۔

“وہی جہاں تم آنا چاہتی تھی “۔ملائکہ نے ناسمجھی سے اوزکان کو دیکھا ۔

“اینجل یہ دودریا ہے ڈیڑ چلو اب نیچے ُاترو جلدی تمہاری ہر خواہش کو اسی وقت پورا کرنا مجھ پر فرض ہے “۔کسی کے لیے بھی ایسی جگہوں پر آنا ایک عام سی بات تھی پر ملائکہ کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کرنا اپنے اندر پنپتے اس احساس کا جو ایک بھائی کا بہن کے لیے ہوتا ہے جو ایک باپ کا بھائی کے لیے ہوتا ہے ُاس کے لیے بہت بڑا  اہمیت کا حامل تھاجو اپنے محافظ کے ِبنا خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھےملائکہ بھی انہی لوگوں میں سےایک تھی ,فرطِ جزبات سے ملائکہ کی آنکھوں میں آنسوں ِْ جھلملانے لگے ۔

“اب رو کیوں رہی ہو میں نے تو کچھ بھی نہیں کیاآج”۔اوزکان نے اپنا ُرخ ملائکہ کی جانب کیا۔

“مجھے سمجھ نہیں آتا میں نے کون سا نیک کام کیا تھا جس کا اللہ نے مجھے آپ کی شکل میں ِصلہ دیا ہے “۔

“وہ آۓ ہمارے گھر میں ہم ُان کو تو کبھی ِان کو دیکھتے”۔ “کسی کی آواز پر دونوں جو ایک دوسرے کی باتوں میں کھوۓ ہوۓ تھے پیچھے پلٹے ۔ملائکہ کی جانب سے ُکھلی کھڑکی سے نواب داؤد یوسف نے اپنا ہاتھ اندر کی طرف ِٹکا کے شاعری کی ٹانگ توڑی۔ملائکہ جو اوزکان کی طرف  ہوکر بیٹھی تھی ُاس

ُاس کے ساتھ ُجڑ کے بیٹھ گئ۔

“اپنےغلیز ہاتھ پیچھے کرو “۔اوزکان نے ملائکہ کی طرف آۓ اس کے ہاتھ ایک جھٹکے سے پیچھے کیے۔

اواواو ہیۓ مین!!!!اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا,میں کافی دیر سے اس شناسا چہرے کو دیکھ رہا تھا کے کوئ بڑا جانا پہچانا دشمن ہے میرا خیر اگر غلطی سے آہی گۓ ہو تو اپنی خاص دوست کو کچھ اسپیشل بزنس میٹنگز کے لیے ہمیں بھی ُادھار  دے دو  “۔نواب داؤد یوسف نے ایک بار پھر ُجھک کر ملائکہ کی طرف دیکھ کر کہا ۔جس پر کافی دیر سے اپنے غصے کو قابوکرتے اوزکان صالیح کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔گاڑی کے شیشے اندر سے آٹومیٹک بند کرکے وہ باہر سے گاڑی کو آٹومیٹک لاک لگاتا نکل آیا۔


“You bas****.

وہ تیزی سے ملائکہ کی جانب کھڑے نواب داؤد یوسف کو ایک جھٹکے سے پیچھے کی طرف دھکا دیتے ہوۓ ِچلایا  ۔

“تیری اتنی ہمت کے تو میری پاک بیوی کے بارے میں ایسی غلیظ الفاظ کا استعمال کرے “۔اوزکان صالیح نے نواب داؤد یوسف کو ِگریبان سے تھام۔کر ُاٹھایا پھر ُاس کے منہ پر ُگھوسا مارا جو ایک ہی وار پر اپنے منہ سے ِنکلتے خون کو دیکھ کر اوزکان کی جانب لپکا ۔

“کون سی بیوی جھوٹے یہ تیرا بزنس کوفروغ دینے والا ایک اہم مہرا ہے کیا میں نہیں جانتا مسٹڑ لوؤیس زمانہ بدنام بزنس مین نے ِکرسمس پاڑٹی پر تمہاری سوکالڈ بیوی کو دیکھ کر ہی تمہیں اتنا بڑا کانٹڑیکٹ دیا تھا “۔نواب داؤد یوسف نے بھی جوابی کاروائی کرتے ہوۓ اوزکان کو ایک ُمکہ جڑا۔

“کیا بکواس کررہے ہو ,تجھے پچھلی بار چھوڑ کر بہت غلط کیا تھا پر اب پچھتاؤں گا نہیں “۔اوزکان نے نواب داؤد کا ہاتھ ہوا میں ہی روک لیا

“یہ غلطی بھی مت کرنا بزنس ولڈ کے ہیرو کہی یہ نہ ہو تمہیں لینے کے دینے پڑجاۓ صبح کی اخبار میں چھپے پاکستان کے جانے مانے بزنز مین کی یوکے ٹائیکون سے ایک کال گرل پر لڑائ ہوگئ “۔

اوزکان صالیح کو ایسا محسوس ہوا جیسے ُاس کے جسم سے دہکتی آگ لپٹ گئ ہو جسے اب صرف نواب داؤدیوسف کے خون نے ہی ُبجھانا تھا ُاس نے نواب داؤد یوسف کو طبعیت سے دھویا آس پاس لوگوں کا رش لگ گیا پارکنگ ایریا میں سیکیوڑٹی گاڑڈزآگۓ جن سے ِبھپرا اوزکان سنبھل نہیں پارہا تھا ۔

“چھوڑو مجھے تم لوگ “۔اوزکان نے ایک جھٹکے سے ان دونوں ضعیف سیکیوڑٹی گاڑڈز کو پیچھے کیا ۔

“یہ آخری بار تجھے وارن کیا ہے بچ کے رہی مجھ سے “۔اوزکان نے زمین پر ِگرے ہوۓ نواب داؤد یوسف کو ایک بار پھر ُاٹھا کے زور سے زمیں پر پٹخا اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھا جہاں اسے شیشے کے نزدیک بیٹھی ملائکہ کہی بھی نظر نہ آئی ُاس نے بھاگتے ہوۓ آٹومیٹک لاک کھولا اور گاڑی کے اندر دیکھا جہاں ملائکہ نیچے بےہوش ِگری ہوئی تھی۔اوزکان نے اسے آگے بڑھ کر ُاٹھایا ۔

“اینجل کیا ہوا ہوش میں آؤ “۔مگر ملائکہ کوئی جواب نہیں دےرہی تھی ُاس نے گاڑی کو واپس گھر کی جانب موڑ لیا۔

اس نے گھڑی میں وقت دیکھا جو رات کے ایک بتارہی تھی  وہ جلد سے جلد ملائکہ کو گھر لےجانا چاہتا تھا  ۔

ُاس نے گاڑی گھر کے گیراج میں کھڑی کرکے اندر کی ساری روشنیاں بند کی پھر ملائکہ کو واپس آکر گاڑی سے نکال کے خاموشی سے اوپر کی جانب اپنے کمرے میں بڑھ گیا۔احتیاط سے اسے بیڈ پر ِلٹاکر وہ کمرے کی لائیٹس آن کرنے لگا جب ہی ملائکہ کی آوز نے ُاس کے بڑھتے قدم روک لیۓ وہ لیمپ کی روشنی میں ملائکہ کے نزدیک بیٹھ کر اسے آوازیں دینے لگا جو ُمسلسل بےہوشی میں بڑ بڑارہی تھی۔اوزکان نے ُاس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے جس پر ملائکہ ہڑبڑا کر ُاٹھ بیٹھی ۔

“اوزکان”۔ملائکہ نے اوزکان کو لیمپ کی روشنی میں آوازیں دینا شروع کردی جس پر اوزکان نے بے قابو ہوتی ملائکہ کو دونوں بازوؤں سے تھام۔لیا ۔

“ہوش کرو ملائکہ میں تمہارے سامنے ہوں یہ دیکھو ” ۔ؔملائکہ نے ُسوجی ہوئی روئی روئی سی آنکھوں سے اوزکان کو دیکھا جو اسے ہوش میں لانے کے لیے اپنے لب بھینچھے اسے دیکھ رہاتھا جو یہ تک ُبھول گیا تھا ُاس کا پہلے سے زخمی ہوا ہاتھ  نواب داؤد کو مارنے سے اور زخمی ہوگیاتھا۔

“آپ بہت ُبرے ہے دنیاکے سب سے ُبرے انسان ہے میں  نے آپ کو کتنی آوازیں لگائی تھی پر آپ میری آواز نہیں سن رہے تھے”۔ملائکہ دوزانوں بیٹھے اوزکان کے سینے سے لگی ُاس پر اپنے ہاتھ ماررہی تھی ۔

“اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو پھر میں کیا کرتی ان سب کو کیا صرف ہم ہی ملے ہے لڑنے کے لیے پوری دنیا میں جو یہ ہم سے ٹکڑا جاتے ہے “۔ملائکہ اٹک اٹک کر روتی ہوئی اوزکان کے سینے سے لگی بولی۔جو ُاس کا سر ہلکا ہلکا تھپک رہاتھا  تو کبھی ان پر اپنے لب رکھ رہاتھا ۔

“شاید اینجل دنیا گول ہے جب ہی یہ رزیل ہمارے راستے میں آتے ہے تم زیادہ سوچو مت سب ٹھیک ہے ِبلکل سوجاؤ میں تمہارے پاس ہوں”۔

“ووہو و وہ اوزکان ُوہ کیا کہ رہاتھا آپ کو وہ کون سا بزنس ڈیل کا کہ رہاتھا “۔

“کچھ بھی نہیں کہ رہاتھا تم اسے چھوڑو اور سو جاؤ “۔اوزکان نے ُاس کے گلے سے دوپٹہ نکال کر سائیڈ پر رکھا پھر پیچھے کی طرف پلنگ کی ُپشت سے کمر ِٹکا کر ملائکہ کو لیۓ لیٹ گیا ۔اوزکان ملائکہ کا سر تھپکتے ہوۓ نواب داؤد یوسف کی باتوں کے بارے میں سوچنے لگا جو کچھ ُاس نے بکواس کی تھی ۔۔

                       ۞۞۞۞۞۞۞۞۞



About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *