Rooh Ka Sakoon Episode 36

اوزکان اپنے آفس میں گہرے نیلے رنگ کے پینٹ کوٹ پہ سفید ڈریس شڑٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیۓ, کندھے پہ اپنا آفس بیگ لٹکاۓ چہرے پہ کرختگی لیۓ بادشاہانہ چال چلتا کروفر سے اپنے سب امپلوئیزکو ُصبح بخیر کا جواب دیتا ہوا اپنے روم۔میں داخل ہوگیا۔
ِ”سیٹ پہ بیٹھتے ہی ُاس نے اپنے سیکٹڑی کو کال کی
“یس سر”۔
“ڈیول کواندر بھیجو”۔کہ کر وہ ریوالونگ ُکرسی پہ بیٹھ کر اپنے سیگریٹ کو ُسلگھاکے ِسیٹ کے ساتھ کمر ٹکاکے دروازے کی جانب دیکھنے لگا جہاں سے آنے والے انسان کے ذریعے اسے اپنے شک۔کو یقین میں بدلنا تھا کے رات کو۔ملائکہ کو کون اس ُروم میں لے کر گیا تھا۔دروازہ نوک پوا۔
آجاؤ ڈیول “۔
“ہیلو سر”۔
“کوفی یا چاۓ پیو گے”۔
نو سر شکریہ, یہ یوایس بی میں ُاس وقت کی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے ِکلپس ہے آپ دیکھ لے پھر اگلا ُحکم دیجیۓ “۔اوزکان نے یوایس بی فورًا  اپنے لیپ ٹوپ سے کنیکٹ کی کچھ ہی پلوں میں جو انسان ُا س کے سامنے آیا ُاس کے اندر دہکتا لاوا پھٹنے کو تیار تھا وہ اپنے لبوں کو سختی سے بھینچھے باہر کی جانب نکلا۔
“سر آپ کہا جارہے ہے مجھے ُحکم۔دے یہ کام۔تو میں خود کرلو گا”۔
اوزکان نے ایک سرد سی ِنگاہ ڈیول پہ ڈالی اور گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔ڈیول جانتا تھا اگر بات کسی اور کی ہوتی تو وہ خود کبھی بھی نہیں جاتا پر بات اب ُاسکی زندگی کی 
اوزکان اور گاڑڈز آگے پیچھے اپنی اپنی گاڑیوں میں تیزی سے ڈڑائیو کرتے ہوۓ این-ڈی-واۓ انڈسٹری کے اندر داخل ہوۓ,  وہ تیزی سے لفٹ کے ذریعے اس کے آفس کے باہر پہنچا, ریسیپشن پہ کھڑی لڑکی سے ُاس کے آفس کا پوچھا۔
“تمہارے بوس کا کمرہ کون سا ہے “۔اوزکان نے دروازو پر نظر ڈوڑاتیں ہوۓ پوچھا۔
سر ان کا کمرہ داۓ جانب جاکے یے آپ کا کوئ اپوئنٹمنٹ”۔
مگر اوزکان سیکٹڑی کا جواب دیۓ بنا ہی اندر بنے کمروں کے باہر بنے ناموں کی تختیاں دیکھنے لگا۔مطلوبہ کمرہ ملتے ہی اوزکان دروازہ دکھیلتے ہوۓ اندر داخل ہوا۔کمرےمیں نواب داؤد کے علاوہ دو افراد اور بیٹھے تھے جو شاید کسی موزوں پر تبادلہ خیال کررہے تھے, کے اچانک اوزکان کے اندر داخل ہونے پر  کھڑے ہوگۓ۔اوزکان نے نواب داؤد یوسف کو ُکرسی سے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا ۔
“تیری ہمت کیسے ہوئ ُاس کو ہاتھ لگانے کی “۔اوزکان نے ُاس کے چہرہ پر ایک زوردار پنچ مارا۔
“تجھے کوئ مسئلہ ہے تو ُمجھ سے لڑ مردوں کرطرح ُاسے ِبیچ میں کیوں لایا “۔اوزکان نے ُاس کے منہ پر ایک بار پھر ُمکا مارا جس پر داؤد نے اوزکان کو پیچھے کی جانب دکھیلا, وہ سیدھا کھڑا ہوکر اپنے ہونٹوں سے نکلتے خون کو انگشت پہ لگا کر دیکھنے لگا ۔ِاس سے پہلے کے اوزکان اور نواب داؤد یوسف ایک بار پھر ایک دوسرے کو مارتے اوزکان اور نواب داؤد کے گاڑڈز نے اپنے اپنے مالک کے ِگرد گھیرا ڈال کر کھڑے ہوگۓ ۔
” تو ُسن دور رہی ُاس سے ورنہ ِاس سے بھی ُبرا حال کروگا میں تیرا”۔اوزکان نے ُانگلی ُاٹھا کر اسے لال ہوتے چہرے کے ساتھ دھمکی دی اور باہر کی جانب قدم۔بڑھادیۓ,جب ہی  نواب داؤد یوسف گاڑدز کے ہاتھوں سے اپنے آپ کو کھینچتے ہوۓ ِچلانے لگا۔
“تجھے ُبھگتنا پڑے گا اوزکان صالیح میں تجھے چھوڑو گا نہیں ِاس خون کا بدلہ تو ُ تو دے گا, اب معلوم۔ہوگیا ہے مجھے طوطے کی جان مینا میں ہے  “۔نواب داؤد یوسف زور زور سے ہنسنے لگا, گاڑدذ اپنے مالک کی ُٹھکائ کے بعد ہنسنےپراس کی ِدماغی حالت پر ُشبا کرنے لگے۔
                             ۞۞۞۞۞۞۞۞
“ہیلو بجو کیسی ہو”۔ملائکہ ہاتھ میں ِچپس کا پیکیٹ تھامے فون کااسپیکر کھولے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی محوگفتگوں تھی۔
“میں ٹھیک ہوں تم سناؤ کہا تک۔پہنچی تمہاری کہانی “۔
“اللہ اللہ بجو کیسی باتیں کرتی ہو میری کون سی کہانی ہے “۔
“اچھا وہ جو آپ کےشوہر نام دار جو آپ کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبے ہوۓ ہے”۔
“بجو اگر ایسی باتیں کرنی ہے نہ تو میں بند کررہی ہوں پہلے اوزکان کم۔تھے جو آپ بھی شروع ہوگئ ہو”۔
ہاہاہاہاہاہ۔سنعایا کا فلک شگاف قہقہ ایر پیس پہ گونجا۔
“میرے بال ایسے ہی تو سفید نہیں آگۓ سر پر دوتین میری جان, تم۔نے خود ُاگل دیا کے وہ بھی تمہیں تنگ کرتا ہے “۔
“خیر اور سناؤ کیا سماچار ہے جلدی جلدی “۔
“”سماچار کوئ نہیں ہے بلکہ بہت بڑی ہے میں شاید اگلے ہفتے تک پاکستان آؤں گی “۔ملائکہ افُسردہ سی آواز میں سنعایا سے بولی ۔
“کیا تو پاکستان آرہی یے سچی می می جھوٹ تو نہیں کہ رہی “۔
“نہیں بجو مجھے نہیں پتہ اوزکان نے بتایا ہے ابھی  آفیشلی  کوئ لیٹڑ یا کال نہیں آئ پر اوزکان کے دوست نے بتایا ہے جس سے ہمارا ِلنک ہے, اب آپ کیسے سنبھالو گی بجو اماں کو “۔
“سنبھالنا کیا ہماری اماں کون سا بڑی کوئ پہنچی ہوئ ڈیٹیکٹو ہے معصوم سی تو ہے آدھا کام۔تو خالہ نے کردیا تھا کے تم۔پاکستان آؤگی, بس اللہ اللہ کرکے اپنے ملک آؤ پھر دیکھ لے گےجو ہونا ہوگا
ویسے اوزکان بھائ کیا کہ رہے تھے تمہارے آنے کے بارے میں مطلب وہ تمہیں اکیلے آنے دے رہے ہے “۔
“ہاں بجو وہ۔کہ رہے تھے اگر گھر نہیں جانا تو میں کوئ گھر یا ہوٹل میں تمہارا ُرکنے کا انتظام۔کردوگا  پر میں نے۔کوئ بھی بات نہیں کی کیوں کے سب قبل ازوقت ہے, خیر اپنے آفس کی سناؤ “۔پھر۔می۔می۔اور سانی کی نا ختم۔ہونے والی باتیں شروع ہوگئ جوایک۔گھنٹے پر محیط تھی ۔
                      ۞۞۞۞۞۞۞۞
دن یونہیں بے  کیف سے گزرنے لگے ُاس دوران اوزکان اپنے آفس میں کافی مصروف رہا, نواب داؤد یوسف کی طرف سے ایک۔ُپراسرار خاموشی تھی بچی ایپیک تو وہ ُاس دن کے اوزکان کے غصے کو دیکھ کرُاس سے ُچھپتی ِپھررہی تھی۔اور رہی ہماری پیاری ملائکہ تو آج وہ بہت وقت کے بعد اپنے وطن واپسی کی تیاری کیۓ ایڑپوڑٹ کی جانب اوزکان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی گاڑدز کے قافلے کے ساتھ روادواں تھی۔
ملائکہ کے چہرے پہ چھائ پریشانی کو دیکھ کر اوزکان سمجھ گیا تھا کے اینجل صاحبہ کیوں پریشان ہے, کیوں کےپہلے تو اسے ِبلکل محسوس ہی نہیں ہوا تھا کےوہ اوزکان کے ِبنا جارہی ہے ۔
اسے ُاس کے ساتھ رہنے کی دن بدن ایک ُپختہ سی عادت ہوتی جارہی تھی۔صبح سے تو وہ ُاس کے ساتھ تھا پیکنگ کرانے سے لے کر ُاسے ہر طرح کی باتوں کے بارے میں سمجھا رہاتھا۔ ِاس لیے ُاسے اتنا محسوس نہیں ہوا پر اب جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھ کر ایڑپوڑٹ کی جانب بڑھ رہی تھی ُاس کے دل۔کی ڈھڑکن تیز ہوتی جارہی تھی ایسا لگ رہاتھا جیسے دل ایک سو تیس کی رفتار پر پسلیاں توڑ کر باہر نکل آۓ گا ۔وہ عجب ُمضطرب سی حالت میں اپنے مخروطی ہاتھوں کی ُانگلیوں کو مڑوڑتے ہوۓ اپنے آنسوؤں کو پینے کی کوشش کررہی تھی۔جیسے اگر وہ اوزکان کے سامنے بہ گۓ تو ُاس کے دل کا راز ُاس کے سامنے افشاء ہوجاۓ گا۔پیچھے ِسیٹ پہ بیٹھے اوزکان نے ملائکہ کی چٹخاتی ُانگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھاما ۔پھر انہیں سہلاتے ہوۓ انہیں اپنے ہاتھوں کی گرمائش پہنچائ۔
“ہاتھ کیوں تھنڈے ہورہے ہے اینجل گاڑی میں تو ہیٹڑ لگا ہوا ہے کیا کوئ مسئلہ ہے”۔اوزکان کے براہ راست سوال پوچھنے پر ملائکہ بوکھلا گئ۔
“نہیں تو ویسے ہی ہو رہے ہے”۔
“ویسے ہی تو نہیں ہوتے مجھے نہیں بتاؤگی”۔اوزکان نے ُاس کی لرزتی پلکوں کو دیکھا جو ُاس کے سامنے ُاٹھ نہیں رہی تھی ۔ملائکہ اوزکان کی ایکسرے کرتی نظروں سے خائف نظر آرہی تھی ۔جیسے آج وہ ُاس کے ہر راز کو جا لے گا۔
“ہنی کیا ہوا ہے کیا مسئلہ ہے بتاؤ مجھے”۔اوزکان کا ُاس کے اپنے آنسوؤں کو قابوں کرتے لال چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔جب برداشت سے سب کچھ باہر ہوگیا تو ملائکہ ِ چلا  ُاٹھی۔

“آپ ہے میرا مسئلہ بس سن لیا,سارے فساد کی جڑ  آپ ہے”۔اوزکان کا ُاس کے ِاس طرح پھٹ پڑنے پر منہ ُکھل گیا۔
“میں نے کیا ِکیا ہے اینجل “۔اوزکان نے روتی بلکتی ملائکہ کو دیکھ کر لمبا سانس لیااور اسے دیکھا جو چہرے پر ہاتھ رکھے رورہی تھی۔تب ہی ڈڑایؤر گاڑی پارکنگ میں پارک کرکے نیچے ُاتر گیا۔
“”بتاؤ میں نے کیا ِکیا ہے اینجل کیوں رورہی ہو”۔آوزکان نے ُاس کے چہرے سے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی تو وہ چہرے سے ہاتھ ہٹا کے اوزکان کے سینےپہ سر ِٹکاۓ ُاس کے ِگرد اپنے بازوں مضبوطی سے حمائل کیۓ ااوزکان کو ایک بار پھر حیران کرگئ۔
“میں کیسے رہوں گی اتنے دن آپ کے بغیر مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے کیا ہورہا ہے جیسے جیسے ایڑپوڑٹ قریب آرہاتھا مجھے لگ رہا تھا جیسے آپ مجھ سے دور جارہے ہے “۔ملائکہ کا۔ِایسے ڈھکے ُچھپے لفظوں میں ِاظہارکرنا ُاسےبہت اچھا لگا۔
اوزکان کو اپنا آپ بہت خوش قسمت سا لگ رہاتھا جسے اللہ تعالٰی نے اتنی معصوم۔اور نرم۔دل شریک حیات سے نوازا تھا۔اوزکان نے فرطِ جزبات  میں ُاسے اور شدت سے خود میں سمویا ۔
پھر ُۘاس نے لمسِ محبت کا تحفہ ِان شنگرفی پتیوں پہ دے کروہی لمس ان موتیوں کو بخشا جو ُاس سے دوری کا ُسن کر ِاک۔آبشار کی طرح ُاس کے خوبصورت چہرے پہ بہ رہے تھے ۔
“یہاں دیکھوں میری طرف میری جان ِتھوڑے سے وقت کی بات ہے پھر آپ کو یہی واپس آنا ہے اپنے گھر ہمیشہ کے لیے اور آپ کہی بھی کبھی بھی اکیلی نہیں جاۓ گی آپ کے ساتھ ہر ُاس جگہ پہ جہاں آپ کا جانا ضروری ہوگا وہاں یہ ناچیز آپ کے ساتھ ایک ساۓ کی طرح رہے گا, پر کسی کو پتہ نہیں چلے گا کے میں ہوں ,اب اتنی کمپلیکیٹڈ بات آپ کے سمجھ میں نہیں آۓ گی ِاس لیے باہر نکلو فلائیٹ کا ٹائم۔ہوگیا ہے۔فلائیٹ کا ُسن کر ملائکہ کے آنسوں پھر سے بہنا شروع ہوگۓ پر ِاس بار وہ گاڑی سے باہر نکل آئ ۔ڈینیل نے سارا سامان ٹڑالی میں رکھ کر پوٹڑ کے حوالے کردیا۔اوزکان ملائکہ کا ہاتھ تھامے انٹڑنیشنل فلائٹ کی طرف لے۔آیا۔
“چلے اندر “۔
اوزکان نے روتی ہوئ ملائکہ کو دیکھا جو ِبنا آواز کے پھر سے رورہی تھی۔
“ہنی کیوں رورہی ہو ابھی میں نے کچھ کہاتھا”۔
“اوکے اوزکان  اپنا بہت دیھان رکھنا میں فون کرتی رہوگی آپ کو “۔یہ کہ کر ملائکہ ایک بار  پھر روپڑی ۔
“اووو ماۓ ڈئیر, تم۔کہا سے لاتی ہو اتنے آنسوں بتاؤمیری اینجل “۔اوزکان اسے سینے سے لگاتا ہوا ُاس کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوۓ اس سے پوچھنے لگا۔۔
“اچھاُسنو ِلٹل ِاسٹوؤرٹ میں اپنی جان کے ساتھ ہی پاکستان جارہاہوں ,میں ساتھ ضرور ہوگا پر ِدکھو گا صرف اپنی اینجل کو اب وہ کیسے پاسیبل ہوگا یہ تم مجھ پہ چھوڑدو “۔
“مطلب آپ مجھے جب سے روتے دیکھ رہےتھے اور بتا نہیں رہے تھے اب آپ کو۔مجھ سے کوئ نہیں بچا سکتا اوزکان “۔ملائکہ کے جارہانا انتقام میں بڑھتے قدم۔دیکھ کر اوزکان نے اسے اپنے مضبوط قلعے میں قید کرلیا ۔۔
“وائیلڈ کیٹ دیر ہورہی ہے جہاز میں بیٹھ کر لڑ لینا “۔اوزکان اسے کندھے سے تھامے اس کے کان کے نزدیک بولا جب ہی ملائکہ نے اس کے ِحصار سے نکل کر اپنا پرس ُاٹھا کے اسے مارا ۔
“بات مت کرنا اب مجھ سے آپ”۔

جاری ہے اگلی قسط آپ کو ہفتہ کو ملے گی ۔۔۔۔”

About admin

Check Also

Rooh Ka Sakoon Episode 40-42

“ملائکہ کی بچی تو یہ کس کی گاڑی میں بٹھارہی ہے کیوں ِپٹوانے لگی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *