Rooh Ka Sakoon Episode 22_23

 

میں بہت دڑگئ تھی آپ اتنی دیر سے نہیں آۓ تھے میں آپ کوڈھونڈنے نکلی تھی تب وہ بھیڑیاں آگیا”۔

ملائکہ نے اٹک اٹک۔کر اپنی بات پوری کی اوزکان نے اسے کوئ تسلی بھرا جملہ نہیں کہا خاموشی سے اسے خود سے پیچھے کرتے ہوۓ ُاس کا ہاتھ تھامے گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔اسے لیےگاڑی کا پیچھلا دروازہ کھول کر ُاس میں بٹھایا پھر خود باہر کھڑا ہوکر بگڑتے موسم کا جائزہ لینے لگ گیا ۔جب تیز ہوا نے ُاسے وہاں ٹھیرنے نہ دیا تو وہ خود بھی گاڑی کی آگے والی ِسیٹ پرجا کے بیٹھ گیا پھراپنی گاڑی کاجائزہ لینے لگ گیا کے ان تیز ہواؤں کو گاڑی کے اندر آنے سے کیسےروکا جاۓ ۔مگر ایسا کچھ بھی گاڑی میں موجود نہیں تھا جو انہیں ان سرد ہواؤں کے تھپیڑوں سے بچاسکے ۔اوزکان نے اپنے لبوں کو بھینچا اور سیگریٹ نکال کر ُسلگھائ پھر اپنے سر کو ِسیٹ کے ساتھ ٹکاۓ آنکھیں موند گیا ۔جب ہی کسی خیال سے ُاس نے آنکھیں کھولی اور گاڑی سے باہر نکل آیا۔

گاڑی کا پیچھلا دروازہ کھولاسیگریٹ لبوں تلے دبائ اور ملائکہ کے پاس سے ُجھک کے کھانے والی باسکٹ ُاٹھائ , ُاس میں سے زیادہ ترچیزیں خراب ہوُچکی تھی سواۓ پھلوں کے اوزکان نے  سیب نکال کر ملائکہ کے آگے رکھے اور دروازہ بند کرتا واپس آگے آکر بیٹھ گیا۔

“ِاسے دومنٹ میں کھاؤ اور سوجاؤ “۔

“م م مجھے بھوک نہیں ہے  “۔ملائکہ ُاس کے غصے کی وجہ سے پہلے ہی خائف تھی اگر کچھ اور کہا تو یہ سویا شیر اور بپھر جاۓ گا۔

“کیوں! !کیوں ُبھوک نہیں یے کیا گھر سے گاۓ کھا کے نکلی تھی جو بھوک نہیں ہے “۔اوزکان نے ِسیٹ کی ُپشت پر ہاتھ رکھ کے پیچھے پلٹ کر ُاسے دیکھا جو اپنی ہاتھوں کی ُانگلیوں کو چٹخ رہی تھی۔

“بس نہیں ہے ُبھوک آپ کھالے”۔

ملائکہ اپنی ٹانگیں پسارے ان پر شال پھیلاۓ سرگوشی کرتے ہوۓ سر ُجھکاگئ۔اوزکان نے کچھ پل اس کے جھکے سر کو دیکھا پھر دھیمی آواز میں ملائکہ سے مخاطب ہوا۔

“یہ تو میں کھاتا نہیں پھر کیوں نہ تمہیں ہی کھالیا جاۓ کیا خیال ہے “۔ملائکہ جواپنے ُگھٹنوں کے ِگرد ہاتھ لپیٹے بیٹھی ہوئ تھی اوزکان کی بات پرسر ُاٹھایا جسے سن کر اس کے اندر برقی سی دوڑ گئ تھی ۔جو اس کے گھٹنوں کےِگرد لپٹی مخروطی ُانگلیوں کو تھام کر ایک جھٹکا دیےُچکاتھا۔جو جھٹکا لگنے سے اپنے پاؤں کو زمین پررکھ کر خود کو ِگرنے سے بچا گئ۔

جب ہی فلک شگاف آواز کسی چیز کے ِگرنے کی آئ۔ملائکہ اور اوزکان دونوں ُاس آواز کی طرف متوجہ ہوۓ جو ٹھیک ُان کی گاڑی پیچھے سے آئ تھی ملائکہ خوف سے اوزکان کی جانب پلٹی جس پر ُاس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر تسلی دی ۔

“ریلیکس”۔اوزکان نے اس کےشانے پر ہاتھ رکھا جو اوزکان کی جانب کمر کرکے خوف سے ُاس کی ِسیٹ کے ساتھ لگ گئ تھی ۔

“تم یہی بیٹھو میں دیکھ کر آتا ہوں “۔اوزکان نے اپنی جانب کا دروازہ کھولنے کے لیے جیسے ہی ُرخ پلٹا ملائکہ نے اس کا کوٹ تھام لیا۔

“نہیں اوزکان پلیز باہر مت جاؤ کوئ جنگلی جانور نہ ہو “۔

اوزکان نے اپناُرخ پلٹ کر اسے دیکھا جو شاید خوف سے کپکپارہی تھی ۔

“کچھ بھی نہیں ہوگا ریلیکس “۔اوزکان نے دھیمی آواز میں اسے کہا اور گاڑی سے باہر نکل آیا جہاں طوفان اپنی پوری آب و تاب پر تھا اوزکان برف پہ مشکلوں سے اپنے قدم۔جماتا ہوا گاڑی کے پچھلے ِحصے کی طرف آیا جہاں برف کا ایک تودا سا ِگرا ہوا تھا جہاں سے ان کی گاڑی پھسل کر آئ تھی ایسے مومسم میں لینڈ سلائیڈنگ ہوناعام سی بات تھی مگر مسئلہ یہ تھا جہاں ان کی گاڑی کھڑی تھی وہ ٹھیک ڈھلان کے نیچے تھی اگر پھر کوئ تودا گرتا تو ضروری نہیں ِاس دفعہ ہم بچ جاۓ ۔اوزکان کو شدید پریشانی نے گھیرلیاتھا جب ہی ُاس کے زہن میں ایک خیال۔آیا وہ جب سے یہاں پھناے تھے انہوں نے ایک بار بھی گاڑی کو اسٹارٹ کرکے نہیں دیکھاتھا, وہ فورًا  گاڑی کے اندر جا کے بیٹھ گیا کیوں کے باہر کھڑا ہونا ِاس وقت دنیا کا ُمشکل ترین کام۔تھا ۔

“تمہارے پاس کتنے کپڑے ہے سردی سے بچنے کے لیے “۔اوزکان کی بات پر۔ملائکہ نے ُاس کا چہرہ دیکھا جس پر پریشانی جھلک رہی تھی ۔

“اوزکان باہر کیا ہوا تھا وہ کس چیز کی آواز تھی “۔ملائکہ۔نے اوزکان سے پوچھا جو اب دروازہ کھول کر گاڑی کی پچھلی ِسیٹ پر آکر بیٹھ گیا تھا ۔

“کچھ بھی نہیں ہوا تھا”۔اوزکان نے پیچھے کی جانب پلٹ کر اس کا بیگ نکالا ُاس میں سے ُاس کے دونوں بلیزر باہر نکالے اور ملائکہ۔کی طرف بڑھاۓ۔

“انہیں جلدی سے پہنو “۔

“مگر آپ مجھے بتا کیوں نہیں رہے کیا ہوا تھاباہر “۔اوزکان چند پل اسے دیکھتا رہا جس کا چہرہ کچھ ہی وقت میں بلکل۔مُرجھا سا گیا تھا شدید ٹھنڈ کی وجہ سے اس کی ناک لال ہورہی تھی ۔

“تودا ِگرا ہے اوپر سے برف کا مزید بھی ِگرے گے کیوں کے یہ ڈھلان ہے اور ہم۔ُاس کے بلکل نیچے ہے ِاس لیے میں گاڑی کو دوبارہ چلانے کی کوشش کروگا تاکہ وہ سامنے کی طرف لے جاؤ ِاس لیے تم یہ کپڑے جلدی سے پہنو اور نیچے اترو “۔اوزکان اسے تفصیلی جواب دے کر اب اپنے بیگ کی تلاشی۔لینے لگا۔
“پر میں نیچے کیوں ُاترومیں۔بھی ِاسی۔میں بیٹھوگی “۔
“نہیں تم۔نہیں بیٹھ سکتی, پہلی بات گاڑی درختوں پر کھڑی ہے جب میں چلاؤ گا تو یہ ہوسکتا ہے کافی جھٹکے لے, یا نیچے کی جانب ِگرے تو ِاس۔وقت میں تمہیں زخمی ہوتا دیکھنا بلکل افوڑڈ نہیں کرسکتا سو وقت ضایع مت کرو اور نیچے اترو یہ پہن کر “۔
“نہیں میں آپ کو نہیں تنگ کرو گی میں آپ کے ساتھ رہو گی”۔
ملائکہ نے معصوم۔سی صورت بنا کر اوزکان کی طرف دیکھا جو اب اپنا سر ُاٹھاۓ اسے دیکھنے لگا ۔
“تم سیدھے سے میری کوئ بات نہیں مانتی ٹھیک ہے پھر”۔
اوزکان نے ُاس کے منع کرنے کے باوجود ُاسے خود دونوں بلیزر پہناۓ پھر اپنا کوٹ اتار کر وہ بھی اسے پہنایا, ایک آخری بار ُاس کا جائزہ لینے کے بعد اوزکان۔نے اس کی ٹوپی ٹھیک کی اور گاڑی سے نیچے اتر آیا ۔پھر ملائکہ کا ہاتھ تھام۔کر اسے اپنی جانب کھینچھا جو ِسیٹ کے ساتھ لگ ُچکی تھی ۔ُاسے اپنے مضبوط بازوؤں میں ُُاٹھاۓ درختوں سے نیچے برف پر مضبوطی سے قدم جماۓ جس میں پاؤں ِدھس رہے تھے چلنے لگا۔اوزکان ُاسے لیے باۓ جانب درختوں کے قریب لے آیا ۔پھر ُاسے نیچے ُاتارا اور اپنے موبائل کی ٹاڑچ جلائ پھر اسے  ملائکہ کے ہاتھ میں تھمایا۔
“یہاں دیکھوں میری طرف”۔اوزکان نے اس کا چہرہ تھاما جس کا چہرہ خوف سے سفید پڑُچکا تھا۔
” اینجل میں گاڑی کو نیچے اتارنے کی کوشش کروگا اگر ُاس بیچ تمہیں کسی جانور کی کوئ آواز آۓ یا کچھ بھی  غلط لگے تو یہ ٹاڑچ میری طرف ِبلنک کرنا, میں تمہارے بہت قریب ہوں ڈڑنہ مت”۔اوزکان نے سردی اور خوف سے کپکپاتی ملائکہ کے چہرے کو تھام۔کر کہا جس کی آنکھوں میں آنسوؤ کی ُطغیانی جھل تھل کرنے کے لیے تیار تھی ۔
“اوزکان ن ن مجھے بہت ڈڑ لگ رہا ہے پلیز “۔ملائکہ نے کپکپاتے ہوۓ لبوں سے اوزکان کو دیکھ کر کہا جو ُاس کے اناری لبوں کو کپکپاتے ہوۓ دیکھ رہاتھا پھر دل۔کی آوازکو لبیک کہتے ہوۓ ان پہ اپنی مہر ثبت کردی انتہائ نرمی سے کچھ پلو بعد اوزکان نے اپنا سر  ُاٹھایا اور ُاس کے لال ہوتے چہرے کودیکھا جو ٹاڑچ کی روشنی میں اوزکان کی ِاس پیش بندی پر سکتے میں َچلی گئ تھی ۔
“اب تمہیں ڈڑ نہیں لگے گا میرا یہ لمس تمہارے ساتھ رہے گا کافی دیر تک “۔یہ کہ کر اوزکان نے ُاس کے بوکھلاۓ ہوۓ چہرے کو دیکھاُاس کے لبوں پر ہلکی سے مسکرایٹ چھائ جو فورًا  ہی معدوم۔ہوگئ پھر ماتھے پر اپنے لب رکھتا ہوا ُاسے اپنی شال ُاوڑھائ اور درخت کے پاس کھڑا کر کے چلاگیا۔
اوزکان جلدی جلدی گاڑی کی جانب بڑھ گیا پھر گاڑی میں بیٹھ کر ایک لمبی سانس لی اور ملائکہ کی طرف دیکھا جو درخت کے ساتھ لگ کر نیچے بیٹھی ہوئ تھی۔کچھ دیر پہلے والی ملائکہ کا چہرہ یاد کرکے اوزکان کے چہرے پر مسکراہٹ چھاگئ۔
“پاگل”۔پھر اوزکان نے گاڑی اسٹاڑٹ کی اور ُاسے کافی دیر تک چلانے کی کوشش کی جو دو دن سے بند رہنے سے شاید اسٹاڑٹ نہیں ہورہی تھی, اوزکان نے ایک بار پھر کوشش کی ِاس بار گاڑی اسٹاڑٹ ہوگئ اوزکان نے بیک گیر لگا کے اسے پیچھے کی جانب کیا جس سے گاڑی کو ایک جھٹکا لگا مگر وہ ِگری نہیں پھر گاڑی کی اسپیڈ بڑھا کر گاڑی آگے کی جانب چلائ ۔جس سے گاڑی کے ٹائڑ ِچرچراۓ اور آگے کی جانب تیزی سے گۓ اور برف کے اوپر جاکے زور سے جھٹکے کھاتی ہوئ ِگری ۔ملائکہ جو اوزکان کی ُاس حرکت پر بوکھلا گئ تھی ُاس کی بات پر یقین کرگئ جو کتنی دیر تک ُاس کے لمس کو خود سے جدا نہیں کرپاری تھی جو اسے ابھی محسوس ہورہاتھا ۔
جب ہی اچانک اوزکان کی گاڑی کو تیزی سے آگے کی جانب ِگرتے ہوۓ دیکھا جس سے ملائکہ کی ِچیخ نکل گئ وہ برف کے اوپر بھاگنے کی کوشش کرنے لگی جو بہت مشکل تھا وہ جلد سے جلد اوزکان تک پہنچنا چاہتی تھی جس کا سر اسٹیرنگ پر ِگراہواتھا, جو جانے ٹھیک ہوگا بھی یا نہیں ,ملائکہ کو ایسے محسوس ہورہاتھا جیسے اس کی کوئ آہستہ آہستہ جان نکال رہا ہو ُاس کے دل کی ڈھڑکن رفتار پکڑ گئ تھی اسی پریشانی میں وہ حواسباختہ  ہوتےہوۓ  جلد سے جلد ُاس تک پہنچنا چاہتی تھی ۔اس بیچ وہ کئ بار ِگری اوزکان جو جھٹکے لگنے پراپنا سر اٹیرنگ پر ُجھکا گیا تھا ایک دم۔سے سر ِگراۓ اپنے حواس کو قابو میں کرتے ہوۓ  مسکرایا گاڑی کے آگے نکل۔جانے پر ُاس نے کسی خیال کے تہت اپنا سر ُاٹھایا جہاں ًاس نے ملائکہ کو نیچے ِگرتے ہوۓ دیکھا وہ فورًا باہر کی جانب نکلا اور ُاس کی طرف بڑھا جو برف پہ۔منہ کے بل ِگری تھی اوزکان کو برف پر چلنے کی پریکٹس تھی۔وہ۔ملائکہ کی جانب آیا ُاسے کندھے سے تھام۔کر سیدھاکیا اور اسے اپنی گود میں بٹھایا جو برف پر ُگھٹنے ٹیکے بیٹھا تھا۔
ملائکہ شاید زیادہ کپڑے پہنے ہونے کی وجہ سے اپنا وزن سنبھال نہیں پائ اور چار چار ُفٹ تک ِگری اس برف پر منہ۔کے بلِ گری تھی ۔اگر زیادی دیر برف میں کوئ انسان ِاس طرح پڑا رہے تو جسم۔کا۔وہ۔حصہ فروسٹنگ کی وجہ سےجسم سے کاٹ کر الگ کرنا پڑجاتاہے اوزکان نے اسے جلدی سےسیدھا کیا اور ُاس کا ُڑخ اپنی جانب کیا جس کے چہرے پر بھی برف لگی ہوئ تھی تیز تیز سانس لینے کی وجہ سے منہ سے ُدھواں نکل رہا تھا ملائکہ۔کی۔آنکھوں میں آنسوؤں کی جنگ ِچھڑگئ کچھ دیر پہلے اوزکان کا اسٹیرنگ پر ِگرا سر دیکھ کر ملائکہ۔کو۔اپنی جان نکلتی ہوئ محسوس ہوئ تھی۔وہ۔اسے صحیح سلامت دیکھ کر رو پڑی اور اس کے سینے میں منہ ُچھپا گئ جو ُاس کے چہرے سے برف ہٹارہاتھا۔جس کے نیلے پڑتے ہونٹ دیکھ کر اوزکان کو۔تفشیش ہونے لگی تھی
“ملائکہ کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو تم۔بھاگی کیوں تھی “۔
“یہاں دیکھوں میری طرف “۔
اوزکان نے اسے آگے کی جانب کیاجو ُاس کے سینے سے سر ُاٹھانے کے لیے تیار نہیں تھی ۔جو اپنا سر مسلسل نہ میں ہلارہی تھی اوزکان نے اسے جلدی سے ُاٹھایا اور گاڑی کی جانب گیا ُاسے فرنٹ ِسیٹ پر لے کر بیٹھا پھر ہیٹر چلایا ۔
“ملائکہ یہاں دیکھوں میری طرف تم۔ٹھیک ہو “۔
اوزکان نےاسے ایک۔بار پھر آگے کی جانب کیا جو اب بھی اونچی اونچی رورہی تھی ۔
“تم۔بھاگی کیوں, کیا کوئ جانور تھا پیچھے”۔اوزکان نے ُاس کی حالت کے پیشِ نظر قیاس آرائ کی ۔اس نے نہ۔میں سر ہلایا۔
“میں نے آپ کا سر اسٹیرنگ پر دیکھا تو مجھے لگا آپ کو کچھ ہوا “۔وہ اپنی بات بھی مکمل نہیں کرپائ تھی کےہچکیوں کے درمیان اور رونے لگی ساتھ ہی اوزکان کی کمر کےگرد حمائل۔کیۓ اپنے ہاتھوں سے اسے اور زور سے تھاما جیسے وہ۔اوزکان کو۔ُاس لمحے سے بچانا چاہتی ہو جسے سوچ کر ہی اسے کپکی سی طاری ہوگئ تھی۔

#rooh_ka_sakoon

#episode_22

#araz_reshab

۔اوزکان جو ُاس کے بھاگنے کی وجہ کچھ اور سمجھ رہا تھاُاس کی بات سن کر ُاس کے اپنے ِگرد حمائل کیۓ بازوؤں کی سختی سے سمجھ رہاتھا وہ خود کو ُاس وقت کو سوچتے ہوۓ اکیلا محسوس کررہی تھی اوزکان نے اسے تحفظ کا احساس ِدلاتے ہوۓ خود میں زورسے بھینچا مانو وہ دوروحوں کو ایک جسم۔میں ڈھال رہاہو ۔پھر اپنے یخ بستہ لب ان جھیل سی آنکھوں پر باری باری رکھے۔
“میں بلکل ٹھیک ہوں اینجل, اب رونا مت اور ہمیشہ ایک بات یاد رکھنا “۔وہ ُایک ہاتھ سے ُاس کی کمر کے ِگرد بازو حمائیل کیۓ جب کے دوسرے ہاتھ سے اس کے گلاب سی پنکھڑیوں جیسے لب جو ِاس وقت اسے نیلے نیلے لگ رہے تھے وہ اپنے انگھوٹے سے سہلانے لگا مانو وہ ان کا رنگ وروغن واپس لا رہاہو ۔
“یہ کوئ جھوٹ نہیں یے نہ ہی کسی فلم۔کا ڈائیلگ ہے ملائکہ اوزکان ,میری سانسوں کی دوڑ تمہاری سانسوں کے ساتھ ُجڑی ہوئ ہے تو جب تک تمہاری سانسیں چل رہی ہے اوزکان صالیح کو کچھ بھی نہیں ہوسکتا ِاس لیے صرف اپنا خیال رکھا کرو میرے لیے”۔یہ کہتے ہوۓ وہ ان ساکت ہوئ جھیل سی  آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ جن میں ُاسے اپنا عکس نظر آرہا تھا اس نے اپنا ِشدتوں بھرا لمس  ُلٹاتے ہوۓ
ان گلابوں کی شادابی واپس لوٹادی جنہے وہ کافی دیر سے سہلارہا تھا جو سردی کی شدت سے اب نیلے پڑنا شروع ہوُچکے تھے۔ ملائکہ جو اوزکان کی باتوں کو ساکت ہوۓ سن رہی تھی ُاس کے اگلے اقدام۔نے مانو ُاس کی جان نکال۔لی۔ہو کانپ تو وہ پہلےہی رہی تھی پر اب مزید کپکپانے لگی ۔وہ ُاس کے ِگرد حمائل کیۓ اپنے بازوؤں سے ُاسے پیچھے کی طر ف کھینچھنے لگی جو اس پر اپنی۔اور ِشدتیں لوٹانے لگا کچھ پلو بعد اوزکان کو۔لگا اب ُاس کا۔تنفس بگڑ رہا ہے تو ُاس نے نہایت آہستہ سے اسے خود سے الگ کیا جو ُاس کے بازوؤں میں ُجھول گئ ۔
“لگتا ہے میں نے اپنی می می پر زیادہ تشدد کردیا ہے “۔اوزکان کے چہرے پرگھمبیر مسکراہٹ چھاگئ ۔
“مگر یہ کرنا ضروری تھا میری جان “۔وہ ُان گلاب کی پنکھڑیوں کو دیکھنے لگا جو واپس اپنی شادابی پاُچکی تھی ۔اوزکان نے ایک بار پھر آہستہ سے انہیں ُچھوتے ہوۓ ملائکہ کو خود سے الگ کیا پھر ِسیٹ سے نیچے ُاتر کر اسے واپس سیٹ پر بٹھا کر ِسیٹ بیلٹ لگایااور خود دوسری جانب ِگھوم۔کر  ڈڑائیونگ ُسیٹ پر آیا پھر گاڑی کو آہستہ آہستہ سےداۓ جانب چلانے لگا گاڑی ہچکولے کھاتے ہوۓ آہستہ آہستہ چلنے لگی اوزکان کے داۓ جانب وہ ڈھلان تھی جس سے َپھسل کر وہ نیچے آۓ تھے اور باۓ جانب گھنا جنگل تھا جہاں انہوں نے ایک بھیڑیے کو مارا تھاوہ لوگ ُِاس طرف جارہے تھے جہاں اوزکان پہلے نہیں گیاتھا ِاسی لیے اب اوزکان گاڑی کو آہستہ آہستہ وہاں لے جانے لگا تاکہ جہاں تک۔ہوسکے گاڑی کو چلاکر لے جاۓ اوزکان گاڑی کو کافی آگے تک چلا کر لے آیا اچانک ایک ڈھلان سامنے آئ جس کے پاس سے وہ گزر نہیں سکتے تھے ۔اوزکان نے گاڑی۔کو ایسے ُرخ پر کھڑا کردیا جس سے ہوا کا ُرخ دوسری جانب سے ہوگیاجو گاڑی کے اندر نہیں آرہی تھی۔ وہ  ملائکہ کی جانب کا دروازہ کھولتے ہوۓ ُاس کی ِسیٹ کی جانب بڑھا اورایک بار پھرسے ُاسے سردی کی شدت سے بچانے کے لیے اپنے ِحصار میں لیے ُاس کی سیٹ پردراز ہوتے ہوۓ ملائکہ کا سر اپنے سینے پہ ٹکاۓنیم دراز ہوگیا, وہ ُاس پر اور خود پر ایک ہاتھ سے شال پھیلاتے ہوۓ ہیٹر کی اسپیڈ تیز کرکے آنکھیں موند گیا۔گاڑی کے اندر کی اور باہر کی ہیڈلائیٹس جلتی رہنے دی۔۔تاکہ کسی بھی صورت میں ان کی۔موجودگی کا علم ہو تو وہ آسانی سے ان تک پہنچ جاۓ ۔
                     ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
عامر اور پولیس اوزکان کی لاسٹ لوکیشن کو ٹڑیس کرتے ہوۓ ُاس جانب نکل پڑے جو اوزکان نے شیر کی تھی ُگوگل پہ ۔ریسکیو کرنے والے ہیلی ِاس وقت خراب موسم۔کی وجہ سے فلاۓ نہی  کرسکتے تھے ِاس لیے ُاس علاقے کی پولیس کو انفارم۔کردیا گیاتھا ُان کا ُسراغ لگابے کے لیے۔
                ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
ابھی کچھ ہی دیر ہوئ تھی اوزکان کو آنکھیں بند کیۓ جب ہی کسی نے زور سے کھڑکی بجائ اوزکان جو ابھی گہری نیند میں نہیں گیاتھا ہڑبڑا کر۔ُاٹھ گیا۔
باہر ہاتھ میں ٹاڑچ تھامے دولوگوں کو۔دیکھ کر اوزکان کو ایک روشنی۔کی کرن نظر آئ مگر ساتھ ہی ساتھ اسے یہ بھی دیکھنا تھا اکثر ایسی جگہوں پر جرائم۔پیشہ۔افراد بھی ہوتے ہے اوزکان نے  جب انہیں اپنی جانب اشارہ۔کرتے ہوۓ دیکھا تو وہ۔ملائکہ۔کو۔خود سے الگ کرتے ہوۓ گاڑی سے نیچے اتر آیا کافی۔دیر۔کی بات چیت سے جو لبِ ُلباب نکلا وہ۔یہ تھا کے وہ آسٹریلوی شہری تھے جو یہاں کے جنگلات کے چرند پرند پر ِتھیزیز لکھ رہے تھے کے وہ۔شدید سردی۔میں کس طرح گزارا کرتے تھے ۔اوزکان سیمی کی آفر پر اپنے ساتھ کچھ سامان لیتا ملائکہ کو۔ُاٹھاۓ ان کے پیچھے ہولیا گاڑی کے بہت نزدیک۔ہی ایک چھوٹی سی۔ڈھلان کے بعد نیچے کی جانب ان۔کے کیمپ لگے تھے۔
“آپ کو۔کیسے پتہ لگا ہم۔یہاں ہے “۔اوزکان چلتے چلتے ان سے باتیں بھی۔کرتا جارہاتھا۔
“مجھے اور لارا کو رات میں یہاں کے بارے میں کچھ باتیں نوٹ کرنی تھی ہم۔وہی کرنے کے لیے اپنے کیمپ کے نزدیک۔اس مومسم۔میں میں چل رہے تھے تو آپ کی۔گاڑی کا۔ہارن۔سنا۔پھر قریب آنے پر آپ۔کی گاڑی۔کی لائیٹس سے پتہ۔چل گیا یہاں کوئ مصیبت میں ہے تو ہم۔آگۓ”۔جب ہی۔ان کا۔کیمپ۔آگیا جہاں چار پانچ کیمپ لگے ہوۓ تھے جو اس شدید طوفان۔کے تھپیڑے برداشت کررہے تھے ۔لارا اور سیمی انہیں لیے ایک کیمپ کی طرف آگۓ ۔
“آپ انہیں یہاں جلدی سےلے جاۓ یہ میرا کیمپ ہے میں رون کے ساتھ شیر کرلوگا”۔
“اور میں  کوفی بنا کے لاتی ہوں آپ دونوں کے لیے”۔اوزکان سیمی اور لارا کو تشکر امیز نظروں سے دیکھتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں ایک لگژری کیمپ تھا جس میں  داخل ہوتے ہی باۓ جانب سنگل فولڈنگ بیڈ تھا دوسری جانب ایک ٹیبل چیر اس پہ رکھا لیمپ ,ہیٹر  اور چھوٹی چھوٹی ضرورت کی چیزیں تھی دوسری جانب کارنر پر ایک چارجنگ کیٹل اور کھانے پینے کے کینز نظر آرہے تھے۔ اوزکان ملائکہ کو لیے اندر کی جانب کرکے ُاس کے اور اپنے جوتے اتار کر سایڈ پر رکھ ُچکا تھا پھر ُاس نے ملائکہ کو آرام۔سے فولڈنگ بیڈ پر لٹاکےہیٹڑ ُاس کے نزدیک رکھ دیا ۔
“اوزکان کچھ دیر کے لیے زمین پہ بچھے قالین پر اپنی کمر کو سکون پہچانے کے لیے لیٹ گیا جب ہی لارا کی آواز آئ۔
“آجاؤ اندر”۔
لارا کے ساتھ اور ایک لڑکی اندر آئ جسے دیکھ کر اوزکان نے ُاس کے ہاۓ کا جواب سر کو ہلا کے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ دیا۔
“اوز یہ ہے ڈاکٹڑ لیسی یہ ہمارے بیس کیمپ کی ڈاکٹڑ ہے آپ لوگ اپنا چیک اپ ان سے کروالے اور یہ آپ لوگوں کے لیے کافی اور ِفش “۔
“آپ۔کا بہت شکریہ لارا “۔
“شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں آپ اپنی مسزز کا چیک اپ کرالے۔اوزکان نے سر کو جنبش دی اور داکٹڑ کو ملائکہ کی طرف بھیجا۔کچھ دیر کے چیک اپ کے بعد داکٹر نے ملائکہ کی بینڈیج بدلی پھر اوزکان کی طرف پلٹی۔
“گھبرانے کی کوئ بات نہیں یہ شاید ڈڑ سے بےہوش ہوئ ہے تھوڑی دیر میں ہوش آجاۓ گا آپ اپنی بینڈیج بھی ِدکھاۓ”۔
اوزکان نے اپنی بینڈیج بھی چینج کروائ اور کچھ دیر تک لارا, سیمی اور لیسی کے ساتھ گپ شپ لگائ پھر وہ الوداع  کرتے ہوۓاپنے اپنے کیمپس میں چلےگۓ, لارا جاتے جاتے بھی اوزکان کو کوفی بنانے کا سامان اور کیٹل دے گئ, اوزکان ان کا شکریہ ادا کرکے کیمپ کا زپ بند کرتے ہوۓ ملائکہ کی جانب پلٹا جو گہری نیند میں تھی اوزکان سنگل بیڈ پر ُاس کے برابر میں مشکل سے دراز ہوا پھر کچھ سوچتے ہوۓ سوئ ہوئ ملائکہ کو اپنے ِحصار میں لے کر ُاس کا سر اپنے سینے پہ ٹکاۓ وہ بلینکٹ ٹھیک کرتا آنکھیں موند گیا ۔
                  ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“سر آخری لوکیشن یہی کی ہے ِاس کے بعد ان کا گوگل میپ شیر نہیں ہورہا ِاس کا مطلب تحقیقات یہی سے شروع کرو ان کے نمبر کو ٹڑیس کرو جی پی ایس لوکیشن دیکھو اگر آن ہے تو”۔کچھ دیر کے بعد آفیسر نے اپنے دوسرے آفیسر کو کال پہ ان کی لوکیشن کا بتایا کے ان کا جی پی ایس آن ہے اور ان کی لوکیشن ٹڑیس آؤٹ ہوگئ ہے ہم انہیں ریسکیو کرنے جارہے ہے اپنی ٹیم۔کے ساتھ “۔
ان کی باتوں پر عامر کے دل کو سکون ملا مگر ابھی بھی ایک بے چینی سی تھی جب تک ان کو دیکھ نہ لیتا صحیح  سلامت تب تک دل کو قرار نہیں آۓ گا ۔
“آفیسر میں بھی چلو گا آپ کی ٹیم۔کے ساتھ”۔
“نہیں سر موسم۔بہت خراب ہے ہماری ایسے موسموں کی ٹڑیننگ کی جاتی ہے آپ نہیں جاسکتے آپ ہمارا انتظار کرے ہم۔انہیں ٹھیک واپس لے کر آۓ گے”۔آفیسر کی بات پر عامر نے سر ہاں میں ہلایا پھر ان کے آفس سے باہر نکل آیااپنے ہوٹل کی جانب۔
                    ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
رات کے آخری پہر ملائکہ کی آنکھ ُکھلی تو خود کے اوپر وزن سا محسوس ہوا وہ آنکھیں کھولے ماحول سے مانوس ہونے کی کوشش کرنے لگی ُاس نے ایک بار پھراپنی آنکھیں موندی سویا دماغ بیدار ہونے لگا سارے گزرے واقعات فلم۔کی طرح ُاس کے زہن سے گزرنے لگےجبھی ُاس نے اپنی آنکھیں کھولے اوزکان کو دیکھا جو ُاسے اپنے مضبوط قلعے میں قید کیۓ سکون کی نیند سو رہاتھا مانو کتنی راتوں کے بعد نیند میسر ہوئ ہو ملائکہ بنا پلکے جھپکاۓ ُاسے دیکھنے لگی جو اپنی گھنی ُمڑی پلکوں کو موندےُاسے اپنے ِحصار میں لیے کتنا معصوم۔لگ رہا تھا ۔ملائکہاسے کچھ دیر تک دیکھتی رہی پھر دھیمی آواز میں آوزکان سے مخاطب ہوئ۔
“جب تمہارا ڈھلکا سر دیکھا تھا نہ میں نے اوزکان ُاس وقت مانو مجھے ایسا لگا تھا میں ایک بار پھر ُکھلے آسمان تلے آگئ ہوں,مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے مجھے سانس آنا بند ہوجاۓ گا۔میں بس جلد سے جلد تم تک پہنچ جانا چاہتی تھی, تمہیں پتہ ہے اپنے با با کے بعد تم۔پہلے مرد ہو جو۔میری زندگی میں آۓ, جیسے میں چاہتی تھی میرا محرم ہمیشہ مجھ سے دوقدم آگے چلے مجھے راہ دکھانے کے لیے میری رہنمائ کرنے کے لیے تم۔بلکل ویسے ہی ہو میرے خوابوں جیسے جو مجھے چھاؤ دلانے کے لیے خود ُدھوپ میں کھڑاہوجاتا ہے جو میری تکلیف پر ٹڑپ ُاٹھتا ہے, جو میری چھوٹی چھوٹی سی باتوں کا۔بھی خیال۔کرتا ہے تب یقین مانو مجھے اپنا۔آپ دنیا کا خوش نصیب ترین لگتا ہے,میں تمہاری ہر بات پہ دل۔سے یقین رکھتی ہوں مگر کچھ ہے جو تمہارے اور میرے بیچ میں ہے جو ادھورا ہے اور شاید ادھورا ہی رہے گا  ۔
مگر دیکھوں میں بیک وقت کتنی خوش نصیب بھی ہوں اور بدنصیب بھی,خوش نصیب اس لیے کے میرے لیے تمہاری محبت یکطرفہ نہیں ہے اور بد نصیب اس لیے ہوں کےتمہیں پا کے بھی نہیں پاسکتی”۔ملائکہ کی ایک آنکھ سے آنسو اپنی بے بسی کی۔کہانی سنانے لگا ملائکہ نے نہایت احترام۔سے اوزکان صالیح کی کشادہ پیشانی پر اپنے لب رکھے کچھ پل ُاسے دیکھا اور آنکھیں موند گئ کچھ دیر کے توقف کے بعد جب ملائکہ کی سانسوں کی تپش اوزکان صالیح کو ُچھونے لگی جو ُاس کی گہری نیند کی نشاندہی کر رہی تھی,اوزکان صالیح کے چہرے پہ پڑنے والا ڈمپل گزرے وقت کی کہانی سنارہا تھا جو وہ سن ُچکا تھا ۔ُاس نے اپنی صحرانگیز آنکھیں کھولی اور اسے دیکھا آج ُاس کے لبوں سے یہ گہری اور ُپراسرار مسکراہٹ جا نہیں رہی تھی ۔
“یعنی ملائکہ اوزکان اپنے شوہر کے عشق میں ڈوبی ہوئ ہے پر کچھ ہے جو ُانہیں آگے بڑھنے سے روکتا ہے تو چلو ٹھیک ہے میری زندگی اب یہ اوزکان صالیح ہر ُاس چیز کو تمہاری راہ سے ہٹاۓ گا جو تمہارے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے,تمھارے ِاس لمس نے مجھے آج مکمل کردیا ہے یہ میری محبت کا  میرے لیے بہترین تحفہ ہے اب تم دیکھتی جاؤ جو بھی ُامیدو آس تمہارے اندر دبی ہے جسے حاصل کرنا ملائکہ اوزکان کا خواب ہے وہ میں پورا کرو گا تاکہ تمہاری راہیں جو مجھ تک آتی ہے انہیں ہموار کرسکو “۔اوزکان نے انتہائ نرمی سے چہرے پہ آۓ ان آنسوؤ کو بے مول ہونے سے پہلےاپنے لبوں سے ِچن لیا پھر وہ بھی اپنی آنکھیں موندگیا۔صبح ملائکہ کی آنکھ ایک بار پھر اوزکان سے پہلے ُکھل گئ وہ اوزکان کے بازوؤں میں تھوڑا سا کسمسائ جس سے اوزکان کی آنکھ ُکھل گئ ۔وہ ُاس کا اپنی قربت میں لال ہوتا چہرہ دیکھ کر اپنی گھنی منچھوتلیں مسکراہٹ  ُچھپا گیا۔
“ٹھیک ہواب”۔اوزکان نے نہایت توجہ سے ُاس کے کان کے پیچھے بال اڑستے ہوۓ ُاسے دیکھاپھر بیٹھی ہوئ آواز میں سرگوشی کی,  اگرایک کی نظروں میں محبت کا جھلکتا ہوا والہانا پن تھاتو دوسرے کی آنکھیں اپنے احساسات ُچھپانے کی طاقت رکھتے تھے۔ملائکہ نے ُاس کے ِحصار سے نکلنا چاہا مگر شاید وہ ُاسے اپنے ِحصار سے آزاد نہیں کرنا چاہتا تھا, بلکہ اپنی بولتی نگاہوں سے ملائکہ کو پزل کررہاتھاجس پر ملائکہ نے اپنی نظریں ُاس کے سینے سے جھانکتی چین پر مرکوز کردی ۔ُاس کی نظریں پلٹنے پر اوزکان کے چہرے پرگھمبیر مسکراہٹ چھا گئ۔
“مجھے ُاٹھنا ہے اوزکان”۔وہ نظریں نیچے کیۓ بنا ُاس سے نظریں ِملاۓ ُآہستہ آواز میں کہنے لگی اسےاوزکان کی بولتی نگاہوں سے اپنے عارض دہکتے ہوۓ محسوس ہورہے تھے جو مسلسل ُاسے پریشانی میں مبتلا کررہی تھی  ۔وہ کل۔رات سےاس کی بڑھتی نوازشوں سے ِزچ ہوگئ تھی پھر خود ہی ُاس کے ِحصار کو توڑنے کی کوشش کرنے لگی جو مسلسلُ اسے ٹکٹکی باندھیں دیکھنے میں مہو تھا۔جب ملائکہ ُاس کے ِحصار سے نکلنے میں ناکام۔ہوگئ تو اوزکان کی سرگوشی اسے چونکنے پر مجبور کرگئ۔
“ڈڑتی ہو”۔اوزکان کی بات پر ُاس نے ُاس کی جانب دیکھا جس کے چہرے پہ ُاس کا ڈمپل پوری آب وتاب سے ملائکہ کو اپنی طرف متوجہ کررہاتھا ۔
“میں  کیوں ڈڑوگی “۔ملائکہ اپنی ٹون میں واپس آتے ہوۓ بولی۔

#rooh_ka_sakoon

#episode_23

#araz_reshab

کمٹس اور لائکس ضرور کرے
“تو پھر آگے کیوں نہیں بڑھتی”۔اوزکان کی بات پر ملائکہ ُاس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی اس کا اشارہ کس جانب تھا۔
“بھروسہ کرو!! جب کبھی لڑکھڑاؤ گی یہ اوزکان صالیح تمہیں ِگرنے نہیں دے گا”۔ملائکہ ُاس کی صحر انگیز آنکھوں میں جھانکتی۔ُاس کی بات پر دل۔میں لبیک کہتی نظریں پھیر گئ۔
“اوزکان مجھے جانے دو “۔
اوزکان کچھ پل ان ُجھکی کپکپاتی آنکھوں میں جھانکنے لگا پھر ُاسے آرام۔سے اپنے ِحصار سے الگ کردیا وہ ُپھرتی سے فولڈنگ بیڈ سے ُاٹھی پھر کیمپ کو دیکھنے لگی جو ضرورت کے وقت ایک محل سے کم نہ تھا اوزکان۔ُاس کی محویت کو دیکھتے ہوۓ ُاسے چھوڑ کر باہر نکل گیا کچھ دیر بعد داکٹڑ لیسی اندر داخل ہوئ ۔
“ہیلو پڑیٹی گرل میں ڈاکٹڑ لیسی اس بیس کیمپ کی ڈاکٹر “۔ملائکہ خوشدلی سے ُاس سے ملی پھر ُاس نے رات کا سارا واقعہ بتایا کس طرح وہ بےہوش ہوگئ تھی, اوزکان اسے ان کے بیس کیمپ میں کیسے لے کر آیا داکٹر کی باتیں سن کر ملائکہ کے کانوں کی لوؤے تک ُسرخ ہوگئ۔
“ریئلی اینجل آپ کے ہبی بہت پریشان تھے آپ کی وجہ سے بہت محبت کرتے ہے وہ آپ سے”۔
پرچی داکٹڑ کی بات پر ملائکہ سر ُجھکاۓ بیڈ کے اوپر انگشت سے سیدھی ترچھی لکیریں بنانے لگی۔
“انفیکٹ کام۔کی بات تو میں کرنا ہی ُبھول گئ,آپ کے ہبی نے ہی مجھے اندر بھیجا تھا وہ کہ رہے تھے آپ کو ِبخار ہورہاہے “۔داکٹر کی بات پر ملائکہ ُجھکے سر کے ساتھ مسکراہ ُاٹھی ۔کیوں کے ُاس نے تو ُاسے کہا ہی نہیں تھا کے ُاسےُبخار تھا۔وہ جب ُاس اپنے ُحصار میں لیے ہوۓ تھا تب ہی شاید اسے۔محسوس ہوگیا تھا کے ُاسے ُبخار ہے۔
“تم۔سے عشق بےوجہ نہیں ملائکہ ادریس کو”۔ملائکہ نے  خالص اردو میں یہ بات کہی جس پر داکٹڑ ناسمجھی سے ملائکہ کو دیکھنے لگی ۔
“مجھے سمجھ نہیں آئ آپ نے کیا کہا”۔لیسی نے ملائکہ کی طرف دیکھا۔
“کچھ نہیں, آپ مجھے کوئ پین کلر دے دیں ایسا لگ رہا سارا جسم۔ُدکھ رہاہے بخار سے”۔لیسی ملائکہ کی بات سنتے ہوۓ اس کا ٹیمپریچر چیک کرنے لگی پھر کچھ ہی دیر میں لارا, سیمی اور دیگر طالب علم۔جو یہاں آۓ ہوۓ تھے سب باہر ناشتہ ایک ساتھ کرتے تھے ُکھلی ہوا میں, طوفانی رات گزرنے کے بعد اب موسم۔ُکھل گیا تھا ۔ملائکہ کو لیسی دوائ کا کہ کے گئ تھی کے میں آپ کو بھجواتی ہوں آپ جب تک فریش ہوجاۓ پھر وہ لارا کے ساتھ باہر نکلی مگر ُبخار تیز ہونے کی وجہ سے اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا ُ,اس سے پہلے وہ خود کو ِگرنے سے بچانے کے لیے لارا کا سہارا لیتی جو سیمی اور  ریشل  سے باتوں میں مشغول نہ ہوتی تو وہ ملائکہ کو تھام لیتی مگر دو مضبوط ہاتھوں نے اسے زمیں بوس ہونے سے پہلے تھام۔لیا وہ ُاس کے سینے میں  سر دیے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔
“اینجل تم۔ٹھیک ہو “۔ملائکہ نے فورًا اپنا چکراتا سر تھاما پھر اوزکان کے کوٹ کو مضبوطی۔سے تھامے ُاس کے سینے سے سر ُاٹھاگئ۔اپنی بند آنکھوں کوپوری طاقت سے کھولا اور پیچھے ہوگئ اوزکان جو ُاس کے بدلتے تاثرات دیکھ رہاتھا ُاسے نزدیک رکھی فولڈنگ چیر کے قریب لےگیا وہاں بٹھا کے خود ُگھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا ۔
“ٹھیک ہو تم اینجل,ہم۔بس نکل رہے ہے یہاں سے تم یہی بیٹھو پہلے کچھ کھالو پھر دوائ کھاؤجلدی سے,بلکہ یہاں سردی ہے تم۔اندر ہیٹڑ میں چلو “۔وہ  یہ کہ کے بنا ُاسے موقع دیۓ اپنے مضبوط بازوؤ میں لیۓ کیمپ کی جانب بڑھ گیا۔پھر اسے احتیاط سے بٹھا کر ہیٹڑ آن کرتا باہر کی جانب نکل گیا کچھ دیر بعد وہ ُاس کے لیے جیم بڑیڈ اور چاۓ لیۓ اندر آیا ۔ٹڑے سایئڈ پر رکھتے ہوۓوہ وائیپس کا پیکٹ کھولنے لگا , ملائکہ ُاس کی ساری کاروائ دیکھ رہی تھی جو اس کے پاس ُکرسی کھینچ کر بیٹھ گیا پھر ُاس کا ہاتھ تھامے وائپس سے ُاس کا ہاتھ صاف کرنے لگا ملائکہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کی جانب کھینچھا۔
“میں کرلوگی “۔وہ نکاہت زدہ آواز میں بولی۔
“مجھے معلوم۔ہے مگر مجھے پھر بھی کرنا ہے “۔وہ ُاس کی دھونس پر ُاسے دیکھنے لگی جو شاید۔آنے والے وقت میں۔ِاس کے لیے مشکلیں کھڑی کردے گا۔
اوزکان نے ناشتے کی ٹڑےاس کی جانب بڑھائ پھر سلائیس ُاٹھا کر ُاس پر جیم لگانے لگا ملائکہ نے اب کی بار ِزد نہیں کی خاموشی سے ُاس کے ہاتھ سے بڑھا ہوا سلائیس تھام۔لیا اور کھانے لگی۔
                ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“سر ان کی گاڑی تو ِمل گئ ہے پر وہ دونوں یہاں نہیں ہے ہم۔لوگ پیروں کے نشانوں  کی مدد سے ان تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہے ویسے موسم۔صاف ہوگیا ہے ہم۔ہیلی کی مدد سے ان تک پہنچ جاۓ گے ان کی لوکیشن قریب ہی ہے “۔رات والی ریسکیوں ٹیم۔کی جگہ اب دوسری ٹیم جارہی تھی جو پولیس اسٹیشن میں بیٹھے عامر کو ساری تفصیلات دے رہے تھے ۔
“اس کا مطلب ان کا۔ایکسیڈینٹ ہوا تھا “۔
“جی ہاں مگر گاڑی کی حالت کو دیکھ کر نہیں لگتا ان کو کوئ زیادہ۔نقصان پہنچا ہوگا وہ دونوں صہیح تھے کیوں کے ان کے ُپیروں کے نشان موجود تھے انفیکٹ وہاں بیک وقت چار لوگوں کے پیروں کے نشان تھے”۔آفیسر کی بات پر عامر پریشان ہوگیا ۔
“آفیسر آپ لوگ جلدی کیجیۓ کیا پتہ وہ۔لوگ کوئ جرائم۔پیشہ افراد نہ ہو ,کہی وہ کسی مشکل۔میں نہ پھس گۓ ہو آپ جلدی کیجیۓ”۔
عامر پریشانی کے عالم۔میں آفس کے چکر کاٹنے لگا ۔
مسٹڑ عامر آپ بلکل گھبراۓ مت ہم۔انہیں شام۔سے پہلے آپ تک پہنچادے گے”۔
“شکریہ آفیسر”۔
                         ۞۞۞۞۞۞۞۞
“ہیلو ہینا ,کیسی ہو “۔
ہینا نے سر ُاٹھا کر سامنے والے کو دیکھا ۔
“تم۔پھر آگۓ تمہیں پتہ ہے نہ اگر بوس نے تمہیں دیکھ لیا تو پھر میں بھی نہیں بچاپاؤ گی “۔ارحم نے ہینا کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا جو مۓ خانہ میں کاؤنٹڑ کے نزدیک کرسی پہ بیٹھی پینے میں مشغول تھی۔
“ہینا بس ایک موقع دے دو میں ثابت کردو گا مجھے مت نکالو یہاں سے پلیز “۔
“ٹھیک ہے پھر اپنا وعدہ پورا کرو اپنی ُاس کزن کو لاؤ یہاں ہم۔بھی تمہیں جب ہی پورے سال کی ڈوز فری میں دیاکرے گے ساتھ میں اپنا میمبر بنالےگے پھر کسٹمر لانے ہر تمہیں منافع دیا کرے گے,ورنہ جاؤ رونی کی ُچھری کے نیچے “۔ارحم۔ُاس لال۔بالوں والی ناگن کو دیکھتا رہا پھر کاؤنٹڑ پہ سر ُجھکاۓ ُاسے مخاطب ہوا ۔
“میں موقع کی تلاش۔میں ہوں جس دن وہ۔مجھے ملے گی میں ُاسے لے آؤ گا پر تم۔پلیز۔مجھے رونی سے مہلت دلادو “۔
ارحم۔کی بات پر ایک گلاس اور بناتی ہینا نے ُاسے قابل رحم۔نظروں سے دیکھا ۔
“ہماری دنیا میں مہلتیں نہیں ملتی لڑکے, مگر جاؤ تمہیں وقت دیا, تمہارے پاس بس یہ مہینا ہے ِاس کے بعد کی گاڑنٹی میں نہیں لیتی “۔
“بہت شکریہ ہینا تمہارا تم۔نے مجھے موقع دیا اب پلیز میرے پاس یہی پیسے تھے مجھے وہ ُپڑیاں بھی دے دو “۔ہینا ُاس کے پیسے گننے لگی پھر ُاس کے منہ کی طرف ُاچھالتی ہوئ بولی ۔
“یہ اتنے سے پیسوں کی تو تیری ڈاڑ بھی گیلی نہ ہو لڑکے جا کے پیسے اور لے کے آؤپھر ملے گی ورنہ چہرہ مت ِدکھانا اب تم جاؤپہلے ہی تم۔بہت وقت لے ُچکے ہو میرا”۔
ارحم سر ُجھکاۓ اپنے قدم۔واپس گھر کی جانب موڑ ُچکا تھا پیسوں کے لیے۔جہاں ُاس کی بدنصیب ماں اپنے بیٹے کا انتظار کررہی تھی جو اپنے ہی گھر کی عزت کو داغدار کرنا چاہتاتھا ۔
                     ۞۞۞۞۞۞۞۞۞
ملائکہ دوائ کھاکر ابھی لیٹی ہی تھی جب اوزکان ُاسے کہ کر گیا تھا۔
“تم آرام۔کرو میں دیکھتا ہوں واپس کیسے جانا ہے ان کے ساتھ ٰ۔کچھ دیر بعد اوزکان لوٹا تو ملائکہ کو گہری نیند میں پایا جو شاید دوائیوں کے زیر اثر تھی وہ واپس انہی پیروں لوٹ گیا ۔جہاں سیمی نے اسے بتایا کے وہ شہر تک جارہاہے اپنی ِجیپ میں ان کی گاڑی یہی قریب میں کھڑی ہے, بس تھوڑا پیدل چلنا ہوگا ۔پھر اوزکان سب سے ملتا ہوا ملائکہ کو اپنے مضبوط بازوؤں میں ُاٹھاۓ سیمی کے ساتھ برف پر مضبوطی سے قدم۔رکھتے ہوۓ چلنے لگا ۔اوزکان کو۔خود بھی بخار نے گھیر لیا تھا پر وہ سخت جان بنا حالات کا سامنا کررہاتھا  پھر تھوڑی دور ہی چلنے کے بعد اوزکان کو سیمی کی پیلی ِجیپ نظر آگئ بلکہ وہاں تین چار جیپیں اور کھڑی تھی جو شاید ان لوگوں کی ہی تھی۔اوزکان نے احتیاط سے ملائکہ کو۔پیچھے لٹایا پھر سیمی کے ساتھ بات ِچیت کرتے ہوۓ وہ لوگ شہر تک پہنچ گۓ۔اوزکان نے سیمی کو ہوٹل اتارنے کے لیے کہا تھا تاکہ وہاں سے آسانی سے وہ اسے گھر تک لے جاسکے ۔سیمی ان کے لیےہوٹل۔کا روم۔لے کر واپس گاڑی میں آیا پھر اوزکان اس سے مل۔کر ملائکہ کو لیے ہوٹل آگیا  فریش ہونے کے بعد ُاس نے سب سے پہلے عامر کو کال ملائ ۔
“خبیث آدمی کہا ہے تو “۔اوزکان کی۔آواز سن کر عامر لیٹا ہوا ُاٹھ کر بیٹھ گیا ۔
“اوزی تو کہا ہے یار “۔اوزکان نے اسے اپنے ہوٹل۔کا نام۔بتایا عامر فورًا  کھڑا ہوا ۔
“میں بھی اسی ہوٹل میں ہوں روم۔نمبر بتا میں آگیا بس”۔
اوزکان کا نمبر بتانے کے بعد عامر بنا فریش ہوۓ اس کے کمرے کی جانب بھاگا بیل۔دینے پر اوزکان نے دروازہ کھولا تو عامر سیدھا اس کے گلے لگ گیا ۔
“کہا چلاگیا تھا تو یار مجھے چھوڑ کر, ایسے کرتا یے کوئ ڈڑائیو اگر تجھے کچھ ہوجاتا توپھر “۔
عامر آنکھوں میں آنسوں لیے اوزکان سے بولا جو اپنے دوست کو ُاس کے لیے اتنا پریشان دیکھ کر خوش ہوگیا۔
“تو کیا لڑکیوں کی طرح رو رہا ہے میں بلکل ٹھیک ہوں  یہاں دیکھ “۔اوزکان عامر کو سیدھا کرنے لگا جو اپنے بازوں سے اپنے آنسوں صاف کررہاتھا۔
“مجھے معاف کردے یار یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے نہ۔میں تم لوگوں کو وہاں بھیجتا نہ یہ سب ہوتا “۔
“کیا بکواس کررہاہے”۔
“ملائکہ کہا ہے وہ ٹھیک۔ہے “۔
عامر کو۔ایک۔دم۔سے ُاس کا خیال آیا اور بیڈ کی طرف اشارہ کیا ۔
“دوائیوں کے ِزیر اثر ہے سردی سے ُبخار ہوگیا ہے ہم۔دونوں کو ,چل اب باتیں بہت ہوگئ اچھا سا کچھ کھلا مجھے”۔
اوزکان کی بات پر عامر نے سر ہلایا پھر اسے پوچھا نیچھے کھانے چلنا ہے ۔
“نہیں اینجل اکیلی ہوجاۓ گی اوپر ہی منگوالو لاؤنج میں چلتے ہے “۔عامر نے پھر کھانا اوپر ہی منگوایا ۔
“یار مجھے معاف کردے مجھ سے غلطی ہوگئ تھی میں نے پری پلین تم۔دونوں کو وہاں بھیجا تھا تاکہ تم۔دونوں کو کچھ وقت قدرت کے نزدیک اکیلے گزارنے کا موقع ملے,مگر سب ُالٹ ہوگیا جو جو میں نے سوچا تھا “۔عامر اوزکان کے سامنے شرمندہ حالت میں سر ُجھکاۓ بیٹھا تھا “۔
اوزکان اپنے دوست کا سر ُزیادہ دیر ُجھکا دیکھ نہ پایا اور چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوۓ اسے بولا۔
“یعنی عامر صاحب اس کیے افسردہ ہے کے ان کا پری پلین میرے اور ملائکہ کے لیے ہنی مون پروگرام۔خراب ہوگیا”۔ِاس سے پہلے اوزکان مزید کوئ بات کرتا ملائکہ بیدار ہونے کے بعد لاؤنج سے آتی آوازیں سن کر اسی جانب آگئ جہاں عامر اور اوزکان کی ُاس کی جانب کمر تھی۔
وہ اوزکان کے منہ سے آدھی ادھوری بات سن کر سکتے میں آگئ ۔
“کیا مطلب میں سمجھوں اس بات کا”۔ملائکہ لال ہوتے چہرے کے ساتھ اوزکان کو سرد نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
“آپ مجھے اس مقصد کے لیے لے کر جارہے تھے”۔
“ؔملائکہ تم۔غلط سمجھ رہی ہو “۔عامر ایک دم سے کھڑا ہوگیا۔
“آپ بیچ میں مت بولے, سوال کرنے کا حق مجھے صرف ان سے “۔ملائکہ نکاہت کے باوجود اوزکان کو دیکھنے لگی ۔
                ۞۞۞۞۞۞۞
“موم ایک بات پوچھو”۔ارحم۔اپنی ماں کی گود میں سر رکھے مخاطب ہوا۔
“بولو بیٹے “۔
“موم وہ ملائکہ کہا چلی گئ ُاس دن کے بعد سے مجھے ُاس سے معافی مانگنی تھی اپنی غلطی کی میں بہت شرمندہ ہوں اپنے گناہ کے لیے جو میں نے کیا تھا میں ُاس وقت نشے کی حالت میں تھا موم مجھے حرام۔اور حلال میں فرق بھول گیا تھا,آپ مجھے اس سے ملوادے مجھے ساری رات بے چینی سے نیند نہیں آتی مجھے ایسے لگتا ہے جیسے وہ مجھے بددعائیں دیتی ہوگی کیوں کے میں نےاس کے ڈاکومنٹس جلادیۓ تھے”۔ارحم جھوٹے آنسوں بہاتا ہوا اپنی ماں کو شیشے تلے اتارنے لگا۔
“بس میری جان وہ وقت اچھا نہیں تھا, میں ملائکہ سے تمہیں ملوادوگی تم۔ُاس سے معافی مانگ لینا”۔
ْموم میں آپ سے ایک بات  کہو  اگر آپ ُبرا نہ مناۓتو میں  نے آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا میری ایک خواہش پوری کردو موم میں اپنا علاج کرواؤ گا آپ جو بولو گی میں وہ کرو گا موم پر مجھے ملائکہ سے پہلی نظر کی محبت ہوگئ ہے میں ُاس کے بغیر اب جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا آپ پلیز میری شادی اس سے کرادو, اس طرح اس کا مسئلہ بھی ہل ہوجاۓ گا  پلیز موم میری پیارہ موم “۔ارحم اپنی ماں کی گود سے سر ُاٹھا کر اس کے پاؤ دبانے لگا ۔
“ارحم چھوڑو میرے پاؤں, یہ اب نہیں ہوسکتا تم اگر مجھے پہلے بتاتے تو شاید میں کربھی دیتی پر میری جان میں نےاس کے ڈاکومنٹس کی وجہ سے ایک ترکش لڑکے سے ُاس کی پیپر میرج کرادی ہے, یہ فیصلہ اب ملائکہ خود لے سکتی ہے جب تک اس کے ڈاکومنٹس مکمل ہوگے تب ہی وہ اپنے ہزبینڈ سے طلاق لے گی, خیر یہ قبل ازوقت ہے تم خود کو سدھارو پہلے پھر میں بات کرو گی فرزانہ سے مجھے پتہ ہے میرے بہن مجھے کبھی منع نہی  کرے گی”۔
“مگر موم آپ مجھے ملائکہ سے ملوا تو دے مجھے معافی مانگنی ہے اس سے “
کمٹس اور لائکس ضرور کرے

About admin

Check Also

Rooh Ka Sakoon Episode 40-42

“ملائکہ کی بچی تو یہ کس کی گاڑی میں بٹھارہی ہے کیوں ِپٹوانے لگی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *