Rooh Ka Sakoon Episode 24_27


میں تمہیں کوئی صفائی نہیں دوگا اینجل تمہیں جو سوچنا ہے سوچ سکتی ہو”۔اوزکان نے ایک گہری نظر سے ملائکہ کودیکھا پھر عامر کی جانب پلٹا ۔

“میں باہرجارہاہو گاڑی کاارینج کرنے تم ان محترمہ کے لیے کچھ ُسوپ اوڈر کرو”۔

“میں نے آپ سے شاید کچھ سوال کیا ہے کیا آپ کا اور میرا جانا پہلے سے تہ ُشدہ تھا یا مجھے سوال کرنے کا کوئ حق نہیں ہے جو آپ بنا جواب دیے جارہے ہے”۔ملائکہ لال ہوتے چہرے کے ساتھ اوزکان کو ُگھورنے لگی جو اپنی صحر انگیز آنکھوں سے ُاس کے ُمرجھاۓ ہوۓ چہرے کو دیکھ رہاتھا۔

ملائکہ کیِ اس بات پر ُاس کے چہرے پر ایک گھمبیر مسکراہٹ چھاگئ جسے ُاس کے ڈمپل نے اور بھی خوبصورت دیوتا کی ماند بنادیا تھا جو اپنی ملکہ کے سنجیدہ ہونے کے باوجود اسے اپنی پیار بھری نظروں سے دیکھ رہاتھا مانو ِاس سے زیادہ ضروری ِاس وقت اور کچھ بھی نہ ہو ۔اوزکان نے ملائکہ کی جانب قدم۔بڑھانا شروع کردیے ملائکہ ُاسے اپنی جانب عامر کے سامنے اس طرح بڑھتا ہوا دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہورہی تھی پچھلے دو دنوں سے ُاس نے جو جو اوزکان کی بے باقی دیکھ لی تھی اب اسے اوزکان سے کسی بھی طرح کی امید تھی وہ کبھی عامر کو دیکھتی تو کبھی اوزکان کو وہ۔اپنے قدم۔پیچھے کی جانب بڑھانے لگی ۔اچانک عامر ان دونوں کے بیچ میں آگیا ۔

“ہے مین, میں شاید یہاں موجود ہوں پہلے مجھے تو جانے دو پھر یہ وایلڈ بڑڈز والی لڑائ لڑ لینا”۔

یہ کہ کر عامر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہوا باہر کی جانب بھاگاجس پہ اوزکان کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئ  وہ۔اپنی ملکہ کی جانب پلٹا جو اب سوال کر کے پچھتارہی تھی ۔

“ہاں تو کیا کہ رہی تھی آپ میری پیاری اینجل “۔اوزکان ُاس کی جانب اپنے قدم۔بڑھاتے ہوۓ ُاسے دیکھنے لگا جو پیچھے شیشے کی دیوار ہونے کے باعث ایک دم۔سے اپنا سر دیوار سے ٹکڑاتی پر اوزکان نے اپنا ہاتھ ایک دم۔سے ملائکہ کے سر کی پیچھے رکھ دیا جس سےوہ شیشے کی دیوار کے بیچ میں حائل ہوگیا, جو اپنی ملکہ کے  کانٹوں بھرے راستو ں پر قدم۔رکھنے سے پہلے اپنی ہتھیلی پھیلاۓ وہاں کھڑا ہوتا ہےجو ُاسے ہر تکلیف سے بچانے کے لیے خود ان کانٹوں کی ُچھبن برداشت کرلیتا ہے ۔ملائکہ جو اوزکان کا بڑھتا ہوا ہاتھ دیکھ کر اپنی آنکھیں ِمیچ گئ تھی اوزکان کے اگلےاقدام  پر آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی جو ُاسے چھوٹی چھوٹی سی تکلیفوں سے بھی ایک نازک آبگینے کی طرح سنبھالے رکھتا تھا وہ  اپنی سحر انگیز آنکھوں سے چہرے پہ مسکراہٹ لاۓ اسے خود سے گھبراتے ہوۓ دیکھ رہاتھا۔

“تم کیا سمجھی تھی “۔اوزکان ُاس کے آنکھیں ِمیچنے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ُاسے شرارتی نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔جو اب اپنا ایک ہاتھ ُاس کے سر کے پیچھے سے نکالتا ہوا شیشے کی دیوار پر رکھ گیا,جس سے وہ مکمل ُاس کے ِحصار میں آگئ تھی۔

“کچھ بھی نہیں, مجھے کچھ نہیں پوچھنا آپ ہٹے آگے سے میرے “۔وہ اپنی خمدار پلکیں ُاٹھاتی ہوئ ہیزل گرین آنکھوں سے اوزکان صالیح کی ُبھوری آنکھوں میں سرسری ساجھانکنے لگی جہاں دونوں کو ایک دوسرے کا عکس واضع نظر آرہاتھا۔

“یہ تو ناممکن ہے اینجل اب تم۔بات حق کی کررہی تو یہ تو  بتانا بہت ضروری ہے میرے لیے”۔اوزکان صالیح نے اپنا ایک ہاتھ ملائکہ کے سر کے برابر میں اوپرشیشے کی دیوار پہ ٹکایا جب کے دوسرا ہاتھ اس کے کمر کے نزدیک شیشے پر رکھے ہوۓ بہت ُفرصت سے ملائکہ کو دیکھتے ہوۓ سرگوشی کرنے لگا۔

“اننے اور بابا کے بعد اوزکان صالیح نےاپنے سارے حق ملائکہ اوزکان کو دیۓ ہے تو جیسے چاہے اپنے حقوق استعمال کرو اینجل تمہیں کوئ نہیں روکے گا مجھ سمیت شرط آزمائش ہے”۔اوزکان صالیح نے ملائکہ کی ُجھکی لرزتی پلکوں کو دیکھتے ہوۓ اپنا چہرہ ُاس کےاتنا نزدیک کیا کے دونوں کی گرم سانسیں ایک دوسرے کو ُچھونے لگی, اچانک ملائکہ نے اپنا سر اوزکان کے سینے پر ِٹکا دیا اوزکان نےملائکہ کے سر ِٹکانے پر ُاس کی۔کمر کے ِگرد اپنا بازو حمائل۔کردیا ۔پھر ان  سنہری بالوں پر اپنے دہکتے لب رکھ دیۓ۔

“اوزکان پلیز۔مجھے تنگ مت کرو ,میرے پاس تم۔سے ُچھپنے کے لیےِاس کے علاوہ کوئ جگہ نہیں  تو پلیز مجھے جانے دو مجھ سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا”۔ملائکہ کے اتنے معصومیت بھرے انداز پر اوزکان کو ُاس پہ بے انتہا پیار آیا پر وہ فلحال اپنی ُمحبتوں کے پھول کھلانے کے بجاۓ  ملائکہ کے ُجھکے سر کودیکھ کر ُاسے مضبوطی سے اپنے بازوؤں میں ُاٹھاۓ چل پڑا۔

“اوزکان یہ کیا کررہے ہے پلیز مجھے نیچے اتارے “۔ملائکہ ُاس کے ِحصار میں مچلنے لگی مگر یہاں پرواہ کسے تھی۔

“اگر کھڑا ہوا نہیں جارہاتھا تو کھڑی کیوں ہوئ, جب آپ کا یہ خادم۔موجود ہے تو چلنے کی۔ضرورت کیاہے”۔اوزکان۔ُاسے لیے برابر والے کمرے میں آگیا پھر۔احتیاط سے اسے بیڈ پر بٹھایا۔

“تمہیں کمزوری ہورہی ہے پہلے کچھ کھالو پھر دوائ کھالینا “۔

“م م مجھے کچھ نہیں کھانا بس چاۓ پینی ہے آپ چاۓ منگوادے “۔اوزکان ُاسے بچوں کی طرح فرمائش کرتے دیکھ کر ُکچھ پل ُاسے دیکھتا رہا پھر فون۔کی جانب بڑھ گیا ًاس نے فون پر ِبسکٹ اور چاۓ منگوائ ۔ُاس دوران ملائکہ دواری جانب سے بیڈ سے نیچے اتر رہی۔تھی جب اوزکان ُاس کی جانب آیا ۔

“کہا جارہی ہو  “۔

“و و وہ مجھے فریش ہونا ہے “۔ُاس نے ملائکہ کی جانب دیکھا جو اس کے آگے کھڑے ہونے کی وجہ سے واپس بیٹھ گئ تھی ۔

“آؤ میں تمہیں چھوڑدو “۔

“ن ن نہیں اوزکان میں خود جاؤگی”۔ملائکہ نے جلدی سےاپنے پاؤں سمیٹے تاکہ اوزکان ُاسے نہ ُاٹھاسکے مگر اوزکان نے ایک ہی جھٹکے میں ُاسے بازو سے کھینچھ کر اپنے آگے کیا پھر ایک نازک پھول کی طرح اسے اپنی دسترس میں لیتے ہوۓ ان ُجھکی آنکھوں میں دیکھا جو ُاس کے نزدیک آتے ہے لرزنہ شروع ہوجاتی تھی ۔

“جب اتنی سی جان ہے تمہاری تو میرے آگے کیوں جان لڑاتی ہو, معلوم ہے نہ تم کتنی خاص ہو میرے لیے”۔ وہ ُاسے لیے واشروم کی جانب بڑھنے لگا پھر واشروم کے نزدیک اسے اتارکر خود پیچھے ہوگیا ۔

“میں یہی کھڑا ہوں جب تم فریش ہوجاؤ تو مجھے آوازدے لینا اور اب کی بار اگر تم نے پھر ہمت کی زیادہ چلنے کی اینجل تو یقین مانو پورا دن تمہیں اپنے سے ایک ِانچ دور ہونے نہیں دوگاسزاکے طور پر “۔

ملائکہ اوزکان کی بات سن کر فورًا واشروم کا دروازہ بند کرکے چلی گئ۔اس کے دروازہ بوکھلا کے بد کرنے پر اوزکان نے جانے کتنے عرصے بعد اتنا ُکھل کر قہقہ لگایا تھا ۔

               ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“موم آپ نے تو کہا تھا وہ مجھے دیکھ کر فورًا  مجھے پر عاشق ہوجاۓ گا, عاشق تو دور وہ تو میری طرف دیکھتا بھی نہیں”۔ایپیک نے روتے ہوۓ اپنی ناکامی کا رونہ اپنی موم کے آگی کیا جو اپنی بیٹی کے رونے پر ٹڑپ ُاٹھی ۔

ایپیک تمہیں پتہ ہے تم کس کی بیٹی ہو, تم۔الماس کی بیٹی ہو جو کبھی ہار نہیں مانتے  اگر انہیں کوئ چیز سیدھے سے نہ ملے تو وہ ُاسے چھین لیا کرتے ہے بیٹے ,ہمت مت ہارو ُاس لڑکی کی کوئ کمزوری ڈھونڈو ُاس کی ُاس ُدکھتی رگ پر پاؤ رکھو جس وہ یہ ملک چھوڑ کر بھاگ جاۓ سمجھ رہی ہونہ میری بات کوشش کرو۔جب ان کی انکوائری ہو تم ُاس وقت کچھ نہ کچھ ایسا کروادو جس سے ان کی شادی فیک ثابت ہوجاۓ اس سے شاید وہ اسے ڈیپوڑٹ کردے یا کچھ اور ایکشن لیےلے”۔

“تو ُاس سے کیا ہوگا موم۔آپ اوزی کو نہیں جانتی کیا وہ کوئ غریب ہے جس کے پاس ٹکٹ کے پیسے نہیں  ہوگے ُاس کے ملک جانے کے لیے, اگلا اپنے جہاز پہ چلاجاۓگا جتنا وہ اس کے پیچھےپاگل ہے ,آپ کا یہ فلوپ آیڈیہ ہے کچھ اور سوچے موم”۔

“چلو سب چھوڑو یہ معلوم کرواؤوہ یہاں کس کے پاس آئ تھی اپنے ملک سے, یہ پتہ کرو پھراور مجھے بتاؤ میں خود کچھ کرتی ہوں “۔

“اوکے موم”۔

“اپنا خیال رکھنا “۔

“تم بھی اپنا خیال رکھنا لوو یو”۔

          ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“ہیلو بیٹا اوزکان کیسے ہے آپ “۔نگہت خالہ کی کال پر فرنٹ ِسیٹ پہ بیٹھے اوزکان نے ان کی کال ُاٹھائ۔جب کے عامر ڈڑایئونگ می  مصروف رہا۔

“ہیۓ آنٹی کیسی ہے آپ کیسی طبیعت ہے آپ کی “۔اوزکان بہت خوشدلی سے ان سے ان حال احوال پوچھ رہاتھا ۔

“بس بیٹا پہلے سے بہت بہتر ہے “۔

“اور سہیل کیسا ہے ُاس کی طبیعت میں کچھ سدھار آیا”۔

اوزکان سائیڈ مررسے ملائکہ کودیکھتے ہوۓ ان سے سہیل کا پوچھنے لگا۔

“بس بیٹا پہلے سے کافی بہتری ہے اب ُاٹھ کر بیٹھنے لگ گیا ہے پر ابھی چلنے میں اور بولنے میں ُدشواری ہوتی ہے”۔

“اللہ جلدی ُاسے شفا عطافرمائیں, میں آنا چاہتا تھا اسپتال پر کچھ آفس کی وجہ سےکافی مصروفیت رہی مگر میں آؤگا جلد ملائکہ کو لے کر آپ سے ملوانے کے لیے”۔

“بیٹا میں نے اسی مقصد سے تمہیں فون کیا تھااکیلےرہ رہ کر میں خود کوکافی اکیلا محسوس کررہی تھی کیا تم۔ایک دو دن کے لیے می می کو میرے پاس نہیں چھوڑجاتے”۔نگہت خالہ ارحم۔کے اشارہ کرنے پر اوزکان سے پوچھنے لگی۔

نگہت خالہ بیٹے کی محبت میں آکر دل کی بات زبان پر لے آئ۔اوزکان کچھ پل ملائکہ کے معصوم چہرے کوپیچھے کی جانب پلٹ کر دیکھتا رہا پھر ایک فیصلہ کرتے ہوۓ واپس پلٹا۔

“آنٹی میں می می کو ضرور چھوڑدیتا پر اصل میں ہمیں ِاس ہفتہ کی تاریخ ملی ہوئ کوٹ کی طرف سے, انکوائری ٹیم۔کسی بھی وقت ہم۔سے ملنے آسکتے ہے ورنہ میں ضرور آپ کے پاس بھیج دیتا۔

” ارے نہیں بیٹا کیسی باتیں کررہے ہو تم۔آرام۔سے لانا ُاسے جب کاروائ مکمل۔ہوجاۓ میں پھر کبھی مل لوگی ُاس سے “۔

“ام نہیں ہم۔ایسا کرتے ہے ایک فیملی ڈنڑ رکھتے ہے کہی باہر  آپ بھی مل لے گی اینجل۔سےاس طرح”۔اوزکان نے باہر ِگرتی ہوئ برف کو دیکھ کر کہا ۔

“نہیں بیٹا میں ارحم۔کو چھوڑ نہیں آسکتی ورنہ میں ضرور آتی”۔ارحم اپنی ماں کو ہاتھ سے نہ بتانے کے اشارے کرے پر وہ نہ سمجھی میں اوزکان سے ساری بات کہ گئ۔

“کیا مطپب آنٹی ارحم آپ کے پاس رہتا ہے, آپ تو کہ رہی تھی آپ اکیلے رہ کر بور ہوگئ ہے پھر بھی ملائکہ کو وہاں بلارہی ہے”۔

“اوزکان میرے نہیں خیال یہ تمہارا کنسرن ہے می می میری بھانجی ہے ُاس کے صہیح غلط کی پرواہ ہے مجھے  بیٹے, اور سب سے بڑی بات مجھے میرے بیٹے کا بھی پتہ ہے وہ بدل رہاہے ُاس کا علاج چل رہاہے وہ انشاللہ ٹھیک ہوجاۓ گا, اور مجھے معلوم۔ہے آپ کے بہت احسانات ہے ہم۔پر جو ہم۔ساری زندگی بھی نہیں اتار سکتے پر بیٹے ایک ماں ہونے کی کیا تکلیف ہوتی ہے جب اس کے بیٹے کو کوئ ُبرا بولے جب کے وہ ٹھیک ہونے کے در پر ہو تو کیسا لگتا ہے”۔

نگہت خالہ نے لمبی سانس کھینچھی ۔

“آپ انکوائری کے بعد ملائکہ کو ہمارے پاس چھوڑدیجیے گا میں چاہتی ہوں بچی کچھ دن میرے پاس رہے ٹھیک ہے اپنا خیال رکھیے گا”۔نگہت خالہ نے اوزکان کی بات کا جواب سنے بغیر فون بند کردیا۔ اوزکان آنٹی کے بدلے انداز کو دیکھ کر سوچ مین پڑھ گیا۔

                 ۞۞۞۞۞۞۞۞

“موم آپ کو میرا نہیں بتانا چاہیے تھا اسے “۔ارحم اپنی ماں کو غصے سے دیکھتے ہوۓ کمرے کے ِگرد چکر لگانے لگا۔

“دیکھنا اب وہ اسے نہیں آنے دے گا “۔

“ارحم۔میری جان تم۔اتنے یقین سے کیسے کہ سکتے ہو, وہ بہت اچھا بچہ ہے”۔

“ہا, آپ کے ُاس اچھے بچے کو میں نے دیکھا ُاس کی آنکھوں کی وہ جنونیت مجھے آج بھی یاد ہے, میں نے ُاس کی آنکھوں میں ملائکہ کے لیے پسندیدگی دیکھی تھی موم مجھے یقین ہے آپ آزمالینا وہ ملائکہ کو نہیں بھیجے گا”۔

رحما تم پاگل ہوگۓ ہو وہ می می کو اپنی دوست سمجھتا ہے بس اس سے زیادہ اس کے لیے وہ کوئ اہمیت نہیں رکھتی۔

“چلے دیکھ لیتے ہے موم آپ کے اوزکان صاحب کو  ایک۔ہفتہ تو ہے”۔ارحم کہتا ہوا گھر سے باہر کی جانب نکل آیا

              

رات کے وقت وہ لوگ اوزکان ِولا پہنچے ُ۔سفر کےدوران ملائکہ سوتی ہوئ آئ تھی ِولا۔پہنچنے سے پہلے وہ۔بیدار ہوگئ تھی وہ خود کو کافی اچھا محسوس کررہی تھی وہ۔فریش۔ہونے روم۔میں۔چلی گئ تھی جب کے اوزکان اور عامر لاؤنج میں سیگریٹ کے ساتھ کوفی کے مزے لینے لگے ۔

“اوزی ایک۔بات زہن میں آرہی ہے میرے یار میرے کافی دوست ہے ایسے جو نیشنیلٹی کے لیے کیا کیا کرتے ہے پر یار تونے تومجھے اپنا کوئ پلین ہی نہیں بتایا۔نہ۔تم۔لوگوں کا کوئُ مشترکہ کمرہ ہے نہ تم۔دونوں ایک دوسرے کو سیدھے منہ بولاتے ہو,اور سب سے بڑی بات ِاس ُچڑیل کے ہوتے ہوۓ اگر وہ لوگ یہاں آگۓ تو یہ تو ضرور کچھ کرے گی”۔

سیگریٹ ُپھونکتا اوزکان عامر کے خدشات پر محفوظ ہوتے ہوۓ ایک گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگا ۔

“تجھے کیا لگتا ہے میں اس ایپیک سے ڈڑتہ ہوں ,میں بابا کی وجہ سے برداشت کرتا ہوں, ورنہ میں اسے دو منٹ میں باہر نکال کرو, اور رہی بات پیپرز کی تو ڈیڑ عامر میرے وکیل نے کیس اتنا مضبوط تیار کیا ہے کےہمیں کوئ پروبلم۔نہیں ہوگی, پر یہ ہے کے انکوائری ٹیم کے لیے میں نے پلین کیا ہوا ہے میں  اپنے فلیٹ میں ِشفٹ ہوجاؤگا کل سے”۔

“اور ایپیک اسے کیا کہے گے “۔

“یہ۔میرا ہیڈیک نہیں ہے تو سنبھال ُاس بلا کو مجھے میری وائیلڈ کیٹ کو سنبھالنا ہےاور ویسے بھی میں اسے کیوں ہر چیز ایکسپلین کرو وہ کون ہوتی ہے جسے میں ہر بات بتاؤ ُاسے رہنے کے لیے جگہ چاییے تھی میں نے وہ دے دی ِاس کے علاوہ ہمارے بیچ کوئ گنجائش نہیں  “۔اوزکان اسے کہتا ہوا سیگریٹ کے ُدھوے کو ہوا میں  ُاڑاتاہوا اپنی خوابگاہ کی جانب بڑھ گیا ۔جہاں راہداری میں اسے ملائکہ فون پہباتیں کرتے ہوۓ مل گئ

                    ۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“می می اتنا کچھ ہوگی تیرے ساتھ تونے ہمیں خبر تک نہیں لگنے دی اتنی بڑی کب سے ہوگئ ہے تو جو اتنے بڑے بڑے فیصلے لینے لگی “۔سنعایا کی آواز اسپیکر سے سنائ دے رہی تھی ُاسنے میلسی کا فون لے کر پاکستان کال ملائ تھی چونک اس کا فون خراب تھا اس لءے اسپیکر کھول کر بات کررہی تھی

سنعایا ملائکہ کے منہ سے اوزکان سے مانچسٹر  کی ملاقات سے لے کر شادی کی ساری تفصیلات بتا کے می می کو اپنے دل کا بوجھ کچھ ہلکا محسوس ہورہا تھا۔

“بس بجواب میں کل کروگی بات”۔اس نے راہداری کے پاس اوزکان کوکھڑے ہوۓدیکھا تو فون بندکرنے کا سوچا

“ارے کیوں ابھی تو مجھے اور بھی بہت کچھ پوچھنا ہے مجھے یہ بتاؤ وہ ِدکھنے میں کیسا ہے ہینڈسم  ہے ٹام کی طرح یا بس سوسا موسا “۔ملائکہ نے چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوۓ اوزکان کو سر سے پاؤں تک دیکھا پھر آہستہ آواز میں کہا بلکل خوابوں میں شہزادوں جیسا”۔

“ہاۓ سچی می می پھر تو ُاسی سے  شادی کرلے چھوڑی نہ اسے “۔ملائکہ جو اسپیکر کھولے اپنی بہن سے خالص اردو میں باتیں کررہی تھی ۔

باجو آہستہ بولویار اماں سن لے گی تو مسئلہ ہوجاۓ گا میں ِاسی وجہ سے تمہیں نہیں بتارہی تھی”

“اماں سورہی ہے می می,سب چھوڑو اب یہ بتاؤ تم وہاں سے جو زندہ بچ آئ ہو اور اتنے دن اس کے ساتھ رہی ہو کہی ایسا ویسا ——“۔سنعایا اپنے کمرے کے بیڈ پہ بیٹھی ملائکہ سے موم پھلی کھاتے ہوۓ بے باقی سے سوالات کررہی تھی۔

“نہیں  بجو ایسی کوئ بات نہیں ہماری کاغزی شادی ہے اور ُاس نے مجھے ہاتھ لگانا تو دور کبھی آنکھ ُاٹھا کر بھی نہیں دیکھا “۔ اوزکان صالیح اپنے دونوں ہاتھ باندھیں چہرے پہ گھمبیر مسکراہٹ لاۓ اسے دیکھنے لگا۔

“ب ب ب بجو میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں “۔

“کیوں ابھی تو مجھے اوربھی باتیں کرنی ہے مجھے سہیل کا بھی پورا بتاؤ”۔

“کہی انہیں میری باتیں سمجھ تو نہیں آرہی تھی, جو اتنا مسکراۓ جارہےہے,نہیں نہیں انہیں اردو کہا سے آۓ گی ۔اس نے خود کوتسلی دی۔

“بجو میں تمہیں پھر کال کروگی اماں کا دیھان رکھنا”۔

“خبردار جو میرا فون رکھا۔میں جب تک ساری باتیں کلیر نہیں کروگی مجھے نیند نہیں آۓ گی,ویسے تم۔اسطرح بات کیوں کررہی ہو کیا تمہارے سامنے کھڑا ہے جواب دو”۔

“ہاں بجو بلکل سامنے کھڑا ہے”۔

“کیاکررہاہے “۔سنعایا نے تجسس سے پوچھا۔

“بجو اپنےگھائیل کردینے والے ڈمپل کی نمائش کرتے ہوۓ مجھے دیکھ رہاہے “۔ہاہاہاہا اوزکان نے اپنی ہنسی کو قابو کرنے کی ناکام کوشش کو ترک کردیا اور ِزندگی سے بھرپور قہقہ لگادیا۔

“یہ ہنس رہاہے نہ می می, کیوں, کہی اسے اردو تو نہیں آتی “۔سنعایا بیٹھے سے کھڑی ہوگئ۔

“نہیں بجو لگتا تو نہیں ان کا اردو سے دور دور تک کوئ لینا دیناہے “۔

“پھر ٹھیک ہے تم اسےیہاں سے بھگاؤ یا پھر کہی اور آؤ,مجھے پورا بتاؤ ُاس خبیث ارحم کا بھی اور میرے سہیل کا بھی جلدی”۔اوزکان اپنی چہرے پہ آئ ہلکی ڈاڑھی پہ ہاتھ پھیرتا ہواملائکہ کے نزدیک قدم بڑھانے لگا ۔

“می می بول کیوں نہیں رہی کہا چلی گئ ہو”۔

“بجو وہ وہ سسسہیل بھائ “۔ملائکہ ہکلاتے ہوۓ پیچھے دروازے کے ساتھ لگ گئ۔

“ہاں کیا سہیل آگے بھی بولو “۔

“وووہ بجو”۔اوزکان صالیح ُاس کے نزدیک گیا پھراس کی کمر کے پیچھے ہاتھ بڑھایا ِکلک کرکے آواز آئ۔

“می می میرے ہاتھوں تمہارا قتل واجب ہوگیا ہے اب”۔سنعایا کی آواز فون سے باہر گونجی۔کیوں کے ملائکہ سنعایا کا جواب دینے کے بجاۓ اوزکان کودیکھ رہی تھی جو ُاس کی آنکھوں میں ٹکٹکی باندھیں دیکھ رہاتھا۔

“اب تم۔میری بات سنو سب سے پہلے باہر کے لڑکے تھوڑے نہیں بہت ایڈوانس ہوتے ہے خاص کرکےجو شروع سے باہر ہو وہ بلکل انگریز ہی ہوتے ہے,تم۔تھوڑا محتاط رہنا بات بات پہ پپیاجھپیا کرنا عام۔سی بات ہوتی ہے ان کے لیے تم۔سن رہی ہونہ میری بات “۔ملائکہ اوزکان کے چلتے ہوۓ ہاتھوں کودیکھ رہی تھی جو ُاس کےکمر کے ِگرد حمائل ہورہےتھے ۔جو بلکل دروازے کے ساتھ ُجڑ کر کھڑی تھی اگر اوزکان دروازہ کھولتا تو وہ شایدوہ زمیں بوس ہوجاتی ۔ملائکہ بیک وقت اوزکان اور سنعایا کی وجہ سے بوکھلا کر رہ گئ تھی۔اوزکان نے مزید فاصلہ سمیٹتے ہوۓ ُاس کے اور اپنے بیچ ایک ُانگلی کا فاصلہ رکھ چھوڑاتھا۔ملائکہ کو اپنے پیچھے اوزکان کے ہاتھ کی کاروائ محسوس ہورہی تھی وہ ایک ہاتھ سے دروازہ۔کھولے جب کے دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حائل کیۓ ُاس کے دوسرے کان کے نزدیک یو ہوا کے ایک کان میں سنعایا کی آواز گونج رہی رھی تھی تو دوسرے کان میں اوزکان کی ۔

“اپنی بجو سے کہو سب لڑکے ایک جیسے نہیں ہوتے کچھ میرے جیسے بھی ہوتے ہے جو ایسا رشتہ۔صرف اپنی محرم۔کے ساتھ رکھتے ہے “۔وہ خالص انگلش میں ُاسے کہتا ہوا ُاس کے داۓ ُرخصار پر اپنے لبوں کا لمس چھوڑتا ہوا اسے لیے اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ُ

“ْویلکم ٹو ماۓ روم۔ڈیڑ “۔اوزکان نے اپنی ایک آنکھ دباکر ُاسے فون کی طرف اشارہ کیا۔

“بجو مارے گی مجھے پلیز آہستہ بولو”۔وہ سرگوشی کے انداز میں اوزکان سے بولی۔

“تم بولو میرااوزکان صالیح یہ برداشت نہیں کرسکتا”۔یہ کہ کر اوزکان نے اسے اپنی ِحصار سے چھوڑا,ملائکہ بنا اوزکان کی طرف نظر کیۓ باہر کی جانب بھاگی جیسے اسے دیکھنے پر وہ پتھر کی ہوجاۓ گی پیچھےسے اسے اوزکان کے فلک شگاف قہقے کی آواز سنائ دی۔

“بجو ۔بجو “۔

“کیا ہوا می می سانس کیوں چڑھا ہوا یے”۔

“بجو وہ اوزکان کو اردو سمجھ آتی ہے ُاس نے ہماری ساری باتیں سن لی ہے”۔

“کیا سچ میں تمہیں کیسے پتہ “۔

“سنعایا کے اگلے سوال نے ملائکہ کی سیٹی ُگم کردی

“بجو میں پھر بات کروگی مجھے واشروم جانا ہے اوکے لوو یو باۓ اماں کو پیار کہنا “۔ملائکہ نے سنعایا کا جواب سنے بغیر فون بند کردیا پھر اپنے سر پر ایک ہاتھ رکھ کر وہ صوفے پہ بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لیتے ہوۓخود کو نارمل کرنے لگی ۔

“کتنی شرمندگی ہورہی ہے مجھے اوزکان کیا سوچتے ہوگےمیرے بارے میں ِشٹ”۔ملائکہ سر ُجھکاۓ ُٹو سیٹڑ صوفے پر بیٹھی ہوئ ُاس لمحے کو کوس رہی تھی جب وہ وہ بات کرتے کرتے راہداری میں نکل آئ تھی اور سب سے بڑا بھنٹ یہ کیا کے اوزکان کے دروازے کے آگے ہی جاکر کھڑی ہوگئ۔

ِشٹ “۔

“کیوں میرے نازک ہاتھوں پر ظلم۔کررہی ہو”۔وہ اوزکان کی آواز پر ایک دم سے ُاچھلی جو ُاس کے کمرے کے اندر بند دروازے کے ساتھ ٹیک۔لگاۓ کھڑا تھا ۔

“آپ کب آۓ “۔

“جب آپ میرے خیالوں میں کھوئ ہوئ تھی “۔

“خوشفہمیاں پالنا اچھی بات نہیں “۔

“اچھا پر ابھی باہر بھی اور اندر بھی کوئ میرا نام۔لے لے کر کچھ کہ رہاتھا شاید کچھ ڈمپل کے بارے میں اور کیا کہرہی تھی وہ بجو کے باہر کے لڑکے “۔

“اوزکان خاموش ہوجاۓ “۔ملائکہ نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے۔

“ابھی تو اور بھی بتانا ہے کیا کہ رہی تم۔میں نے تمہیں کبھی بھی ہاتھ “۔اس کی بات مکمل۔ہونے سے پہلے ملائکہ نے صوفے پہ پڑے ُکشن ُاٹھا کر اوزکان کو مارنا شروع کردیۓ جن۔سے وہ آسانی سے بچ رہاتھا جب کوئ بھی ُکشن اوزکان کو نہی  لگے تو ملائکہ نے بیڈ سے اپنے َپلو کو ُاٹھا کر اسے مارنا شروع کردیا ۔

“بات تو پوری کرنے دو می می جی “۔اوزکانُ اس سے جان کر مار کھارہا تھا جو غصے سے لال پیلی ہوگئ تھی۔ اسے ِچڑانے میں ُاسے بہت مزاآرہاتھا ۔

میں آپ کو بتارہی ہوں اوزکان خاموش ہوجاۓ  ورنہ آپ کو دنیا کی طاقت مجھ سے نہیں بچاسکتی “۔

“میں تو یہی چاہتاہوں مجھے تم۔سے کوئ نہ بچاسکے”۔اوزکان نے کہ کے دوسرا َپلو خود ُاٹھالیا پھر کمرے میں ِپلو فائیٹ ِچھڑ گئ۔

“اوزکان آپ بہت بڑے چیٹڑ ہے آپ کو اردو آتی تھی تو شروع میں کیوں نہیں بتایا جب آپ سے میں کتنی باتیں اردو میں کررہی تھی”۔۔

“اگر بتادیتا تو تمہاری تعریفیں کیسے ُسنتا”۔

“یو چیٹڑ”۔ملائکہ۔طیش میں آکر۔اوزکان کو۔مارنے کے لیے ُاس کے پیچھے گئ مگر ُاس کا پاؤ اٹکا اور وہ اوزکان سمیت بیڈ پر ِگری دونوں ایک دوسرے  کو۔دیکھ کر ہنس پڑے ۔کیوں کے دونوں کے چہرے پر بالوں میں کپڑوں پر  ہر جگہ پر پروں کی اجارہ گری تھی ۔اوزکان نے ایک جھٹکا دے کر ملائکہ کو اپنےاوپر سے ہٹا کراپنے برابر میں کیا پھر اپنی جیب سے موبائیل۔نکال۔کر اسے اپنے ِحصار میں لیے دوتین سیلفیاں لی ۔جب کے ملائکہ۔ہونقوں کی طرح اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے پھڑپھڑانے لگی۔جو ُاس پہ ہر طرح سے حق جماتا تھا۔

“اب میری بات سنو میں جس کام۔سے آیا تھا وہ تو تم۔نے مجھے ُبھلادیا, کل ہم۔ہمارے اپاڑٹمنٹ میں جارہے ہےمیرے دوست نے مجھے انفارم۔کردیا ہے کل کی ِلسٹ میں ہمارا نام ہے وہ لوگ انویسٹیگیٹ کرنے آۓ گے تو ہمارا وہاں ہونا ضروری ہے تو کل صبح جلدی ُاٹھنا ہے تاکہ ان کے آنے سے پہلے وہاں پہنچ جاۓ “۔اوزکان نہایت احتیاط سے ُاس کے بالوں اور چہرے سے ایک ایک پر اتار رہاتھاساتھ ساتھ اسے کل۔کے بارے میں ِڈکٹیٹ کررہاتھا جس میں سے آدھی سے زیادہ باتیں ملائکہ غایئب دماغی سے سن رہی تھی

“ُہاتھ ہٹاۓ میرے اوپر سے یہ ڈھائ کلو کا اوزکان مجھے سانس نہیں آرہا”۔وہ ُاس کے مسلز کو نشانہ بناتےہوۓ ِچلائ ۔اوزکان نے فورًااس پہ سے ہاتھ ہٹایا اور خود بھی کھڑا ہوگیا ملائکہ کی طرف ہاتھ بڑھاکے اسے بھی کھڑا کیا۔

“میں میلسی کو بھیج رہاہوں صاف کروالو اپناروم یا میرے پاس آجاؤ آج رات ویسے بھی اب تمہارے بنا نیند نہیں آۓ گی تین دن سے تم۔نے میری عادت خراب کردی ہے”۔وہ اسے اپنے ایک ڈمپل کی نمائش ُدکھاتا ہوا باہر کی جانب نکل گیا جو بچا ہوا ِپلو ُاٹھا کے ُاس کی جانب آئ تھی

                   ۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“ہیے مائیکل تمہیں میرا ایک کام۔کرنا ہے “۔

ارحم رات کے وقت بار میں بیٹھا مائیکل کو پیسوں کا ایک لفافا پکڑارہاتھا۔

“کام۔کیا ہے “۔مائیکل بظاہر بار کا ویٹڑ تھا پر آف ٹاہم۔میں وہ رونی کے ساتھ مل کر دڑگز اور لڑکیوں کو ریڈلائیٹ ایریا تک لےجانے میں مدد کرتا تھا ۔

“کام تو کچھ خاص نہیں تمہارے باۓ ہاتھ کا کھیل ہے لڑکی کی تصویر اور پتہ لفافے میں ہی ہے تمہیں کسے بھی طرح اسے رونی کے اڈے تک لانا ہے باقی کی رقم میں تمہیں کام۔ہوجانے کے بعد دوگا “۔

ارحم مائیکل کو ساری چیدہ چیدہ باتیں سمجھاکر وہاں سے نکل آیا کیوں کے اسے اپنی ماں کا بھروساجیتنا تھا کے وہ ان سب کاموں کو چھوڑ ُچکا تھا۔

                        ۞۞۞۞۞۞۞۞

وہ۔ِاس ترکش اسٹایئل کے بنے چھوٹے سے سٹوڈیو اپارٹمنٹ کو دیکھ رہی تھی جس میں صرف ایک بیڈ روم اور ٹی وی لاؤنج تھا ساتھ ہی اوپن کچن تھا۔پورا اپارٹمنٹ ُفلی فرنشد تھا ۔سب سے حیران ُکن چیز ِاس اپارٹمنٹ میں اوزکان اور ملائکہ کی ایک ساتھ لی گئ کئ تصویریں لگی ہوئ تھی۔وہ۔محویت سے اپنی اور اوزکان کی نکاح والی تصویر دیکھ رہی تھی جو بیڈروم۔میں بڑی سی دیوار کے اوپر لگی تھی۔

“کیسا لگا تمہیں اپنا یہ گھر”۔

“پوچھ تو ایسے رہے ہے جیسے سچ میں میرا گھر ہو”۔ملائکہ تپ کر خود سے اردو میں بولی۔

“اب دیکھوں ایسے تو مت بولو اینجل یہ ہمارا ہی گھر ہے “۔

ُُاف لگتا ہے اب مجھے سندھی یا پشتو سیکھنی پڑے گی “۔ملائکہ کی بات اوزکان کے چہرے پر مسکراہٹ چھاگئ۔

“کرکے دیکھ لو میں وہ بھی سیکھ لوگا “۔

تب ہی بیل بجی ۔

“لگتا ہے وہ آگۓ میں ڈوڑ کھولنے جارہا ہوں براہۓ مہربانی یاد رکھنا تم۔نے اور میں نے لوو میرج کی ہے “۔اوزکان اسے کہ کے دروازے کی جانب بڑھا ایک ِسول ڈڑیس۔میں فیمیل تھی اور ساتھ میں ایک میل پولیس آفیسر بھی اوزکان انہیں لیے اندر آگیا ۔

“آپ۔لوگ پلیز بیٹھے”۔

“ہنی باہر آؤ”۔اوزکان کی آواز پر ملائکہ جو کمرے میں بیٹھی تھی ُاسے ٹھنڈے پسینے آرہے تھے ۔اوزکان کی آواز پر وہ۔کمرے سے باہر آگئ جہاں پولیس آفیسر کو۔دیکھ کر ُاس کی مزید ہوائیاں ُاڑ گئ۔

“بےبی کم۔ہیر”۔اوزکان کی بات پر ملائکہ ُاس کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو تھام۔گئ چہرے پہ بناوٹی مسکراہٹ لاۓ انہیں ہاۓ ہیلو کرتے ہوۓ اوزکان کے ساتھ ہی ٹو سیٹڑ صوفے پر بیٹھ گئ۔

“سو۔مسسز۔اوزکان کیسا لگا آپ کو یورپ “۔

“بہت اچھا لگا مجھے یورپ “۔

“کون کون سے شہروں مین اب تک جاُچکی ہے آپ “۔

“ابھی تک تو کہی بھی نہیں کیوں کے میرے ڈاکومنٹس ڈسٹڑوۓ ہوگۓ تھے”۔اوزکان نے ملائکہ کی نروس ہوتا چہرہ دیکھ کر ُا سکے کندھے کے ِگرد اپنے بازو حمائل کیۓ ۔

“میری وائف کے ڈاکومنٹس کمپلیٹ ہونے کے بعد ہم ہنی مون کا ہی پلین کرے گے”۔

“یہ تو بہت اچھی بات ہے “۔

“مسسز اوزکان آپ دونوں کی لوو میرج ہے “۔فیمیل آفیسر ہاتھ میں تھامی فائیل کو دیکھ کر ُاس کی جاب دیکھنے لگی ۔

“جی ہاں ہماری لوو میرج ہے “۔

“واؤ! ! کہا ملے تھے آپ کو مسٹڑ اوزکان کیوں کے آپ کے ڈاکومنٹس کے مطابق آپ نے مانچسٹڑ میں پچیس کو لینڈ کیا تھا “۔

“جی ہاں لیڈی میں نے اور انہوں نے ایک ہی فلائیٹ لی تھی بس لوو ایٹ فرسٹ سایئٹ والی بات ہوئ تھی ہمارے ساتھ پلین میں یونو  “۔یہ کہتے ہوۓ اوزکان نے ملائکہ کے ُرخصار پر اپنے لب رکھ دیۓ اوزکان کی ِاس حرکت پر ملائکہ نے اوزکان کو ُگھوری ڈالی ۔جو اسے چہرے پہ گھمبیر مسکراہٹ لاۓ دیکھ رہاتھا ۔

“اب اگر ایک اور بار ان کے سامنے مجھے ُچھوا تو میں تمہیں ایسی جگہ مارو گی کے تم۔ُاچھل کر وہاں ِگروگے”۔

ملائکہ نے اوزکان کو خالص اردو میں دھمکی دی جس پر اوزکان نے فلک شگاف قہقہ لگایا ۔

“واللہ ایسا کروگی تو  ہمارے فیوچر کے  بچوں کا کیا بنے گا”۔

“اوزکان کی اس قدر ُکھلی بے باقی پر ملائکہ کا منہ ُکھل گیا جسے اوزکان نے ہاتھ بڑھا کر بند کردیا ۔

“بہت پیار کرتی ہے میری بیوی مجھ سے “۔

اوزکان کی بات پر فیمیل آفیسر مزید سوالات ان دونوں سے کرنے لگی ُاس دوران پولیس آفیسر گھر میں لگی ان کی تصویریں دیکھنے لگا ۔جب کے ملائکہ۔ان کے لیے جوس لے آئ۔

“مسٹڑ اینڈ مسسز اوزکان آپ سے مل۔کر ہمیں بہت اچھا لگا ہم۔آپ کو دوبارہ شاید تکلیف دے یونو آفیشل ورک بھی ساتھ ساتھ ضروری ہوتا ہے “۔

آفیسر اوزکان سے ہاتھ ملاتا ہوا باہر کی جانب نکلا جب کے فیمیل آفیسر ملائکہ سے مل۔کر باہر کی جانب چل دی ۔ان کے جانے کے بعد ملائکہ وہی صوفے پر ڈھیڑ ہوگئ۔

“آپ کوکیا لگتا ہے وہ دوبارہ آۓ گے”۔

ملائکہ نے وہی نیم۔دراز ہوتے ہوۓ اپنی گود میں ُکشن رکھے اوزکان سے سوال کیا ۔جو اب اپنے پیروں کو اسنیکرز سے آزاد کررہی تھی

“لگتا تو ہے یہاں کےُرولز سب کے لیے ایک جیسےہوتے ہے ایک ہی ہفتہ میں دو بار آتے ہے بنا بتاۓ یہ دیکھنے کے لیےکے  ان کی بات میں کتنی صداقت ہوتی یے “۔اوزکان نےسیگریٹ جلاتے ہوۓملائکہ کودیکھ کر کہا۔

“آپ کو اتنی نالج کیسے ہے ان سب کی “۔

“ظاہر سی بات ہے میرے دوست نے مجھے بریفنگ دی ہے اسی لیے پتہ ہے تم۔کیا سمجھی “۔ُاس نے سیگریٹ کاُدھنواں ہوا میں چھوڑتے ہوۓ کہا

“کچھ نہیں”۔ملائکہ نے ُکشن کو اپنے نازک ہاتھوں میں بھینچتے ہوۓ کہا۔

“میرانہیں خیال میں نے تمہیں اپنے علاوہ کسی کو تمہارے اتنے نزدیک آنے کی اجازت دی ہے “۔یہ کہ کر اوزکان لبوں تلے سیگریٹ دباۓ ُاس کے ہاتھوں سے ُکشن کھینچھ کر لے گیا۔

“مطلب سیریسلی آپ ُکشن سے جیلسس ہورہے ہے اوزکان “۔

“آفکورس میں اپنے علاوہ تمہارے نزدیک کسی کو بھی برداشت نہیں کرسکتا چاہے وہ  کوئ بھی ہو “۔یہ کہ کر اوزکا  ملائکہ کے پیروں کے نزدیک بیٹھ گیا۔ُاس نے اپنے پیروں کوسمیٹا اور اپنے پاؤں صوفے سے نیچے لٹکاۓ جبھی اوزکان ُاس کےزانوں پر سر رکھے لیٹ گیا ۔ایک ہاتھ سے سیگریٹ تھامے جب کے دوسرےہاتھ مین اس کا ہاتھ تھامے اسے ُاٹھنے سے باز رکھے ہوۓ تھا ۔

“ایک ہاتھ سے میرا سر دباؤ اینجل بہت درد ہورہاہے آج منع مت کرناپلیز”۔ملائکہ جو اسے منع ہی کرنے والی تھی ُاسے نہ نہیں کرسکی پھر خاموشی سے اپنے ایک ہاتھ سے ُس کا سر دبانے لگی۔مکمل خاموشی ملائکہ کو عجیب عجیب سے وسوسے دلارہی تھی ُاس نے اس خاموشی توڑنے کی اک کوشش سی کی جو۔آنکھیں موندے ملائکہ کے ملائم۔ہاتھوں سے سکون حاصل کررہاتھا۔

انکوائری مکمل ہونے کے بعد کیا میں یونیورسٹی جاسکوگی اوزکان “۔

“نہیں “۔

 

 

“تو پاکستان کب جاؤں گی میں “۔

“اگر پیپرز اپروو ہوگۓ تو شاید اگلے ہفتے ہی جانا پرجاۓ”۔۔

“اور اگر۔نہیں ہوۓ تو “۔ملائکہ نے اس کی بند ُمڑی پلکوں کودیکھا

“تو اس تو کے آگے ملائکہ اوزکان آپ کوسوچنے کی ضرورت نہیں میرے پاس دس راستے ہے تمہیں روکنے کے لیے “۔

“جیسے کے”۔ملائکہ نے اسے اچھنبے سے دیکھا

“بتاؤں گا تو تم۔ُبرا مان جاؤگی,ویسے ُاس سے تو شاید تمہارا پروسس۔جلدی ہوجاۓ “۔

“تو۔پھر۔ہم۔وہی۔پروسس کرلیتے ہے”۔ملائکہ نے ُاس کا سردباتے ہوۓ کہا۔

“نہیں ابھی۔تم۔بہت چھوٹی ہو میں اتنی جلدی تمہیں ان جھنجھٹؤں میں ڈالنا نہیں چاہتا “۔وہ آنکھیں موندے چہرےپہ مسکراہٹ پھیلاۓ ُاس سے سر دبوارہاتھا۔

“جب مجھے کوئ پروبلم۔نہیں تو آپ کو کیا مسئلہ۔ہے “۔اب کے اوزکان  نے اس کی بات پراپنی آنکھیں کھولی ُاپنے سر سے ہاتھ ہٹا کر ُاس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے شکنجے میں کیے اسے اپنے اوپر ُجھکایا ۔

“میرا ذرا سا لمس تو برداشت کر نہیں پاتی مجھے ۔مکمل۔کیسے برداشت کرپاؤگی”۔

“ک ک کیا مطلب “۔ملائکہ نے ہکلاتے ہوۓ ُاس کی جانب دیکھا جو ا ب گلاب کی پنکھڑیوں کی طرف متوجہ تھا۔۔

“آسان سا حل ہے اگر۔تم۔ایکسپیکٹ کرجاؤ تو ہمارا کیس آسان ہوجاۓ گا,میں کہو گا تم  ٹڑیول نہیں کرسکتی میری بیوی کو میری ضرورت ہے اسے میرے پاس رہنے دیا جاۓ,اور ویسے بھی اب تم۔مجھے ُاکسا رہی ہو کے ہم۔سیکنڈ آپشن سیلیکٹ کرے تو میں اسی لیے کہ رہاہوں تم ابھی۔میرے نزدیک اس ذیمداری کو۔نہیں سنبھال سکتی اب آئ بات سمجھ “۔۔اوزکان کی بات پر اس کی کانوں کی۔لوؤے تک۔َُسرخ پڑگئ تھی, اس۔نے اسے تھوڑا اور جھٹکا دے کر ان پھولوں کی نرمی کو تھوڑےسے پلو کے لیے محسوس کیا پھر اسے چھوڑ دیا جو اب لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔وہ اس کا۔سر صوفے پر رکھ کر اندر کمرے کی جانب بھاگ کھڑی ہوئ ۔

“اپ اور آپ کے مشورے دونوں بہت ُبرے ہے ٰ۔۔

“اب کیا کرو  سالی صاحبہ کی بات کا بھی تو بھرم۔رکھنا تھا کے باہر کے لڑکے کیسے ہوتے ہے۔اب اپنی اپنی حاضری ضرور لگؤاۓ میں انتظارکروگی آپ سب کے کمنٹس کا اور لائکس کا۔پھر انشاللہ اگلے ہفتے ملوگی چار پانچ ایپیسوڈز کے ساتھ

ا

About admin

Check Also

Rooh Ka Sakoon Episode 40-42

“ملائکہ کی بچی تو یہ کس کی گاڑی میں بٹھارہی ہے کیوں ِپٹوانے لگی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *