Rooh Ka Sakoon Episode 40-42

“ملائکہ کی بچی تو یہ کس کی گاڑی میں بٹھارہی ہے کیوں ِپٹوانے لگی ہے مجھے ِاس عمر میں, میں نہیں بیٹھوگی”۔ردا نے بیٹھنے سے انکار کردیا ۔

“ردا تجھے مجھ پر بھروسہ ہے نہ تو ُچپ کرکے بیٹھ جا”۔

ملائکہ ردا کا ہاتھ تھامے گاڑی میں بیٹھ گئ ۔ڈڑائیور ہونقوں کی طرح کبھی ملائکہ کو, تو کبھی ردا کو دیکھتا۔

“چلو ڈڑایئور گاڑی چلاؤ اب ہمیں کیا دیکھ رہے ہو “۔

ڈڑایئور نے اپنے ہاتھ میں بجتے فون کو دیکھا پھر ملائکہ کو ِاس سے پہلے وہ فون ُاٹھاتا ملائکہ نے ہاتھ آگے بڑھادیا ۔

“فون دو مجھے”۔ڈڑایئور نے فون ُاس کے ہاتھ میں تھما دیا۔

“کہا جارہی یے تمہاری میم تم نظر رکھ رہے ہونہ گاڑڈز کہا ہےاس کے لہجے میں پریشانی کی کھنک تھی

 سارے ُاس کے پاس ہونے چاہیۓ , میں ِبلکل بھی کوتاہی برداشت نہیں کروگا “۔ایر ِپیس پر گونجتی اوزکان صالیح کی آواز ملائکہ کوایک جگہ سکون تو دوسری طرف شش وپنج  میں ڈال گئ۔

“آپ میری نگرانی کیوں کروارہے ہے اوزکان یہاں مجھے کوئ خطرہ نہیں کیا کوئ مسئلہ ہے جو آپ مجھ سے ُچھپا رہے ہے “۔

“تمہارے پاس ڈڑایئور کا فون کیا کررہا ہے اور تم کہا ہو کیا ہوا ہے “۔اوزکان کی پریشانی سے بھری ہوئ آواز ابھری ۔

“میں ِبلکل ٹھیک ہوں اوزکان یہ گاڑی ہمیں فالو کررہی تھی  پھر جب میں نے نمبر دیکھا یہ کل والی گاڑی تھی تو مجھے یقین ہوگیا ِاس میں آپ ہوگے پر آپ کی جگہ کل والا ڈڑایئور نکلا “۔

“ہمم میں نے کہا تھا ُاسے تمہارے ساتھ ساتھ رہنے کے لیے میں فریش ہوکر آتا ہوں بلکہ اچھا کیا اب مجھے زیادہ ٹینشن نہیں ہوگی تم گاڑی میں ہی رہو”۔

“مجھے تو پہلے بھی کوئ ٹینشن نہیں ہے نہ ہی کوئ مسئلہ پر پتہ نہیں آپ کیوں ایسی باتیں کررہے ہے یہ میرا شہر ہے مجھے یہاں کا سب پتہ ہے آپ ٹینشن فری ہوجاۓ  میں اور میری دوست کچھ شاپنگ پر جارہے ہے اوکے “۔

“ٹھیک ہے ایک منٹ  فون ڈڑایئور کو دو”۔

“جی اچھا”۔ملائکہ نے فون ڈڑایئور کی طرف بڑھایا۔

“اپنی لائیو لوکیشن میرے ساتھ شیر کرو فورًا اور جب تک میں نہ آؤ میم کے سامنے چوکنے رہنا وہ ایک منٹ میں اوجھل ہوجاتی ہے”۔

“یس سر”۔

                       ۞۞۞۞۞۞۞

“ملائکہ کی بچی تو نے اتنی بڑی بات مجھ سے ُچھپائ اور تو نے بجو کو بھی نہیں بتایا, اب اوزکان بھائ کہا ہے “۔

“یہاں ساحل۔سمندر کے نزدیک گھر لیا ہے کہی وہی پر ہے “۔

“تو تم۔بجو کو تو بتاؤ وہ غصہ کرے گی “۔

“نہیں کرے گی یار وہ اوزکان کی نیچر کو کافی حد تک جاننے لگی ہے ُاس نے کسی وجہ سے یہ بات ُچھپائ ہے ُاس کے کیا ریزنز ہے مجھے خود نہیں معلوم اب تم۔جلدی چلو کچھ شاپنگ کرے دو تین  ُسوٹ دلوادے اچھے اچھے سے “۔

                     ۞۞۞۞۞۞۞ۘۘ

“موم کہا ہے آپ “۔سہیل ِاسٹیک کے سہارے کھڑا بیل بجارہا تھا۔

۔کچھ دیر بعد نگہت بیگم۔نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے سہیل کو۔دیکھ کر آنکھیں بھر آئ۔

“میرے بچے اتنی دیر کردی گھر لوٹ آنے میں “۔نگہت بیگم۔نے سہیل کو اپنی مامتا کی چھاؤ میں لیتے ہوے رو پڑی۔

“موم م م میں ٹھیک ہو  اب یہ دیکھو صرف یہ چھڑی ہے جو کچھ دنوں کے لیے دی ہے ج ج ج جو جلدی ورزش کرنے سے ُچھوٹ جاۓ گی م م م م مجھ سے باقی ِاسپیچ تھیریپی ہوتی رہے گی جب تک م م م میں ُرک ُرک کر بولنا۔نہ۔چھوڑدو”۔سہیل نے ماں کے ِگرد اپنے بازوں پھیلاۓاور انہیں اندر لیۓ بڑھ گیاا۔

“اللہ تیرا لاکھ لکھ ُشکر ہے جو ُتونے میرے بچے کو اپنے پیروں پر کھڑا کردیا “۔نگہت بیگم ایک بار پھر سہیل کے ماتھے پر اپنے لب رکھ گئ۔

“موم مجھے لگتا ہے آپ مجھے خالی پیار سےٹڑخانہ چارہی ہے مجھے بہت زیادہ ًبھوک لگی ہے کچھ کھانے کے لیۓ دو “۔سہیل صوفے پہ بیٹھتے ہوۓ بولا ۔

“ماں صدقے جاؤں کیا کھانا ہے جلدی سے بتاؤ  میری جان کیا کھاۓ گا “۔

“موم آلوں کے پڑاٹھے کھانے ہے مزے مزے کے جلدی سے بنائیں “۔

“بس میں ابھی بنا کر لائ میری جان “۔

“موم آپ کی ٹانگ کا پلاسٹڑ کب ُکھلا تھا”۔

سہیل نے ماں کوچلتے دیکھ کر خوش ہوکر پوچھا۔

“بس کچھ ہی دن ہوۓ ہے “۔

“اور اپنی بہو کی سناۓ کیسی ہے وہ ,بہت ناراض ہوگی نہ مجھ سے “۔سہیل نے نگہت بیگم۔کے پیچھے کچن میں رکھے ڈائیننگ ٹیبل چیرپر آکر بیٹھ گیا۔

“”اب یہ تو تمہارا اور سنعایا کا معاملہ ہے اسے خود ڈیئل کرنا اپنے طریقے سے “۔

“کروگا آج فون اسے “۔

1

“فون کیا بیٹے ,اب میں اپنی بہو کو ہمیشہ۔ہمیشہ کے لیے لے آؤگی اب بہت ہوگۓ تمہارے بہانےاب مجھے تمہارے بچوں کو ِکھلانا ہے”۔نگہت بیگم اس کی گزشتہ باتوں کا حوالہ دے کر اسے منع کرنے لگی۔کیوں کے سہیل کا ماننا تھا کے وہ پہلے اپنا نام۔بنانا چاہتا تھا پھر سنعایا کو اپنی زندگی میں ہمیشہ کھ لیے لانا چاہتا تھاا۔

“جیسے آپ کی مرضی موم آپ خالہ سے بات کرلے پھر ہم۔پاکستان جانے کی تیاری کرے گے”۔

“ویسے موم اتنے دن سے میں اسپتال تھا میں نے آپ کے یا ملائکہ کے علاوہ ارحم۔کو کبھی آتے نہیں دیکھا کیا ُاس کا دل۔اتنا پتھر کا ہوُچکا ہے کےاسے اپنے بھائ کو دیکھنےکا بھی دل نہیں کیا”۔

“نہیں سہیل وہ آیا تھا تم۔سے ملنے ُاس وقت تم۔ہوش۔میں نہیں تھے پھر کام کے سلسلے میں وہ شہر سے باہر ہی رہا ہے زیادہ تر”

۔

“موم پلیز۔آپ اتنی بودی سی دلیل دے کر مجھے یقین نہیں دلا سکتی جب آپ ِویل چیر پر بار بار آسکتی ہے تو کیا وہ نہیں آسکتا تھاخیر۔میں ُاس کے بارے میں۔کوئ بات نہیں کرنا چاہتا آپ یہ بتاۓ ملائکہ کہا ہے نظر نہیں آرہی وہ بھی پچھلے دو۔ہفتے سے غائیب ہی ہوگئ  “۔

“وہ سہیل پاکستان گئ ہے “۔

“پاکستان کیوں, وہ کیوں گئ ہے ُاس کی۔تو دو سال۔کی۔انٹرن۔ِشپ تھی نہ پھر وہ کیسے چلی گئ کراچی میں سب خیر ہے نہ “۔

سہیل پریشانی۔سے کھڑے ہو کر آٹا گوندتی ماں کو دیکھنے لگا جو پریشر کی بجتی سیٹی کو محویت سے دیکھ رہی تھی ۔

“موم میں کچھ پوچھ رہا ہوں بتاۓ کیا وجہ۔ہے می۔می کی۔پاکستان۔جانے کی “۔نگہت بیگم۔بیٹے کی۔شکل دیکھنے لگی بغیر بتاۓ اسے گزارا بھی نہ تھا وہ جانتی تھی سہیل کس حد تک ملائکہ کو بہنوں کی طرح چاہتاتھا اگر اسے میرے علاوہ یہ ساری باتیں کسی سے پتہ لگی تو وہ اور ناراض ہوجاۓ گا کچھ دیر کی کشمکش کے بعد نگہت نے سہیل کو ساری باتیں بتادی جسے ان کر ُاس کی رگوں کا خون کھول گیا۔

“میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے کوئ انسان اتنا ِنیچ کیسے ہوسکتا ہے, موم کیا اسے خیال نہیں آیا کے وہ ہماری بہنوں جیسی ہے ہماری خالہ کی بیٹی ہے مجھ سے وابست رشتہ تو بہت دور کی بات ہے ُ ُاس کے ہاتھ نہیں کانپے تھے”۔سہیل نے ڈائیننگ پہ پڑے سارے برتن غصے میں نیچے پھینک دیے, آخر وہی ہوا جس کا نگہت بیگم۔کو ڈڑ تھا سہیل کے غصے سے تو وہ پناہ مانگتی تھی ۔

“سہیل وہ بہت بدل گیا ہے  اس نے بہت بارمعافی مانگی ہے اپنے کیۓ کے لیے اب تو وہ اپنا بزنس کرتا ہے “۔

“مو م کبھی کتے کی ُدم۔سیدھی ہوئ ہے جو اب ہوگی آپ ُاس کی باتوں میں آنا بند کردے کہا ہے وہ مردود”۔

“وہ تو بیٹا پاکستان گیا ہے کچھ اپنے کام کے سلسلے میں “۔نگہت بیگم نے ہچکچاتے ہوۓ بلی تھیلے سے باہر نکال کی ۔

“کیا وہاں کیوں گیا ہے کہی آپ نے اسے خالہ کے گھر تو نہیں بھیج دیا, بولے موم آپ خاموش کیوں ہےبتاۓ مجھے ِاس سے پہلے کوئ بڑی انہونی ہوجاۓجلدی بتاۓ مجھے”۔سہیل کو گرجتے دیکھ کر نگہت بیگم نے ہر ایک بات کھول کھول کر سہیل کو بتادی جس پر وہ اپنی پہ سخت برھم ہوا۔

“موم آپ کو کچھ توسوچنا چاہیے تھا اسے وہاں بھیجنے سے پہلے وہ جتنا مرضی کہ لے کےوہ بدل گیا ہے پر آپ کو ُاسے محتاط رہنے کا کہنا چاہیۓ تھا خیر جو ہوا سو ُہوا آپ ارحم اور خالہ دونوں سے رابطہ کرے جب تک میں پاکستان جانے کے   انتظامات کراتا ہوں “۔

                ۞۞۞۞۞۞۞۞

“یہ کہا لے کر جارہی ہے می می میں تھک گئ ہوں  ُمجھ سے اور نہیں چلا جاتا “۔ردا نے شاپر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوۓ کہا۔

” بس یہ لاسٹ کام ہےتو تھوڑا سا اور چل لے وہ دیکھ دوپٹہ گلی آگئ “۔

“اللہ پوچھے تجھے می می میں نے کیوں نہ سوچا تیرے ساتھ جانے سے پہلے بس یہ آخری دکان ہے ِاس کے بعد میں  صرف چاٹ کھاؤ گی نہیں تو میرا بی پی اور لو ہوجاۓ گا پھر میں رکشا کراکے گھر چلی جاؤ گی میری بلا سے تو جہاں مرضی جاۓ اپنے شوہر کی گاڑی میں “۔

ہاہاہاہاہا۔ردا ُتو اس طرح لڑتے وقت ِبلکل ِبل بٹوڑی لگتی ہے “

۔ملائکہ نے پیچھے پلٹ کر شاپروں سے لدی ہوئ اپنی معصوم دوست کو دیکھ کر کہا۔

“اور  ُتو کڑنانی,میں بھوتو کی نانی ہوں نام میرا کڑنانی ہے”۔ہاہاہاہاہاہا دونوں کو اس طرح قہقے لگا کے ہسنتے دیکھ کر لوگ ان کے زہنی حالت پر ُشبہ کرنے لگے ۔

“جا کیا یاد کرے گی تجھے مابدولت سیدھے چاٹ ِکھلانے لےجاۓ گی”۔

“بہت مہربانی ہوگی آپ کی پھر وہ دونوں سڑک پار کرتی ہوئ اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچی پھر اپنی مطلوبہ چیز کا اوڈڑ دے کر اسے کھانے لگی ۔

“می۔می  تو ِاس میں اور چاٹ مصالح مت ڈال یہ بہت تیکھی ہے “۔

“ہاۓ یہی تو چسکے ہے جو کہی بھی نہیں میری بتوڑی ُتو کیا جانے ادرک کا سواد چاٹ پرمیٹھی چٹنی ڈالنے والی “۔

جب ہی ردا کی نظر لینڈ ُکروزر سے ُاترتے اک نوجوان پر پڑی جو کالی جیکٹ اور نیلی جینز پہنے بالوں کوجیل سے سیٹ کیۓ کسی شان سے بادشاہوں کی طرح چلتے ہوۓ ہالیؤؤڈ چاٹ والے کو یہ اعزاز بخش رہا تھا۔کے وہ اندر داخل ہورہا تھا۔

“می می پیچھے پلٹ کر دیکھ یار کیا چیز آرہی ہے اتنا ہینڈسم لڑکا تو میں نے کبھی کراچی یونیورسٹی میں بھی نہیں دیکھا یہ تو کسی اور ہی سیارے کا لگ  رہا ہے “۔

“سوری میں نے نامحرموں کو سراہنا بند کردیا میرا خود کا ہسبینڈ بہت ہوٹ ہے اور ابھی ِاس من وسلوا کے آگے تو کچھ بھی نہیں “۔یہ کہ کر ملائکہ پھر سے  اپنی چاٹ کے ساتھ انصاف کرنے لگی, ردا جو اس ہینڈسم۔پر نظریں گاڑے ہوۓ تھی وہ کسی سے فون پر مصروف ہوگیا پھر اپنی نظریں کسی کی تلاش میں دوڑا کر ان کی ٹیبل پر آکر ختم۔ہوگئ۔وہ اپنے مضبوط قدم ان کی ٹیبل کی جانب بڑھانے لگا۔ردا جو اسے دیدے پھاڑ پھاڑ  کر دیکھ رہی تھی اپنی ٹیبل کی طرف آتا دیکھ کر ُاس کے ہاتھ پاؤں ُپھول گۓ۔

“می می وہ تو یہی آرہا ہے کہی ہمیں کچھ کہنے تو نہیں آرہا”۔

“اپنا ُجملہ ٹھیک کرو بی بی وہ میرے نہیں تیرے پاس آرہا ہوگا تیری بے عزتی کرنے جو ُتو اسے دیکھ کر ُبھونڈیاں کررہی تھی ہاہاہا “۔۔

“بہت ہی بطمیز ہے تو کڑنانی”۔

“”بس کبھی غرور نہیں کیا”۔

جب ہی وہ پورے قد سے اپنی چھاجانے والی شخصیت کے ساتھ ٹیبل پر سر ُجھکاۓ چاٹ کے ساتھ انصاف کرتی می می کے سر پر ایک ِچپت لگاۓ ُاس کے برابر میں بیٹھ گیا۔

“گندی بچی کیا گند بلا کھارہی ہو “۔اوزکان کی آواز پر ملائکہ نے اپنا سر ُاٹھا کر اسے دیکھا۔

“آپ سچ میں آگۓ مجھے تو لگا آپ مزاق کررہے تھے “۔

جی ہاں میری زندگی آپ کو اکیلے اکیلے تو گھومنے نہیں دے سکتا تھا نا”۔ یہ کہ کر اوزکان نے ُاس کے ماتھے پر بوسہ دیا جیسے ان کے ملک میں عام تھا ۔

“اوزکان کیا کررہے ہو یہ پبلک پلیس ہے, ان سے ملو یہ ہے بتوڑی میرا مطلب ہے ردا میری بیسٹ فرینڈ اور ردا یہ ہے اوزکان صالیح تمہارے بہنوئ “۔

ملائکہ نے ردا سے اوزکان کا تعارف کروایا جس پر اوزکان نے مسکرا کر ردا کو سلام کیا جو ہونقوں کی طرح ملائکہ اور اوزکان کو دیکھ رہی تھی۔

“یہ تمہاری دوست تو نہیں لگتی یہ توبولتی ہی نہیں, تم تو گونگو کو ُبلوادیتی ہو ہنی”۔

“ارے نہیں بہت بولتی ہے یہ بس آپ کو دیکھ کر گھبراگئ ہے “۔ردا نے ملائکہ کو آنکھیں ِدکھائ۔

“نہیں اوزکان بھائ ایسی بات نہیں میں آپ کو ایکسپیکٹ نہیں کررہی تھی ,آپ سے ِمل کر بہت خوشی ہوئ مجھے سچ میں آپ دونوں کا کپل بہت شاندار ہے “۔

“بہت ُشکریہ آپ کا اور کہا تک پہنچی تمہاری شاپنگ اینجل “۔

“بس لے لیۓ ہے اب ہم گھر ہی جانے لگے تھے “۔

“اوکے تو پھر چلے “۔اوزکان نے ویٹڑ کو اشارے سے ِبل کے لیے بلایا اوزکان نے جیب سے ہزار کا نوٹ نکال کر ٹیبل پر رکھا اور کھڑا ہوگیا۔

“یہ پیسے زیادہ ہے اوزکان بھائ ان سے پیسے بقایا واپس لے”۔

“وہ نہیں لے گا ردا لڑکیوں کے سامنے شو بھی تو لگانی ہےنہ “۔ملائکہ بےاردو میں بولا ۔

“می می تو اوزکان بھائ کے سامنے اردو میں بول کر  کتنا مزہ۔کرتی ہوگی نہ جب انہیں کچھ سمجھ نہیں  آتا ہوگا “۔ردا مبہم سا مسکراتے ہوۓکہنے لگی جس پر اوزکان نے بے ساختہ اپنی متاع جان کی طرف دیکھا۔۔

“اور لڑکی جب خاص کرکے آپ کی بیوی ہو  تو شو لگانی پڑجاتی ہے,ہےنہ ملائکہ اوزکان “۔اوزکان کے خالص اردو میں جواب دینے پر ملائکہ کے چہرے پر ُمسکراہٹ بکیھر گئ۔جب کے ردا ہونقوں کی طرح کبھی اوزکان تو کبھی ملائکہ کو دیکھنے لگتی جو اتنی اچھی سلیس اردو میں بات کررہاتھا۔

“چلےاینجل آپ لوگوں کو ڈڑاپ کرو “۔اوزکان نے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوۓ دروازہ کھولا ملائکہ فرنٹ ِسیٹ پر بیٹھ گئ جب کے ردا پیچھے ۔اوزکان ہلکی ُپھلکی باتیں کرتے ہوۓ ملائکہ کے بتاۓ راستے پر گاڑی دوڑاتا ہوا ردا کے گھر کے نزدیک گاڑی کھڑی کی ۔

“اچھا ردا سسٹڑ پھر ملاقات ہوگی آپ سے میں امید کروگا می می کےگھر آپ ابھی پتہ چلنے نہیں دے گی کے آپ لوگ واپس آگئ ہے “۔اوزکان کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ دیکھ کر ردا بھی مسکرا ُاٹھی ۔

“نہیں ردا میں ساتھ جاؤ گی تمہارے “۔ملائکہ اوزکان سے اپنا ہاتھ ُچھڑانے لگی۔جو فرنٹ ِسیٹ پر بیٹھا ُاس کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیۓ بیٹھا تھا۔

ِ”بلکل نہیں تھوڑا شوہر کو بھی وقت دیتے ہےاللہ حافظ ردا سسٹڑ”۔ردا مسکراتی ہوئ دونوں کو دیکھ کر نیچے اتر گئ۔

“اوزکان کیا مزاق ہے چھوڑے میرا ہاتھ میں نے اماں کو کہا تھا ہم لوگ چھ بجے تک  پہنچ جاۓ گے”۔

“نو نو بے بی آٹھ بجے تک اپنا ُجملہ ٹھیک کرو”۔اوزکان نے گاڑی تیزی سے علاقے سے باہر نکالتے ہوۓ ہوا کے دوش پر چھوڑدی ۔

“ایک منٹ آپ کو کیسے پتہ میں نے کتنے بجے کا کہا تھا “۔

“او کم۔آن  اینجل میرے ددل نے کہا تم۔تو پتہ نے کیا کیا 


سوچنے لگ جاتی ہو “۔

“آپ جاکہا رہے ہے “۔ملائکہ نے اوزکان کو گاڑی میں نیویگیشن آن کرتے دیکھ کر پوچھا ۔

“”ظاہر سی بات ہے میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر وہاں سے جلدی جلدی میں بھاگا تھا تو اتناتو میرا حق بنتا ہے کے میں تمہارے ساتھ تھوڑا وقت گزارو”۔اوزکان نے اپنا بایاہاتھ ُاس  کے ِگرد حمائیل کرکے ُاسے اپنے نزدیک ِکیا 

” اوزکان ایک منٹ بجو کی کال ہے “۔

“ہیلو بجو کیسی ہے آپ “۔اوزکان نے گاڑی سائیڈ پر کھڑی کردی

“میں  ٹھیک ہوں تم سناؤ کہا ہو آئ نہیں ابھی تک “۔

“بجو بس تھوڑی دیر تک آتے ہے آپ کیا کررہی ہو “۔

کچھ نہیں میں نے کہا تم۔سے ُپو چھ لو جب تک میں بھی اپنے ایک دو کام۔نبٹالو پھر پارک چلے گے “۔

“نہیں بجو آج نہیں کل چلے گے میں بہت تھک گئ ہوں بازار سے آکر آرام کرو گی بس”۔

“کیوں کیا ہوا می می “۔سنعایا کی پریشانی سسے بھرپور آواز ایرپیس پر ُابھری۔

“کچھ نہیں شاید بہت عرصے بعد اتنا چلی ہوں تھکاوٹ سے ہوا ہے”۔

“چلو ٹھیک ہے پھر گھر پہنچ کر ملتے ہے باۓ “۔

“باۓ”۔ملائکہ نے فون بند کر کے پرس میں ڈالا پھر اپنا سر ِسیٹ کی ُپشت سے ِٹکا دیا ۔

“کیا زیادہ تھک گئ ہو “۔

ہمممم۔ملائکہ نے سر کو جنبش دی ۔۔

“چلو پھر ایک ایک کپ چاۓ ہوجاۓ”۔یہ کہ کر اوزکانےہوا کے دوش پر ُاڑاتے ہوۓ گاڑی اپنے نۓ گھر  کے سامنے روک دی ۔

“یہ کہا آگۓ ہے ہم اوزکان “۔ملائکہ نے گھر کے لان کے نزدیک  بنے کار پورچ میں گاڑی کھڑی کرتے اوزکان سے پوچھا۔جو گاڑی سے نکلتا ہوا ملائکہ کی جانب آیا پھر اس کی جانب کا دروازہ کھول کر ِبنا اسے کوئ موقع دیۓ اپنے مضبوط بازوؤں میں ُاٹھاتا سنگ مر مر سے بنے ِاس سفید تاج محل میں اپنی ملکہ کو لیۓ داخل ہوگیا ۔

“یہ کیا کررہے ہے اوزکان مجھے نیچے اتارے”۔وہ ُاس کی آواز کو نظر انداز کیۓاسے سیدھا ِکچن کی جانبلے آیا جہاں وسط میں پڑی ُکرسیوں میز کے نزدیک بڑے احتیاط سے اسے ایک کرسی پر بٹھایا ۔

“یہاں بیٹھوں میں دو منٹ میں چاۓ بناتا ہوں ابھی تمہارے سارے درد اوزکان صالیح کی چاۓ سے بھاگ جاۓ گے”۔وہ اس کے ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوۓ اسٹوؤ کی جانب بڑھ گیا۔جب کے ملائکہ اس کی مضبوط کمر کو دیکھنے لگی ,کون کہ سکتا تھاکے یوکے کا اتنا بڑا بزنس ٹائیکون اس وقت میرے جیسے عام سی لڑکی کے لیۓ چاۓ بناۓ گا میری کہانی ِبلکل ایک فیری ٹیلز جیسی ہے ۔ملائکہ اپنے ہاتھوں کے اوپر سر ِگرا کےمیز پہ  ُکہنیاں ِٹکاۓ بیٹھی ہوۓ سوچنے لگی جب ہی ُاسے اپنے شانوں پہ اوزکان کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا جو نا زیادہ سختی سے نہ نرمی سے اس کی تھکاوٹ کودبا کر  دور کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ملائکہ نے اپنا سر ُاٹھا کے ُکرسی کی ُپشت سے ُٹکادیا۔جو اوزکان کی جیکٹ کو ُچھو رہاتھا ۔

“یہ کیا کررہے ہے آپ اوزکان”۔اوزکان نے ُجھک کر اپنے تشنہ لب ُان جھیل سی آنکھوں پر رکھ دیۓ۔

“تمہاری تھکاوٹ دور کررہا ہوں “۔اوزکان کا ہاتھ اب اس کے ماتھے پر چلنے لگا ۔

“نہیں کرے اوزکان مجھے اچھا نہیں لگتا یہ تو میرے کرنے کے کام ہے “۔ملائکہ کھڑی ہوکر اسٹوؤ کی طرف جانے لگی مگر اوزکان نے بیچ میں ہی اسے ایک جھٹکا دے کر اپنے نزدیک کر لیا۔

“جب تک میری سانسیں چل رہی اینجل یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا تم۔میں اور مجھ میں کوئ فرق نہیں ہم۔ایک ہے اس لیے میں تمہیں جیسے ٹڑیٹ کرتا ہوں مجھے کرنے دیا کرو یقین جانو میری روح تک کو سکون ملتا ہے کیوں کے تم میرا اکلوتا رشتہ ہو جو میرا اپنا ہے میرا سب کچھ ہے جس کے لیے میں جتنا کرو اتنا کم۔ہے تو میں تمہیں ہمیشہ ایک ملکہ کی طرح رکھنا چاہتا ہوں جو میرے دل پر حکومت کرے  صرف  “۔

اوزکان نے دھیرے دھیرے اپنے پیار کا امرت ُان گلاب کی پنکھڑیوں پرانڈیل دیا پھر  ُاسے کمر سے تھام کر شیلف پر بٹھایا ۔

“اب تم۔صرف ایک منٹ دو مجھے “۔اوزکان اس کے شرم سےگلنار ہوتے چہرے کو دیکھ کر اس سے پیچھے ہٹا۔ پھر ُپھرتی سے چاۓ بنا کر اوزکان  نے ایک خوشگوار گھنٹہاپنی اینجل کے ساتھ گزارا۔

                    ۞۞۞۞۞۞۞۞

“کون ہے “سنعایا بیل کی  آواز پر دروازہ کھولنے گئ جو آفس جانے کے لیۓ ِبلکل تیار کھڑی تھی۔

“اسلام علیکم بھابھی”۔ارحم۔نے سنعایا کو دیکھ کر سلام۔کیا جو اسے ایک دو بار سہیل کے ساتھ تصویروں میں دیکھ کر پہچان ُچکی تھی۔

“کون ہے سنعایا جواب کیوں نہیں دے رہی “۔فرزانہ نے ُگم ُصم۔کھڑی سنعایا کو دیکھ کر اس کاشانہ ہلایا ۔

“اسلام علیکم خالا ,بھابھی تو مجھے دیکھ کر  شاید پہچانی نہیں میں آپ کا بھانجا ارحم۔آپ کی بہن نگہت کا چھوٹا بیٹا”۔

“ارے میرےبچے تم تو کتنے بڑے ہوگۓ ہوہم۔نے تمہیں بہت چھوٹے ہوتے دیکھا تھا۔ اندر آؤ بیٹا باہر کیوں کھڑے ہو اور سنعایا بھائ کو راستہ دو میرا بچہ اتنی دور سے آیا ہے “۔

اماں نے سنعایا کو راستے سے ہٹا کر ارحم۔کو ہاتھ بڑھا کر اندر کیا۔وہ اسے لیے ڈڑایئنگ روم۔میں آگئ۔

“جاؤ بیٹا بھائ کے لیے ناشتے پانی کا  انتظام۔کرو “۔اماں نے سنعایا کو آنکھیں ِدکھائ۔

“لگتا ہے بھابھی کو میرا آنا پسند نہیں آیا”۔

“نہیں بیٹے ایسی بات نہیں وہ تم نے اچانک آکر ہمیں حیران کردیا”۔

“بس خالہ وہاں بڑیڈ فوڑڈ میں پاکستانی ریسٹورنٹ کھول رہاہوں اسی کے سلسلے میں یہاں آیا ہوں کراکری وغیرہ کے لیۓاور کچھ باورچیوں کے لیے میں نے تو موم کو کہا تھا کے میں وہاں جاکر ہوٹل لےلوں گا پر موم نہیں مانی کے تمہاری خالہ کا گھر ہے  وہاں تمہاری بھابھی وہاں ہے وہ تمہیں خود گائیڈ کرے گی”۔

“ِبلکل صحیح سوچا نگہت نے اپنا گھر ہوتے ہوۓ میں بھلا تمہیں کہی اور جانے دوگی خیر تم سچ پوچھوں سہیل سے کتنا ملتے ہو بیٹا بس قد کاٹھ کا فرق ہے ورنہ دونوں میں بہت مشابہت ہے”۔۔

“جی خالہ صحیح کہ رہی ہے سب لوگ یہی کہتے ہے “۔اچانک ارحم۔کے فون پر کال آنے لگی ۔

“اوخیر خالہ آپ کی بہن کی ِاس وقت کال آگئ ۔

ہیلو موم اسلام علیکم  کیسی ہے آپ ِاس وقت کیوں جاگ رہی ہے”۔

“میں ِبلکل ٹھیک ہو ارحم تم پاکستان پہنچ گۓ ۔ تمہارا نمبر کل سے بند تھا ,میری آنکھ بڑا عجیب خواب دیکھ کر ُکھلی تھی تو فورًا  تمہیں فون ِملالیا, میرے بچے ٹھیک توہونا”۔

“یس موم میں ِبلکل ٹھیک ہوں اور آپ کی بہن کی نظروں کے سامنے بیٹھا ہوں یہ بات کرلے “۔

“ارحم نے فون خالہ کی جانب بڑھادیا۔جو خوشی خوشی اپنی بہن سے باتیں کرنے لگی تب ہی بیچ میں خالہ نے فون ہولڈ پر کر کے ارحم کو فریش ہونے کے لیۓ کہا ۔

“سانی بھائ کو واش روم کا بتاؤ”۔کچن سے باہر جھانکتی سنعایا نے اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا ارحم اس کے پیچھے اپنے قدم بڑھانے لگا وہ اسے کمرے کے باہر چھوڑ کر اس کی جانب پلٹی۔

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئ ہمارے گھر میں آنےکی فورًا  سے پہلے یہاں سےدفعہ ہو جاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا”۔

“ارے ارے بھابھی جی آپ صبح صبح کیوں انگارے چبارہی ہے اور میری ہمت کی تو بات بھی مت کیجیۓ گا ورنہ آپ کی اماں جان کو ایسے شوک دوگا کے وہ سیدھا اوپر نودوگیارہ ہوجاۓگی, سیدھے طریقے سے مجھے تھوڑے دنوں کے لیے اپنا ریسٹوڑنٹ کا کام۔کرنے دو میں وہ کرکے چلاجاؤگا امید کروگا آپ اچھی بھابیوں کی طرح میرے کام۔میں مدد کرے گی ورنہ آپ کی اپنی مرضی ہے میں اپنی پیاری خالہ جان کو بول دوگا وہ خود کرادے گی سارے کام “۔ارحم کمرے کا دروازہ کھولتے ہوۓ اپنی ایک آنکھ جھپکا کے سنعایا کو دیکھتا ہوا اندر کی جانب بڑھ گیا۔جس کے عزائم ُسن کر اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگۓ تھے

“اب کیا کرو سمجھ نہیں آرہا می می بھی سورہی ہے ایسا کرتی ہوں اوزکان کو کال کرتی ہوں ُیوکےہاں یہ ٹھیک ہے پر نہیں سانی وہ تو غصے کا بہت تیز ہے اگر وہ۔پاکستان آگیا تو پھر اماں کو کیسے سنبھالوں گی نہیں نہیں اب کیا کرو کیا کرو “۔سنعایا کچن کے اندر چکر لگاتے ہوۓ بڑبڑانے لگی ۔

“سہیل کوفون کرو نہیں ُاس سے تو مجھے بات ہی نہیں کرنی, پھر خالہ کو کرتی ہوں ہاں یہ ٹھیک ہے پر انہیں کہوگی کیا انہیں تو سب پتہ ہے ُاس کے باوجود اگر انہوں نے ُاسے یہاں بھیجا ہے توکسی مقصد سے ہی بھیجا ہوگا اب وہ مقصد کیاہے پہلے یہ معلوم۔۔کرو سانی میڈم”۔وہ جلدی جلدی پڑاٹھے کے لیے پیڑے بناتے ہوۓ سوچنے لگی ۔

                ۞۞۞۞۞۞۞۞۞ 

موم آپ کی بات ہوئ تھی پاکستان کہا ہے ارحم”۔سہیل ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا نگہت بیگم سے پوچھنے لگا جو بڑیڈ کے اوپر جیم لگارہی تھی۔

“ہاں ہوئ تھی بات فرزانہ کے گھر ہی ہےمیں نے سمجھادیا ہے اسے تم۔پریشان مت ہو ابھی اور ایک دوگھنٹے تک کال۔کروگی پھر تمہاری ُرخصتی کی بات بھی کروگی تم سنعایا کو کال کیوں نہیں کرتے “۔

“موم وہ مجھ سے بہت ناراض ہے میرا نمبر دیکھ کرکال نہیں ُاٹھاتی اب تو ُروبرو ہی بات ہوگی”۔

“ٹھیک ہے میں بات کروگی آج فرزانہ سے “۔

            ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“آفس جاؤ یا نہ جاؤ کیا کرو, جاؤگی تو می می کو کیسے سنبھالوں گی نہیں جاتی ہاں یہ ٹھیک ہے اب تو ِبلکل بوس نکالے گے مجھے نوکری سے”۔

 وہ سوچتے ہوۓ اپنے کاموں میں مصروف ہوگئ ۔ارحم۔ناشتہ کرکے سونے کے لیے چلاگیا جب کے سنعایا دوپہر کے کھانے کی تیاری کرنے لگی ۔

“سانی میں تھوڑی سبزی لینے جاری ہوں بازار تک یہ مویا سبزی بیچنے والا نہیں آیا آج ارحم۔کا خیال رکھنا بچہ کو کچھ چاہیۓ نہ ہو ویسے میری آنکھ لگ گئ تھی بیچ میں باہر تو نہیں گیا کہی”۔

“اماں مجھے نہیں پتہ آپ سبزی لینے جاۓ دیر ہورہی ہے”۔

“ٹھیک ہے  “۔سنعایا دروازہ بند کرکے نہانے چلی گئ۔

                  ۞۞۞۞۞۞۞۞۞

اوزکان شیشے کے آگے کھڑا اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کررہاتھا جو کالی جینز پر کالا اپر پہنے پیروں میں اپنے کالے اور ُسرمئ جاگرز پہنے اپنے کسرتی جسم۔پر اپر کے اوپر کتھئ رنگ کی جیکٹ پہن رہا تھا۔جب ہی ُاس کا فون بجا ۔ڈیول کالنگ۔

“ہابولوں ڈیول بولو”.

“سر ہم آپ کو کافی دیر سے کال کررہے ہے پر آپ ُاٹھا  نہیں رہے تھے”۔

“ہاں فون سایئلنٹ پر تھا کیا ہوا “۔

“سر وہ ایک ُبری خبر ہے, سر ارحم۔پاکستان آگیا ہے “۔

“کیا بکواس ہے یہ میں نے تم لوگوں سے کیا کہا تھا کے وہ پاکستان پہنچنا نہیں چاہیۓ کہا مرگۓ تھے تم سب کے سب گھر بیٹھ کے پیسے ِکھلاتا ہوں میں بس “۔اوزکان فون پر ڈھاڑا ۔

“اب کہا ہے وہ خبیث”۔

“سر !! ڈیول کچھ توقف کے بعد بولا “سر وہ میم کے گھر میں ہے سر میں موجود نہیں تھا ورنہ اتنا بڑا بھنٹ نہیں ہوتا “۔ڈیول تھوڑا ہچکچاتا ہوا ِبل آخر بول پڑا

“اگر تم میرے سامنے ہوتے نہ ڈیول تو آج زندہ نہیں بچتے مجھ سے “۔اوزکان نے فون کاٹ کر  غصے میں اپنے ہاتھ میں پکڑا جیل شیشے پہ دے مارا۔جس سے شیشہ چکنا ُچور ہوگیا اوزکان نے اپنے موبائیل پر ملائکہ کی ڈیوائس لاگ ان کی جہاں ُاسے ملائکہ کی واش روم میں سے آوازیں آرہی تھی  ,وہ فورًا  ملائکہ کے گھر کے لیے نکلا

                    ۞۞۞۞۞۞۞

دوببجے کے قریب ملائکہ میڈم۔کی صبح ہوئ تو وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی ۔

“اماں, سانی کہا ہو “۔ملائکہ۔اماں کے کمرے میں گئ تو وہ موجود نہیں تھی پھر سانی کے کمرے میں گئ تو واش روم  سے پانی گرنے کی آوازیں آرہی تھی یعنی بجو نہارہی ہے وہ بھرپور انگڑائ لیتے ہوۓ صوفے پہ چھلانگ لگانے کے انداز میں لیٹی ٹیبل سے ریموڑٹ ُاٹھا کر ایل سی ڈی آن کرلی ۔وہ بیزاری سے اپنی نظریں جماۓ بیٹھے ہوۓ تھی تب ہی ملائکہ کو ایسے معلوم۔ہوا جیسے کوئ اسے دیکھ رہا ہے ُاس نے صوفے کے اوپر پھیلائ ہوئ اپنی ٹانگ ایک دم سے نیچے کی اور سامنے کمرے  کی طرف نظرڈوڑائ جہاں اسے ارحم کھڑآ ہوا نظر آیا ۔ملائکہ کو ایسے لگا جیسے ُاس کے دماغ کا کوئ وسوسہ ہے ۔

ملائکہ ایک دم۔سے صوفے پر بیٹھی پھر اپنی آنکھوں کو ملا۔

“میں حقیقت میں ہی کھڑاہوں ڈیڑ کزن آپ کی نظروں کے سامنے “۔

“آآآپ کی ہمت کیسی ہوئ میرے گھر آنے کی نکلے یہاں سے”۔

ملائکہ پہلے اسے دیکھ کر ڈڑگئ جب ہی پہلے ہکلائ پھر تھوڑی ہمت بندی تو ُاسے کرخت آواز میں بولا۔

“یہ کیا بات ہوئ ڈیڑ کزن نہ سلام نہ دعا سیدھا گولہ باری شروع کردی ,اور ہمت کی تو بات بھی مت کرنا وہ تو انلمیٹیڈ ہے “

۔ارحم نے ایک آنکھ جھپک کر اسے دیکھا۔

“ویسے پاکستان آکر تم۔زیادہ دلکش ہوگئ ہو  “۔ارحم اس کے ِگرد چکر لگانے لگا ۔

“تم اپنی اوقات میں رہو ورنہ میں تمہیں دھکے مروا کے یہاں سے نکلواؤں گی”۔ملائکہ نے اسے غـصے سے دیکھ کر پھنکارہ ۔

“ڈیڑ مجھے کیا تم دھکے مروا کر نکلواں گی ابھی تمہاری اماں کو تمہارا پول کھولا نا تو یہاں سے وہ تمہیں دھکے دے کرنکالے گی “۔ارحم نے اپنا ہاتھ جیسے ہی ملائکہ کی جانب بڑھایا جب ہی سنعایا نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔جو جانے کب واشروم۔سے نکل۔کر ان کے بیچ ہوئ باتین سن رہی تھی۔

“تم۔دھمکی دےرہے ہو ہمیں  خبردار جو میری بہن کو اپنے یہ گندے ہاتھ لگاۓ وہاں زور چلانہیں اوزکان بھائ کے سامنے تو یہاں آگۓ میں ابھی انہیں کال کرکے بتاتی ہو وہی تمہاری چمڑی ُاڈھیڑے گے “۔

“آف کورس ڈیڑ بھابھی جتنے میں آپ کا پیارا یہاں آۓ گاآپ کی اس چڑیاں کو تو میں لے ُاڑوگا آپ سب کی ناک کے نیچے سے “۔ارحم نے اپنے اور ملائکہ کے بیچ میں کھڑی سنعایا کو دیکھتے ہوۓ اپنی نظریں ملائکہ پہ مرکوز کرتے ہوۓ زبان کو اپنے لبوں پر پھیرا جب ہی کوئ جالی کے دروازے کے باہرکھڑا ارحم۔کو اس طرح کرتے دیکھ کر اپنے غصے پہ قابو نہ رکھ سکااورجھٹکے سے دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا۔

“you basta*****”.

“عورتوں سے کیا لڑتا ہے ہمت ہے تو مجھ سے بات کر کیا کہ رہاتھا ہمت کی تو بات بھی مت کرنا بہت ہمت ہے تو ِدکھا اپنی ہمت “۔اوزکان نے سنعایا کے آگے کھڑے ارحم کو ِگریبان سے پکڑ کر دیوار سے لگادیا وہ ُاس کے کثرتی جسم کے آگے ایک دم مریل سا انسان لگ رہاتھا۔اوزکان نے اسے ُاٹھا کر زمین پر پٹخا ۔

“ِدکھا اپنی ہمت کہا ہے تیری اوقات بول کیا بتاۓ گا تو آنٹی کو  “you fu***dog.

اوزکان نے اپنے مضبوط ہاتھ سے دو تین تھپڑ ُاس کے منہ پر رسید کیے۔

“تم۔پاکستان کہا سے آگۓ”۔ارحم۔نے کھڑے ہوکر اپنے ناک سے نکلتے خون کو دیکھ کر پوچھا۔

“تیرے جیسے ُکتے جن کے رشتےدار ہو ان کے رکھوالوں کو چاک و چوبند رہنا پڑتا ہے کب کوئ تمہارے جیساسانپ ڈس لے”

۔اوزکان نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کے مڑوڑا جو اس نے اوزکان پر ُاٹھایا تھا پھر اسی ہاتھ کو پکڑ کر اپنے ُگھٹنے پر رکھ کر اس کی ہاتھ کی ہڈی کو جھٹکا دیا جس سسے ارحم کی چیخیں پورے گھر میں گونجنے لگی۔

“میں نے تجھے منع کیا تھا نہ اینجل سے دور رہی پر شاید تجھے زبان کی بات سمجھ نہیں آتی “۔اوزکان نے یہ کہ کر لاتعداد ُمکوں اور گھوسوں سے اسے نوازا مگر غصہ تھا کے دہکتے لاوے کی طرح ابلتا جارہا تھا۔

“اوزکان بھائ پلیز چھوڑدے اسے اماں آتی ہوگی پلیز وہ مرجاۓ گا “۔سب کی بیچ میں سنعایا جو شاک۔کی سی کیفیت میں ارحم اور اوزکان کو لڑتا دیکھ رہی تھی اس نے ان کے بیچ میں مداخلت کی ۔

“سنا نہیں کیا بولا ہے تجھے بھابھی جی نے چھوڑ مجھے ورنہ اماں آجاۓ گی”۔ارحم بے جھولتے ہوۓہنس کر منہ سے خون صاف کیا۔

“اماں تجھے یہاں دیکھے گی تو پوچھے گہ نہ میں تجھے یہاں ایک لمحے کے لیے بھی ُرکنے نہیں دوگا “۔اوزکان نے ارحم کا گریبان تھام۔رکھاتھا۔

“کیا ہورہا ہے یہاں اور یہ ارحم۔بیٹے کو کیا ہوگیا ہے ہاۓ ماں ُقربان جاۓ”۔فرزانہ بیگم۔نے سبزیوں کے شاپر صوفے پر رکھتے ہوۓ وہی صوفے پر ڈھ گئ۔

“بتاؤ اوزکان اماں کو کیا ہوا ممممجھے”۔ارحم نے لڑکھڑاتے ہوۓ اوزکان کو دیکھ کر کہا اتنے میں سنعایا نے قاِبل ہوشیاری سے اماں کو کہا ۔

“اماں یہ ارحم۔بھائ کے بزنس پاٹنر ہے یہ ان کے ساتھ ہی پاکستان آۓ ہوۓ ہے ارحم۔بھائ ان سے ملنے گۓ تھے باہر تو انہیں کچھ ڈاکوؤں نے پیسوں کے لیۓ زدوکوب کیا وہ تو اوزکان بھائ انہیں وہاں سے بچاکے لے آۓ ان کے سارے پیسے بھی انہوں نے لے لیۓ “۔

ارحم حیرانگی سے بازی پلٹنے پر برہم۔ہوتا ہوا اپنی بھابھی کو دیکھنے لگا جس نے کمال اداکاری سے اوزکان کو فرزانہ کے سامنے اچھا انسان بنادیا۔

“اللہ تمہارا بھلا کرے میرے بچے جو تم نے میرے بچے کی ِحفاظت کی یہ تو پرائ امانت ہے میرے پاس میری بہن کی, جا سنعایا دیکھ کیا رہی ہے پانی لے کر آ بچے کو پلا  ِاسے جلدی سے ریاض کے کلینک لے جاؤ “۔اماں نے روتے ہوۓ سنعایا کو کہا

۔

“اماں سب ٹھیک یے آپ ٹینشن مت لے آپ یہی بیٹھے میں آئ”۔

 ُاس بیچ اوزکان کی نظریں ُاس پری چہرہ کے اوپر مرکوز تھی جو دیوار کے ساتھ لگی ابھی بھی خوف سے کانپ رہی تھی ۔اوزکان نے ایک نظر فرزانہ بیگم۔کو دیکھا جن کی کمر ملائکہ کی جانب تھی ۔اور ارحم۔تو ویسے ہی نیم بے ہوش تھا۔

“آنٹی میں نے داکٹڑ کو بول دیا ہے وہ گھر ہی آرہا ہے کیا آپ بتاسکتی ہے واشروم۔کہا ہے “۔

“بیٹا یہ سیدھے ہاتھ پر پہلا کمرہ اس میں چلے جاؤ “۔اماں صوفے کی پشت سے سر ِٹکاۓ آنکھیں موندے اوزکان سے بولی جن کی دل کی ڈھڑکن تیز ہوگئ تھی , اوزکان تیزی سے ملائکہ کی جانب بڑھا ُاس کا ہاتھ تھامے کمرے کے اندر داخل ہوا دروازہ بند کر کے ُرخ اس کی جانب پلٹا۔

“اینجل تم۔ٹھیک ہونہ ایسے کیوں ڈڑ رہی ہو کیا ہوا ہے میں اسے یہاں سے نکال دوگا تم۔ٹینشن مت لو مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے “

۔اوزکان ُاس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھامے اس کے تھرتھراتے لبوں اور بہتے آنسوؤں کو دیکھنے لگا۔

“وہ وہ پھر سے آگیا ہے اوزکان وہ وہ اماں کے لیے مجھے بلیک میل کررہا ہے “۔ملائکہ نے روتے ہوۓ اپنا سر اوزکان کے سینے پر ِٹکادیا ۔جو اس کے چہرے پر بے ذریغ پیار کے پھول کھلارہا تھا۔

“کچھ بھی نہیں کرے گا میں ہوں نہ تمہیں۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں۔سب کچھ خود ہینڈل۔کرلو گا “۔اوزکان اسے خودمیں بھینچے تسلی دینے لگا ۔

“تم یہاں بیٹھوں زرا میں ِاس کا نتظام کرکے آیا “۔اوزکان ملائکہ کے ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوۓ باہر کی جانب نکلا جہاں سنعایا اپنی اماں کو الائیچي ِکھلارہی تھی۔اوزکان نے اپنے فون پہ۔کسی سے گفتگو کی اور اندر آنے کو کہا۔

“آنٹی میری داکٹڑ سے بات ہوئ ہے وہ بس پانچ منٹ میں آرہے ہے “۔

“بیٹا تمہارا بہت شکریہ تمہارا تو خود کا ہاتھ بھی زخمی۔ہوگیا ہے “۔

“بس آنٹی معمولی سی  چوٹ ہے ویسے بھی کسی رزیل کو مار کر لگنے میں کوئ دکھ نہیں  “۔اتنے میں دروازے کی بیل بجی ۔

“جاؤسنعایا دیکھوں کون ہے “۔

“آپ ُرکے میں دیکھتا ہوں داکٹڑ ہوگے”۔کچھ دیر بعد اوزکان کے ساتھ اندر ڈیول داخل ہوا ۔جو ارحم کو داکٹڑ بن کر دیکھنے لگا۔

سر یہ تو کافی زخمی ہے انہیں اسپتال لے کر جانا پڑے گا “۔

“ن ن نہیں خالا میں اسپتال نہیں جاؤ گا میں یہی رہوگا “۔

ارحم اوزکان کے ساتھ بیٹھے آدمی کو دیکھ کر سمجھ گیا کے یہ ضرور اوزکان کا آدمی ہوگا جب ہی اسپتال کا کہ رہاہے ۔

“خالا میں گھر پر ہی علاج کرواؤگا مجھے نہیں جانا کہی “۔

“لگتا ہے بچہ ڈڑ گیا ہے داکؤوں سے جب ہی نہیں جارہا داکٹڑ

 صاحب آپ اس کی پٹی یہی کردے اور دیکھ لے کہی کوئ گہرا زخم۔تو نہیں “۔

“نہیں خالا مجھے اس سے علاج نہیں کرانا آپ اپنے محلے والے داکٹڑ کو ُبلادے پلیز خالا”۔ارحم نے ہڑبڑا کے اپنا سر صوفے پر ِٹکاتے ہوۓ خالا سے التجا کی ۔

“بیٹا یہ بھی داکٹڑ ہے تمہارے دوست نے ُبلواۓ ہے “۔

“خالا لگتا ہے آپ کو میرا رہنا یہاں پسند نہیں میں چلاجاتا ہوں “۔ارحم۔کمال اداکاری کرتے ہوۓ صوفے پر سے کھڑا ہونے کی کوشش کرنے لگا ارے نہیں میرے بچہ می  دو منٹ میں داکٹڑ کو ُبلاتی ہوں تم ُرکو یہی سنعایا  برابر سے یامین کو بول داکٹڑ کو گھر لے کر آۓ جلدی “۔

“جی اماں”۔

کچھ ہی دیر میں گلی کے داکٹڑ نے ارحم۔کی مرہم پٹی کردی ۔

“آپ کو اسپتال جانے کی ضرورت ہے فلحال پٹی کردی ہے میں نے “۔

“شکریہ آپ کا بہت داکٹڑ انہیں میں خود اسپتال لے جاؤگا انہیں فوری ٹڑیٹمینٹ کی ضرورت ہے “۔

“نہیں مجھے کہی نہیں جانا میں یہی رہوگا خالا”۔

“ٹھیک ہے پھر جب تمہاری یہی مرضی ہے تو تمہارا بزنس پاٹنر اور دوست ہونے کے ناطے میں تمہارے ساتھ یہی رہوگا کیوں کے تمہیں لمحہ لمحہ میری بہت ضرورت پڑے گی یہ تو لیڈیز ہے یہ کہا تمہیں سنبھالتی پھرے گی اب اتنا تو میں کرہی سکتا ہوں کیوں آننے”۔

“بلکل ٹھیک کہا بیٹے اب ارحم بیٹا میں نے تمہاری ایک بات مانی ہے تم اسپتال نہیں جارہے مگر یہ بچہ اب تمہارے پاس رہے گا جب تک تم مکمل ٹھیک نہیں ہوجاتے”۔اوزکان ارحم کو سرد بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا جیسے کہ رہا ہو اب کہو ۔

“پر ایک بات ہے بچو زمانہ شناس ہوں بےشک میں اور میری بچیاں پورے محلے کی نظروں میں اعلیٰ قردار کی ہے مگر ایک ساتھ دو دو جوان بچیوں کے ہوتے ہوۓ میں کیسے دو دو جوان لڑکوں کو یہاں رکھو مجھے سمجھ نہیں آرہا “۔فرزانہ بیگم سر ًجھکاکے اپنی مسائل کے بارے میں سوچنے لگی۔

“آنٹی میں نے اپنی اننے نہیں دیکھی وہ میرے دنیا میں آنے کے بعد ہی چلی گئ تھی ۔اس لیے میں ہمیشہ ماں کے پیار کے لیے ترسا ہوا انسان ہوں آپ سے میرا بہت گہرا تعلق ہے جیسے ایک ماں کا بیٹے سے ہوتا ہے تو میں آپ کی پریشانی سمجھ سکتا ہوں اس وقت ُاسے آپ کی اور میری ہم۔دونوں کی ایک ساتھ ضرورت ہے میرا یہاں گھر ہے میں نے یہی آکر لیا ہے آپ لوگ میرے ساتھ وہاں چلے “۔

جاری ہے 

بہت معزرت کے ساتھ پچھلا پورا ہفتہ میرا موسمی بخار کی نظر ہوگیاتھا جس کی وجہ سے غیر حاضررہی اگلی قسط کے لیے اپنی راۓ سے آگاہ کرے کیا اوزکان کے گھر پر فرزانہ بیگم۔کو جانا چاہیۓ یا نہیں۔۔۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *