Rooh Ka Sakoon Episode 28_33

“تمہارے پاس دس منٹ ہے جلدی سے آؤ ہم باہر جارہے ہے”۔کمرے میں بیٹھی ملائکہ کو اوزکان کی آواز آئ جو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا اسے اونچی آواز میں کہ رہاتھا۔
“کہا جانا ہے”۔ملائکہ دروازے کے نزدیک کھڑی ہوکر پوچھنے لگی۔
“ایک منٹ گزر گیا ہے تمہارے پاس صرف نومنٹ بچے ہے اگر نہیں آئ تو پھر میری کوئ گارنٹی نہیں “۔اوزکان نے ان گلاب کی  پنکھڑیوں کو دیکھتے ہوۓ اشارہ کیااور  کچن کی جانب بڑھ گیا ۔
ملائکہ جلدی سے اوور کوٹ اور پرس لے کر باہر کی جانب آئ پھر صوفے کے پاس بیٹھ کر جلدی جلدی اپنے اسنیکرز پہنیں پھر اوزکان کی جانب پلٹی جو کچن کاؤنٹڑ کے پاس کالی لیڈر کی جیکٹ میں کھڑا اپنی چھا جانے والی شخصیت کے ساتھ اسے بولتی ہوئ نگاہوں سے سیگریٹ پیتے ہوۓُاسےدیکھ رہاتھا۔
“کہاجاناہے جو مجھے اتنا شوڑٹ ٹائم دیا تھا”۔ملائکہ کمر پہ ہاتھ ٹکاۓ غصے سے لال ہوتے

چہرے کے ساتھ ُاسے دیکھتے ہوۓ بولی جو ُاس کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہاتھا۔وہ خاموشی سے ُاس کی جانب اپنے قدم۔بڑھانے لگا۔

“ڈیٹ پر جارہے ہے “۔وہ ُاس کا سرد ہاتھ تھامے اپنے لبوں سے ُچھوتے ہوۓ بولا ۔ ملائکہ جو اپنے ہاتھ کے ساتھ ہوتی ہوئ کاروائ دیکھ رہی تھی اوزکان کی ِاس بات پر ُاس کے چہرے پہ ُمسکراہٹ چھاگئ۔
“بہت اچھا مزاق کرتے ہے آپ بہت مزا آیا مجھے آپ کے جوک پر”۔وہ کہ کے باہر کی جانب جانے لگی تب ہی اوزکان نے ُاسے پیچھے سے سویٹڑ سمیت کھینچھ لیا جس سے ُاس کی کمر اوزکان کے سینے سے آلگی جو ُاس کے کندھے پر اپنی تھوڈی ٹکاۓ ُاس کے روئ کی طرح ُپھولے ہوۓ ُرخصار کو دیکھنے لگا جو شاید سردی اور اوزکان کی قربت میں  زیادہ لال ہورہے تھے۔
“کیا بول رہی تھی ابھی آپ میں جوک اچھا کرتا ہوں “۔اوزکان نے اپنے ہاتھوں کا دباؤں اس کے ِگرد سخت کیا مانو وہ اسے خود میں بھینچ رہاتھا۔اوزکان کے اتنا نزدیک آنے پر ُاس کے اندر برقی سی دوڑ گئ تھی۔

“ن ن نہیں آپ تو بہت برا جوک کرتے ہے میں نے کب کہا”۔ملائکہ ُاس کے ِحصار میں کپکپاتے ہوۓ بولی ۔

“اچھا پر ابھی تو میں نے سنا تھا کوئ ڈیٹ کے بارے میں بھی کچھ کہ رہاتھا۔
“م م مجھے نہیں پتہ میں نے کچھ نہیں کہا پلیز آپ مجھے    پریشان کررہے ہے “۔ملائکہ اپنے ِگرد حمائل ہوۓ ُاس کے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگی ۔جو کے ُاس کے جیسی نازک اندام لڑکی کے لیے ناممکن تھا ۔

“پلیز اوزکان مجھےجانےدو”۔اوزکان نے ملائکہ کی بات مسکراتے ہوۓ ُاس کے کندھے پر سر ٹکاۓ آہستہ آواز میں کہا۔
“تم۔میری ساری باتیں اسی طرح مانتی جاؤ پھر دیکھنا “۔وہ اپنے لبوں سے ُاس کے شانوں کو معتبر کرتا پیچھے ہوا پھر ٹیبل سے چابی ُاٹھاتا ُاس کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب چل پڑا۔
                      ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“یہ کون سی جگہ ہے “۔ملائکہ نے گاڑی سے باہر نکلتے ہوۓ پوچھا اس کاچہرہ خوشی سے تمتما ُاٹھا تھا اتنی خوبصورت پارک دیکھ کر۔اوزکان گاڑی کے دروازے کے اوپر دونوں ہاتھ ٹکاۓ پارک کی جلتی روشنیوں میں ُاس کے دمکتے چہرے کو دیکھ کر مبہوت رہ گیاتھا۔

“بتاۓ نہ اوزکان “۔ملائکہ نے اوزکان کو خود کو ٹکٹکی باندھیں ہوۓدیکھا تو وہ ایک دم سے ُاس کی گہری نظروں سے گھبراگئ۔جو ُاس کی طرف بڑھتا جارہاتھا۔ملائکہ ُاس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر ایک دم سے گاڑی کے دروازے کے ساتھ ُجڑ گئ۔اوزکان نے اپنے ایک ہاتھ کا گلوز ُاتار کر ُاس کے ُرخصار کو ُچھوتے ہوۓ انگشت شہادت کو ناک پہ پھیرا پھر وہی انگشت ُاس کے لبوں تک لے گیا۔ُاس دوران ملائکہ کو لگ رہاتھا وہ سردی سے زیادہ اوزکان کے نزدیک آنے سے کپکپارہی تھی۔

“یہ لال کیوں ہورہے ہے زیادہ کیا تم نے میک اپ کیا ہے “۔
اوزکان کی منہ سے ِبلکل مختلف بات ُسن کر ملائکہ نے فورًا  نا میں سر ہلایا۔
“ش ش شاید سردی سے ہورہے ہے”۔ملائکہ کے منہ سے  نکلتے ُدھویں کو دیکھ کر اوزکان نے سر کو جنبش دی ۔
“کیا تم یہاں ُرکنا چاہتی ہو.۔ملائکہ نے سر ہاں میں ہلایا  اوزکان نے دو قدم۔مزید بڑھا کے فاصلےکوسمیٹا پھر ُاس کی جیکٹ کی ِزپ بند۔کرتا ُاس کا۔اوور کوٹ گاڑی سے نکالا,جسے ُاس نے اسے چھوٹے بچوں کی طرح اسے پہنایا تھا۔ِاس کے گلے سے مفلر نکال۔کر ُاسے ِحجاب اسٹائیل میں اوڑھایا پھر ُاس کا ہاتھ تھامے اندر پارک۔کی طرف بڑھ گیا۔ملائکہ کو اوکان کا ِاس طرح خود کا دیھان رکھنا بہت اپیل کررہاتھا بھلا کہا دیکھاتھا ُاس نے کسی کو ِاس طرح سے خیال رکھتے ہوۓ۔

“یہ کون سی جگہ یے اوزکان “۔

“یہ سینٹڑل پارک ہے یہاں پہ۔ِاس موسم۔میں ِاس مضنوعی جھیل پر برف کی تہہ جم۔جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں زیادہ تر لوگ آئس اسکیٹنگ کرتے ہے”۔

“او واؤ مجھےبہت زیادہ پسند ہے ۔”۔

اوزکان کا سیگریٹ کولائیٹڑ سے جلاتا ہاتھ ُرک گیاُاس نے لبوں میں  سیگریٹ کو دباۓ نہایت آہستہ سے  کہا “مجھے معلوم۔ہے جب ہی تو یہاں لایا ہوں”۔ ۔
“آپ اتنا آہستہ۔کیوں بول رہے ہے مجھے کچھ سنائ نہیں دے رہا”۔
“تمہیں ضرورت بھی نہیں کچھ سننے کی سیدھے چلو”۔وہ ُاس کا سر کا ُرخ ُگھوماتا ہوا اندر کی جانب چل پڑا ۔

“او واؤ یہ کتنے خوبصرت لگ رہے “۔ملائکہ ایک کپل کو آیئس اسکیٹنگ کرتے دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی ۔
“اوزکان میں بھی کرلو پلیز “۔

“نو وے,ابھی ہم یہ ِرسک ِبلکل نہیں لے سکتے تمہیں کوئ پریکٹس نہیں ہے میں صرف تمہیں ِدکھانے لایا ہوں”۔

“اوزکان پلیز میرا بہت دل چاہ رہاہے میں نہیں ِگروگی”۔

“اینجل نہیں کا مطلب نہیں ہم ابھی افوڑد نہیں کرسکتے آپ بس انہیں دیکھ کر اپنا دل خوش کرے “۔ اوزکان کی بات پر ملائکہ نے اپنے چہرے پہ دنیا بھر کی بے بسی بسالی ۔اوزکان ُاس کے سردی اور غصے سے لال ٹماٹر ہوۓ ُرخصار دیکھ کر ُمسکرا ُاٹھا اپنی سیگریٹ ُبجھاکے ملائکہ کو لیۓ ٹوکن لینے آگیا ۔
“آپ مجھے جانے دے رہے ہے اوزکان “۔اوزکان نے نہ میں سر ہلایا ۔
“تو پھر کیا کررہے ہے ٹوکن لے کر “۔

تمہاری خواہش پوری کرنے لگا ہوں تم ِاس سفید برف کی چادر پر ہواؤں کی طرح ُاڑنا چاہتی ہو تو اوزکان صالیح اینجل کے لیے ہر وہ کام کرے گا جو ُاس کے دل کو تقویت دیتا ہو۔”اوزکان ُاسے بینچ پہ بٹھا کر پہلے اپنے ُشوز اتار کے آئیس اسکیٹس پہنے پھر ملائکہ کو اشارہ کیا اپنے ُشوز اتارو, اس نے جلدی جلدی اپنے شوز اتارے ۔

“میرے ُشوز کون سے ان میں سے اوزکان “۔ملائکہ نے شوز ریک کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔

“کوئ سے بھی نہیں ِادھر آؤ اپنا کوٹ اتارو “۔

ملائکہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی اوزکان کر کیا رہاہے پر وہ ایک ٹڑانس کی سی کیفیت میں کوٹ اتار کے کھڑی ہوگئ جب اوزکان نے ُاس کی جانب ہاتھ بڑھایا جسے اینجل نے کچھ پل کی جھجک کے بعد تھام۔لیا اوزکان نے اسے ایک جھٹکے سے اپنے نزدیک کیا جو خود ریلنگ کے سہارے کھڑا تھا۔وہ اسےبنا کوئ موقع دیۓ ایک نازک ُگڑیا کی طرح کمر سے تھام کر اپنےِاسکیٹس ُشوز کے اوپر کھڑا کر گیا  پھر اسے کمر سے تھامے ُاس کے کان کے نزدیک سرگوشی کی۔

“ڈڑنہ مت میں تمہیں ِگرنے نہیں دوگا”۔ اوزکان نے جیسے ہی ریلنگ کا سہارا چھوڑ کر آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا ملائکہ نے اپنے بازوؤں کا ِحصار اوزکان کی کمر۔کے ِگرد سختی سےباندھ لیا۔

“اوزکان۔پلیز۔مجھے ڈڑ لگ رہا ہے مجھے نیچے ُاتارے “۔

ملائکہ۔ُاس کے سینےسے لگی اس کی دل۔کی ڈھڑکون کو محسوس کررہی تھی ۔

“اپنے اندر کے ہرخوف کو ختم کردو اینجل مجھ پہ بھروسہ کرو پھر دیکھنا تمہیں ساری دنیا کتنی خوبصورت لگے گی “۔اوزکان نے آہستہ آہستہ برف سے بچھی چادر کے بیچ میں آکر ملائکہ کو آہستہ آواز میں سمجھایا۔وہ ُاسے لیے تیزی سے اسکیٹ شوز کی مدد سے چلنے لگا ۔

“اینجل اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھوں تم خود کو ہواؤں میں ُاڑتا محسوس کروگی “۔

“نہیں میں نہیں کھولوگی پلیز کہی ُرکے مجھے اترنا ہے “۔
“آئ پرومس اینجل تم۔نہیں ِگروگی دیکھوں ِادھر “۔اوزکان ُاسے لیے پارک کے اندر بنے ُاس مخصوص حصے میں تیزی سے چلنے لگا۔ملائکہ اپنی آنکھیں کھولے اوزکان کے ِگرد اپنے بازوحمائل کیۓ ارد گرد میں  دیکھنے لگی ُاسے ِارد ِگرد لگے ان پیلے لالٹینوں کے روشنی میں برف کے ِبچھے ِاس قالین پر خود کو ُاڑتا ہوا محسوس کررہی تھی وہ اوزکان کے سینے سے لگی دنیا کے ہر غم کو ِ اس وقت بھولاۓ ہوۓ بس خود کو ہوا کے دوش پر چھوڑ ے ہوۓ تھی  ۔

“کیسا لگ رہاہے “۔اوزکان نے اپنا سر ُجھکا کے ملائکہ کو دیکھا جو ُاسے ِاس وقت چھوٹی بچی لگ رہی تھی جو ڈڑ کے مارے اپنی ماں سے چمٹی ہوئ ہو۔۔

” اوہو کیسے کیسے واہیت خیالات آتے ہے اوزکان صالیح تجھے”۔اوزکان خود کو۔سرزنش کرنے لگا۔

“اوزکان بس ُرک۔جاۓ مجھے سردی لگ رہی یے “۔ملائکہ بیک وقت خوش بھی ہورہی تھی اور کہی نہ کہی اندر ایک احساس جاگ رہاتھا کے کون ہے یہ انسان جو ُاس کے ِبنا کہے ُآس کے دل کی ہر بات جان لیتا تھا۔ملائکہ کی مری ہوئ آواز سن کر اوزکان نے جنگلے کے پاس لے جا کر آرام سے روک دیا ۔

“کیا ہوا اینجل”۔اوزکان ُاس کاچہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوۓ دیکھنے لگاجس کاچہرہ لال ہورہا تھا, آنکھوں میں مانو ِاک طغیانی سی آئ ہوئ تھی جو کسی بھی وقت اوزکان صالیح کو بہا کر لے جانے والی تھی۔

“مجھے بتاؤ می می کیا ہوا ہے تمہیں کیوں رورہی ہو “۔

۔اوزکان ملائکہ کی۔آنکھوں میں پانی دیکھ کر ٹڑپ ُاٹھا۔

“کیوں کررہے ہے آپ ایسے کون ہے آپ! کیسے پتہ چل جاتا ہے آپ کو کے مجھے کیا اچھا لگتا ہے میں کیا کرنا چاہتی ہوں بتاۓ آپ مجھے ِاس طرح ٹڑیٹ کیوں کرتے ہے, میں  تو آپ کو نہیں جانتی پھر آپ کیسے میری خواہشیں جان لیتے ہے , بتاۓ کیوں آدی بنارہے ہے مجھے خود کا اتنا کے آپ کے سہارے کے بغیر میں دو قدم بھی چل نہ سکو گی بتاۓ”۔

۔ملائکہ اپنا سر اوزکان کے سینے سے ٹکاۓ بوجھل آواز میں اپنے دل میں بسی ان باتوں کو اسے کہنے لگی آنکھوں سے آنسوں قطار کی صورت میں بہنے لگے۔

“اینجل یہاں دیکھوں میری طرف, تمہیں معلوم۔ہے میں نے تمہیں ایک بات کہی تھی تمہیں اللہ نے اس دنیا میں میرے لیے بھیجا ہے تم۔مانو یا نہ مانو پر تم۔میری پسلی سے بنی ہوئ ہو۔اس لیے مجھے پہلے سے ِانٹیوشنز آجاتے ہے,کے جو مجھےاچھالگتا ہے وہی تمہں اچھا لگتا ہے ,اب یہ آخری بار ہے جو میں تمہیں بتارہاہوں میں ان آنکھوں میں اب دوبارہ یہ آنسوں نہ دیکھوں ورنہ انہیں صاف کرنے کے لیے جو طریقہ میں اپناؤں گا وہ تمہیں گراں گزرےگا تو میری بات کو سمجھوں لٹل ِاسٹوورٹ اب رونا بند کرو اور یہاں آکر بینچ پہ بیٹھو میں ُشوز ُاتار لو پھر چلتے ہے ,تم۔جب تک اپنا کوٹ پہنو  “۔وہ ُاس کی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوۓ اسے بینچ پہ بٹھا کر خود بھی ُاس کے برابر میں بیٹھ گیا جب ہی کسی نے زور زور  سے تالیاں بجاناشروع کردی اوزکان اور ملائکہ۔نے اپنے سامنے ایک عورت کودیکھا جو عمر سے  چالیس پچاس کے قریب شارٹ  لگ رہی تھی ۔

“تم۔آج بھی نہیں بدلے اوزکان صالیح آج بھی تمہیں ُاسی طرح ِاسکیٹز کرتے دیکھ کردل خوش ہوگیا۔”۔وہ۔عورت اوزکان کی جانب بڑھی جو انہیں دیکھ کر کھڑو ہوگیا۔

“ہیلو  مسسزسلینا کتنے عرصے بعد آپ سے ملاقات ہوئ بہت خوشی ہوئ آپ سے مل کر “۔
اوزکان سلینا کو اپنے کندھے سے لگاتا ہوا ان کو دیکھ کر ملائکہ۔کی طرف متوجہ ہوا ۔

“اینجل یہ میری اسکیٹس انسٹڑکٹر ہے  ِمسسزسلینا روبن اور سلینا یہ میری وائف ملائکہ اوزکان”۔

“بہت اچھا لگا آپ سے مل کر”۔

“مجھے بھی بہت اچھا لگا تو کیا اوزکان آپ سے اسکیٹنگ سیکھتے تھے”۔ملائکہ نے ِاشتیاق سے سلینا سے پوچھا۔

“اوزکان تم۔نے اپنی وائف کو کچھ نہیں بتایا “۔
“اوزکان لبوں پہ دلفریب مسکان لاۓ سر کو نہ۔میں ہلاۓ ملائکہ کو دیکھنے لگا۔

1K say above  like s hone chaiye agli tab hi milegi jaldi jaldi🔥🔥🔥
🔥”اونوٹی بواۓ, ملائکہ تمہارا ہزبینڈ ہمارے ٹاؤن کا ہی نہیں بلکہ انٹڑنیشنلی اسکیٹس کا انڈر فرورٹین کا۔چیمپین رہ ُچکا ہے پھرآگے پتہ نہیں اس نے کیوں جاری نہیں رکھا خیر  اوزکان تم ملائکہ کو لے کر میری طرف آؤ ہم۔نے کرسمس کے لیے پاڑٹی ارینج کی ہے بہت مزہ۔آۓ گا تمہیں تمہارے بہت سارے اسکول فرینڈز سے بھی ُملاقات کرواؤگی انہیں بہت خوشی ہوگی تم سے مل۔کر “۔سلینا نے اپنا ویزیٹنگ کاڑڈ اوزکان کی طرف بڑھایا جسے اس نے تھام لیا ۔

“میں وعدہ نہیں کرسکتا پر کوشش ضرور کروگا “۔

“نہیں تمہیں آنا پڑے گا اوزکان میں انتظار کروگی تمہارا مجھے اپنا نمبر دو میں تمہیں کال کروگی “۔پھر اوزکان نے انہیں اپنا نمبر دیا اور الوداع کرکے گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
جب ہی ملائکہ نے اوزکان کے کندھے پر پنچ مارا۔

“کتنے بڑے ُگھنے ہے آپ, مجھے کیوں نہیں بتایا آپ کو پہلے سے آتا تھا “۔

“اس میں بتانے والی کون سی بات تھی اور مجھے ویسے بھی نہیں پسند اپنی تعریفیں  کرواتا ِپھرو”۔اوزکان چلتا چلتا ملائکا کو اوور کوٹ سمیت اپنی جانب جھٹکادیتے ہوۓ  ِحصار میں لیے چلنے لگا ۔۔

“ہاں اگر تم۔کہوگی تو تمہیں اپنی ساری کوالٹیز  بتاسکتاہوں مجھے اور کیا کیا کرنا آتا ہے لٹل اسٹوڑٹ “اوزکان اپنے ساتھ چلتی ہوئ ملائکہ کے لال ُپھولے ہوۓ ُرخصار کو کھینچتے ہوۓ بولا ۔

“آ! !!اآپ مجھے کیا بار بار لٹل اسٹوڑٹ کہ رہے ہے اور جلدی چلے مجھے سردی لگ رہی ہے “۔

“تم۔میرا لٹل اسٹوڑٹ ہی ہو میری جان چلو اب میں تمہیں گرم۔کروا کر لاؤ”۔

“کیا “۔ملائکہ ہلق کے بل چیخی ۔اوزکان ُاس کے ِچلانے پر ُاس کی طرف دیکھنے لگا پھر اپنی بات کا غلط مطلب لینے پر ملائکہ کے نزدیک ہوا ۔جو گاڑی کے بند دروازے کے ساتھ کھڑی تھی اوزکان کے قریب آنے پر دروازے کے ساتھ لگ گئ۔

“تمہیں معلوم۔ہے تم۔بلکل پاگل ہو می۔می ,ایک کام۔کے علاوہ بھی انسان گرم۔ہوسکتا ہے “۔اوزکان ُاس کے کانوں کی لوؤں کو اپنے لبوں سے ُچھوتے ہوۓسرگوشی میں بولا  ۔

” کیا تمہیں پتہ ہے وہ کیسے”۔ملائکہ نے ہونقوں کی طرح اوزکان کو اپنے اتنے قریب دیکھ سر کو نہ میں ہلایا۔

“میں بتاؤ”۔ ملائکہ نے سر کو نہ میں ہلایا کیوں کے اب اوزکان کے سانسوں کی تپش اسے اپنی گردن کے نزدیک محسوس ہورہی تھی ۔جو اسے اپنی ُپر حدت گرمائش سے ُسلگھارہا تھا۔

“ٌسوپ پی کے”۔اوزکان۔نے چہرہ پیچھے کرکے ملائکہ کا اپنی قربت سے لال ہوا چہرہ دیکھا جو کپکپاتے لبوں کے ساتھ آنکھوں کو سختی سے ِمیچیں گاڑی کےساتھ ٹیک لگاۓ کھڑی تھی ُاس کی ایسی حالت دیکھ کر اوزکان نےفلک شگاف قہقہ لگایا ۔

“بہت ُبرے ہے آپ اوزکان مجھ سے بات مت کرنا “۔ملائکہ اس کے کندھے پر ایک ُمکاجڑ کر گاڑی کے اندر دروازہ بند کرکےبیٹھ گئ جسے اوزکان نے ہنستے ہوۓ دوبارہ کھول دیا  پھر اس کی ِسیٹ بیلٹ لگا کے ُاس کی جانب دیکھا جو ِسیٹ کے ساتھ ُجڑ کر بیٹھی تھی ۔

“I LOVE YOU MY ANGEL “.

اوزکان گاڑی کے اوپر دونوں ہاتھ رکھے اندر بیٹھی ملائکہ کو دیکھ کر کہنے لگا جو اوزکان کی بات پر ُاس کی جانب سرسری سا دیکھنے لگی تب ہی ملائکہ ایک دم۔سے ِچلائ۔

“اوزکان”۔وہ۔اس سے پہلے پیچھے دیکھتا کسی نے ُاس کے سر پر زور سے ہاکی ماری جس سے اوزکان نیچے کی جانب ِگرا کچھ پلو کے لیے اوزکان کو لگا ُاس کا ِدماغ ُسن ہوگیا ہو ۔جب ہی ایک نقاب پوش جس نے جوکر جیسا ماسک پہناہوا تھا ملائکہ کو گاڑی سے کھینچنے لگا, جب کے دوسرا اوزکان کی جانب بڑھا جو ملائکہ کو کھینچھتا دیکھ کر  کھڑا ہوگیا جیسے ہی ُاس دوسرے جوکر نے اوزکان کو پھر مارنا چاہا اوزکان نے ُاس کا ہاکی تھام۔لی اور اسے ایک جھٹکا دے کر اپنی جانب ِکھینچھا پھر ُاس کے سر پر دو تین بار ہاکی سے مارا, اوزکان کے سر سے خون نکل کر اب ُاس کے چہرے تک آگیا تھا جب  ہی ُاس نے ملائکہ کی جانب دیکھا جہاں دوسرا جوکراس کے منہ پر ہاتھ رکھے اسے اپنی وین کی جانب لے جارہا تھا ۔اوزکا ن نے ایک لمحے میں اپنی گاڑی کے دیش بوڑڈ سے اپنی لائسینس گن نکالی  اور ان کی جانب بھاگا اور ِچلاکے کہا ۔
“چھوڑو اسے ,کیا چاہیے پیسے لو۔اور اسے چھوڑو “۔مگر اس جوکر نما آدمی نے نہ میں سر ہلایا پھر اوزکان کی جانب اپنی گن کی ۔
“واپس چلے جاؤ ہماری تم سے کوئ دشمنی نہیں ہمیں بس یہ لڑکی چاہیے “۔ُاس کی بات پر اوزکان کے چہرے پر مسکراہٹ چھاگئ ۔

“وہ تو تمہیں مر کے بھی نہیں دو گا”۔اوزکان نے اس کی جانب قدم بڑھاۓ, ملائکہ اس کی گرفت میں ٹڑپنے لگی جو اوزکان کے سر سے بہتا خون دیکھ رہی تھی جو  بنا ان سے ڈڑے اس کی خاطر اس جوکر کی گن کےنشانےکے سامنے آرہا تھا ۔

“میں کہ رہاہوں ُرک جاؤ ورنہ میں تم پہ گولی چلادوگا “۔

“چلادو “۔اوزکان اور ُاس جوکر کے بیچ میں فاصلہ کم رہ گیاتھا ۔جب ہی ُاس نے ٹڑیگر دبایا ملائکہ نے ُاس کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑدیے ۔

“اوزکان “۔مگر گولی چل ُچکی تھی اوزکان نےسر ُجھکا کے ُاس کی ٹانگ پر گولی ماری اور ایک ہاتھ سے ملائکہ کو اپنے ِحصار میں لیا جو گولی کی آواز سن کر  اپنے ہوش وحواس کھو ُچکی تھی ۔اوزکان  ُاسے تھامے زمین پر بیٹھا تھا۔مگر گن ابھی بھی ُاس پر تانی ہوئ تھی۔اوزکان  نے ملائکہ کا چہرہ  تھپتھپایا, جب ہی وہ۔زخمی جوکر اور۔ڈڑایؤر اپنے زخمی ساتھی جس۔کو۔اوزکان۔نے گولی ماری تھی ُاسے ُپھرتی سے لے کر وین میں بھاگ گۓ ۔جب کے اوزکان ملائکہ کا چہرہ تھپتپانے لگا جو بے ہوش ُچکی تھی ۔

سیلینا جو واپس اپنے گھر جانے کے لیے پارکنگ کی طرف آرہی تھی اوزکان کے پاس فورًا آئ پولیس کو کال کی کچھ ہی دیر میں پولیس اور ایمبولنس آگئ ۔ان دونوں کو فوری ٹڑیٹمینٹ دیاگیا ۔اوزکان کو سر کے پیچھے لگنے کی وجہ سے گہرا زخم۔آیا تھا جس پر داکٹر نے بینڈیج کردی تھی جب کے ملائکہ کے لیے داکٹڑ نے کہا تھا وہ ڈڑ کر بےہوش ہوئ ہے تھوڑی دیر میں ہوش آجاۓ گا ۔

“مسٹر اوزکان اب آپ کیسا ِفیل کررہے ہے, میں بہتر ہوں “۔
“جنہوں نے آپ پر حملہ ِکیا ,کیا آپ ان کو جانتے ہے”۔
“نہیں آفیسر ہم۔نہیں جانتے میں نے ان کی گاڑی کا نمبر نوٹ کیا تھا آپ وہ لکھ کر انکوائری کرے فلحال میرے سر میں درد ہے مین گھر جانا چاہوگا”۔

“ٹھیک ہے مسٹر اوزکان اگر۔ہمیں آپ کی دوبارہ ضرورت پڑی تو آپ کو دسٹڑب کرے گے  ٹیک کیر”۔

“اوکے اوزکان میں  بھی چلتی ہوں اپنا اور ملائکہ کا دیھان رکھنا  ٹیک کیر سن “۔اوزکان کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوۓ باہر چلی گئ ۔پھر اوزکان نے ڈینیل کو کال کرکے اسپتال ُبلوایا ملائکہ کو اپنے مضبوط بازوؤں میں ُاٹھاۓ گاڑی میں سوار ہوکر  اپنے فلیٹ کی جانب چلاگیا ۔
               ۞۞۞۞۞۞۞۞
“تم تین تین لوگوں سے ایک آدمی کنٹڑول میں نہیں آیا لانت ہو تم۔پر “۔

“ارحم ُاس کے پاس گن تھی ہمہیں نہیں پتہ تھا ورنہ ابھی وہ لڑکی ہمارے پاس ہوتی ُاس نے ڈین پہ گولی چلادی تھی ِاس لیے ہم حواس باختا ہوکر بھاگ نکلے پر ہم اپنا مشن مکمل کیۓ بغیر ہار نہیں مانے گے “۔

“آہ ہار نہیں مانے گے اب تو وہ کمینا اپنی بیوی کے لیے سخت سیکیوڑٹی لگاۓ گا “۔

“میں بڑے بول نہیں بولتا مگر کہا ہے نہ اب ہم پوری پلیننگ کے ساتھ اٹیک کرے گے “۔رون نے ارحم کو تسلی دینے کے انداز میں کہا۔

“دیکھ لیتے ہے “۔ارحم ہاتھ میں پکڑا گلاس زمیںن پہ پٹختا ہوا باہر کی جانب نکلا ۔

“اور ہاں گاڑی کا نمبر پلیٹ بدلہ تھا “۔

“ہاں نکلی لگایا تھا ابھی اتاردے گے “۔

“شکر کچھ کام۔تو اچھا کیا تم۔ڈفرز نے”۔
             ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
اوزکان ملائکہ کو بیڈ پر لٹا کر پہلےا ُس کے پیروں کو اسنیکرز سے آزاد کرایا پھر ُاس کے گلے سے مفلر نکال ُاس کو اوور کوٹ اور جیکٹ سے آزاد کیا,پھر اس پہ کمفرٹڑ ڈالتا ہوا  روم۔کا ہیٹنگ سسٹم۔چیک کیا اورخود بھی فریش ہونے کے لیے چلاگیا۔ٹاول سے اپنا چہرہ ُخشک کرکے وہ کالی ٹڑاوزر ٹی شرٹ میں ملائکہ کی جانب بڑھا جو بستر پر آرام دہ حالت میں سورہی تھی ۔اوزکان نے ُاس کا ہاتھ تھاما اور ان پہ اپنے دہکتے لب رکھ دیے ۔

“میں ابھی آرہاہوں اینجل ڈڑنہ  مت”۔

اوزکان کمرے کی روشنی ُبجھاتا ہوا لیمپ آن کرکے باہر ٹی وی لاؤنج میں آگیا۔پھر ایک نمبر ڈائیل کیا جو ایک دو بیلز کے بعد فورًا  ُاٹھا لیا گیا۔

“میں تمہیں ایک پتہ دے رہاہوں اور گاڑی کا نمبرساتھ میں تصویر بھی ِاس کی ایک ایک حرکت کے بارے میں مجھے بتاؤ یہ کیا کررہاہے اور مجھے یہ پتہ کرکے بتاؤ آج جن لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا تھا وہ ِاس کے بھیجے ہوۓبندے تھےیا نہیں تمہارے پاس صرف چوبیس گھنٹے ہے ڈیول “۔

۔اوزکان سنگل صوفے پہ بیٹھا ٹانگ پر ٹانگ جماۓ ملائکہ اور اپنی تصویر کو دیکھ رہاتھا۔

“یس سر آپ کا کام ہوجاۓ گا”۔

ٹھیک ہے مجھے فورًا  بتانا میں انتظار کررہاہوں “۔اگر یہ تم نکلے نہ ارحم تو ِپچھلی بار تو تمہیں میں نے چھوڑ دیا تھا پر ِاس بار تمہاری آنے والی نسلیں بھی یاد کرے گی کے تم نے کس کی بیوی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی ۔

اوزکان اپنا سر مسلتا ہوا کمرے کی جانب بڑھا اب زیادہ دیر بیٹھنے سے ُاس کے سر میں ٹیسے ُاٹھ رہی تھی ۔وہ کمرے میں  ملائکہ کے برابر میں دراز ہوتا ہوا اسے اپنے ِحصار میں لیے کمفرٹر ٹھیک کرتا ہوا آنکھیں موند گیا۔
                ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“اماں مجھے تو آپ نے ٹھکانے لگادیا ہے مگر آپ نے می می کا کیا مستقبل سوچا ہے”۔

میں سمجھی نہیں تمہاری بات سانی “۔

“مطلب اماں میرا تو نکاح ہوُچکا ہے  میں نے توباہر چلے جانا ہےپھر آپ کو بھی ُبلالوگی, مگر می می کا کیا کرنا ہے اس کے رشتے کا کچھ سوچا ہے آپ نے “۔

“سوچنا کیا ہے بیٹے اللہ نے جہاں اس کا لکھا ہوگا وہی ہونا ہوگا”۔

“یہ کیا بات ہوئ اماں مطلب کوئ تو آپ کی نظر میں ہوگا ویسے میرے پاس ایک حل ہے “۔

“میری نظر میں کوئ نہیں ہے بیٹے تمہارے ابو کی طرف سے کوئ ہم سے کبھی رابطہ رکھتا نہیں تھا جو میں وہاں کرو لےدے کے نگہت ہی ہے جس کے پلے تمہیں ڈالا ہے اور وہ ارحم ہے جس کا کوئ اتا پتہ ہی نہیں, تم بتادو اگر تمہاری نظر میں کوئ ہے “۔۔

“اماں میں سوچ رہی تھی میں بھی رخصت ہوکر وہاں چلی جاؤگی پھر آپ بھی وہی آجاؤگی تو کیوں نہ ہم می می کا بھی وہی رشتہ تلاش لے گے  آپ کیا کہتی ہو”۔

“کہ تو ٹھیک رہی ہو پر ابھی تو می می پڑھ رہی ہے میں نگہت کو کہوگی کے میری می می کے لیے کوئ لڑکا تلاش کرے اپنے جاننے والوں, یہ صحیح ہے, صبح ہی کرو گی نگہت سے بات تم یاد سے کرادینا اب بات “۔

“ٹھیک ہے اماں اب دنیا کی سب سے اچھی اماں ہو”۔سنعایا اماں کے گلے لگ گئ ۔

“یہ مسکے کیوں لگارہی ہے سانی”۔

“نہیں تو اماں ویسے ہی پیار آرہاہے آپ پر”۔

“چل ہٹ”۔
             ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
تہجد کے وقت اوزکان کی نیند ملائکہ کے مسلسل کپکپانے کی وجہ۔سے ُکھلی تھی جو شاید نیند میں بھی کچھ بڑبڑارہی تھی ۔اوزکان نے اپنی آنکھیں مسلتے ہوۓ ملائکہ کے کپکپاتے وجود کو دیکھا ۔

“چھوڑدو نہیں پلیز, نہیں “۔وہ مسلسل نیند۔میں رو رہی تھی اوزکان کی جب برداشت سے باہر ہوگیا تو اس نے ملائکہ کو۔ہلایا ۔

“ملائکہ ُاٹھو کیا ہوا ہے کس سے ڈڑ رہی ہو “۔

“چھوڑدو نہیں, اوززززززکان “۔اوزکان اپنا۔نام۔لینے پر سمجھ گیا وہ گزرتی رات کو خواب میں دیکھ رہی تھی ۔اوزکان نے لیٹے لیٹے ہی ُاسے شانوں سے تھام۔کر جھنجھوڑا ۔

“اٹھو ملائکہ “۔ملائکہ اپنی ُمندی مندی آنکھوں سےاوزکان کو دیکھا۔

ااااوزکان “۔اس نے سرگوشی میں اوزکان کا نام۔ُپکارا۔

“ہاں میں یہی ہوں تمہارے پاس “۔اوزکان۔نے ُاس کی آنکھوں سے بہتے ہوۓ ان موتیوں کو بے مول ہونے سے روک۔لیا۔

“آپ کو تو گولی لگی تھی نہ “۔ملائکہ کے جیسے ہی  حواس جاگے وہ اوزکان کو۔دیکھنے لگی ساتھ ساتھ رونے کا ُشغل بھی جاری رکھا ۔

“نہیں میں ٹھیک ہوں یہ۔دیکھوں مجھے “۔ملائکہ اوزکان کے سینے پر سر ٹکاۓ اور رونے لگی۔

“اینجل مجھے کچھ نہیں ہوا یہاں دیکھوں میری طرف ُاس نے گولی چلائ تھی پر ُاس کا نشانہ ُچوک گیا “۔ملائکہ مسلسل سر نہ میں ہلاۓ جارہی تھی ۔

“سب میری وجہ سے ہورہاہے,میں سب کو مشکل میں ڈال دیتی ہوں, پہلےمیری وجہ سے خالہ کو پریشانی پڑ گئ وہ بستر کی ہوکر رہ گئ, پھر آپ کو میری وجہ سے شادی کرنی پڑگئ اور اب یہ ہوگیا”۔

“ملائکہ کیا فضول بولے جارہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے وہ چور تھے بس چوری کرنے آۓ تھے تم یہاں دیکھوں میری طرف “۔اوزکان کو۔ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ ڈپریشن کا شکار ہورہی تھی۔

“نہیں میں ٹھیک کہ رہی ہوں مجھے معلوم۔ہے وہ ارحم۔کے بندے تھے اگر وہ چور ہوتے تو چوری کرتے پر وہ آپ سے مجھے مانگ رہے تھے وہ۔مجھے لے جانے آۓ تھے اگر آپ۔کچھ ہوجاتا تو میں کیا کرتی  “۔ملائکہ کی اوزکان کے سویٹڑ پر پکڑ اور مضبوط ہوگئ تھی۔

“دنیا کی کوئ طاقت بھی تمہیں اوزکان صالیح سے الگ نہیں کرسکتی ملائکہ اوزکان ,یہ بات ہمیشہ۔یاد رکھنا سواۓ موت کے تمہیں مجھ سے کوئ نہیں ُجدا کرسکتا اب ُبلکل بھی رونا مت میں سب کچھ دیکھ لوگا تم بس اب خاموش ہوجاؤ”۔اوزکان نے ُاس کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوۓ اسے خود میں زور سےبھینچھا ۔کچھ لمحوں کے بعد ملائکہ نے اپنا  سر ُاٹھایا۔

“آپ کے تو خون بہ رہاتھا سر سے کہا لگی ہے آپ کو “۔ملائکہ ایک جھٹکے سے ُاس سے الگ ہوئ۔جس پر اوزکان بدمزہ ہوا۔اسے واپس کھینچ کر اپنے ِحصار میں لیا۔

“کہی نہیں لگی اب خاموشی سے سوجاؤ”۔اوزکان اسے ِحصار میں لیے آنکھیں موند گیا۔

“اوزکان بتاۓ نہ “۔ ملائکہ نے بیٹھی ہوئ آواز میں پوچھا ۔

“یار تم سکون سے نہیں سوگی, سر کے پیچھے ٹھوڑی سی لگی تھی “۔ملائکہ نے ایک بار پھر رونا شروع کردیا ۔

“اب کیوں رورہی ہو, ملائکہ اتنے آنسوں کہا سے لاتی ہو ,لڑکی ایک کام کرو تم۔مجھے ایک ہی باران میں ڈبو کے ماردو ,کتنی بار کہا ہے تمہارے یہ آنسوں مجھے تکلیف دیتے ہے پر تم انہیں اتنا ہی بہاتی ہو “۔اوزکان نے اہنے سینے سے لگی روتی بلکتی ملائکہ کو دیکھ کر کہا۔

“آپ کو میری وجہ سے لگی ہے اب روؤ بھی نہ “۔وہ سر ُاٹھا کے اوزکان کی جانب نین کٹوڑو میں پانی بھرے دیکھ کے کہنے لگی جو رونے کی وجہ سے ُسوج کر اور بھی دلنشین لگ رہی تھی۔

“نہیں ِبلکل نہیں میں مر بھی جاؤں تب بھی میری ان خوبصورت آنکھوں میں یہ ُطغیانی مت لانا, ان میں اوزکان صالیح کا ایک جہان بستاہے “۔اوزکان نے لیمپ کی روشنی میں ُاس کے دمکتے ِاس سنہری چہرے پہ چھاۓ ان دلفریب رنگوں کو عقیدت کی نظروں سے دیکھتے ہوۓ دل کی آواز پر لبیک کہا پھر ان آنکھوں کو اپنا زندگی سے بھرپور لمس بخشا جس پرروتی ہوئ ملائکہ ُاس کے ِحصار میں کسمسائ جو کب سے رونے میں مشغول تھی اوزکان صالیح کی اتنی نزدیکی پر اپنی نظریں اوزکان کی کالی ٹی شرٹ  پر جمادی اوزکان ُاس کی لرزتی پلکوں کو دیکھ کر مزید بے خود ہوگیا بھلا ُاس نے کہا دیکھی تھی ایسی شرم و حیا, ُاس کے سرکل میں دور دور تک ایسی لڑکیوں سے واسطہ نہیں پڑا تھا جن میں شرم۔وحیا کا پاس ہو ۔ابھی وہ مزید ُاس کے چہرے پہ چھاۓِان رنگوں میں کھو کر مزید کوئ پیش رفت کرتا ملائکہ کی آواز  ُاسے واپس کھینچھ لائ۔

“اوزکان آپ چھوڑے مجھے باہر جاکے سوۓ”۔ُاس نے اٹک۔اٹک کر رات کے اس پہر ُاس کی ایکسرے  کرتی نظروں سے بچنے کے لیے دھیمی آواز میں کہا,جب کے اندرونی طور پر وہ خود نہیں چاہتی تھی اوزکان یہاں سے جاۓ اگر خدانخواستہ وہ لوگ یہاں تک آگۓ, تو وہ ِاس تو کے آگے سوچ کر ہی کپکپا ُاٹھی تھی ۔مگر اوزکان کو بھی یہاں سے ُاٹھانا ضروری تھا بے شک وہ میرا محرم ہے مگر ُاس کی بڑھتی ہوئ نوازشوں کو فلحال اف کرنا مشکل تھا۔جب ہی اوزکان کی آواز اسے اپنی سوچو سے واپس کھینچھ لائ۔

“سوچنا بھی مت کے میں تمہیں چھوڑوں گا نہ ابھی نہ کل نہ پرسو, کبھی بھی نہیں مجھے تمہارے بغیر ِبلکل بھی نیند نہیں آتی تم۔بے فکر ہو کر سوجاؤ جو چیز اپنی ہو ُاسے نوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی, جو وقت اللہ نےتمہارے اور میرے رشتے کو مکمل۔کرنے کے لیے مختص کیا ہے وہ۔ُاسی وقت ہوگا ُاس سے پہلے میں خود۔تمہیں وقت دینا چاہتا ہوں ِاس لیے اپنی آنکھیں بند کرو اور سوجاؤ میرے بھی سر میں اب درد ہورہاہے “۔

اوزکان۔اسے مزید خود میں بھینچتے ہوۓ آنکھیں موند گیا ۔
“مگر اوزکان “۔

شششششششش۔اوزکان نے گلاب کی ان پنکھڑیوں پر انگشت رکھ دی ۔

“سوجاؤ ملائکہ ورنہ میں نے اپنے طریقے سے تمہیں ُسلایا تو تمہاری نیند ُاڑجاۓ گی اس لیے شبَ خیر  “۔ملائکہ کچھ پل ِان بند ُمڑی پلکوں کو دیکھتی رہی جہاں ُاس کے لیے ایک جہاں آباد تھا ُاسکا اس قت شدت سے دل۔چاہا تھا وہ اس مہرباں کی کشادہ پیشانی پر اپنی مہر محبت ثبت کردے جو ُاس کا محرم تھا جو ُاس کا رکھوالہ تھا جسے اللہ نے  ُاس کے لیے ُچنا تھا مگر ——“۔اس مگر کے آگے ایک طویل خاموشی تھی ملائکہ کی آنکھ سے ایک انمول موتی ُچپکے سے بے مول ہوگیا ۔وہ خاموشی سے آنکھیں موندے اوزکان کے سینے پر سر ِٹکا گئ ۔
                    ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
ُمسلسل بجتی فون کی بیل سے اوزکان کی آنکھ ُکھلی ُاس کا سویا زہن بیدار ہوا تو ملائکہ کو دیکھا جو ُاس کے ایک بازو پر سر رکھے منہ کھولےسوئ ہوئ تھی ۔اوزکان کے چہرے پہ اسے دیکھ کرمسکراہٹ چھاگئ ۔موبائیل اپنی کسمپرسی پر خون کے آنسوں بہا کر خود ہی بند ہوگیا تھا۔
وہ ُاس کے چہرے پہ بکھرے ان بالوں کو نہایت احتیاط سے ُاس کے کان کے پیچھے اڑس رہا ت۔جب ہی ملائکہ ا وزکان کے لمس سے نیند سے بیدار ہوگئ, ُاس نے نیند سے بھری ان نشیلی ُہیزل آنکھوں سے ُبھوری آنکھوں میں جھانکا جہاں اسے صرف خود کا عکس دکھائ دےرہاتھا ۔ملائکہ نے خود کو اوزکان کے اتنے نزدیک دیکھ کر اپنی آنکھیں واپس موند لی۔

“صبح بخیر میری زندگی “۔اوزکان نے ان آنکھوں پہ اپنے تشنہ لب رکھے جس میں اس کا عکس ُچھپا تھا۔اوزکان کے ُپر حدت لمس پر ملائکہ نے خود کو اوزکان کی گرفت سے نکالنا چاہا مگر وہ ُاسے شاید ابھی چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔

“اااوزکان مجھے ُاٹھنا ہے چھوڑے پلیز “۔اوزکان  کی رگِ ظرافت پھڑک ُاٹھی ُاس کا  گھبرایا گھبرایا سا ُحسن دیکھ کر اوزکان۔کا دل چاہ وہ اپنی وائلڈ کیٹ کو چھیڑے ۔

“کیا چھوڑے خود کو تو چھوڑالیتی ہو اور جو میرے ساتھ کرتی ہو وہ کیا,للہ تیرا لاکھ لاکھ ُشکر ہے رات میری عزت آپ نے محفوظ رکھی ایک وائیلڈ کیٹ سے ورنہ “۔اوزکان کی بات پر ملائکہ نے چونک کر اوزکان کی جانب دیکھا پھر ُاس ورنہ کے آگے ملائکہ نے اپنی آنکھیں پوری وا کی ۔

“کیا مطلب ہے آپ کا اس بات سے ہاں “۔

“تو اور نہیں تو کیا یہ دیکھوں تمہارے یہ ُچڑیلوں جیسے ناخن ساری رات تم۔میرے سینے پر مارتی رہی ہو تو کبھی —“۔
اس کبھی کے آگے ملائکہ نے اپنے ہاتھ ُاس کے لبوں پررکھ کر اس کی آواز کا گلا گھونٹا۔

“آپ جھوٹ بول رہے ہے میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا مجھے اچھے سے یاد ہے “۔

“آہ ہ ہ! ! اچھا جوک تھا تم تو ایسے مدہوش ہوکر سوتی ہو تمہارے ساتھ کچھ بھی کرلو تمہیں فرق ہی نہیں پڑتا”

۔اوزکان کے چہرے پر ڈمپل دیکھ کر کچھ پلوں کے لیے ُاس کا زہن وہاں بھٹکا تھا,پھر ُاس کی بات پر ُاس کے چودہ طبق روشن ہوگۓ ۔

“کیا مطلب ہے آپ کا ِاس بات سے,  کیا ِکیا ہے آپ نے رات میں “۔ملائکہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے ُاسے دیکھنے لگی۔۔”
“میں نے نہ رات بھر ملائکہ, تم۔ُبرا تو نہیں مانو گی نہ “۔
اوزکان نے ُرک ُرک کراپنی بات ادھوری چھوڑی اس کی ہونقوں سی شکل دیکھ کر اوزکان ُاسے مزید تنگ کرنے لگاا۔

“ْکیا آگے بھی بولے اوزکان “۔ملائکہ نے اوزکان۔کے سینے پر ہاتھ رکھے اس کے سویٹڑ پر اپنی پکڑ مضبوط کی ۔

“میں نے نہ رات بھر تمہارے ساتھ “۔ااوزکان پھر ُرک گیا
“اوزکان رات بھر کیا”۔

میں نے نہ رات  بھر  بہت عرصے بعد سکون کی نیند لی “۔

یہ کہ کر اوزکان کا فلک شگاف قہقہ کمرے میں ُگونج ُاٹھا۔ ملائکہ جو حواس باختہ سی ُاس کی بات سن رہی تھی ُاس کی اگلی بات سن کر اس کے دماغ کی بتی ُبجھ گئ ۔

“اوزکان میں آپ کو چھوڑوں گی نہیں آپ بہت ُبرے ہے ایک بار چھوڑے مجھے پھر دیکھے میں آپ کا حشر ِبگاڑدوگی “۔
ملائکہ اوزکان کے ِحصار میں پھڑپھڑارہی تھی جو ابھی تک ِکھلکھلاکر ہنس رہاتھا ملائکہ نے ِاس ترکش شہزادے کودیکھا جس کی مسکراہٹ کے آگے دنیا میں شاید ملائکہ ادریس کے لیے سب کچھ بے رنگ تھا۔

ِبگاڑدو میں تو چاہتا ہوں تم۔مجھے کہی کا نہ چھوڑو میں کسی کو۔منہ ِدکھانے لاۓق نہ رہو”۔

“اوزکان ن ن “۔ملائکہ کی ِچنگھاڑتی ہوئ آواز پر اوزکان مزید قہقہے لگا کے ہنسنے لگا ُاس  نے اپنے دونوں ہاتھ ملائکہ کے لیے وا کردیۓ۔ملائکہ نے تیزی سے ِپلو ُاٹھا کر اوزکان کو مارنا شروع کردیا جو ُاس سے بچنے کی ِبلکل کوشش نہیں کررہاتھا ۔

“صبح صبح آپ کو ایک ڈوز کی ضرورت ہوتی ہے شاید مجھے ابھی سے پتہ چل گیا ہے “۔

“بے شک مگر ِاس ڈوز کی نہیں “۔
یہ کہ کر اوزکان نے ملائکہ کو ایک جھٹکے میں  خود پر ِگرالیا پھر اسے کروٹ کے بل خود کے نیچے لیتے ہوۓ  گلاب کی پنکھڑیوں کودیکھا جس پر ملائکہ نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ لیے ۔
تم۔بہت معصوم ہو میری وایئلڈ کیٹ “۔اوزکان نے یہ کہتے ہوۓ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام۔کر تکیے پر رکھ دیا پھر دل کی اٹینڈیس پر پریزینٹ بولتے ہوۓ اپنی ڈوز لیتے ہوۓ کچھ لمحوں بعد اپنا سر ُاٹھایا اور ملائکہ کو دیکھا جس کا چہرہ اوزکان کی قربت میں لال انار ہوگیا تھا ۔

“my asian beauty “.

“ااب اگر آپ نے ایک اور بار بھی کچھ کیا تو “۔ملائکہ نے کپکپاتےہوۓ لبوں سے اوزکان صالیح کودھمکی دی جو ُاس کی معصوم۔سی دھمکی پہ۔مسکرا ُاٹھا ۔

“تو کیا”۔اوزکان نے انتہائ توجہ سے اس کے کانوں کے پیچھے بال اڑسے ۔

“تو میں رونا شروع ہوجاؤ گی سچ میں اور پھر ُچپ بھی نہیں ہوگی”۔

“یہ تو واقعہ بڑی جان لیوا دھمکی ہے اب تو کچھ کرنا پڑے گا جاؤ کیا یاد کروگی کسی سخی سے پالا پڑا تھا, میں پوری خوراک لیۓ بغیر چھوڑ رہا ہوں تمہیں پھر کبھی کے لیے “

۔اوزکان یہ کہتا ہوا ُاس کے ماتھے پر لمس چھوڑتا اس کے اوپر سے ُاٹھا پھر اسے بھی ہاتھ بڑھا کر ُاٹھایا جو اپنا سویٹڑ ٹھیک کرتے ہوۓ باہرکی جانب بھاگی تھی ۔

“پاگل”۔اوزکان فریش ہوکر کچن کی جانب گیا نظروں نے اپنی وائلڈ کیٹ کو تلاش کیا مگر اسے ٹی وی لاؤنج کے واشروم کے بند دروازے سے سمجھ آگیا ملائکہ ُادھر ہے ۔ جب ہی اس کا فون ِرنگ ہوا,نمبر دیکھ کر کچھ دیر پہلے والی نرمی کی جگہ سختی نے لے لی۔

“بولو ڈیول کیا خبر ہے”۔

“سر آپ کا شک ٹھیک نکلا ُاسی کا ہاتھ ہے,اس کا زخمی بندہ پکڑا ہے ہم۔نے ُاسی نے ساری بات ُاگلی ہے  “۔

“ٹھیک ہے “۔

” وہ باسٹڑڈ کہا ہے  ِ”۔

“سر فلحال وہ ُروپوش ہوگیا ہے ہم۔نے جن جن جگہوں پر وہ جاتا ہے نظر رکھی ہوئ ہے “۔

“ڈیول جتنے لوگ چاہیے لےلو مجھے ارحم چاہیے کسی بھی حالت میں وہ جو آدمی ہے اس نے کچھ نہیں بتایا “۔

“سر فلحال بےہوش ہے ہم کوشش کرے گے “۔

“میں آرہا ہوں تم اسے آؤٹ ہاؤس لے کر جاؤ “۔

“جی سر “۔اوزکان کے کانوں میں ڈیول کے لفظ گونج رہے تھےاس نے ہاتھوں کو سختی سے بھینچھے دیوار پر مارنا چاہا تب ہی ملائکہ کی آواز نے اسے پلٹنے پرمجبور کردیا۔

“کیا ہوا اوزکان”۔

ملائکہ اس کے چہرے پہ چھاۓ غصے کو دیکھ کر سہم گئ۔اوزکان نے اپنے تاثرات فورًا  بدلے ۔

“کچھ بھی نہیں ہنی مجھے ایک کام ہے وہاں ارجنٹ جاناہے پہلےناشتہ بنالیتے ہے جلدی سے “۔یہ کہتے ہوۓ اوزکان اسے لیے کچن کی جانب بڑھ گیا۔

“پر مجھے کچھ بھی نہیں بنانا آتا اوزکان اماں اور بجو نے مجھے کبھی کچھ نہیں بنانے دیا”۔ملائکہ شرمندگی سے بولی۔

“اگر تمہیں آتا بھی ہوتا تو تب بھی میں تم سے نہیں بنواتا ہنی تم بس میری نظروں کے سامنے بیٹھوں پھر دیکھوں میرا کمال”۔یہ کہ کے اوزکان نے اسے کمر سے تھام۔کر کسی مومی ُگڑیاں کی طرح شیلف پر بٹھادیا۔

“کیا خدمت میں پیش کرو آپ کے ملکہ عالیہ “۔اوزکان کےطرز مخاطب پہ ملائکہ کے چہرے پہ مسکراہٹ چھاگئ۔

“مجھے چیز آملیٹ کھانا ہے جو میں روز کھاتی ہوں “۔

“ہممم۔لڑکی کبھی کچھ اور بھی کھالیا کرو “۔

“تو پھر مجھے حلوہ پوڑی ِکھلادے”۔

“وہ کون سی ڈش ہے میں نے تو پہلی بار نام۔سنا ہے”۔اوزکان  نےانگریزی لہجے میں حلوہ پوڑی کا نام اچھا خاصا بگاڑدیا تھا۔جس پر ملائکہ نے اپنی ِکھلکھلاتی ہوئ مسکراہٹ کو ِبلکل بھی نہیں روکا۔

“یہ پاکستانی ِڈش ہے میں ہر اتوار والے دن کھاتی تھی کراچی میں “۔

“ہم یعنی سنڈے کو ہماری ملکہ صرف وہ پوڑا کھاتی ہے “۔

ہاہاہاہاہاہا۔

“جی ہاں “۔

“چلو ابھی کے لیے چیز آملیٹ پر گزارا کرو کل بناۓ گے تمہارا اسپیشل ناشتہ”۔یہ کہ کے اوزکان نے جلدی جلدی اپنے اور اینجل کے لیے آملیٹ بناۓ پھر ٹوسٹڑ میں بڑیڈ ٹوسٹ کی ان پہ اسپڑیڈ لگائ اور ُسگھڑ خواتین کی طرح اسے کچن میں لگے ڈائیننگ پر رکھا ۔

“آپ کو کچن کا کام کرنا کیسے آتا ہے”۔چاۓ کے لیے تیز تیز چلاتے ہاتھ پر اوزکان نے ملائکہ کی جانب دیکھا۔

“اینجل میں نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی ہوسٹل میں گزاری ہے جب وقت آیا اننے اور بابا کے ساھ رہنے کا تو وہ چھوڑ کر چلے گۓ, اس لیے مجھے ہر کام۔خود کرنے کی عادت ہے “۔اوزکان افسردہ لہجے میں بات کرتا ہوا ملائکہ کو نیچے اتار کر ڈایئننگ کے نزدیک لے آیا۔پھر ُکرسی کھینچ کر اسے بٹھایا پھر خود بیٹھا۔

“آپ اپنا ناشتہ نہیں لاۓ “۔

“لایا تو ہوں  تمہارا میرا ساتھ ہے اب آج سے یہ تمہاری ڈیوٹی یے ,میں بناؤگا اور تم۔ِکھلاؤگی”۔

“کیا”۔

” جی ہاں میں نے بہت آسان کام۔بتایا ہے جلدی سے شروع ہوجاؤ مجھے جانا ہے جلدی”۔

“مگر اوزکان”۔

“اگر نہیں ِکھلاؤگی تو پھر سزا ملے گی, اور میری سزا تمہیں پسند نہیں “۔۔اوزکان کی دھمکی پر ملائکہ نے سٹپٹا کے اسے بڑیڈ کے ساتھ آملیٹ کا نوالہ بنا کر ِکھلانا شروع کردیا جب کے اوزکان نے ملائکہ کی جانب بائیٹ بڑھائ جسے اس نے کچھ پیش رفت کے بعد کھالیا اسی طرح سارا ناشتہ اوزکان اور ملائکہ نے ایک دوسرے کو ِکھلایا ۔”پھر چاۓ کی باری میں اوزکان نے اسے بخش دیا اور کمرے کی جانب قدم بڑھا دیے اپنا ضروری سامان لینے کے لیے ۔

“چلو ڈیڑ تم۔ٹی وی دیکھ کر گزارا کرو یا بجو سے بات کرلو مجھے ایک دو گھنٹے لگے گے آنے میں “۔وہ ملائکہ کے ہاتھ کو اپنے لبو تک لے گیا جس میں ُاس نے چاۓ تھامی ہوئ تھی ۔پھر چاۓ کا گھونٹ بڑھ کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور باہر کی جانب قدم۔بڑھادیۓ ۔

“اپنا خیال رکھنا میری خاطر زندگی”۔
                     ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“بتا کس کے کہنے پر تو آیا تھا وہاں اور کیا مقصد تھا تیرا”۔ڈیول نے اسے بالوں سے پکڑ کر اس کا سر اوپر کیامگر وہ جواب نہیں دے رہاتھا۔ اوزکان کرسی پہ بیٹھا ٹانگ پر ٹانگ جماۓ اپنے پسندیدہ۔مشغلے سیگریٹ پینے میں۔مصروف تھا۔

ْ”ڈیول اس کا ایک کان کاٹ دو پھر دوسرے کان سے سنائ دے گا اسے “۔

“یس سر”۔ڈیول جیسے ہی قینچی لے کر ُاس کی جانب بڑھا وہ ِچلا ُاٹھا۔

“نہیں پلیز مجھےکچھ مت کہنا ہمیں ارحم۔نے بھیجا تھا “۔

“کیا مقصدتھا اس کا “۔اوزکان نے سیگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوۓ پوچھا۔

“ا ا ا اس نے اس لڑکی کی تصویر ِدکھا کر ڑیڈ لائیٹ ایریا میں ُاس کی بولی لگوائ تھی وہ اسے ِاسی لیے اغوا کرانا چاہتا تھا تاکہ ُاسے پیسے بھی مل جاۓ اور علاقہ بھی جہاں ڈڑگز کا کام۔کرسکے”۔اوزکان نے غصے میں اپنے جبڑے کو زور سے بھینچا اور کھڑا ہوگیا ۔

“ڈیول ِاس کی اچھے طریقے سے تواضع کرو مجھے ارحم۔چاہیے کسی بھی صورت میں “۔

“یس سر “۔

“مجھے چھوڑدو پلیز اب تو میں نے تمہیں حقیقت بھی بتادی ہے “۔

اوزکان اس کی جانب واپس پلٹا۔پھر بالوں سے پکڑ کے اس کا سر اوپر کیا۔
“یہ کیا کم ُجرم۔ہے کے تم نے میری اینجل کو ڈڑایا اسے اپنے ناپاک ہاتھ لگاۓ “۔اوزکان نے اس کے منہ پر زور دار پنچ مارا اور باہر کی جانب نکل آیا ۔
                      ۞۞۞۞۞۞۞
دن یونہی بے کیف سے بوجھل گزرہے تھے ملائکہ کمرے میں بنی گیلری میں بیٹھی باہر کے موسم۔سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ اوزکان کی صبح آفس میں ایک اہم۔میٹنگ تھی جس کی وجہ سے وہ آج چار دن بعد آفس گیا تھا ۔اوزکان نے اپنے فلیٹ کے باہر سیکیوڑٹی ہائ الڑٹ کردی تھی ,فل حال جب تک لیٹر نہیں آجاتاتھا اپروول کا اسے اور اوزکان کو یہی رہنا تھا جب ہی ملائکہ کا فون ِرنگ کیا ۔

بجو کالنگ دیکھ کر ملائکہ نے فورًا ُاٹھایا۔

“اسلام علیکم بجو کیسی ہو آپ “۔

“وعلیکم۔سلام می۔می میں ٹھیک ہوں تم۔سناؤ کہا غائیب ہو کہی ترکش بابو کو پیاری تو نہیں ہوگئ”۔

ہاہاہاہا ۔

“بجو کیسی باتیں کرتی ہو آپ, میں آپ کو بہت بہت ِمس کررہی ہوں دل چاہ رہاہے ُاڑ کر آجاؤ آپ کے پاس “۔

“میں بھی تمہیں ابھی بہت یاد کرہی تھی ابھی آفس سے واپس آئ ہوں تو تمہاری پسندیدہ چاٹ والا دیکھ کر ُرک گئ پھر راحیلہ کے ساتھ کھڑے ہوکر وہی کھائ بڑا یاد کیا ہم دونوں نے تمہیں “۔

“کیا یادکرادیا بجو میرے منہ میں پانی آگیا ہے میرا بس دل چاہ رہاہے میں آنکھیں بند کرو اور میرا گھر آجاۓ “۔ملائکہ اپنےگھر کویاد کر کے دلگرفتہ ہوگئ۔

“می۔می میں نے تمہیں اداس ہونے کے لیے نہیں کہا تم۔اپنی پڑھائ پر توجہ دو سب ٹھیک ہوجاۓ گا”۔

“کیا خاک ٹھیک ہوگا بجو ابھی تک وہاں سے کال ہی نہیں آئ میں یونیورسٹی جوائن نہیں کرسکتی”۔

“تو تم۔ترکش بابو سے کوئ سفارش لگواؤ خود ہی تو کہ رہی تھی وہ بڑا ِرچ ہے “۔

“بجو وہ جو کچھ کرسکتے تھے لیگل طریقے سے وہ سب ُانہوں نے کردیا ہے اب آگے دیکھوں,ویسے اماں کہا ہے کتنے دن ہوگۓ ہے ان کی آواز سنے ہوۓ “۔

“”می می وہ برابر والی آنٹی کے گھر میلاد میں گئ ۔ہوئ ہے آۓ گی تو میں بات کراؤگی تم سے “۔

“ٹھیک ہے “۔

“کیا بات ہے می می تم کچھ پریشان لگ رہی ہو کوئ مسئلہ ہے تو بتاؤ مجھے “۔پھر ملائکہ نے ساری بات سنعایا کو بتادی کس طرح وہ جوکر ان پر حملہ آوار ہوۓ تھے۔

“تو تمہارا مطلب ہے اس سب کے پیچھے ارحم کا ہاتھ ہوسکتا ہے  پر تمہیں اتنے یقین سے کیسے کہ سکتی ہو “۔

“کیوں کے بجو وہ اوزکان کو کہ رہے تھے ہماری تم سے کوئ دشمنی نہیں ہے ہمیں بس لڑکی چاہیے “۔ملائکہ نے چیدہ چیدہ ساری باتیں اپنی بجو کو بتا کر دل کا بوجھ ہلکا کرلیا ۔

“اچھا بجو  مجھے چھوڑے آپ اور سناۓ بات کی آپ نے خالہ سے “۔

“ہاں کی تھی کافی دیر بات کی تھی تمہیں اپنے پاس بلانے کے لیے کہ رہی تھی اور می می اب میری بات دیھان سے سنو جو تم۔نے مجھے بات بتائ ہے میں ُاس کے پیش ِ نظر کہ رہی ہوں, بے شک وہ ہماری خالہ ہے پر ہمیشہ یاد رکھنا! پیٹ سے آگے ُُُگھٹنے نہیں ہوتے, وہ کبھی بھی ایسی کوئ بات کرے جو تمہارے لیے فیصلہ ُکن ہو تو میری بہن پہلے ہمیں ضرور بتانا کہی تم۔پہلے کی طرح خالہ کے کہنے لگ کر فیصلہ کرلو بے شک وہ۔ہماری بڑی ہے ہم۔سے پیار کرتی ہے مگر جو ماں ہوتی ہے وہ ماں ہوتی ہے”۔

“بجو تم۔ایسے کیوں بات کررہی ہو کیا ہوا ہے خالہ نے کچھ کہا ہے کیا”۔

“ہاں می می میں تمہیں ابھی بتانا نہیں چاہتی تھی پر پتہ نہیں کیوں میرا دل کہ رہا ہے کے تمہیں سب بتادو پہلے”۔

“بجو میرا دل گھبرا رہا ہے اب بول بھی دو کیا بولا ہے خالہ نے “۔

“می می وہ اماں سے تمہارے اور ارحم۔کی رشتے کی بات کررہی تھی کہ رہی تھی می می کی یونیورسٹی سے اسے ایک ڈیڑ ماہ کی ُچھٹیاں ہوگی کرسمس کی اور سردیوں کی تو وہ شاید پاکستان آۓ گے ُاس کے بعد جب وہ واپس  آۓ گی ایک ڈیڑھ ماہ کے بعد اگر تم اجازت دو تو می می اور ارحم کا نکاح میں تمہاری اجازت سے بڑیڈفوڑڈ میں کردوگی”۔
” می می تم۔سن رہی ہو نہ “۔

“پھر اماں نے کیا جواب دیا بجو”۔ملائکہ کو اپنی آواز نکالنا ِاس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام۔لگ رہاتھا ۔

” پھر اماں نے کہا کے میں می می سے مشورہ کرکے بتاؤں گی تو خالہ ُاس خبیث انسان کے ُگن گانے لگی کے ارحم ان کا لاکھوں میں ایک ہے وہ می می کو بہت خوش رکھے گا تم بس نکاح کی اجازت دے دو ُرخصتی دونوں بہنوں کی ایک ساتھ رکھے گی ویسے می می یہ بتاؤ فون نہیں لیا نہ تم نے  ابھی تک وہی خراب فون استعمال کررہی ہو نہ اسپیکر کھول کے  “۔ملائکہ کی آنکھوں  سےزاروقطارآنسوں بہ رہے تھے۔

“بجو مجھے ُاس شیطان سے بچالو”۔

“می۔می تم۔رو کیوں رہی ہو میں امی کو کچھ اس طرح سے سمجھاؤ گی تم۔دیکھنا وہ خود منع کردے گی تم۔یہ بتاؤ اوزکان کہا ہے کوئ ُسن تو نہیں رہا “۔

“ن نہیں بجو میں باہر اکیلی بیٹھی ہو یار تم۔کچھ کرو پلیزمجھے بچالو مجھے نہیں کرنی شادی ُاس درندے سے “

۔ملائکہ نے روتے ہوۓ پیچھے کی جانب گردن موڑ کے دیکھا تو اوزکان دروازے کے ساتھ ٹیک لگاۓ ہاتھوں میں سیگریٹ تھامے جانے کب سے کھڑا تھا ُفلو ہونے کی وجہ سےوہ اوزکان کی خوشبوں بھی نہیں سونگھ سکی ۔ملائکہ ایک دم سے کھڑی ہوگئ جس سے اس کے ہاتھ کے نزدیک پڑا کپ ٹوٹ کے چکنا ُچور ہوگیا ۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *