Rooh Ka Sakoon Episode 37_39

“یہ ایک ِسیٹ چھوڑ کر کیوں بیٹھ رہی ہو مجھ سے اینجل”۔اوزکان نےملائکہ کو لاؤنج میں اپنے سے ایک ِسیٹ چھوڑ کر بیٹھنے پر کہا۔جس پر ملائکہ نے اک سرد سی ِنگاہ اوزکان پر ڈالی۔
“ایسی نظروں سے میری طرف مت دیکھوں مجھے پتہ ہے لٹل ِاسٹوؤرٹ تمہیں ِاس وقت مجھ پہ بہت پیار آرہاہے”۔اوزکان نے ِادھر ُادھر نظر دوڑاتیں ہوۓ کہا۔
“آپ کون سی آنکھ سے مجھے دیکھ رہے ,نظریں سامنے ُاس پرکٹی پر ہے اور باتیں مجھ سے کررہے ہیں “۔
ہاہاہاہاہاہا ۔
“کون پرکٹی ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے۔جو۔میری سحر انگیز آنکھوں کے سامنے سے نہ ُگزری ہو”۔اوزکان کی رگِ ظرافت پھڑکی ُاس نے ہوا میں ِتیر چھوڑا, اورِتیر ٹھیک نشانے۔پرجا لگا۔
“اوزکان “۔۔ملائکہ ہلک کے بل چیخی جس پر آس پاس میں بیٹھے پیسینجرز چونکے, پر یہاں پرواہ کسے تھی۔ملائکہ اپنی ِسیٹ سے ُاٹھ کر اوزکان کے برابر میں غصے سے بیٹھتے ہوۓ اوزکان پر ِبنا نظرڈالیں اپنی نظریں سامنے بیٹھی لڑکی پر مرکوز کردی,جس پر اوزکان سے اپنے قہقے کو قابوں کرنا مشکل ہوگیاتو ساتھ بیٹھی ملائکہ کی گردن میں اپنا بایاں بازوں حمائل کرتے ہوۓ اسے اپنی طرف کھینچھ کر ُاس کے ُرخصار پراپنا لمسِ محبت دیا۔
“ِاس طرح غصہ کرکے تم اور بھی زیادہ ُسویٹ لگتی ہو اینجل اب ُاس بیچاری کو کنفیوز کرنا بند کردو وہ ہماری طرف کبھی مسکراہ کر دیکھتی ہے تو کبھی سنجیدہ نظروں سے ِاس لیے شرافت سے بیٹھ جاؤ یہ دیکھوں میں تمہارا مفلر اپنی آنکھوں پہ رکھ کر یہی نیم دراز  ہورہا ہوں کیوں کے ابھی بھی آدھا گھنٹہ ہے “۔اوزکان نے اپنا بازوں ملائکہ کی گردن سے نکالتے ہوۓ ُاس کا مفلر اپنی آنکھوں پہ رکھ کر بازوں اپنے سینے پہ لپیٹتےہوۓٹانگیں پسار کر ملائکہ کے شانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گیا۔
ُاس کے ِاس انداز پر ملائکہ کے بھینچھے ہوۓ لبوں پر ایک معدوم سی مسکراہٹ ٹھہر گئ ۔آدھے گھنٹے بعد دونوں جہاز میں سوار ہوگۓ ۔یہ کیسا جہاز ہے میں نے تو ایسے جہاز کبھی 

نہیں  دیکھے, یہ پورشنز کیوں بنے  ہوۓ ہے “۔

“ملائکہ یہ بزنس کلاس کے سوؤیٹز ہے قطر ایرویز کی, ِاس میں یہ ِاسٹوڈیوں اپارٹمنٹ کی طرح حصے بنے ہوتے ہے تاکہ سواریاں اپنی۔مرضی سے اپنے ِحصے میں بیٹھے لیٹے ُاٹھے ٹی وی دیکھے جو۔مرضی کرے یہ عام فلائیٹس سےزیادہ لگژری فلائیٹس ہوتی یے “۔اوزکان ُاسے بتاتے ہوۓایڑہوسٹس کی رہنمائ پر ایک پردہ ہٹاکر  دونوں کو مسکراکر جانے کا کہنے لگی, اوزکان نے پیچھے ہوکر پہلے ملائکہ کو اندر  جانے کاکہا پھر اندر داخل ہوتے ہی ایرہوسٹس انہیں اندر کے بارے میں سمجھانے لگی, دو چوڑی چوڑی لکژری ِسیٹس کے بٹن دبانے پر وہ کیسےبرتھ کی طرح سیدھی ہوجاتی ہے پھر سامنے لگے چھوٹی اسکرین کیسے چلے گی آخر میں سب سمجھاکے ایرہوسٹس نے ان دونوں کی طرف کھجوروں کاڈبہ بڑھایا جس میں سے اوزکان نے ملائکہ کو مختلف اقسام کی کھجوروں میں سے سب سے بہترین عجوہ کجھورنکال کر ِکھلایئ پھر خود بھی کھایئ آخر میں وہ انہیں ِسیٹس بیلٹ کا سمجھاکے پردے برابر کرتی چلی گئ۔ اوزکان نے اپنا اورملائکہ کا اوورکوٹ اتار کرہینگ کیا۔پھر سیٹ پر بیٹھتے ہوۓ ملائکہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما۔
“ملائکہ یاد ہے تمہیں جب ہم۔دونوں ایک بار پہلے بھی ِاسی طرح سفر کرررہے تھے”۔اوزکان نے کھڑکی سے باہر جھانکتی ملائکہ۔کو۔دیکھ کر کہا۔
“م,تب میری آپ کی۔لڑائ ہوگئ تھی,”۔گزرا وقت یاد کرکے ملائکہ کے لبوں کو مسکراہٹ ُچھوگئ۔
“کیوں کےتم نے مجھے اپنے یہ ُچڑیلوں والے ناخن مارے تھے”۔اوزکان نے ُاس کے مخروطی ہاتھ کو دیکھ کرسہلایا۔
“اوزکان آپ پھر دیکھ لے اب آپ آغاز کررہے ہے ,ظاہر سی بات تھی میں پہلی بار گھر سے اکیلے سفر کررہی تھی مجھے ڈڑلگ رہاتھاجہاز کا سفر کرنے سے ُاس وقت”۔ملائکہ اپنا ہاتھ اوزکان کی گرفت سے نکالنے کے لیۓ کھینچھنے لگی۔
“اسی لیے تو یہ والا ُسوؤیٹ کروایا ہے تمہارے لیے تاکہ تمہیں جتناڈڑلگے تم اپنے شوہر کے پاس آرام سےآسکو”۔اوزکان نے اپنی ایک۔آنکھ جھپک کر ملائکہ کو اپنی پسپا کردینے والی نظروں سے دیکھا جس پر ملائکہ کے چہرے پر سارے جسم۔کا خون ِسمٹ آیا ہو۔
“تنگ نہ کرےمجھے اوزکان آپ نیوز دیکھے”۔ملائکہ نے ُاس کی توجہ سامنے ایل سی ڈی کی۔جانب کروائ اور پھر خاموشی سے آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگی ۔جب ہی اوزکان کی آواز گونجی۔
“اپنے شوز اتارلو لمبا سفر ہے “۔اوزکان نے اپنے جوتے اتار کر جہاز کی مہیا کردہ آرامدہ چپل پہنی پھر ملائکہ کو اشارہ کیا پہننے کے لیے اور خود باہر کی جانب بڑھ گیا۔
۔۔جب ہی ایرہوسٹس کی آوازگونجی کے جہاز اپنی ُاڑان بھرنے والا ہےاپنی اپنی ِسیٹس بیلٹ باندھ لیجیے, ملائکہ کے ہوائیاں ُاڑتا چہرہ دیکھ کراندر آتے اوزکان کے چہرے پہ ُمسکراہٹ چھاگئ۔
ِRelax..
اوزکان نے اپنے ُسوؤیٹ کے باہر do not disturb کا کاڑڈ لگاکے پردے برابرکیۓ پھر واپس اپنی ِسیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔
“کہا گۓ تھے آپ اوزکان ْ”۔
ملائکہ نے اوزکان کی جانب دیکھا جو کھڑا ہوکراپنی ِسیٹ بیلٹ کو لمبا کررہاتھا۔
“کہی نہیں”۔
“یہ کیا کررہے ہے “۔ملائکہ نے اسے بیلٹ کو لمبا کرتے دیکھ کر پوچھا ۔
” تم ِادھر تو آؤذرا پھر بتاتا ہوں کیا کررہاہوں “۔اوزکان نے یہ کہ کر ہاتھ بڑھا کر ملائکہ کواپنی گرفت میں لیا پھر اپنے پیروں سے کپڑے کی بنی چپل اتاری اور اپنے ُاسی پاؤں کی مدد سے ملائکہ کے پیروں کی ُجوتی ُاتروائ پھر ُاسے لیۓاپنی ِسیٹ پر بیٹھ گیا۔
“یہ کیا کررہے ہے اوزکان جہاز چل رہا ہے چھوڑے مجھے”۔ملائکہ نے ہکلاتے ہوۓ اوزکان کے ِاس پاگل پن پر کہا جو اسے اپنے ِسینے سے لگاۓ ِسیٹ بیلٹ باندھ رہا تھا۔
“کچھ بھی نہیں تھوڑی دیر کے لیۓ سونے لگا ہوں کل سےتو بھاگ دوڑ میں لگا ہوا تھا, اب تم بھی سوجاؤ ِبنا چوں چرا کیۓ”۔اوزکان ُاسے لیے ِسیٹ کا بٹن دباکر اسے نیم دراز انداز میں کررہاتھا۔
“تو آپ سوجاۓ نہ مجھے کیوں پکڑ لیا ہے ابھی کوئ اندر آگیاتوکیا سوچےگاچھوڑے مجھے ” ۔
“محترمہ پہلی بات کے کوئ یہاں کچھ بھی نہیں سوچتا کے کون کس کے پاس ہے دوسری بات آپ کی تسلی کے لیۓ کے کوئ بھی اندر داخل نہیں ہوگا جب تک ہم اجازت نہیں دے گے کیوں کے باہر میں نے,do not disturb کا کاڑڈ لگادیا ہے “۔اوزکان نے اسے تفصیلی جواب دیتے ہوۓ ُاس کے ِگرد اپنے بازو حمائیل کیۓ۔
“پھر بھی آپ مجھے چھوڑے میں آرام دہ حالت میں نہیں ہوں پلیز”۔
“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اوزکان صالیح ملائکہ اوزکان کو چھوڑےتم یہ معصوم چہرہ بناکر مجھےبلیک میل نہیں کرسکتی میری جان”۔اوزکان نے اپنے ناک کو ملائکہ کے ناک سے ٹکڑا کر دھیمی آواز میں کہا۔کچھ پل کے لیۓ ملائکہ اوزکان کی آنکھوں میں دیکھتی رہی پھر ُاس کی ِگرفت سے خود کو آزاد کرانے کی تگ ودو میں یہ بلکل بھول گئ کے جہاز ٹیک آف کررہا ہے جب ملائکہ کے کان بند ہوۓ اور ُاسے احساس ہوا کے ُاس کے دل کی ڈھرکن اچانک تیز ہوئ ہےتو ُاس نے اپنی پکڑ اوزکان کی کالی لیڈر کی جیکٹ پر مضبوط کردی,اوزکان نے جب ِبھپرے ہوۓ سمندر کی طرح لڑتی ملائکہ کودیکھا جوایک دم سے ُپرامن سمندر کی طرح خاموش ہوکر ُاس کےسینے میں منہ ُچھپاۓ نیم دراز ہوگئ تھی تو ُاس لمحے اوزکان کے چہرے پر ایک ُمبہم۔سی۔مسکراہٹ چھاگئ, ُاسے ُاس کی ِاس انداز کی وجہ سمجھ آگئ تھی وہ ُاسے اپنے مضبوط قلعے میں بھینچتاہوا آنکھیں موند گیا ۔
“میں تمہارےپاس ہی ہوں اینجل”۔آنکھیں موندے نیم دراز ملائکہ اوزکان کی سرگوشی پر اپنی آنکھیں وا کیۓ  ُاس کے سینے سے جھانکتی چین کو دیکھنے لگی ُاسے اوزکان کا خود کو زبردستی اپنے ساتھ بٹھانے کا مقصد سمجھ آگیا تھاوہ اپنا سر اوزکان کے سینے پہ ِٹکا کر جیسے ہر ِفکر سے آزاد ہوگئ تھی, وہ اپنی ِجھیل سی آنکھیں موند گئ جہاں سے ایک قیمتی موتی احساس تشکر کے طور پرُاس کی شفاف آنکھوں سے بہاتھا ِجسے بے مول ہونے سے پہلے ُاس کے مالک نے اپنے لبوں سے ُچن لیاتھا۔
“یہ کیا وائیلڈ کیٹ یہ آنسوں کیوں  “۔اوزکان جو کافی دیر سے ُاس کے چہرے پر چھاۓ بدلتےتاثرات ازبر کررہاتھا اچانک وہاں پہ ایک شفاف موتی دیکھ کر چونک گیا۔اوزکان کے پوچھنے پر ملائکہ نے اپنا سر نہ میں ہلایا ۔
“تو پھر روئ کیوں, دڑ لگ رہاہے “۔اوزکان کے دوبارہ پوچھنے پر ملائکہ نے فرطِ جزبات میں اپنے ہاتھ اوزکان کے سینے سے ہٹا کر جیکٹ کے اندر سے ُاس کے ِگرد مضبوطی سےحمائیل کیۓ اوراپنی گلاب سی پنکھڑیوں کا لمس اوزکان صالیح کے سینے کو بخشا۔جس پر اوزکان کچھ پل کے لیۓ متحیر سا اسے دیکھے گیا ۔۔۔اور ِدھیرے سے ُاسے کہا
I am blessed..
پھر شدت سے بھرپور اپنی ُپرحدت لبوں کا لمسِ محبت کاچمکتاتارا ُاس کی خوبصورت پیشانی پر چمکادیا۔

ےوجہ ِارادہ لمس کی وہ سنسنی پیاری لگی
کم توجہ آنکھ کا دیکھنا اچھالگا۔۔

“میں ُشکریہ ادا کر کے آپ کے بے لوث جزبات کوبے مول نہیں کروگی مگر میرا دل چاہ رہا ہے میں اللہ کا بہت سار ا شکر ادا کرو ِجس نے آپ کو میرے لیۓ ُچنا جو میری ہر بات کو میرے ِبنا کہے جان لیتا ہے پر مجھے آپ کی ایک بات بہت ُبری لگتی ہےاوزکان”۔ملائکہ اپنی آنکھیں موندے اپنے بے قابوں ہوتے آنسوؤں کو ِبنا سنبھالے آخر میں اپنی آنکھیں وا کیۓاوزکان کی جانب دیکھنے لگی ۔
“اور وہ کیا بات ہے “۔اوزکان نےنہایت توجہ سے ُاس کے بال کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓُ ِان شفاف موتیوں کواپنے لبوں سے ُچنتے ہوۓ پوچھا۔جب کچھ پل گزرنے کے بعد بھی ملائکہ نہ بولی تواوزکان بول ُاٹھا۔
“میں ہماتن گوش ہوں بتاؤ مجھے کیا بات ُبری لگتی ہے آپ کو”۔
“آپ مجھے وائیلڈ کیٹ مت کہا کرے”۔کچھ توقف کے بعد ملائکہ آہستہ سے بولی,ُاس کی ِاس بات پر اوزکان صالیح کا زندگی سے بھرپور قہقہ نکلا تھا ۔
” ِلٹل اسٹوؤڑٹ تم ِبلکل پاگل ہو”۔اوزکان کے کہنے پر ملائکہ نے ہاتھ کی ُمٹھی بنا کے اوزکان کے سینے پہ ماری ۔
“,اچھا نہیں کہوگااپنی اینجل کواب رونا نہیں اور سوجاؤ میں بہت تھک گیا ہوں ,پھر یہ آغوش جانے کتنے عرصے بعد میسر ہو”۔یہ کہ کر اوزکان نے ُاس کے ِگرد اپنی محبت کا گھیرا تنگ کردیا اور آنکھیں موندگیا۔ایک طویل سفر کے بعد وہ دونوں بزریعہ ابوظہبی کراچی پہنچیں جہاں انہیں پہلے سے ہی اوزکان کے ُبک کیاڈڑایور لینے آچکا تھا۔اوزکان ملائکہ کا ہاتھ تھامے گاڑی کی جانب گیا ۔
“اینجل میں کیا کروگا تمہارے بغیر اتنے دن”۔اوزکان ملائکہ کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھاتے ہوۓ پوچھنے لگا۔
“وہی جو سب لوگ کرتے ہے انتظار “۔ملائکہ نے اوزکان کی َافسُردہ شکل دیکھ کر ُاسے چھیڑا۔
“تم کتنی ظالم ہو لڑکی مجھے آج پتہ چل گیا ہے “۔
ہاہاہااہا۔ملائکہ اوزکان کی بات پر ِکھلکھلا کر ہنس پڑی جس پر اوزکان مانو کچھ لمحوں کے لیۓ مبہوت ہوگیا ۔
“تم کتنی خوبصورت لگتی ہو اینجل اس طرح ُمسکراتے ہوۓ “۔اوزکان ُاس کے چہرے پہ چھائ بیک وقت پاکیزگی اور معصومیت دیکھ کر ُاس کی کمر کے ِگرد اپنا بازو حمایئل کیۓ ُاس کے ُرخصار پر اپنی محبت کا ِاک تحفہ دے گیا۔جس پر ملائکہ کا بلش کرنا ُاسے اور اپیل کررہاتھا۔
“کیا کررہے ہے اوزکان یہ یورپ نہیں ہے یہ پاکستان ہے آگے ڈڑایؤر بیٹھا ہے”۔ملائکہ اوزکان کو کہنی مارتے ہوۓ الگ ہوئ ۔
“تم پاکستان پہنچ کر زیادہ مجھ پر ہاتھ نہیں چلانے لگ پڑی “۔
“کیا کرے ِبلی بھی اپنے ملک میں شیر ہوتی ہے “۔
ملائکہ کے ناک چڑا کے بات کرنے پر اوزکان کے لبوں کو ُمسکراہٹ ُچھو گئ۔
“یعنی کے اینجل صاحبا خود مان رہی ہے ہے کے وہ ِبلی ہے “۔ہاہاہاہا۔
“اوزکان یہ ایک کہاوت ہے ویسے آپ کے ڈڑایئور کو کیسے پتہ ہے میرے گھر کا اڈڑیس “۔
ملائکہ شارہ فیصل کے کے روڈ سے گزرتے ہوۓ دیکھ کر ُاسے پوچھنے لگی۔
آپ کی ہر چیز سے میری جان میں واقف ہوں یہ تو پھر گھر ہے جہاں تم نے زندگی گزاری ہے”۔اوزکان صالیح ملائکہ کی ُُمخروطی انگلیوں میں اپنی ُانگلیاں ُاڑس کے انہیں اپنی ُمٹھی میں ُمقید کرگیا ۔
“میرا علاقہ آگیا اوزکان “۔ملائکہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوۓ باہر اوزکان کی جانب پلٹی جس کے چہرے پر چھائ حددرجہ مسرت و شادمانی اوزکان صالیح کو جانے کیوں رنجیدہ کرگئ۔
“اوزکان محلے والے تو آپ کو۔میرے ساتھ دیکھ کر بہت باتیں کرے گے, آپ گاڑی یہی روک دے میں پیدل چلی جاؤگی “۔
ملائکہ آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر ُاس کا سدباب کرنے لگی۔
“تم۔ہمیشہ وہ بات کیوں کرتی ہو جس میں تمہیں مجھ سے الگ ہونا پڑتا ہے “۔اوزکان۔ُمضطرب سا سیگریٹ پھونک رہاتھا جب ملائکہ کی بات پربرہم۔ہوکر ُاسے دیکھا۔
“ِاس شیشے سے باہر کی دنیا ِدکھتی ہے پر اندر سے کچھ نہیں ِدکھتا ِاس لیۓ خاموشی سے بیٹھی رہو میں دروازے تک چھوڑ کر جاؤ گا”۔اچانک ملائکہ سیگریٹ کے ُدھواں سے کھانسنا شروع ہوگئ تھی۔
o shitt
I am sorry angel..
اوزکان نے جلدی سے سیگریٹ ُبجھا کر گاڑی کے شیشے کھولے پھر ملائکہ کی طرف دیکھا۔
“ٹھیک ہو اب پانی پینا ہے,ڈڑائیور گاڑی روکو پانی لینا ہے”۔اوزکان خالص انگریزی میں ڈڑایوڑ سے ُمخاطب ہوا
“نہیں میں ٹھیک ہوں ,بھائ آپ گاڑی چلاۓ “۔اوزکان ملائکہ کےپانی۔سے بھری آنکھیں اور  لال ہوۓ چہرے کو دیکھ کر پشیمان ہوگیا۔
“اوزکان میں ٹھیک ہوں شیشے بند تھے شاید اس لیے زیادہ ہوا ورنہ اب تو مجھے عادت ہوگئ ہے آپ کی وجہ سے “۔اچانک گاڑی ُرکنے پر ملائکہ اور اوزکان نے بیک وقت باہر دیکھا۔ڈڑایور کی آواز گاڑی میں گونجی ۔
“سر گھر آگیا آپ کا”۔
“ٹھیک ہے آپ دوسری گاڑی سے میم کا سامان نکلواۓ”۔ڈڑایؤر اوزکان کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگا تب ہی ملائکہ نے ُاس کی ُمشکل حل کردی اردو میں بتا کر, وہ ملائکہ کی بات ُسن کر ادب سے باہر نکل گیا۔
” سو آگیا آپ کا گھر مادام اب ِاپنے ِاس ادنہ سے شوہر کی اک فریاد سن لے ملکہ عالیہ تومجھے بہت زیادہ  خوشی ہوگی “۔اوزکان ملائکہ کی طرف گھوم۔کے ُاسے اپنے ِحصار میں لیے کہنے لگا
“بولے کیا بات ہے “۔
“بات یہ ہے کے تم۔روز رات کو میرے پاس آؤ گی ہر صورت میں بصورت دیگر میں انتقام۔کی آگ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں “۔
اوزکان کے سنجیدگی سے بات کرتے ہوۓ اچانک ٹریک بدلنے پر ملائکہ کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئ ۔
“اپنی شرطیں دیکھے میں کیسے پوری کروگی اور وہ بھی رات کے وقت, آپ اپنے انتقام والی بات پر غور کرلیں “۔
“ٹھیک ہےہنی اب تم۔سزا کے لیے تیار رہنا ,رہی بات ملنے کی تو وہ میرا سر درد ہے کے میں تم تک کیسے پہنچتا ہوں , اور ہاں ایک اور بات بلکہ نہیں ابھی نہیں اگلی ملاقات میں کرے گے یہ بات اپنا دیھان رکھنا اور ہاں ایک منٹ”۔یہ کہ کر اوزکان نے اپنی جیب سے ایک پاؤچ میں سے سفید گولڈ کی چین میں ایک خوبصورت دل کی شکل کا بنا ہواپینڈنٹ نکالا پھرملائکہ کے گلے کی زینت بنا گیا۔
“اسے اتارنا مت کسی بھی حالت میں “۔اوزکان اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھے اسے تھوڑا اور جھٹکا دے کر گلاب کی ُان پنکھڑیوں کی ساری شبنم ُچرالی کچھ توقف کے بعد اوزکان نے ُاسے تھوڑا سا پیچھے کیا تو وہ اسی کے کشادہ سینے پہ اپنا سر رکھ کر بگڑتے تنفس کو ٹھیک۔کرنے لگی ۔
“اب جلدی جاؤ کہی یہ نہ ہو میرا ارادہ بدل جاۓ اور تمہیں اپنے ساتھ لے جاو اور ہاں یہ لاکٹ کبھی بھی خودسے جدا مت کرنا “۔اوزکان کی بات پر ملائکہ نے اپنا سر پیچھے کیا اور اسے دیکھنے لگی ۔پھر آہستہ آواز میں۔۔
“جی اچھا اللہ حافظ”۔کہا اور گاڑی سے باہر نکل آئ۔مانو اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ آئ ہو پر سامنے والے دروازے کو دیکھ کر جو خوشی ُاس کے چہرے پر آئ تھی ُاس کا کوئ مول نہیں تھا وہ اپنے دروازے کے آگے کھڑی ہوکر بیل دینے لگی ساتھ ساتھ پیچھے ُمڑ کر بھی دیکھتی جہاں گاڑی کے کالے شیشے ُاسے منہ چڑارہے تھے ۔اوزکان ُاس کی بیچاری سی صورے دیکھ کر ہنس پڑا ساتھ ساتھ اپنا سیگریٹ کا شغل بھی جاری کردیا جب ہی سنعایا کی آواز آئ ۔
“کون ہے جو بیل پر ہاتھ رکھ کر ُاٹھانا بھول گیا ہے “۔سنعایا نے ُبھناتے ہوۓ اعصاب کے ساتھ دروازہ کھولا ۔
“کون ہے “۔ملائکہ جو دروازے سے ہٹ کر ُچھپی ہوئ تھی  ایک دم “ہاؤؤ”کرتے ہوۓ نکلی۔
ہاہاہاہا۔
“می می تم “۔سنعایا ملائکہ کے گلے لگ گئ کافی دیر اسے خود میں سموۓ وہ رودی ۔مانو کتنے عرصے بعد اپنی بہن کو دیکھاہو ۔یہ پہلا۔موقع تھا جب وہ تینوں ایک دوسرے سے الگ ہوئ تھی۔
“تم۔نے تو مجھے چونکا دیا می می “۔
“بجو آپ رو کیوں رہی ہو میں ٹھیک ہوں یار”۔
ملائکہ بہن کو دیکھ کر اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔
“چلو اندر چلے “۔سنعایا اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی ۔
ہمممم۔میں اپنا سامان لے لو آپ اماں کو بتاؤ کہی مجھے دیکھ کر دڑ نہ جاۓ “۔سنعایا اندر کی جانب بڑھی اور ملائکہ باہر کی جانب مگر ڈڑایور کو کھڑا دیکھ کر  ُاس کے چہرے پر مسکراہٹ چھاگئ۔
“میم میں سامان اندر رکھ دو”۔
“جی ہاں “۔
ملائکہ گاڑی کی جانب بڑھی وہاں کھڑے ہوکر ُاس نے اپنی انگشت سے
I ❤___
لکھ کر آگے ادھورا چھوڑ دیا جس پر سیگریٹ پیتے اوزکان کے چہرے پر مسکراہٹ چھاگئ ۔
“بچ گئ تم۔اینجل ,سیگریٹ پی رہاہوں میں ورنہ یہی  انگشت سے کھینچھ لیتا تمہیں “۔ملائکہ ہاتھ ہلاتی گھر کے اندر داخل ہوگئ جہاں ُاس کی جنت ُاس کے انتظار میں تھی۔
                 ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“کیا حال کرلیا ہے بالوں کا می می پورا گھونسلہ بنادیا ہے تو نے, تیل نہیں لگاتی تھی کیا۔
“اماں اتنی سردی میں کون تیل لگاتا ہے,  لگاکے ویسے ہی میں جم۔جاؤ ,میں نہیں لگا سکتی کوئ تیل شیل مجھے تو ویسے ہی بہت ٹھنڈ لگتی ہے  “۔اماں کی گود میں لیٹی ملائکہ اپنے لاڈ ًاٹھوارہی تھی۔
“بجو کیا کررہی ہو کچن میں باہر نکلو یار “۔ملائکہ کی آواز پر سنعایا ہاتھ میں کفگیر تھامے باہر نکلی۔
“تمہارے لیے بریانی بنارہی ہوں می می آخر کو۔مہمان ہے آپ ہماری آج کی “۔
“بریانی یم, ساتھ میں کباب ضرور بنانا بجو اور ہاں میٹھے میں لبِ شیریں ہوجاۓ تو مزہ ہی آجاۓ “۔
“ضرور ضرور ساتھ میں ایک ُالٹے ہاتھ کا اگر تھپڑ ہوجاۓ تو یاداشت آنے میں وقت کم۔لگے گا ہے نہ”۔سنعایا نے می می کو چمچ لہراکر دکھاتے ہوۓ کہا۔جس پر می می صاحبہ کا قہقہ نکل پڑا۔
                ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“موم میں آپ سے ِملنے آیا تھا۔ میں ایک مہینے کے لیے پاکستان جارہا ہوں,میں نے آپ کو بتایا تھا نہ کے میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر ایک کام شروع کیا ہے ُاسی کے سلسلے میں پاکستان جارہاہوں۔آپ میرے لیے دعا کیجیے گا کے میں کامیاب لوٹو “۔
“میری تو سب دعائیں تمہارے لیے ہی ہے بیٹے پر تم پاکستان کیوں جارہے ہو یہی کیوں نہیں”۔
“موم پاکستانی ریسٹورنٹ ہے تو سامان بھی پاکستانی ہوگا نہ مجھے وہاں سے یونیک سے ثقافتی برتن لینے یے اور بھی کافی سامان ہے ویسے میں نہ جاتا پر میرا پاٹنر انگریز ہے اس لیے مجھے جانا پڑرہاہے آپ پریشان مت ہو میں  گائیڈ کی مدد لے لو گا”۔
“گائیڈ کی مدد کیوں لینی ہے سنعایا ہے وہاں تمہاری بھابھی ملائکہ ہے وہ تمہاری مدد کرے گی چیزوں کی خریداری میں چلو ِاسی بہانے تم۔فرزانہ سے ِمل لے نہ بچیاں بھی ہوگی”۔
“مطلب ملائکہ پاکستان چلی گئ کب “۔
“اس کا فون آیا تھا جانے سے پہلے بتا کر گئ تھی”۔
“تو آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا میں کچھ کوشش کرکے روک لیتا اسے یہی”۔
“نہیں بیٹا اوزکان کو سب کچھ پتہ ہی ہوگا جب ہی اس نے اسے بھیجا ہوگا خیر تم۔مجھے بتاؤ کب جارہے ہو میں فرزانہ کو بتاؤ گا”۔
“موم پرسوں کی ٹکٹ ہے  آپ رہنے دے انہیں میں کوئ گائیڈ وغیرہ کرلوگا”۔
“نہیں بیٹے جب اپنے وہاں موجود ہے تو تم۔کیسے کہی اور جاؤ گے تم بس اپنا خیال رکھنا کوشش کرنا تمہاری خالی کو تم۔پسند آجاؤ باقی اللہ مالک ہے “۔
“امی آپ ِبلکل پریشان مت ہو اور خالی کو ابھی ِبلکل مت بتائیےگا میں انہیں سرپرائیز دوگا”۔
“اچھا بیٹے اب میں تو بازار جا نہیں سکتی تم۔اپنی بھابھی کے لیۓ کوئ اچھا سا تحفہ لے جانا اور باقی سب کا بھی “۔
“جی موم ٹھیک ہے آپ اپنا خیال رکھیے گا میں جانے سے پہلے آنہیں سکو گا آپ اپنا خیال رکھیے  باۓ”ارحم۔ماں کو گلے لگاتا ہوا باہر کی جانب نکل گیا ۔نگہت بیگم ارحم۔کے جانے کے بعد اپنے ہاتھ جوڑ کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگی جس نے ارحم۔کو سیدھے راستے پر لگا دیا پر شاید یہ نگہت بیگم۔کی خام خیالی تھی۔ارحم گھر سے باہر نکلتے ہی زور زور سے قہقہے لگانے لگا آس پاس سے گزرتے لوگ اسے پاگل سمجھنے لگے۔
“موم آپ کتنی بھولی ہو ایک منٹ لگتا ہے آپ کو بنانے میں  خیر ایک بار پھر کال کرکے پوچھ لیتا ہوں اس رون سے “۔
“ہاں رون کیا خبر ہے ریپوڑٹ پکی ہے “۔
“جی سر ِبلکل پکی ہے خبر اوزکان صالیح آخری لمحے تک اپنے آفس میں تھا وہ نہیں گیا پاکستان لڑکی کے ساتھ”۔
“دل خوش کردیا تو نے میرے یار بس میں اب پاکستان جارہا ہوں یہاں تونے سنبھالنا ہے ُاس شیر کو ٹھیک ہے باۓ “۔
“اب تمہیں مجھ سے کون بچاۓ گا ملائکہ ادریس “۔ارحم اپنے خیالوں کے گھوڑے جب کافی دور تک دوڑا ُچکا تو سوچنے کی بات ہے جب ِاس نے پاکستان جانا ہے تو کتنا مزا آنا ہے “۔۔۔۔۔ہاۓ میرے بڑے بڑے خواب ارحم۔کو ِپٹوانے کے
                          ۞۞۞۞۞۞۞۞
“بجو کیا وقت ہورہا ہے “۔ملائکہ صوفے پہ لیٹے ہوۓ سنعایا سے پوچھنے لگی ۔
“سات بج گۓ ہے  کیوں۔
“کیا سات بج رہے ہے ابھی, ایسا لگ رہا ہے جیسے کتنا۔وقت ہو ُچکا ہے”۔
“کیا بات ہے بیٹا وقت نہیں گزر رہا میری می می کا اپنے شوہر کے ِبنا “۔
سنعایا کے چھیڑنے پر ملائکہ نے ُکشن ُاٹھا کر اسے مارا
“ُچپ ہوجاؤ بجو ورنہ میرے ہاتھ سے ضایع ہوجاؤ گی “۔
ہاہاہاہاہا
“غصہ کیوں کررہی ہو ابھی تو تمہیں اور پتہ چلے گا میری جان “۔
“بجو ُچپ ہوجاؤ ِبلکل اماں کہا ہے “۔
“اماں سوگی ہے “۔
“اچھا, میری کسی سہیلیوں کا کوئ فون آیامیری غیر موجودگی میں “۔
ہاہاہاہاہا
“می می تو واقع پاگل ہوگئ ہے  باہر سے آکر,  تیری کب سے سہیلیاں ہوگئ ہے ,بچپن سے ایک ہی سہیلی پائ جاتی ہے تمہارے پاس جو ہماری پڑوسن ہے جسے خبر ملتے ہی وہ یہاں کسی بھی وقت ٹپک جاۓ گی “۔سنعایا کی بات پر ملائکہ غائیب ِدماغی سے ُسن کر۔ُمسکرانے لگی۔
“اچھا می می ویسے تو تم بہت ہی ُبری ہو کب سے آئ ہوئ ہو مجال ہے جو ایک بار بھی تم۔نے مجھےسب کا بتادیا پر میرے بہنوئ کی تصویر ِدکھائ ہو”۔پانی پیتی ملائکہ کے منہ سے پانی کا فوارہ ِنکل پڑا ۔
“بجو بات کرنے سے پہلے سوچ لیاکرو کیا بولی جارہی ہو ہماراگھر کوئ محل نہیں جہاں ایک کمرے کی آواز دوسرے کمرے می  نہیں جاۓ گی ,اماں نے اگر ُسن لیا تو پھر “۔
“تو اللہ مالک دیکھ لے گے ِاس موئ بیماری کو اماں کی ویسے ِدکھاؤ نہ ملائکہ مجھے اوزکان کی تصویر میرے پیٹ میں مڑوڑ ُاٹھ رہے ہے “۔
“بجو میرا موبائیل میں آگے پیچھے مت ُگھسنا ِاس میں بقول تمہارے, تمہارے بہنوئ کی بہت ساری تصویریں ہے جومیں نے ُچھپ کر لی ہوئ ہے جس میں سے بہت سی تمہارے دیکھنے لائیق نہیں ہے تو جو فولڈر ُکھلا ہے وہ دیکھ کر واپس دو “۔ملائکہ کی بات پر جہاں سنعایا کا منہ ُکھلا تھا وہی اپنے کمرے میں پلنگ پر نیم دراز اوزکان صالیح کا ہنس ہنس کر ُبرا حال تھا جو لیپ ٹوپ میں اپنی ڈیوائس لگاۓ ملائکہ کے لاکٹ کے ساتھ کنیکٹ کیۓ ان دونوں  کے بیچ ہوئ گفتگوں ُسن کر لطف اندوز ہورہاتھا۔
“تو میری وایلڈ کیٹ میری تصویریں لیتی ہے ُچھپ چھپ کر دلچسپ اب تو کچھ کرنا پڑے گا ملائکہ اؤزکان آپ کا “۔جب ہی اوزکان کا فون بجا۔
“ہیلو, یس پیٹڑ”۔
“سر آپ کے مطابق سب جگہ یہی شو کرایا گیا ہے کے میم کی فلائیٹ دوگھنٹہ پہلے کی تھی ُاس وقت آپ آفس میں موجود تھے اور دوسری بات سر ایک پروبلم ہے “۔
“کیا ہے جلدی بتاؤ “۔اوزکان سیگریٹ کا کش لیتے ہوۓ پوچھنے لگا “۔
“کیا بتاؤ”
“مطلب سر مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے وہ تصدیق چارہے ہے کے آپ یہاں بڑیدفوڑد میں ہے اور میم پاکستان میں “۔۔
“ٹھیک ہے ڈیول کہا ہے “۔
“سر وہ کل کے پہنچ گۓ ہے پاکستان “۔
“ٹھیک ہے کوئ بھی بات ہو مجھے فورًا  کال۔کرنا ٹیک کیر”۔اوزکان فون بند کرکے اپنا سر پلنگ کے ساتھ ِٹکا گیا۔پھر سیگریٹ کا کش لے کر ڈیول کو کال ِملائ۔
“ڈیول تمہارا ِمشن شروع ہوگیا مجھے ملائکہ کے گھر کے آس پاس سیکیوڑٹی چاہیۓ ِسول کپڑوں میں, اورذرا سی بھی ِاس معاملے میں کوتاہی برداشت نہیں کروگا ملائکہ کے ساتھ ہر وقت گاڑدز ہونے چاہیے وہ جب بھی باہر جاۓ اور دوسری بات لیٹ آوورز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگاؤ گھر کے باہر ۔کون آرہا ہے کون جارہا ہے سب ڈیٹا چاہیے مجھے “۔
“یس سر آپ بے فکر ہوجاۓ “۔
“مجھے ارحم۔کی ساری ریپوڑٹ چاہیۓ وہ کہا ہے”۔
“یس سر ِمل جاۓ گی آپ بے ِفکر ہوجاۓ “۔اوزکان نے فون بند کرکے سیگریٹ کو ایش ٹڑے میں مسلا ۔اپنے بھینچھے ہوۓ لبوں اور ٹھوڈی پہ ہاتھ جمایۓکچھ پل بیٹھا رہا پھر سر ُجھکا کےکچھ دیرسوچتا رہاپھر اپنے بالوں میں ُانگلیوں چلاتے ہوۓ بستر سے نکل آیا ۔
“اگریہ تم ہوۓ نہ ارحم تو اپنی موت کو دعوت دوگےِاس بار”۔یہ کہ کر اوزکان باہر کی جانب ِنکل آیا۔جہاں اوزکان نے اپنے اور۔ملائکہ کے لیے فرنشد گھر لیا تھاوہ۔ساحل سمندر کے ِبلکل قریب تھا کے گھر کا دروازہ کھولو سڑک پار کرو اور سمندر آگیا۔اس وقت اوزکان۔نے بھی۔یہی کام۔کیا تھا وہ تنہا رات کے ِاس پہر سمندر کی گیلی ریت پر چل رہا تھا تب ہی ُاس کے زہن میں ایک خیال  ُکوندا۔ُاس نے اپنی جیب سے فون نکال کر۔می۔می کو کال کی ۔دو تین بار ِرنگ ہونے کے بعد فون ملائکہ نے ُاٹھالیا۔
“ہیلو اوزکان کیسے ہے آپ “۔
“میں ِبلکل ٹھیک ہوں میری جان کیا کررہی تھی “۔
“کچھ بھی نہیں بجو کے پاس بیٹھی ہوئ تھی اب وہ بھی سونےچلی گئ ہے اور میں بھی لیٹنے لگی تھی آپ کہا ہے ِاس وقت مجھے گاڑیوں کی آوازیں آرہی ہے  کیا آپ باہر ہے “۔۔
“ِبلکل ٹھیک پہچانا میں باہر ہو سمندر پہ۔آیا ُہواہوں “۔
“ِبنا سیکیوڑٹی کے “۔
“ہاں یہاں کیا مسئلہ۔ہے “۔
“یہ۔پوچھے کے کیا مسئلہ نہیں ہے رات کے ٹائم یہاں دکیت ُگھومتے ہے شرافت سے واپس جاۓ “۔ملائکہ پلنگ سے ُاتر کر نیچے ُاتر آئ۔
ہاہاہاہاہا ۔
“میرا وہ لوگ کچھ نہیں بگاڑسکتے”۔
“اچھا یہ یورپ کے مریل دکیت نہیں پاکستان کے جاندار دکیت ہے آپ کو کیا پتہ ان کا”۔
“ملائکہ حد ہوگئ ہے تمہیں اپنے ملک کی طرفداری کے لیے ان کے علاوہ کچھ نہیں ملا اور تم۔کیا مجھ سے فضول باتیں کررہی ہو باہر آؤ مجھے تم سے کچھ کام ہے میں گھر آرہاہوں “۔اوزکان سڑک پار کرتا ہوا واپس اپنے بنگلے میں داخل ہوگیا ۔
“”اوزکان کیا ہوگیا ہے آپ کو رات کے دس بج رہے ہے یہ بڑیڈفوڑڈ نہیں ہے جہاں رات آٹھ بجے کے بعد لوگ بستروں میں چلے جاتے ہے ہمارے علاقے میں سارے آدمی ِاس وقت باہر سنگت لگاکر بیٹھ جاتے ہے تو براہِ مہربانی ِاس وقت یہاں مت آئیے گا”۔
“میں ایک تمہارا علاقہ دوسرا بڑیڈفوڈ دونوں کو آگ لگادوگا اگر اب مجھے کوئ مثال دی ان دونوں جگہوں کی “۔
“مجھے پتہ ہے وہاں کیسے آنا ہے یہ تمہارا درد سر نہیں ہے میں صرف تمہاری امی کی وجہ سے نظرانداز کررہاہوں ورنہ ہمارا رشتہ ایسا ِبلکل نہیں جس سے کوئ گناہ۔چھلکتا ہو جو مجھے لوگوں کا خوف ہو,ابھی تھوڑی دیر میں ایک پارسل ملے گا تمہیں اسے لے کر کھولوں پھر مجھے بتانا میں انتظار کروگا “۔اوزکان سنگِ مر مر کے ِبچھے قالین پر اپنے مضبوط قدم۔جماتے ہوۓ ِکچن کی جانب بڑھ گیا۔
“اوزکان آپ ناراض ہوگۓہے میں تو ویسے ہی کہ رہی تھی “۔
“میں ناراض نہیں ہوتا اور تم۔سے تو ِبلکل بھی نہیں ِاس لیے بے ِفکر ہوجاؤ اور مجھے کال کرو جب وہ ِملے “۔
“جی ٹھیک ہے “۔
“ٹیک کیر”۔ملائکہ جیسے ہی کال بند کرکے پلٹی تو پیچھے سنعایا کو کھڑا دیکھ کر موبائیل ہاتھ سے ُاچھل گیا۔
“بجو کیا کرتی ہو ڈڑا دیا مجھے آپ نے “۔
“بڑی باتیں شاتے ہورہی تھی اوزکان۔سے کیا کہ رہے تھے وہ “۔سنعایا ملائکہ کے ہندھے پر ہاتھ رکھ اسے باہر ٹی وی لاؤنج میں لے آئ ۔
“بجو تم مجھ سے کچھ زیادہ ِفری نہیں ہوگئ “۔
ہاہاہاہاہا۔
“شادی جو ہوگئ ہے تمہاری ِاسی لیۓ اب تم۔بھی بڑی ہوگئ ہو “۔
“بجو “۔ملائکہ نے ُکشن ُاٹھا کر اسے دے مارا
“اچھا بتاؤ نہ کیا۔کہ رہا تھا پڑایؤٹ باتیں چھوڑ کر جو بچے  وہ مجھے بتاؤ “۔
ہاہاہاہاہاک۔
“بجو تم۔نہ جونک کی طرح  پوری مجھ سے ِچپک گئ ہو کچھ بھیجاہے میرے لیےانہوں نے کہاہے وہ دیکھ کر انہیں بتاؤ بس خوش, اگر کچھ کمی لگی ہو۔میرے بتانے میں تو اوزکان سے فون۔کرکے پوچھ لینا”۔
ہاہاہاہاہا۔
“می می حد ہوگئ ہے آج سوچ رہی ہوں تمہارے آنے کی خوشی میں کل آفس کی ُچھٹی کرلو”۔
“کوئ ضرورت نہیں آپنے آفس جاؤ وہیسے بھی میں سو کر دیر سے ُاٹھوگی پھر میں شاید۔ِردا سے ملنے جاؤ “۔
“اچھا ٹھیک ہے پھر رات کا کھانا باہر کھاۓ گے,میں جارہی ہوں سونے تم۔بھی سوجاؤ پھر “۔
“نہیں میں وہ پارسل کا انتظار کررہی ہوآپ جاؤ”۔
ٹھیک ہے بجو لوو یو “۔
“لوؤ یو ٹو میری جان “۔سنعایا ملائکہ کے سر پر بوسہ دیتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھ گئ۔سنعایا کے کچھ دیر گزر جانے کے بعد دروازے کی بیل بجی ۔ملائکہ نے دروازہ کھولا ایک انتہائ ظائف سے انکل دروازے کے باہر ایک باکس پکڑے کھڑے تھے ملائکہ نے ان سے باکس پکڑتے ہوۓ ارد ِگرد نظر دوڑائ تو ُشکر ہے اس وقت گلی میں کوئ بیٹھا نہیں تھا ۔
“آپ کو اوزکان صالیح نے بھیجا ہے “۔
“ملائکہ نے ڈبہ پکڑتے ہوۓ ایک بار تسلی چاہی “۔
“آدمی نے سر ہاں میں ہلایا ملائکہ نے ڈبہ پکڑ کر اندر کی جانب قدم بڑھاۓ پھر یاد آنے پر واپس پلٹی دروازہ بند کرنے کے لیے پر یہ کیا وہ ظائف گھر کے اندر داخل ہوُچکا تھا ,اس سے پہلے ملائکہ چیخ مارتی یا اسے دانٹتی اس آدمی نے ملائکہ کے منہ پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا گھر کے ِاس چھوٹے سے گیراج میں ِاس وقت لائیٹ بند ہونے کی وجہ سے۔نیم۔روشنی سی ہورہی تھی جو ٹی وی لاؤنج کی وجہ سے تھی ۔
“شور مت کرنا اینجل میں ہوں اوزکان”۔اوزکان نے آرام سے اس کے لبوں سے ہاتھ ہٹاۓ ۔
“آپ یہ کیا بن کر آۓ ہے اس وقت “۔
“تم نے منع کیا تھا یہاں آنے سے پرجومجھے ٹھیک۔لگا میں نے وہ۔کیا اب اندر چلو مجھے کام۔ہے تم۔سے “۔
“کیا۔اندر کیوں سانی اور اماں گھر میں ہے “۔
“تو سورہی ہوگی وہ دونوں وقت برباد مت کرو چلو اینجل  “۔
“اچھا ایک منٹ ُرکو۔میں اندر کی لائٹیں بند کر کے آئ, ِاس جالی سے باہر۔نظر آتاہے”۔
“باہر کا۔نظر آتا ہے تو کوور کیوں نہیں کروایا ہوا اگر کوئ چور آجاۓ تو “۔
“اوزکان ششششششش یہی ُرکو میں راستہ صاف دیکھ کر آپ کو سگنل دوگی “۔
اوکے۔
ٹھیک ہے۔
ملائکہ دبے پیروں اندر گئ ٹی وی لاؤنج کی لائیٹیں بند کی پھر واپس آکر اوزکان کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھی ۔اندر لیمپ کی روشنی میں داخل ہوکر سب سے پہلے لاک لگایا پھر اوزکان کی جانب پلٹی جو اپنے سر سے اور چہرے سے ِوگ اتار ُچکا تھا ۔
“یہ کیا حرکت تھی اوزکان اگر کوئ دیکھ لیتا تو پھر “۔
“تو پھر کچھ بھی نہیں ؔمیں سنبھال لیتا فلحال تم۔یہاں آؤ “۔اوزکان کب سے لڑتی ملائکہ کو گہری نظروں سے دیکھ رہاتھا جو لیلن کی کالی شلوار کمیز جس پر گلابی رنگ کے پھول بنے ہوۓ تھے زیب تن کیۓہوۓ تھی جس میں ُاس کے نشیب وفراز ِدکھ رہے تھے وہ آج پہلی بار جینز ٹی شرٹ سے ہٹ کر ایسے لباس میں اوزکان کے سامنے آئ تھی  ورنہ وہاں ہمیشہ بیگی  ٹیشرٹز کے اوپر جیکٹز یا اوورکوٹ پہنتی تھی ۔
“میں نہیں آرہی اب آپ بات بتاۓ اور جاۓ یہاں سے “۔
“تم سیدھی ُانگلی سے کبھی  نہیں نکلتی “۔یہ کہ کر اوزکان نے اسے ایک جھٹکا دے کر اپنے ِحصار میں لیا اسے خؤڈ میں زور سے بھینچھتے ہوۓ اس کے ِگرد اپنے بازو حمائل۔کیۓ سر شانے پہ۔ِٹکاۓ وہ دھیمے انداز میں بولا ۔
“میں تمہیں بہت ِمس کررہارتھا “۔وہ۔اسے خود میں بھینچھے سرگوشی کررہاتھا جب ہی ملائکہ اس کا بوجھ اپنے ناتواں شانوں پر سہار نہ سکی تو دو قدم۔پیچھے ہوئ جس پر ُاس کا پاؤں اپنے زمیںن پر رکھے شوز میؔں اٹکا اور وہ پورے قدم سے اوزکان کے ساتھ پیچھے کی جانب بیڈ پرگری ۔
ہاہاہا ہا۔
ڈیڑ اب تم۔مجھے خود دعوت دے رہی ہو یہاں پر آنے کی”۔
“ہاں نہ آپ کا ہاتھی جیسا وزن مجھ پر ڈال کر یہی کہے گے آپ  ُاٹھے مجھ پر سے “۔
“سوال۔ہی پیدا نہیں ہوتا تم۔میری ِگرفت سے آزاد ہو ِہاں وزن کو ہٹا سکتاہوں “۔یہ کہ کر اوزکان نے اسے اپنے ِحصار میں لیے کروٹ بدلی اب کچھ یوں تھا ملائکہ اوپراور اوزکان نیچے تھا۔
“اوزکان آپ کیا چاہ رہے ہے رات کے ِاس پہر کیوں نہیں جارہے “۔
جاتا ہوں یار تم۔تو شاید پہلی بیوی ہوگی جو شوہر کو پہلی بار سسرال آنے پر گھر سے باہر نکال رہی ہو “۔اوزکان۔ُاسے ِحصار میں لیۓ پیچھے تکیۓ کے اوپر ہوا ۔
“ْویسے ِاس لباس میں تم۔ِبلکل مختلف لگ رہی ہو بہت پیاری “۔
اوزکان کے ُاس کے چاند چہرے کے ِگرد چھاۓ حالے کی طرح بکھرے بالوں کواپنی انگشت سے پیچھے کی جانب کررہاتھا مانو اسے ان کا بھی اٹکھیلیاں کرنا پسند نہیں تھا۔
“صبح سے میں ایسے ہی ُگھوم۔رہاہوں کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کرو سونے لگتا ہوں تو تم۔سونے نہیں دیتی کام۔کرنے کا۔سوچتا ہوں لیپ ٹاپ پہ تو وہاں بھی تم آجاتی ہو بتاؤ میں کیا کرو”۔
“میں۔نے کیا ِکیا ہے۔اوزکان آپ۔مجھ پر الزام کیوں لگا رہے ہے “۔
“”اچھا اس پارسل میں کیا ہے “۔کچھ دیر تک جب اوزکان کی کوئ آواز نہیں آئ تو ملائکہ نے ُاس سے پوچھا جو ُاس میں کہی ُگم ہوا تھا ۔
“اوزکان جواب دے چھوڑے مجھے”
“اس میں تمہارا نیا موبایئل ہے یارمیں نے اس میں پاکستانی ِسم ڈال دی ہے اپنا نمبر بھی سیو کردیا ہے یہاں کا اب ُپرانے والے کو استعمال مت کرنا یہی استعماک کرنا ویسے تمہارا موبایئل کہا ہے “۔
“کیوں “۔
“آپ کو کیوں چاہیۓ “۔
“اینجل سوال مت کرو یار جو کہا ہے وہ کرودو مجھے بلکہ یہ رہا تمہارا فون “۔
اوزکان اسے ِحصار میں لیۓ پلنگ کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گیا پھر ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے ُاس کا ُپرانہ موبائیل ُاٹھالیا جب اوزکان نے کھولا موبائیل تو لاک لگا ہوا تھا۔
“پاسوڑڈ بتاو میری جان “۔
“بلکل بھی نہیں آپ اور بجو مجھے بہت تنگ کرتے ہے “۔
“ٹھیک ہے مت بتاؤ میں کھول لو گا اتنا تو مجھے پتہ ہے یہ موبائیل والی میری ہے اس میں تصویریں ہماری ہے تو پاسوڑڈ بھی ہمارا ہی ہوگا “۔
“یہ کہ کر اوزکان پاس وڑڈ ڈالنے لگا تو ملائکہ اس کی گرفت میں مچل ُاٹھی ۔
“خبردار جو آپ نے موبایئل کو کھولا بھی تو اوزکان “۔
“اچھا نہیں کھولتا وائیلڈ کیٹ بس یہ دیکھوں میں نے فون رکھ دیا اب سوجاؤ “۔
“میں سوجاؤ گی آپ جاۓ “۔
“نہیں تمہیں نیند نہیں آرہی تھی سوجاؤ میں چلاجاؤ گا “۔
“ایک منٹ آپ کو کیسے پتہ کے مجھے نیند نہیں آرہی تھی ” ۔
“میرے دل نے کہا یار تم ڈیٹیکٹو کیوں بن رہی ہو سوجاؤ میں لاک کرکے گھر چلا جاؤ گا “۔کچھ پل ملائکہ اوزکان کے چہرے پہ کچھ کھوجنے کی کوشش کرتی رہی پھر آخر۔میں اپنا سر اوزکان کے سینے پہ ِٹکا۔کر سونے لگی۔
“مجھے سچ میں نیند نہیں آرہی تھی “۔
“مجھے معلوم۔ہے اینجل “۔اوزکان ُاس کے بالوں پر بوسہ دیتےہوۓ آنکھیں موند گیا۔پھر فجر کے وقت اوزکان ملائکہ کا سر تکیۓ پر رکھ کر اپنے تشنہ لبوں کی پیاس ُبجھا کے اس کی اور اپنی  ایک اسی پوز میں سیلفی لے کر ملائکہ کا نیا موبائیل کی وال پر لگا کر رکھ دیا پھر ُپرانہ والا ُاٹھاکر وہ چلا گیا۔
                          ۞۞۞۞۞۞۞۞
کہا جانا ہے بی بی ویسے میں تو میں بہت ناراض ہوں۔تم سے وہاں جا کے جھوٹے منہ بھی تم۔نے مجھے فون نہیں کیا پر۔چلو پھر بھی بچپن کی دوستی ہے تو ِاس لیۓ میں ُبلارہی ہوں ورنہ تو میں تمہیں کبھی منہ نہ لگاؤ”۔
ہاہاہاہاہا۔
“چل۔مت لگائ بس اب چلو جلدی سے یار میں تو ترس گئ ہو کھانے کے لیۓ “۔
“ویسے کھانے کیا جارہی ہو تم۔دونوں “۔اماں۔نے  دونوں کے بیچ میں صلاح ہوتے دیکھ کر پوچھ لیا۔
“خالہ۔آپ کی اولاد کو۔دو جگہ کی ہی چاٹ پسند ہے ایک گرومندر کی۔اور دوسری جاما کلاتھ کی وہی جارہی ہے”۔
“اماں میں آپ کو پہلے سے بتارہی ہوں کوئ دن ایسا نہین جاۓ گا پورے مہینے میں جب میں چاٹ اور گول گپے نہ کھاؤ سو مجھے منع کر ے کی بلکل ضرورت نہیں چل ردا”۔
“لڑکی ہوش کے ناخن لے کیا لاابالی۔سا ہلیے میں باہر جارہی ہے پہلے کپڑے ٹھیک سے پہن پھر جاۓ گی آپ دونوں “۔
“جی۔اماں “۔ملائکہ یہ۔کہ۔کر۔اندر کی جانب بڑھ گئ کچھ دیر بعد تیار ہونے کے بعد ملائکہ۔باہر نکلی ۔
ماشاللہ میری بیٹی کو۔کسی کہ۔نظر نہ لگے “۔اماں نے ملائکہ کو دیکھا جو سفید رنگ کے گھیردار شفون کے  فراک میں سفید دوپٹہ اور پاجامے پہ ُکھسا پہنے کوئ جنت کی بھٹکی ہوئ حور لگ رہی تھی ۔
“کیسے جانا ہے بی بی “۔ردا نے ملائکہ کے ساتھ چلتے ہوۓ پوچھا جو بڑے ادب سے سڑک پر۔سر پہ دوپٹہ اوڑھے دھیمے انداز۔میں۔چل۔رہی تھی ۔
“ردا مجھے بی بی مت کہنا اب ورنہ۔میں نے سڑک۔کا لہاز نہیں کرنا “۔
“اچھا نہیں کہتی اب تو بتا کہا کی۔کھانی ہے چاٹ”۔
“میرے خیال سے ِاس وقت جاما کلاتھ والے روڈ پر تو آفس ٹائم کی۔وجہ سے ُبہت رش ہوگا  اور ُگرومندر پر بھی, ایک تو تم۔لیٹ بھی۔بہت آئ ہو نہ جلدی نہیں مرسکتی تھی”۔
ملائکہ۔پیدل چلتے ہوۓ ردا کو۔کہنی مارنے لگی۔
“پھر طارق روڈ سے کھالیتے ہے ساتھ میں کچھ شاپنگ بھی کرلے گے”۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے وہاں سے کہا کی۔کھانی ہے “۔
“تمہاری پسندیدہ ہالیوؤڈ کی “۔
“ٹھیک ہے پھر رکشہ روکو کوئ “۔
“ملائکہ تجھے ایسا نہیں لگ رہا جیسے یہ پیچھے گاڑی ہمارا پیچھا کررہی ہے “۔
“کون سی گاڑی “۔
“اڑے یہ جو پیچھے کھڑی ہے “۔
“اڑے یہ تو اپنی ہی گاڑی ہے چل تو رکشہ کیوں ڈھونڈتی ہے ہم تو گاڑی والے ہے “۔

                    ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“یہ ایک رات گزارنہ۔میرے مشکل ہورہا ہے کب صبح ہو گی اور کب میں کراچی کے لیۓ جاؤگا بس ایک دودن کی دوری پر میری آزادی میرے پاس ہوگی بہت سارا پیسہ ڈڑگز کام سب کچھ “۔ہاہاہاہاہا۔
“اوزکان تم۔بس دیکھتے رہ جاؤ گے میں تمہاری ناک کے نیچے سے ملائکہ۔کو۔پاکستان سے لے ُاڑوگا “۔

کمنٹس اور لائیک ضرور کرے۔۔۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *