Rooh Ka Sakoon Episode 34_35

“یہ پری کون ہے ِمسٹڑ صالیح کے ساتھ “۔نواب داؤد یوسف نے اپنی سیکیٹڑی سے پوچھا۔
“سر ٹاؤن میں تو وہ مشہور ہے لڑکیوں سے الرجک ضرور کوئ خاص ہوگی ویسےسر مسٹڑ صالیح کی طرف سے ابھی تک کوئ آفیشل اناؤنسمنٹ تو نہیں آئ, ہوسکتا ہے ان کی دوست ہو کوئ “۔نواب داؤد یوسف کی سیکیٹڑی نے ملائکہ کی جانب حسد بھری نگاہ ڈالتیں ہوۓ کہا۔
“جو بھی ہے مجھے پوراڈیٹا چاہیۓ اپنے ِاس حریف کے ساتھ کھڑی پری کا۔
“یس َسر ابھی ِمل جاۓ گا”۔نواب داؤد یوسف کی ِنگاہوں نے دور تک انہیں جاتے دیکھا۔
اوزکان اور ملائکہ مسزسلینا کو دیکھ کر ان کی جانب آگۓ۔
“ہیلو مسسز سلینا کیسی ہے آپ “۔
“اوزکان ماۓ سن کیسے ہو تم۔”۔مسسز سلینا نے اوزکان سے ُمصاحفہ کیا۔
“میں ِبلکل ٹھیک “۔
ییلو ماۓ ِلٹل سندریلا آپ کیسی ہے”۔مسسز سلینا ملائکہ۔سے بغلگیر ہوتے ہوۓ بولی۔
“میں بھی ٹھیک ہوں آپ سناۓ آپ کی پاڑٹی تو بہت اچھی جارہی ہے”۔ملائکہ نے مسسز سلینا کی سنڈڑیلا کہنے پر بلش ہوتے ہوۓ پوچھا۔
“بہت شکریہ ڈیڑ اسے رونک بخشنے والے آپ لوگ ہی ہے ,آپ دونوں کی موجودگی نے اسے چار چاند لگا دیۓ ہے آؤ میں تمہیں تمہارے ُپرانے دوستوں سے ملواؤ”۔
“مسسز سلینا۔ہم۔خود۔ِمل۔لے گے آپ مسٹڑ۔بریل کی بات سنے وہ شاید آپ کو ویو کررہے ہے”۔اوزکان نے کچھ دور کھڑے کسی آدمی کی طرف اشارہ کیا۔مسسز سلینا کے جانے کے بعد اوزکان ملائکہ کی طرف ُجھکا ۔
“تم کمفرٹیبل محسوس کررہی ہو”۔ملائکہ بے سر کو ہاں میں ہلایا۔
“چلو آؤ پھر ُاس طرف چلے”۔اوزکان نے ایک کارنر ٹیبل کی طرف اشارہ کیا ۔پھر وہ ایک شان سے ُاس کا ہاتھ تھامے ُاس ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔اچانک آواز پر اوزکان اور ملائکہ پلٹے جہاں کالی پیروں تک آتی میکسی پہنے ِایک خوبصورت لڑکی نے اوزکان کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
“ہیلو ِاذابیل کیسی ہے آپ “۔اوزکان نہایت احترام سے ُاس لڑکی سے سر کو خم کرتا ہوا ُملا۔
“کتنے عرصے بعد تمہیں دیکھا ہے اوزکان تم تو ِبلکل نہیں بدلے بس ایک لڑکی کا اضافہ ہوا ہے تمہارے ساتھ جو تمہارے جیسی شخصیت کے ساتھ لڑکی کا کھڑا ہونا میرے لیے ایک خطرناک شاک ہے,انٹڑوڈیوس نہیں کرواؤ گے”۔
“او, ضرور یہ ہے میری شریکِ حیات ملائکہ اوزکان “۔

“!!!
   ہ وووہ شاکی لہجے میں بولا..omg
اوزکان صالیح جو اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک لڑکیوں میں ِمسٹڑ ُروڈ کے نام سے مشہور تھا جو لڑکیوں کی طرف آنکھ ُاٹھا کر بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا وہِ اس وقت ِایورسینا کے ہال میں ایک  جیتی جاگتی لڑکی کا ہاتھ تھامے میری ِان حسین آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے ۔اور کہ رہا ہے وہ ان کی شریک حیات ہے”۔
“اب ایسا بھی نہیں ہے, اذابیل تم بھی تو لڑکی ہو تم سے بھی تو بات کرتا تھا میں یونی میں تم انہیں چڑھاؤ مت “۔اوزکان ملائکہ کے شرماتے ہوۓ روپ کو دیکھ کر خود پہ قابو پاۓ ُاس پری پیکر کو چڑارہاتھا۔
“ہاں پر میری اور بات یے مجھے تو تم میرے ٹام بواۓ والے ایٹیٹیوڈ کی وجہ سے ُبلاتے تھے ورنہ اور کسی میں کہا دم جو تمہارے پاس بھی بھٹکے”۔
“میرا پوسمارٹم بعد میں کرنا تم سناؤ کچھ بنا تمہارا کام یا اسٹیل سنگل”۔
“کہا اوزی اپنی قسمت ایسی کہا تمہارا دوست ہاتھ ہی نہیں آتا میرا شادی کے نام پر بھاگ جاتا ہے اب تو کتنا عرصی ہوگیا اسے دیکھے ہوۓ بھی”۔اذابیل دور خلا میں نجانے کیا تلاشنے لگی۔
“یعنی تم آج بھی عامر کا جوگ لے کر بیٹھی ہو بیل حد ہوگئ ہے تم۔نے مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا تمہیں مجھے بتانا چاہیۓ تھا”۔ ُاس کاٹھ کے ُالو کو تو میں سیدھا کرتا ہوں اوزکان نے یہ بات دل میں کہتے ہوۓ ملائکہ کی جانب دیکھا پھر اسے اپنے عامر اور اذابیل کے یونیورسٹی کے واقعات بتانے لگا۔
“ہیلو اوزی کتنا بڑا سرپرائز ملا ہے مجھے کتنے دنوں بعد ملے تم۔ہو “۔ایپیک جیسے ہی اوزکان کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھنے لگی وہ ایک سائیڈ پر ہوگیا جس پر ایپیک جو ملائکہ اور اذابیل کے سامنےتوہین محسوس کررہی تھی۔جسے ملائکہ نے اسے گلے لگا کے مٹانے کی کوشش کی ۔
“کیسی ہے آپ ایپیک کیا آپ بھی ان کی اسکول فرینڈ ہے “۔
“نہیں ڈیر مجھے تو عامر یہاں لے کر آیا ہے کہ رہا تھا میں بہت انجواۓ کروگی اس پاڑٹی میں ُاس کے ُپرانے دوستوں سے ِمل کر تم۔لوگوں کو دیکھ کر تو میں سرپرائز ہوئ تھی”۔عامر کے نام پر جہاں اذابیل کا دل ڈھڑکا تھا وہی اوزکان نے اپنے لبوں کو بھینچا تھا, یعنی ِاس بلا کو عامر جان کر یہاں لایا تھا اب تیری موت پکی ہے میرے ہاتھوں ۔
اتنی دیر میں عامر ُسرمئ رنگ کا پینٹ کوٹ پہنے سفید کمیز کے اوپر کالی ٹائ لگاۓ اوزکان کو دیکھ کر اپنا ہاتھ ہلاتے ہوۓ ان کی جانب بڑھنے لگا ۔
ہیلو گائیز کتنا بڑا سرپرائز  ملا ہے تم۔دونوں یہاں کیسے “۔۔
“ہیمہیں بھی تو نے کم سرپرائز نہیں دیۓ تو ِمل۔مجھے باہر عامر”۔
اوزکان نے ایپیک کی طرف اشارہ کر کے عامر کو جواب دیا جو ملائکہ کو حسد بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔عامر نے ُمسکراتے ہوۓ اپنے کندھے ُاچکاۓ۔
“ویسے یہ حسینا کون ہے ان سے نہیں تعارف کراؤ گے”۔عامر نے اپنے آگے کھڑی کالی میکسی میں کندھے تک آتے بالوں کو کھولے لڑکی کی طرف ُاشارہ کیا اور جوس کا گھونٹ بھرا۔
“جی ضرور یہ ہماری بچپن کی ِاسکول فرینڈ اذابیل جوش”۔اوزکان نے چہرے پہ ُمسکراہٹ لاتے ہوۓ عامر کو دیکھا جو کچھ پل تو اپنی آواز کو کہی کسی کھائ میں چھوڑ آیا تھا ۔
“کیا ہوا دوست ِسیٹی ُگم ہوگئ اپنی دوست کو ہاۓ نہیں کروگے”۔اذابیل نے خود عامر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“ہیلو عامر کیسے ہو”۔عامر ابھی بھی اسے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہاتھا جب ہی اوزکان نے ُاس کے ہاتھ پہ ُچٹکی کاٹی ۔
“ہاۓ اذابیل۔کیسی ہو میں نے تو تمہیں ِبلکل نہیں پہچانا ِاس لڑکیوں والے گیٹ َاپ میں اور تمہارے بال کیسے اتنے لمبے ہوگۓ “۔
عامر نے اس کے بالوں کو ہاتھوں میں تھامتے ہوۓ پوچھا۔
“میں ہمیشہ تو ُاس ُلک میں نہیں رہ سکتی تھی آخر میں جو ہو ویسے ہی ِدکھو گی مجھے چھوڑو تم کیوں اتنے موٹے ہوگۓ ہو “۔
جوس پیتا اوزکان ُاس کی بات پر ہنس پڑا ۔
“اب صحیح ِسمت میں جارہی ہو تم ِاذابیل “۔اوزکان نے عامر کو موٹا کہتا سن کر چہرے پہ مسکان لاتے ہوۓ اذابیل کو سراہا۔
“کتنا حسین ِاتفاق ہے نہ میری یونی کے تین بہترین دوست ایک ساتھ کھڑے ہے”۔نواب داؤد یوسف ان کے نزدیک آکر کھڑا ہوگیا پھر اپنا ہاتھ اوزکان کی جانب بڑھایا جسے اس نے نظر انداز کردیا۔ُاسی وقت اوزکان کی طرف بڑھے ہوۓ ہاتھ کو عامر نے تھام لیا کیوں کے وہ جانتا تھا اوزکان ُاس سے ہاتھ نہیں ِملاۓ گا۔
کیسے ہو داؤد کافی عرصے بعد ملاقات ہورہی ہے ,تمہارا نام بزنس کی دنیا میں ُسن کر خوشی ہوتی ہے کے تم بھی ہمارے کمپیٹیٹڑز میں سے ہو”۔
“ارے کمپیٹ کیا ہم۔سب کچھ چھوڑدے گے آپ کی راہوں میں سے آپ ایک بار ہاتھ تو ِملاۓ “۔نواب داؤد یوسف ملائکہ کے سادگی سے بھرے معصوم ُحسن پر نظریں جماۓ ہوۓ عامر کے سوال کا جواب دینے لگا,ملائکہ جوسیگریٹ پیتے اوزکان کے نزدیک ہی کھڑی تھی خود پہ پڑتی ان نگاہوں سے خود کو ُچھپانے کے لیے اوزکان کی اوٹ میں ہوگئ۔اوزکان نے۔نواب داؤد یوسف کو ملائکہ کو۔ُاس طرح ُگھورتے دیکھا تو اپنے ایک ہاتھ کی ُمٹھی کو بھینچے ملائکہ کے آگے ایک گھنے درخت کے ساۓ کی طرح چھاگیا جس سے ملائکہ ِبلکل اس کے پیچھے ُچھپ کر رہ گئ۔
“اور اوزکان تم کیسے ہو “۔نواب داؤد یوسف نے ایک بار پھر اوزکان کا حال پوچھا۔
“جیسا بھی ہوں تمہیں ِ اس سے کوئ مطلب نہں ہونا چاہیےاور ایک بات اپنی نظروں کو لگام ڈالنا سیکھوں ورنہ انہیں قابوں کرنا مجھے اچھے سے آتا ہے, عامر ہم یہی ہے تھوڑی دیر تک جاۓ گے تم جب تک فضول۔کی دوستیاں نبھاؤ “۔اوزکان نواب داؤد یوسف کو چونکاتا ہوا ملائکہ کا ہاتھ تھامے آگے کی جانب بڑھ گیا ۔جب کے عامر اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ داؤد کی جانب پلٹا ۔
“داؤد اوزکان مزاق کررہا تھا ُاس کی عادت ہے ایسے”۔
“عامر میں نواب داؤد یوسف ہوں, ہوسکتا ہے اوزکان کے بہت بعد بزنس میں آیا ہوں پر ِدماغ رکھتا ہوں, میں نے تو دوستی کاہاتھ بڑھایا تھا پر ُاسے ہی شاید راس نہیں خیر تم سے ِمل کراچھا لگا۔ حساب برابر کرنا آتا ہے مجھے”۔نواب داؤد یوسف عامر سے ہاتھ ِملا کر آگے کی جانب بڑھ گیا۔
               ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
اوزکان کیا یار وہ تجھ سے ہاتھ ِملا رہا تھاُتو پھر ہاتھ ملاۓ بغیرآگیا”۔عامر اوزکان کو اکیلا دیکھ کر ُاس کی جانب آیا جب کے ملائکہ ایپیک اور اذابیل ایک ساتھ کھڑے باتوں میں مصروف تھی ۔
“اگر مجھے معلوم۔ہوتا نہ کے یہ انسان یہاں آیا ہوا ہے تو میں کبھی بھی نہیں آتا اب پلیز۔ُاس کا بار بار زکر کرکے میرا ُموڈ مت خراب کر, تم۔جاؤ اور ُسن میری بات ِاذابیل بہت اچھی لڑکی ہے رون ُاس میں کچھ زیادہ ہی انٹڑسٹ لےرہا ہے جو مجھے ِبلکل اچھا نہیں لگ رہا, تو جو چیز جس کی ہو ُاسی کے پاس اچھی لگتی ہے نہ کے کسی اور کے پاس, ُامید ہے تم سمجھو گے میری بات کو, ہیو فن “۔
یہ کہ کے اوزکان اپنے ُپرانے دوستوں کی جانب بڑھ گیا جب کے عامر دور تک اوزکان کو جاتا دیکھتا رہا ۔پھر اچانک ُاس نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ,اپنی  نظریں اذابیل اور رون کی جانب کی جس میں ِاذابیل تو نہیں پر رون گاہے بگاہے اپنی نظریں اذابیل پر ڈال رہا تھا جو ملائکہ اور ایپک کے ساتھ کھڑی باتیں کررہی تھی ۔جس پر جانے کیوں آج عامر کو رون کا دیکھنا ُبرا لگ رہاتھا۔وہ تیزی سے رون کی جانب گیا۔
“ہیلو رون کیسے ہو “۔
:او ہاۓ عامر میں ِبلکل ٹھیک ہوں تم سناؤ کیا کرتے ہو آج کل”۔
“میں تو کچھ نہیں کرتا پر تم سناؤ یہ اتنی زبردست باڈی کیسے بنالی بچپن میں تو تم اسکول میں موٹے بھدے کے نام سے مشہور تھے “۔
ہاہاہاہاہا ۔
“وہ بچپن تھا عامر تم بھی تو بچپن میں کالو کرنٹ کے نام سے مشہور تھے “۔
“او ہیلو, وہ میں ُاس وقت ِبیچ پر گیاتھا ُاس کی وجہ سے میں وقتی طو رپر کالا ہوا تھا بعد میں ٹھیک ہوگیا تھا اب دیکھوں میں گورا ِچٹا ہوں “۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔
“صہیح کہا ویسے اچھا لگا تم۔سے ِمل کر پر ایک بات بتاؤ تم۔ابھی تک ِسنگل ہو کیا “۔ آخر بلی تھیلے سے باہر آہی گئ۔
“ہاں یار آرمی میں وقت ہی نہیں ِملا کبھی ریلیشن ِشپ کے لیے پر اب سوچ رہاہوں”۔رون نے چہرے پہ دھیمی سی مسکراہٹ لاۓ اذابیل کی طرف دیکھا ۔بچو تو کیوں ِپٹنے والی حرکتیں کررہاہے ابھی مجھے خود کا نہیں پتہ , تو ُاس پر لائین ماررہاہے۔عامر نے اپنے لبوں کو بھینچھے رون کو دیکھا۔
“چلو تم۔انجواۓ کرو پھر ملاقات کرتے ہے”۔
“سیم۔ہیر “۔
عامر اوزکان کی جانب بڑھ گیا ۔
“کیا بنا کچھ سمجھایا “۔اوزکان نے سیگریٹ پیتے ہوۓ خالص ُترک زبان میں عامر سے پوچھا ۔
“کیا بنا مطلب, مجھے خود سمجھ نہیں آرہا میں چاہتا کیا ہوں اوزی مطلب ایک دم سے میں نے اسے بہت عرصے بعد دیکھا تو دل کو بہت اچھا لگا پھر تیرے کہنے پر جب میں نے رون پر اور اذابیل پر نظر ڈالی تو مجھے معلوم نہیں پر جانے کیوں مجھے جیلیسی ِفیل ہوئ, خیر میں خود کو وقت دینا چاہتا ہوں کچھ اوزی اگر وہ میری ہوگی تو اسے مجھ تک آنے کے لیے کوئ نہیں روک سکتا, سو پلیز مجھے پاڑٹی انجواۓ کرنے دے اب تو تیری والی کو دیکھ وہ کہا ہے “۔
عامر کی بات پر سیگریٹ پیتا اوزکان اپنی ایک آئبرو اوپر کیۓ ُاسے دیکھنے لگا پھر سر ُگھما کر ملائکہ کی جانب دیکھا ۔پر وہ۔وہاں نہیں تھی ۔اوزکان اذابیل کی جانب گیا ۔
“اذابیل ملائکہ کہا ہے “۔
“وہ ایپیک کو واشروم۔جانا تھاتو وہ۔ملائکہ کو لے کر گئ ہے “۔
ِپتہ نہیں کیوں پر مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ِاس ایپیک کا خون میرے ہاتھوں ہی ِلکھا ہے ۔اوزکان لبوں کو بھینچھے ہوۓ واشروم۔کی جانب گیا۔
                 ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“ایپیک اور کتنی دیر لگے گی تمہیں “۔جس واشروم میں ایپیک گئ تھی ملائکہ نے وہاں کھڑے ہوکر اسے آواز لگائ ۔
“ملائکہ میرے پیٹ میں درد ہورہا ہے تم ایسے کرو خود چلی جاؤ مجھے ٹائم۔لگے گا۔
ایپیک نے اداکاری کرتے ہوۓ ُاسے آواز لگائ۔
“اگر طبیعت زیادہ خراب ہورہی ہے تو میں اوزکان سے کہ کر داکٹر پہ لے جاتی ہوں تمہیں”۔
,” نہیں ڈیڑ تم جاؤ”۔
“اوکے میں چلتی ہوں “۔
ملائکہ جاتے جاتے ایک دم سے پلٹی ۔
“ایپیک وہ ہال کون سا تھا “۔ملائکہ کی آواز پر ایپیک نے اپنی آنکھیں ُگھومائ وہ اسے جان کر پچھلی طرف کے واشروم میں لے کر آئ تھی تاکہ ملائکہ راستہ ڈھونڈے بھی تو ُاسے نہ ملے ۔
“ملائکہ بال روم کا ہال سی ہے “۔
“اوکے شکریہ “۔
ملائکہ نے تھوڑا سا چل کر ایک سیکیوڑٹی گاڑڈ سے پوچھا۔
بال روم کا ہال سی کہا ہے”۔
“میم یہاں سے سیدھا جا کے ُالٹے ہاتھ پر ہے “۔
“شکریہ”۔ملائکہ کو اتنا محسوس نہیں ہوا کیوں کے ایپیک اسے اتنا ہی پیدل چلاکر لائ تھی تو اسے یہی لگا وہ صہیح حال میں جارہی ہے ۔مگر اندر آکر تو اسے ایسا لگا جیسے وہ کسی بزنس پاڑٹی میں آگئ ہو جہاں دور تک اسے ہر کوئ صرف ُسوٹنگ اور کندھوں پہ بیگز لٹکاۓ ہوۓ نظر آۓ, ملائکہ ان سب کے بیچ میں آکر خود کو خلائ مخلوق سمجھ رہی تھی ہر کوئ ُاسے ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہاتھا وہ اپنی میکسی سنبھالتی ہوئ باہر کی جانب نکلی پھر اپنے بیگ سے فون نکالتے ہوۓ اوزکان کو کال کرنے کے لیےملانے لگی۔
                 ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“ملائکہ کہا ہے”۔
اوزکان جو تیزی سے واش روم کی طرف سے پورا چیک کر آیا تھا پھر اذابیل کو اندر بھیج کر پتہ کروا یا پر وہ دونوں اندرہوہتی تو نکلتی ۔ایپیک۔تو اسے پچھلی طرف کے واشروم۔میں لے کر گئ تھی ۔
“کیا مطلب وہ تو کافی دیر پہلے ہی نکل آئ تھی “۔
“تم۔جھوٹ بول رہی ہو “۔
” بتاؤ وہ کہا ہے ایپیک ورنہ تم۔سے مجھے کوئ نہیں بچاسکے گا”۔
“میں سچ کہ رہی ہو اوزکان وہ تو کب کی واپس چلی گئ تھی تم۔ہال میں جا کے چیک کرو واپس “۔
“اوزکان۔ہوسکتا ہے وہ واپس چلی گئ ہو ہال میں چیک کرتے ہے ہم۔سب اسے”۔اذابیل اوزکان کو اندر کی جانب لے جانے لگی اوزکان  ایپیک پر نظر ڈالتا ہوا اندر کی جانب برھ گیا۔
                     ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
وہ اوزکان کو نمبر ملا کر۔کال۔کرنے لگی اچانک کسی نے اسے کھینچ کر کمرے میں کیا ۔
“ک ک کون ہے چھوڑو مجھے”۔
                        ٔ۞۞۞۞۞۞۞
اوزکان جو ملائکہ کو کال ملانے کے لیے نمبر ڈائل۔کرنےہی لگا تھا اپنے فون پر اس کی کال آتی دیکھ کر ایک دم۔سے ُاٹھائ مگر اینجل کے فون پر آوازسن کر اوزکان نے اپنی۔ُمٹھیوں کو سختی سے بھینچھا ۔
                     ۞۞۞۞۞۞۞۞
“بہت لفظ بھی کم۔ہوگا تمہاری معصومیت کے آگے تم اتنی خوبصورت اور معصوم۔ہو”۔نواب داؤد یوسف نے لائیٹر کی روشنی۔میں اس کے دمکتے چہرے کو دیکھ کر ہاتھ ُاس کے چہرے کی طرف۔بڑھایا ۔
“م م مجھے ہاتھ لگانے کی غلطی بھی مت کرنا رزیل انسان چھوڑو مجھے۔ابھی اوزکان یہاں آتے ہی ہوگے جب انہیں پتہ چلے گا میں ِاس وقت بال روم۔کے ہال سی کے پاس والے کمرے میں ہوں  “۔ملائکہ نے گھبراتے ہوۓ اس سے اپنا بازو ُچھڑانے کی کوشش کی۔
ہاہاہاہاہاہا۔
“تم۔کیا یہ پتہ بتارہی ہو مجھے یا کسی اور کو یہاں آنے کے لیے “۔
نواب داؤدیوسف کا قہقہ پورے کمرے ایک بار پھر گونجا ۔
ِ”ویسےرزیل الفاظ سن کر اچھا لگا یعنی ہم۔وطن بھی ہو , خیر۔یہ ایک۔چھوٹا سا بدلہ تھا جو میں نے ابھی پورا کیا ہے تمہیں زبردستی یہاں لاکر ,حساب برابر رکھنا عادت ہے میری ویسے بھی اب تو ِملنا ُجلنا رہے گا اور  مزہ بھی بہت آۓ گا ماۓ ڈیڑ”۔وہ اس کا بازو آزاد کرتے ہوۓ بولا
“ُگڈ باۓ “۔نواب داؤد یوسف کا اسے اتنا۔آرام۔سے چھوڑدینا سمجھ نہیں آرہا تھا ۔تب ہی اوزکان کمرے میں داخل۔ہوا ۔
“ملائکہ تم۔ٹھیک ہو “۔ُاس نے کمرے کی لائیٹ روشن کی تو اسے ملائکہ ایک کونے میں کھڑی ہوئ نظر آئ وہ اس کی جانب بڑھا اور اسے اپنے ِحصار میں لے لیا ۔ُاس کا چہرہ تھام۔کر اسے پوچھا ۔
“تم ٹھیک ہو اینجل “۔
“ہم اوزکان میں ٹھیک ہوں وہ کون تھا جو آپ سے بدلہ لے رہا تھا “۔
“تم۔اسے چھوڑو وہ۔میں خود دیکھ لو گا تم۔مجھے صرف یہ بتاؤ تم۔یہاں کیسے آئ “۔اوزکان نے اسے بازوں سے تھام۔کر اپنے نزدیک کیا ۔
“بتاؤ ملائکہ تمہیں یہاں کس نے بھیجا تھا۔”
“اوزکان آپ پلیز اپنے غصے کو قابوں میں کرے ایسی کوئ بات نہیں ہے میں غلطی سے آگئ تھی “۔
“ملائکہ تم۔مجھ سے جھوٹ نہیں بولو گی تمہیں ابھی کچھ بھی نہیں معلوم۔بس جو پوچھا ہے اس کا صحیح جواب دو “۔کچھ دیر کی شش وپنج  کے بعد ملائکہ نے اوزکان کا ہاتھ ُاٹھا کر اپنے سر پر رکھا۔
“پہلے میری قسم۔کھاۓ کےآپ۔اسے کچھ بھی۔نہیں کہو گے”۔
“یعنی میرا شک ٹھیک نکلا تمہیں ایپیک نے بھیجا تھایہاں “۔اوزکان غصے میں  اپنے دانتوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کیۓایک دم۔سے ملائکہ کا ہاتھ تھامے پلٹا ۔
“اوزکان میں نے آپ کو اپنی قسم۔دی ہے ہم۔پاکستان میں ایسے ہی دیتے ہے جو پورا نہیں  کرتا قسم۔ُاٹھانے والا۔مرجاتا ہے “۔ملائکہ اس کے ساتھ کھیچھتی چلی جارہی تھی ساتھ ساتھ اپنے نادر خیالات بھی اسے بتاتی جارہی تھی جس پر اوزکان ایک۔دم۔سے پلٹا۔
“کیا بکواس ہے یہ آج کے بعد ایسی فضول بات اپنی زبان پر لانے کا سوچنابھی مت اینجل۔ورنہ مجھ سے ُبرا کوئ نہیں ہوگا اور تم۔اس ایپیک کو کیوں بچارہی ہو مجھے سمجھ نہیں آرہا ورنہ۔آج اس کا قتل۔میرے ہاتھوں ہی لکھا تھا”۔
اوزکان غصے میں بولتا ہوا اذابیل۔کی آواز پر پلٹا۔
“او ڈئیڑ کہا چلی گئ تھی تم, اور دس منٹ اگر تم۔نہیں  ملتی  نہ۔تو تمہارے شوہر کے ہاتھوں ہم۔سب کا قتل ہر صورت لکھا تھا “۔اذابیل کی بات پر ملائکہ نے اوزکان کی جانب دیکھا جو اپنا غصہ برداشت کرنے کی وجہ سے لال ہورہا تھا ۔ملائکہ نے اپنے لبوں کو ِسیئا۔
“وہ میں غلط ہال میں چلی گئ تھی سوری گؔائیز آپ سب کو میری وجہ سے پروبلم۔ہوئ “۔اوزکان۔نے اپنی جیب سے ِویزیٹنگ کاڑڈ نکالا اور اذابیل کی جانب بڑھایا ۔
رابطہ کرنا مجھ سے پھر ملاقات ہوگی”۔وہ۔ایک۔سرد سی۔نگاہ ایپیک۔پر ڈالتا ملائکہ کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب ِبنا کسی کو موقع دیۓ ہکا بکا چھوڑےباہر نکل آیا۔
“اوزکان آپ واپس کیوں جارہے یے ابھی تو پاڑٹی شروع ہوئ تھی “۔مگر اوزکان نے اسے کوئ جواب نہیں دیا اور بیرے کو گاڑی لانے کا  اشارہ کیا جیسے ہی وہ اس کی گاڑی لے کر آیا اس نے فرنٹ دوڑ کھول کر ِبنا ملائکہ کی بات سنے اسے ِسیٹ پر بٹھایا۔
“اوزکان آپ جواب کیوں نہیں دے رہے”۔ملائکہ ہلکے سے منمنائ۔
“ملائکہ میں اس وقت کوئ بات نہیں کرنا چاہتاپلیز “۔یہ کہ کر اوزکان نے اس کی میکسی ُاٹھا کر گاڑی میں رکھی پھر اس کی ِسیٹ بیلٹ لگا کر ڈڑائیونگ ِسیٹ سنبھالی اور  واپس فلیٹ کی جانب آگیا۔ملائکہ خاموشی سے اس کے ساتھ واپس فلیٹ میں آگئ پھر بنا اوزکان سے بات کیۓ کمرے کی جانب بڑھ گئ سب سے پہلےاپنی ڈڑیس چینج کی جسے اتارنے کا فلحال ملائکہ کا بلکل دل نہ تھا پھر خاموشی سے فریش ہوکر اپنے ڈھیلے ڈھالے ٹڑاؤزر ہلکے گلابی رنگ کے ٹی شرٹ ٹڑاؤزر میں باہر نکلی اور اپنی نظریں اوزکان کی تلاش میں دوڑائ تو وہ اسے لاؤنج کے آگے بنی گیلری میں اپنے ڈڑیس سوٹ کی سفید شڑٹ اور کالے کوٹ میں سیگریٹ پیتا نظر آیا ۔ملائکہ بنا آواز کیۓ کچن کی جانب بڑھی تاکہ اپنی اور اوزکان کے لیے چاۓ بناسکے ۔وہ چاۓ بنا کے ٹڑے لیے اوزکان کی جانب بڑھی جو اتنی شدید ٹھنڈ میں ِبنا کسی سویٹڑ کے کھڑا تھا۔ملائکہ نے اپنا گلا کھنکارا ۔مگر اوزکان اس کی جانب متوجہ نہیں ہوا ۔
“اوزکان چاۓ پی لو پلیز غصہ چھوڑو”۔ملائکہ۔کی آؤآز پر ُاس نے اپنے خیالات سے خود کو واپس کھینچا اور ُاس کی جانب دیکھا جو ہاتھ میں ٹرے تھامے کھڑی تھی۔
“تمہیں کس نے کہا تھا ِاس وقت کچن میں جانے کو اگر چاۓ پینی تھی تو مجھے کیوں نہیں کہا “۔
“ہا جیسے آپ تو مجھے بڑا ُابلا ُبلا کر تھک گۓ تھے میں نے کتنی بار آپ کو۔بلایا ہے  پر آپ نے مجھے ایک بار بھی جواب نہیں دیا “۔ملائکہ نے گلوگیر آواز میں کہا ۔
“تو تمہارے کام ہی ایسے ہے, اگر تم۔مجھے اپنی وہ ِاسٹوپڈ سی قسم نہ دیتی تو ُاس ایپیک کو مجھ سے کوئ نہیں بچاسکتا تھا, اب میرے اندر ایسے لگ رہاہے جیسے لاوا ُابل رہا ہے اگر میں وہاں دیر سے پہنچتا تو تمہیں کوئ نقصان پہنچ سکتا تھا, ِاسی لیے میں نہیں چاہتا میرے غصے کا عتاب تم۔بنو, اس لیے بہتر ہے تم۔جاؤ میں جب ٹھیک ہوجاؤ گا تو آجاؤ گا اندر”۔
ملائکہ نے کچھ پل دیوار کے ساتھ لگے ہلکی روشنی میں کھڑےمنہ ُپھلاۓ اوزکان صالیح کو دیکھا پھر ٹڑے دیوار پر رکھ کر اوزکان کی جانب پلٹی۔
“اوزکان”۔ملائکہ نے ُاس کا شانہ تھپتھپایا ۔
“ملائکہ تمہیں میری بات “۔آگے کا جملہ وہ ملائکہ کے اگلے عمل۔کی وجہ سے مکمل ہی نہ کرپایا ۔
“مجھے معاف کردو۔اوزکان میں آئندہ ایسے نہیں کروگی پلیز “ملائکہ اوزکان کے سینے سے لگے ُاس کے ِگرد اپنے بازوں حمائیل کیےروتے ہوۓ اس سے معزرت کررہی تھی ۔
“پلیز۔اب مان جاؤ صبح دونوں ِمل۔کر ایپیک کی مار لگاۓ گے “۔اوزکان کچھ پل تو کچھ سمجھ ہی نہ سکا پھر ملائکہ سسکتے نرم گرم وجود کو اپنی پناہوں میں دیکھ کر اسے خود میں زور سے بھینچا مانو وہ اپنی روح کو۔سکوں دے رہاتھا۔۔
“تم۔نے۔میرے اندر بہت توڑ پھوڑ کردی ہے اینجل “۔کچھ لمحوں بعد اوزکان نے سرگوشی میں ُاس کے کان کے نزدیک کہا ۔
“میں ایسا نہیں تھا,۔میں نے خود۔کو۔تمہارے لیے بہت بدلہ ہے ,اب یہاں دیکھوں تم۔”۔اوزکان نے اس کا چہرہ اوپر کیا۔

“اس ِوچ کے لیے کیوں رورہی ہواور معافی کیوں مانگ رہی تھی, میں۔تم۔سے غصہ نہیں ہوں اب پلیز ُچپ ہوجاؤ چلو اندر چل کے چاۓ پیتے ہے تمہارے ہاتھوں کی, اورتم نے کوئ سویٹڑ شال کیوں نہیں پہنا ہوا “۔ اوزکان اسے بازوؤں سے تھام کر اپنے سامنے کیۓ دیکھنے لگا جو ہلکے گلابی رنگ کے ڈھیلے ڈھالے ٹڑاؤزر ٹی شرٹ میں روئ روئ آنکھوں کے ساتھ خود بھی گلابی ہورہی تھی۔
“آپ نے بھی تو کچھ نہیں پہنا ہوا”۔ملائکہ نے ُاس کے ُکھلے گریبان سے جھانکتی ِچین کو دیکھ کر کہا۔
“میری بات اور ہے ہم۔سخت جان ہوتے ہے تمہارا تعلق صنف نازک سے ہے میری جان “۔وہ اسے اپنے ِحصار میں لیے ایک ہاتھ میں ٹڑے تھامے اندر کی جانب لے آیا پھر سلائیڈنگ دوڑ بند کرکے صوفے کی جانب بڑھے ۔
“اب وہاں کہا جارہی ہو میرا غصہ کم کرنا چاہتی ہو تو شرافت سے میری بات سنو “۔اوزکان نے ملائکہ کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔
“کیا بات سنو “۔
“زیادہ کچھ نہیں بس میرے ساتھ بیٹھ کر چاۓ پیئو”۔ملائکہ اوزکان کی اتنی چھوٹی سی شرط پر مسکراتی ہوئ اس کا ہاتھ تھام۔کر بیٹھنے لگی مگر ُاس سے پہلے اوزکان نے نے اسے ایک جھٹکا دے کر خود پر گرالیا۔
“وہاں نہیں یہاں بیٹھ کر پینی ہوگی چاۓ”۔اوزکان چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ لاۓ اسے خود پہ ٹھیک سے بٹھاتے ہوۓ اپنے ِحصار میں لیے بیٹھ گیا۔
“اایسے کیسے بیٹھومیں آپ پر چاۓ ِگر جاۓ گی ہٹاۓ ہاتھ  میں آپ کے پاس ہی بیٹھو گی”۔ملائکہ اوزکان کے اتنے قریب بیٹھنے پر اپنی دل۔کی ہوتی تیز ڈھڑکنوں کو سنبھالتی ہوئ اسے کپکپاتی آواز میں بولی۔
“خاموشی سے بیٹھ جاؤ لڑکی ورنہ تمہیں اور بھی سنگین سزا ملے گی, اب اچھے بچوں کی طرح یہ چاۓ ُاٹھاؤ اور پیو پھر مجھے بھی ِاسی کپ سے ِپلاؤ,اس سے میاں بیوی کا پیار بڑھتاہے”۔
“ایسی فضول باتیں آپ کو کون سکھاتا ہے اوزکان مجھے ایک بار بتادے وہ میرے ہاتھ سے نہیں بچے گا “۔
ہاہاہاہا
“آپ ُاسی فضول انسان کی پناہ میں ہے ماۓ ڈیڑ آپ نے جو سلوک کرنا ہے وہ کرلے “۔
“یااللہ مدد کردے میری “۔
“اینجل میں چاۓ ٹھنڈی نہیں پیتا “۔ملائکہ کچھ لمحوں کی شش وپنج  کے بعد ِاس نتیجے پر پہنچی کے  ِبنا ِپلاۓ چاۓ اوزکان کا گزارا نہیں تو وہ ُچپ کرکے تھوڑا سا ِترچھا ہوکر اوزکان کو چاۓ ِپلانے لگی دوبارہ ُاسی کی طرف بڑھتے ہاتھ کو دیکھ کر اوزکان نے کپ کو نیچے سے تھام کر ُاس کے لبوں سے لگایا ۔
“تم بھی ِپیو “۔ملائکہ نے ِنگاہیں نیچے کیے چاۓ کا ایک گھونٹ بھرا ۔اللہ اللہ کرکے اوزکان نے چاۓ ختم کی
“اب میں نے چاۓ ِپلادی ہے اوزکان میں جاؤ مجھے نیند آرہی ہے “۔
“یہی سوجاؤ میں تنگ نہیں کروگا “۔
“اوزکان ن ن ن “۔ملائکہ اوزکان کی گرفت سے نکلنے کی سر توڑ کوششیں کررہی تھی۔مگر کوئ حل نہ دیکھ کر وہ اپنا سر اوزکان کے سینے پر ٹکا گئ۔
“بہت ُبرے ہے آپ “۔
“شکریہ “۔جب ہی اوزکان کا فون ِرنگ کیا ُاس نے ایک ہاتھ بڑھاکر ٹیبل سے فون ُاٹھایا ۔پھر کچھ دیر بات کرکے فون سائیڈ پر رکھا,فون کے دوران ملائکہ نے بہت سمجھنے کی کوشش کی پر اوزکان جانے کون سی زبان میں فون پہ باتیں کررہاتھا۔
“تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے میرے پاس “۔فون بند کرنے کے بعد اوزکان نے ملائکہ کے شانے پر سر رکھتے ہوۓ اسے  کہا
“کیسا سرپرائز”۔
“پہلے یہ بتاؤ مجھے کیا تحفہ ملے گا سرپرائز بتانے پر “۔
“اوزکان آپ کتنے لالچی ہوگۓ ہے “۔ملائکہ نے اپنے شانے ہر سر رکھے اوزکان کے بال اپنے ایک ہاتھ سے کھینچھے۔
” لالچ ہاہاہاہاہا,  لٹل اسٹؤورٹ تم۔دن  بدن  ظالم ہوتی جارہی ہو مجھے مارتی ہو بہت , تم۔پہلی بیوی ہو جو شوہر کے پیار کو لالچ کہتی ہو “۔اوزکان کے فلک شگاف قہقہے پر ملائکہ کے کانوں کی لوؤۓ تک ُسرخ ہوگئ ملائکہ نے اپنے ہاتھ کی کہنی زور سے اوزکان کے پیٹ میں ماری ۔
“ُاف لڑکی ,اچھا سنو تمہارے لیے سرپرائز یہ ہے کے یہ میرے دوست کی کال تھی جو پولیس میں ہوتا ہے میں اسی کے ُتھرو تمہارے پیپرز وغیرہ کے پروسس کا پتہ کرواتا رہتا ہوں,اس کی کال تھی وہ بتارہا ہے تم نیکسٹ ِویک پاکستان جارہی ہو شاید “۔
“کیا سچ میں ,میں پاکستان جارہی ہوں “ملائکہ کے چہرے پر خوشی ُپھوٹ پڑی پر کچھ سوچتے ہوۓ ُاس کے چہرے پہ آئ خوشی معدوم۔ہوگئ ۔
“مگر میں پاکستان کیسے جاؤ گی اماں کو کیا بولوں گی ان کے نزدیک تو میں دو سال سے پہلے نہیں آسکتی “۔
“ایک تو میری ِ پنک پینتھر آپ سوچتی بہت ہے, شاید آپ بھول گئ آپ کی خالہ کی مرعون  ِمنت انہوں نے آپ کی اماں کو یہ شوشا چھوڑا تھا کے آپ سردیوں کی ُچھٹیوں میں پاکستان آۓ گی سو میرا نہیں خیال ایسا کوئ پروبلم۔ہوگا اگر تمہیں پھر بھی کوئ مسئلہ لگے تو میں تمہیں ایک مہینے کے لیے ہوٹل میں ُرکوادوگا یا گھر لے دوگا فر ِنشد”۔
“اوزکان “۔اس سےپہلے ملائکہ اپنی بات پوری کرتی تب ہی اوزکان کا فون پھر سے ِرنگ ہوا اب کی بار اوزکان کی بات ِچیت طویل ہوگئ ,کافی دیر بات کرنے کے بعد اوزکان نے فون بند کیا اور ملائکہ کی جانب دیکھا جو اوزکان کے سینے سے سر ِٹکاۓ گہری نیند سورہی تھی ۔اوزکان کے چہرے پر پل بھر میں مسکراہٹ چھا گئ۔
“ماۓ ِلٹل ِاسٹوورٹ کیسے رہو گا میں تمہارے ِبنا اتنی دیر,  “۔یہ کہ کر اوزکان نے اس کی پیشانی پر اپنا سلگتاہوا لمس چھوڑا۔
“پر کون کہتا ہے اینجل صاحبا اکیلی جاۓ گی ان کا یہ پیارا سا شوہر ہر جگہ ان کے ساتھ ساۓ کی طرح رہے گا
                  ۞۞۞۞۞۞۞
آپ سب سے التماس ہےہماری پیاری موڈریٹر سیدہ کی امی کا انتقال ہوگیا ہے آپ سب ان کے لیے مغفرت کی دعاکرے

اگلی قسط انشاللہ آپ کو ایک ساتھ دو ایپیسوڈبروز ُبدھ شام آٹھ بجے ملے گی قسط لیٹ کیوں ہوئ کیا وجہ تھہ فلحال نہیں بتاسکتی آپ کی دعاؤں کی طلبگار آرز رشب ۔۔۔۔

About admin

Check Also

Rooh Ka Sakoon Episode 40-42

“ملائکہ کی بچی تو یہ کس کی گاڑی میں بٹھارہی ہے کیوں ِپٹوانے لگی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *