Rooh Ka Sakoon Episode 19_20

ویسے بھی می می پریشان ہوجاۓ گی۔ وہ یونیورسٹی سے آکے سو گئ ہوگی “۔سنعایا نے اپنی اماں کے ماتھے پر بوسہ دیا اور انہیں ُاٹھانے لگی۔
“چلے آپ مجھے جلدی سے اپنے پیارے ہاتھوں سےحلوہ بناکر دے بہت دن ہوگۓ ہے آپ نے مجھے نہیں ِکھلایا”۔

سنعایا کی بات پر اماں بستر سے کسلمندی سے ُاٹھ گئ پر اندر سے وہ می می کے لیے بے چین ہورہی تھی ۔
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                        ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
سر میں درد اتنا شدید ہورہا تھا کے اوزکان کو سمجھ نہیں آرہا تھا ہوا کیا ہے کچھ پل اسی طرح اپنا سر کسی کے شانے پر ُجھکاۓ رکھا جب اعصاب نے کام۔کرنا شروع کیا تو گزرا واقعہ فلم۔کی طرح بند آنکھوں کے آگے سے گزرا,  آخری منظر جو اوزکان کی نظروں سے گزرا تھا وہ تھا ملائکہ کا  خون سے بھرا ہاتھ اور چہرہ ۔
“اینجل “۔اوزکان نےآنکھیں کھول کر  ِچلا کر اسے ُپکارا اوزکان نے اپنے ہواسوں کو قابوں میں کرتے ہوۓ نظردوڑائ تو ملائکہ اس کے سینے سے لگی ہوشوحواس کھوۓ بیٹھی تھی ۔اوزکان نے جلدی سے اس کا چہرہ بالوں سے تھام۔کے اپنے سامنے کیا جس کے آدھے چہرہ پر خون ُسوکھ گیاتھا ۔
“می می آنکھیں کھولو”۔اوزکان نے اس کا چہرہ تھپتھپایا, مگر ملائکہ آنکھیں نہیں کھول رہی تھی اوزکان نے اس کی دل۔کی ڈھڑکن چیک کی جومدھم چل رہی تھی, اس نے ملائکہ کو زور سے خود میں بھینچھا جس کی سانسوں دوڑ ُاس سے  ُجڑی تھی ۔

“میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوگا اینجل بس مجھے اکیلا مت چھوڑنا “۔اوزکان نے ایک۔بار پھر اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں بھینچھا پھر اسے آگے کی طرف کرکےنہایت احتیاط سے اپنی بیلٹ کھولی اور اپنی ٹانگوں کوہلانے کی کوشش کی تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ شل۔ہوگئ تھی۔اوزکان نے لمبی سانس کھینچھی پھر ملائکہ کو دوسری ِسیٹ پر کسی نازک۔گڑیا کی طرح بٹھا کے سیٹ بیلٹ لگائ اور اس۔کی پیشانی پر اپنے لب رکھے۔
“گھبرانہ مت میں بس ابھی آیا اینجل “۔یہ کہ کے اوزکان نے اپنی طرف کا دروازہ۔کھول دیا اس نے باہر کی جانب قدم۔رکھا توتقریباً ایک ُفٹ کی اونچائ پہ گاڑی ٹوٹے ہوۓ درختوں کے اوپر چڑھی ہوئ تھی جس کی وجہ سے اوزکان ایک جھٹکے سے نیچے برف پر ِگرا,  اس نے کھڑے ہوکر آس پاس نظردوڑائ دن کی روشنی میں یہ علاقہ اسے اب نظر آرہا تھا جو سوکھے ہوۓ درختوں پر برف کی چادر سے ڈھکا ہواتھا۔اوزکان نے لکڑی پر چڑھ کر گاڑی کا پچھلا 66 کھولا وہاں سے اس نے سب سے پہلے پانی کی بوتل نکالی پھر ملائکہ کی طرف سے آکر دروازہ کھولا اور اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھاۓ برف کی چادر پر لٹایا پھر ُاس پر پانی کے چھینٹے مارے پر وہ ہوش میں نہیں آرہی تھی اوزکان جیسے مضبوط اعصاب والے انسان کو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ دنیا کا بے بس انسان ہو جس کی زندگی اس کے سامنے ِریت کی۔مانند ِپھسل رہی تھی ۔ اوزکان نے اسے زور سے جھنجھوڑا,  اس کی سانسیں چیک کی جو بہت ہلکے چل رہی تھی پھرکچھ سوچتے ہوۓ اوزکان نے اسے مضنوعی تنفس دیا ایک بار پھر اسے دیکھتا پھر دوبارہ وہی عمل۔دہرایا تیسری بار میں جب اوزکان نے ناک بند کرکے وہی عمل۔دہرایا تو ملائکہ کھانستی ہوئ آنکھیں کھول گئ۔جس پر اوزکان کے جسم۔میں جیسے کسی نے روح ُپھونک دی تھی ۔وہ دیوانہ وار ملائکہ کو خود میں بھینچ گیاتھا ۔
“اس طرح کوئ کرتا ہے اینجل اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو پھر “۔وہ دیوانہ۔وار اس کے چہرہ پہ اپنی دیوانگی کے پھول ِکھلاتا چلا گیا۔ملائکہ اپنی ُمندی ُمندی آنکھوں سے اسے دیکھنےلگی جو ُاس کے لیے واقع کوئ دیوانہ۔لگ رہاتھا۔
“اووووزکان”۔ملائکہ نے نہایت مدھم۔آواز۔میں اسے ُپکارا گلے میں ایسے لگ رہاتھا خراشیں ُاٹھ رہی تھی پیاس کی وجہ سے۔
“ہاں می می آنکھیں کھولوں کہا لگی ہے تمہیں “۔
میری طرف دیکھوں ادھر بتاؤ مجھے “۔اوزکان نے اسے ٹھنڈی زمین سے ُاٹھایا اور اپنے ِحصار میں لیے بیٹھ گیا پھر پانی کی بوتل اس کے منہ سے لگائ۔جسے ُاسے نے ایک ہی سانس میں پی لیا ۔
“تم ٹھیک ہواب “۔اوزکان نے ملائکہ کے چہرے سےخون میں نوچڑے سوکھےِچپکے بال آہستہ سے ُاس کے چہرے سے پیچھے کیا ۔ملائکہ نے سر ہاں میں ہلایا۔پھر اوزکان ُاس کے چہرے پر غور کرنے لگا, کے اسے زخم کہا لگا تھا ۔پھر غور کرنے پر ُاسے ُاس کی ماتھے اور کان کے بیچ کی جگہ پر زخم۔نظر آیا۔
“اینجل ادھر دیکھو تم۔میرے سہارے کے بغیر یہاں بیٹھ سکتی ہو”۔اوزکان نے اپنے سینے سے سر ٹکاۓ ملائکہ کو ُپکارا جو آنکھیں موندے ُاس کے ِحصار میں بیٹھی تھی۔
اوزکان کے پوچھنے پر۔ملائکہ نے ہلکے سے نہ میں سر ہلایا ۔

“ٹھیک ہے تم ایک منٹ ُرکو”۔اوزکان نے اسے اپنےایک ہاتھ کے سہارے بٹھا کے اپنے ایک بازو سے اپنا کوٹ ُاتارا پھر اسی طرح دوبارہ یہی عمل دہرا کے ُاس نے اب ملائکہ کو باۓ جانب کے بازو کی طرف کرکےاپنا دوسرا بازو سےکوٹ نکالا پھر ُاسی کوٹ کو زمین پر ڈال کر ُاس پہ ملائکہ کو احتیاط سے لٹایا ۔
“ملائکہ تم یہی لیٹو میں گاڑی سے ضروری سامان لےکر آیا اوکے “۔اوزکان تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ُاس کی پچھلی سائیڈ سے جو سامان ُاس نے پیٹڑ سے کہ کے رکھوایا تھا ُاس میں سے ایک سب سے ضروری چیز میڈیکل باکس بھی تھا۔وہ اسے نکال کر واپس ملائکہ کی جانب آیا ۔ڈھلان پہ بیٹھ کر  ُاس کا سر اپنے اوپر رکھ کر   کاٹن کی مدد سے خون صاف کرنے لگا پھرکاٹن کے اوپر  ڈیٹول لگا کے ُاس کے چہرے پر سے زخم۔کو صاف کرنے لگا,زخم۔صاف کرکے فوری طور پر اس پہ بینڈیج کی پھر ُاسے اور جگہ سے چیک کیا جہاں جہاں اسے خراشیں آئ تھی وہاں وہاں ُاسے کریم لگائ پھر پینکلر اور آدھی نیند کی گولی کھلاکروہ اسے واپس گاڑی کی پچھلی ِسیٹ کی جانب لے آیا وہاں اسے احتیاط سے لٹاکر اس پر اپنی گرم شال ڈالی۔
اپنی آنکھیں بندکرلو میں یہی ہو تم۔سوجاؤ “۔پھر کچھ پل اسے دیکھنے کے بعد ُاسے تسلی ہوئ کے وہ غنودگی میں چلی گئ ہے تو اپنی نظریں فون کی تلاش میں ڈوڑائ, ُاس نے آگے کی ِسیٹ کی جانب آکرساری ٹہنیاں اور  جھاڑیاں جو رات کوشاید ٹکڑاتے ہوۓ گاڑی کے اندر ِگری تھی انہیں باہر کی جانب پھینکا پھر اپنی ِسیٹ کے نیچےسے اپنا موبائیل ِگرا ہوا ِمل گیا اوزکان نے جلدی سے ُاس پر کال ملانے کی کوشش کی پر ُاس پر سگنل نہیں آرہے تھے ۔
“ِشٹ, سگنل کیوں نہیں آرہے “۔اوزکان غصے کی حالت میں بار بارکوشش کر رہاتھا پر سگنلز نہیں آرہے تھےوہ گاڑی سے  باہر نکل کر اونچی ڈھلان پر موبائیل اونچا کرکے کھڑا ہوگیا کے شاید کہی سے سگنل آجاۓ مگر کوشش بے کار جارہی تھی وہ بے بسی سے گاڑی کی پچھلی ِسیٹ کی جانب ایک بار پھر آیا جہاں ملائکہ دوائ کے زیر اثر سورہی تھی  ۔

ُِاس نےغصے میں گاڑی کے اوپر زورسے ُمکا مارا, اسے اپنی بےبسی پر اس وقت بہت غصہ آرہاتھا کے وہ کچھ نہیں کرپارہا تھا ۔اوزکان کو اندازہ ہورہاتھا وہ اکثر عامر کے ساتھ ایسے علاقوں میں ِشکار کے لیے آتے تھے جن۔کی گورنمنٹ اجازت دیتی تھی اسے معلوم تھا شام۔کے بعد ایسی جگہوں پر جانور ُکھلے عام گھوم۔رہے ہوتے ہے۔اور سب سے بڑی پریشانی کی وجہ اوزکان کے لیے ِاس وقت گاڑی کا ٹوٹاہوا شیشہ تھا اگر سردی سے بچنے کے لیے گاڑی میں بیٹھ بھی جاتے تو ہیٹڑ لگانے کا فائدہ نہیں ہوتا۔اوزکان خود کو ہر طرح کی آنے والی ُمصیبت کے لیے تیار کررہاتھا ۔پھر ُاس نے خاموشی سے اسپرٹ سے اپنے سر کے زخم۔کو صاف کیا اور ُاس پر بینڈج لگائ باقی چھوٹی چھوٹی خراشوں پر ُاس نے کریم۔لگائ ۔
گاڑی سے باہر نکل کر اوزکان  اونچی جگہ چڑھ کر کہی آبادی ڈھونڈنے کی کوشش کررہا تھا پر وہ زیادہ دور نہیں جاتا تھا کے اگر راستہ بھٹک گیاتو اور مسئلہ ہوجاۓ گا وہ خاموشی سے یونہی موبائل کے سگنلز چیک کرتا رہا کے کہی سگنلز مل جاۓ مگر ہر طریقہ بے سود ثابت ہورہا تھا وہ ڈھلتی شام۔کے ساۓ دیکھ کر پریشان ہورہا تھا اسے کئ گھنٹے گزر ُچکے تھے کوششیں کرتے ہوۓ  تب ہی ملائکہ کے کراہنے کی آواز آئ اوزکان ُاس کی پیروں کی جانب کا دروازہ کھول کے ُاس کے نزدیک  آیا جہاں وہ دوائ کے زیر اثر غنودگی میں کچھ بڑبڑارہی تھی,ایک۔دم۔سے ُاس کی آواز اونچی ہونے لگی وہ شاید رات والا حادثہ نیند میں دیکھ رہی تھی ۔اوزکان نے اسے اونچی آوازلگائ پر وہ ِچلائ جارہی تھی تب ہی اوزکان نے اسے بازو کے پاس زور سے کھینچھا جس سے وہ گہری نیند سے مانو جاگ گئ ہو ُاس نے اپنی آنکھیں کھول کر کچھ پل گاڑی کی چھت کودیکھتی رہی پھر سب یاد آنے پر ایک جھٹکے سے  ُاٹھی اور اونچی آوازمیں ِچلائ ۔
“اوزکان “۔ملائکہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے وجود کو دیکھنے کی کوشش کی جو آنکھوں میں ُشدید ظغیانی کے باعث ُدھندلا سا نمایا ہورہاتھا  ۔

“ہاں اینجل میں پاس ہوں تمہارے”۔اوزکان نے ُاس کا۔ہاتھ تھاما, ملائکہ اس لمس کو کیسے نہیں پہچانتی وہ اوزکان کے سینے سے لگی زاروقطار رورہی تھی جو گاڑی کے اندر ُاس کے ِچلانے پر ملائکہ کے پیروں کی جانب بیٹھا تھا۔

“کچھ بھی نہیں ہوا تم بلکل ٹھیک ہو اینجل”۔اوزکان ُاس کے سر پر تسلی بھرا ہاتھ پھیرنے لگا ۔مگر اینجل تو شاید وہ دلخراش لمحے بھول نہیں پارہی تھی جس میں گاڑی کس ُبرے انداز میں ہچکولے کھاتے ہوۓ کھائ میں ِگری تھی یہ سوچ کر ہی ملائکہ کو کپکی طاری ہوگئ تھی۔ایک ذرا۔سی ُاس کی ِزد کی وجہ سے وہ۔موت۔کے منہ سے بچ کر آۓ تھے۔

“اینجل یہاں دیکھوں میری طرف تم۔بلکل ٹھیک ہو یہ ہلکی سی چوٹ لگی ہے تمہیں اب جلدی سے یہ آنسوں صاف کرو, مجھے یہ بلکل اچھے نہیں لگتےان آنکھوں میں “۔
اوزکان نے ُاس کے چہرے پہ آۓ بال پیچھے کیۓ پھر ُاس کا سر اپنے کندھے سے ہٹایا۔
“پانی پیوگی”۔اوزکان نے ُاس کا ُجھکا سر دیکھا جس نے نہ میں جواب دیا ۔
“کچھ کھالو ُبھوک لگی ہوگی تمہیں “۔اوزکان پیچھے پڑی باسکٹ میں ہاتھ بڑھا کر ملائکہ کے لیے کچھ دیکھنے لگا۔

“آپ مجھے دانٹ کیوں نہیں رہے میرے ساتھ ایسے برتاؤ کیوں کررہے ہے,یہ حادثہ میری وجہ سے ہوا ہے میں جب سے آپ کی زندگی میں آئ ہوں صرف پروبلمز لے کر آتی ہوآپ مجھ سے اپنی جان کیوں نہین ُچھڑاتے,ایک ڈڑاؤنے خواب کی طرح آپ کی زندگی میں آگئ ہوں کوئ فائدہ نہیں دے سکتی میں آپکو تو پھر کیوں نہیں چھوڑتے میری جان مجھے گھر جانا ہے اماں کے پاس  “۔۔

یہ کہ کے ملائکہ چہرے پہ دونوں ہاتھ رکھے روپڑی اوزکان جو باسکٹ سے ُاس کے لیے کچھ کھانے کے لیے نکال رہاتھا ُاس کی طرف متوجہ ہوا پھر لمبی سانس لیتے ہوۓ اپنے لبوں کو دانتوں تلےزور سے دیا جس سے خون کی بوند  لبوں پر آگئ وہ اپنے غصے کوقابوں کرنے کی ایک ناکام۔سی کوشش کررہاتھا ۔
اوزکان نے ُاس کے چہرے سے ہاتھ ہٹایا جو اتنا زیادہ رونے کی وجہ سے لال ہورہاتھا جب سے وہ ہوش میں آئ تھی تب سے وہ روئ جارہی تھی اوزکان ُاس کی ایسی حالت دیکھ غصے سے ُمٹھیوکو بھینچ گیا۔

“کیا چاہ رہی ہو ملائکہ تم, کتنی بار مجھے تمہیں یقین دلانا پڑے گا کے تمہاری اہمیت میری زندگی میں کتنی اہم ہے مگر تم۔ایک احساس کمتری کا شکار لڑکی ہو جسے میرا بلکل بھی احساس نہیں تمہیں معلوم۔ہے اس وقت تم۔مجھے کتنی ازیت دےرہی ہو ان آنسوؤں سے, پر تم۔کیوں سمجھوگی تمہیں تو صرف اپنی ڈیھڑ اینٹ کی مسجد بنانی آتی ہے ُاس کے باہر کوئ جو بھی کہے تمہیں ُاس سے کچھ واسطہ نہیں, اور روؤ “۔یہ کہ کے اوزکان گاڑی سے باہر نکل گیا اور اپنا سارا غصہ گاڑی کے دروازے پر  نکالا۔ُاس کے اتنے شدید ریکشن پر ملائکہ بھی ششد رہ گئ ۔کچھ دیر اوزکان ِادھر ُادھر چکرلگاتا رہا پھر کچھ سوچتے ہوۓ جہاں سے گاڑی پھسلتی ہوئ آئ تھی ُاس جانب کی چڑھائ پر چلنے لگا کے شاید کوئ پناہ گاہ یا کوئ راستہ نظر آجاۓ۔مگر برف گری ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ اونچائ کی جانب نہیں جاپارہاتھا۔وہ واپس نیچے کی جانب آیا اور گاڑی کی طرف بڑھا ُاس میں سے اپنا اوور کوٹ نکالا اور بنا پلٹے آہستہ آواز میں ُاسے مخاطب کیا جوُگھٹنوں پر سر ُجھکاۓ بیٹھی تھی۔
“راستہ تلاشنے جارہاہوں اگر دیر ہوجاۓ تو اپنی سوچ کے مطابق سمجھ لینا کے میں بھاگ گیا ورنہ انتظار کرنا آجاؤگا  “۔
یہ کہ کے اوزکان آگے کی جانب چلاگیا,پھر کچھ یاد آنے پر واپس پلٹا اور بنا ملائکہ کو مخاطب کیۓ ُاس کی جانب کا دروازہ کھولا, وہ جو سر ُجھکاۓ بیٹھی تھی ُاسے واپس اپنی جانب آتا دیکھ کر چونک گئ جو اسے اپنی سرد نظروں کی مار مارہاتھا ۔اوزکان نے ُاس کی جانب ہاتھ بڑھایا ملائکہ جو ُاسے دیکھ رہی تھی اپنی طرف ُاس کے بڑھتے ہاتھ دیکھ کر تھوڑا پیچھے ہوئ مگر یہ کیا اوزکان نے ُاس کے گلے سے ُاس کا ُسوتی مفلر نکالا تھا پھر اپنا مفلر نکال کے ُاس کے گلے میں واپس ڈال کر دروازہ بند کرتا نکلتا گیا ۔ملائکہ اسے خود سے دور ہوتا دیکھ کر عجیب بےچینی کا شکار ہورہی تھی ۔
کچھ دور جا کے اوزکان نے پلٹ کر گاڑی کو جھاڑیوں کے پیچھے دیکھا پر ملائکہ اسے نہیں دیکھ سکتی تھی اوزکان نے ُاس کے مفلر کو پھاڑ کے کئ ٹکڑے کیۓ پھر ایک نزدیکی درخت پر باندھتا آگے کی جانب نکل گیا ۔

#rooh_ka_sakoonnovel

#Episode20

#araz_reshab

🔥💥⚡🌨☃🌬💨💥⚡🌳🌲🔥🔥

اپنی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوا وہ سیدھا نکلتاجارہاتھا پر برف زیادہ ِگری ہونے کی وجہ سے اوزکان کو چلنے میں  ُدشورای ہورہی تھی وہ اونچی ڈھلانوں کی تلاش میں تھا جس پر چڑھ کر وہ راستے کا تعین کرسکے کے کہا سے ُاسے مدد مل۔سکتی تھی پر تھوڑے سے سفر نے ہی اسے تھکا دیا وہ اپنی جیب سے سیگریٹ نکال کر اسے پینے لگا۔ساتھ ساتھ زمین پہ پڑے پتھر ُاٹھا ُاٹھا کے سامنے درخت پر مارنے لگا وہ ملائکہ کا سارا  غصہ اسی طرح نکال رہا تھا وہ نہیں چاہتا تھااینجل ُاس کے غصہ کی لپیٹ میں آۓ ِاسی لیے وہ راستہ ڈھونڈنے کے بہانے اپنے اندر لگی جنگ کو سرد کرنے آیا تھا۔
“موسم۔بھی خراب ہے اوپر سے ایسی جگہ بھیجا ہے عامرمنہوس نے کوئ سیگنل بھی نہیں آرہے ,رات کے وقت تو ٹیمپریچراور بھی ِگرجاۓ گا پھر کیا کروگا “۔یہی سوچ اوزکان کو پریشان کررہی۔تھی وہ سیگریٹ کے گہرے گہرے کش لیتا ہوا کھڑا ہوگیا واپسی کے لیے جاتے جاتے بھی شام۔ہوجانی تھی ُاس سے پہلے کچھ کرنا پڑے گا ۔ُاس دوران ملائکہ جو اسے گۓ آدھے گھنٹے بعد ہی فکرمند ہوگئ تھی۔

“یااللہ ہماری مدد کردے غیب سے کسی کو بھیج دے میں کسی جانور کا ُلقما نہیں بننا چاہتی,موسم بھی اتنا خراب ہورہا ہے مجھے آنا ہی نہیں چاہیۓ تھا”۔ملائکہ ِسیٹ سے کمرٹکاۓ اپنی آنکھیں موندے خود سے بڑبڑارہی تھی جب ہی ُاس کی آنکھوں میں وہ ُدھندلا سا۔منظر آیا جب اوزکان ُاسے ہوش میں آتا دیکھ کر کیسے دیوانوں کی طرح ُاس پر ُجھکا تھا وہ لمحا یاد کرکے ملائکہ نے اپنی آنکھوں کو فورًا کھولا۔وہ خود سے ِاس اٹل حقیقت سے نظریں ُچرارہی تھی کے اوزکان کیسے ُاس سے محبت کرتا ہے ۔

شام ڈھل رہی تھی ,چرند پرنداتنی شدید سردی میں اپنےبناۓگھروندو میں ُدبکے بیٹھے تھے۔ایک وہی تھے جو اس خون منجمند کردینے والی سردی میں ٹھٹھر رہے تھے, اوپرسے اوزکان کا کچھ پتہ نہیں تھا اندھیرہ پھیلنا شروع ہوگیا موسم تو کب سے خراب تھا اب تیز ہواؤ نے بھی رہی کثر پوری کردی تھی ۔ملائکہ نے اپنے اوپر شال کو لپیٹ لیا اور آگے کی ِسیٹ کی جانب آکر ہارن بجانے لگی کے شاید اوزکان راستہ بھٹک گیا ہو تو وہ ہارن کی آواز سن کر آجاۓ مگر ہواؤں کے تیز شور میں اسے کچھ سنائ نہیں  دے رہاتھاوہ۔دلبرداشتہ ہوکر اسٹیرنگ پر سر ُجھکا گئ  ۔ُاس نے گھڑی پہ۔نظر دوڑائ جو شام۔کے چھ بتارہی تھی یعنی اوزکان کوگۓ ہوۓ دوگھنٹے ہوُچکے تھے۔ملائکہ کو پریشانی ہونے لگی تھی ُاسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اوزکان کی خوشبوں کہی قریب سے آئ ہو تیزہواؤ کے ساتھ وہ ِادھر ُادھر دیکھنے لگی کے شاید اوزکان آگیا ہے مگر  نظریں نکام۔لوٹی تھی ۔وہ اپنا سر ُجھکاۓ اونچی آواز میں ایک بار پھر رونا شروع ہوگئ تھی اسے اپنی بے بسی پر رونا آرہا تھا جب ہی ملائکہ۔کی نظر اوزکان کے مفلر پر پڑی, ُاس نے اسے دیکھا جو وہ جاتے ہوۓ اس کے گلے میں ڈال گیاتھا۔اس۔نے ُاسے اپنے ناک کے نزدیک کیا تو اسے فورًا  واپس پیچھے کردیااس میں سے اوزکان کی خوشبوں آرہی تھی ُاسے ایسا لگا جیسے اوزکان ُاسے دیکھ رہاہو ۔

ملائکہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے ُاس مفلر کو دیکھا پھر اپنے یخ بستہ لب اس پر رکھ دیے ۔جب ہی اس کے کانوں میں ایک۔آواز ُگونجی ۔

“مجھے تمہارے آنسو سب سے زیادہ تکلیف دیتے ہے”۔ملائکہ کو اوزکان کی فریاد یاد آگئ۔وہ اپنے آنسوں پونچتے ہوۓ سیدھی ہوکر بیٹھ گئ پھر اپنی نظریں اپنے بیگ کی تلاش میں دوڑائ وہ اسے پیچھے نزدیک ہی پڑا مل گیا ُاس نے جلدی سے ُاس میں سے اپنے لیے گلوز نکالے پھر انہیں پہنتے ہوۓ  اپنے قدم گاڑی سے باہر نکالے تو وہ پورے قد سے نیچے ِگری کیوں کے ُاسے معلوم۔نہیں تھا گاڑی ٹوٹے ہوۓ درخت کے اوپر چڑھ گئ تھی جس کی وجہ سے ملائکہ نیچے کی جانب ِگری تھی مگر یہ گرنا بھی روئ کے گولوں کے اوپر ِگرنے کے برابر تھا کیوں کے نیچے صبح سے وقفہ وقفہ سے ِگرتی برف اب تین تین ِفٹ تک تھی,, گو کے گاڑی کے شیشے ٹوٹنے کی وجہ سے گاڑی میں بھی سردی تھی مگر ہوا کا دباؤ گاڑی سے گزر کر اندر کی جانب آنے سے ُاس میں وہ شدت نہیں تھی جو باہرآنے سےاسے محسوس ہورہی تھی ٹھڑٹھڑا دینے والی جو جسم۔کے آرپار محسوس ہورہی تھی  , ُاس نے اپنے موبایئل کی ٹاڑچ جلائ اور ِاسی جانب قدم۔بڑھانے لگی جہاں اوزکان گیاتھا مگر اتنی برف گری ہونے کی وجہ سے چلنے میں ُدشواری ہورہی تھی وہ ابھی جھاڑیوں کے نزدیک گئ تھی کے ُاسےہوا کے شور میں  کسی کے غرانے کی آواز آئ ملائکہ کو ایسے لگا جیسے کوئ جانور بلکل ُاس کی پیچھے تھا, ُاس کے دل کی ڈھڑکن تیزہونے لگی تھی ُاسے ِاس وقت اپنے پیروں پر کھڑے ہونا دنیا کا مشکل ترین امل لگ رہاتھا خوف کے مارے اتنی کپکپاہٹ تھی کے وہ پیچھے دیکھ بھی نہیں رہی تھی ُاس نے آہستہ سے اپنے پیچھے داۓ جانب دیکھا جہاں ُاسے اندھیرے میں درختوں کے پیچھےدو چمکتی ہوئ آنکھیں نظر آئ ,ملائکہ نے اپنےقدم پیچھے کی جانب کیۓ ُاس نے اپنے موبائیل کی ٹارچ وہاں کی جہاں وہ دوآنکھیں ُاسے ُگھور رہی تھی, غور کرنے پر وہاں  اسے ایک بھیڑیا ِدکھائ دیا ِملائکہ زور سے ِچلائ ۔
                    ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
“پیٹڑ وہ تمہاری ِوچ گیسٹ گئ “۔عامر جو ابھی سوکر ُاٹھ گھڑی میں۔وقت دیکھتے ہوۓ جس کی صبح ابھی ہوئ تھی ۔
“سر وہ تو اپنی کسی فرینڈ کے گھر گئ ہے آپ کہے تو ڈنڑ لگواؤ”۔پیٹڑ نے عامر سے پوچھا۔
“ارے یار ابھی تو ہماری صبح ہوئ ہے پہلے ناشتہ کرے گے پھر دوپہر کا کھانا پھر ڈنڑ کروگا “۔
عامر۔کی۔بات پیٹڑ نے اپنے مالک کے دوست کودیکھا جو بہکی بہکی باتیں کررہاتھا ۔
“سر ِاس وقت رات کے آٹھ بج رہے ہے “۔۔پیٹڑ کی بات پر عامر کا قہقہ نکل گیا ۔
“تو یار تو ڈنڑ کر مجھے ناشتہ چاہیے”۔
“یس سر”۔عامر کی فرمائش پر وہ کیچن کی جانب چلاگیا  کچھ دیر سوچنے کے بعد عامر نے اپنا موبائیل نکالا اور رؤف کو کال ملائ جو ُاس ووڈ ہاؤس کا کیرٹیکر تھا۔کچھ بیلز کے بعد رؤف نے کال ُاٹھالی ۔
“مرحبا “۔
“رؤف کیسے ہو “۔
“سر ہم۔ٹھیک ہے آپ سناۓ “۔
“ہم۔بھی ٹھیک ہے, ہم۔آپ کو فون کرنے والا تھا پر رابطہ نہیں ہوسکا “۔
“اچھا کیوں کیا ہوا خیریت سب ٹھیک تو ہے اور تمہارے فون پر سگنلز کیسے آرہے ہے شہر آۓ ہوۓ ہو “۔
“جی صاحب میری بیوی کی تھوڑی طبیعت خراب تھا اسے اسپتال لاۓ تھے ہم۔وہی ہے آپ کو یہی کہنا تھا چابیاں سب ہمارے پاس ہے ہم۔اس وقت ایمرجنسی میں نکل۔آیا تھا آپ اپنا مہمان کو بولو ہماری بیوی کو کل۔ُچھٹی ملے گا تو وہ لوگ پرسو آجاۓ ٹھیک۔ہے صاحب “۔
رؤف کی بات پر اوزکان کو لگا ُاس کا دماغ بھک سے ُاڑگیا ہو ۔
“اگر تم۔گھر نہیں تھے تو نکلتے وقت کیوں نہیں بتایا میں انہیں روک لیتا وہ تو کل شام۔کے نکلے ہوۓ ہے, اب میں کیسے معلوم۔کرو وہ کہا ہے “۔
“صاحب ہمیں معاف کردو ہم۔مجبور تھا”۔عامر نے ُاس کی کال۔کاٹ کر اوزکان کے نمبر پر کال ملائ جو مسلسل آف جارہا تھا ۔کئ دفعہ ٹڑاۓ کرنے کے باوجود نمبر آف جارہا تھا ۔
“پیٹڑ پیٹر “۔عامر ِچلاکے اسے آوازیں دینے لگا۔
“یس سر “۔
“ملائکہ کا نمبر دو فورًا “۔
“سر میم کا۔نمبر تو ہمارے پاس نہیں ہے “۔
“ِشٹ”۔عامر کو ان کی پریشانی ستانے لگی اگر وہ وہاں گۓ تھے تو گھر لاک ملنے پر اوزکان اگر ہوٹل بھی گیا ہوگا تو اب تک۔تو اسے مجھے کال۔کرنی چاہیے تھی ِاس کا مطلب وہ۔کسی پریشانی میں ہے ۔
“ِشٹ “۔کچھ دیر غایئب دماغی سے سوچنے کے بعد عامر اس فیصلے پر پہنچا کے پولیس میں کمپلین۔کردینی چاہیے
عامر نے فورًا  پولیس کو کال ملائ اور انہیں اوزکان اور ملائکہ کی گمشدگی کا بتایا پھر خود بھی ُاسی راستے کے لیے نکل پڑا جہاں اوزکان اور ملائکہ کوبھیجا تھا۔
                   ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
اس نے واپسی کے لیے قدم موڑے مگر جتنی تیزی سے چلنے کے لیے قدم۔بڑھاۓتھے برف زیادہ ِگری ہونے کی وجہ سے ُاس کا پاؤ جھٹکا کھاگیا اور وہ پورے قد سے نیچے زمین بوس ہوئ ُاس نے پیچھے پلٹ کردیکھا وہ بھیڑیاں تیزی سے ُاس کی جانب بڑھنےلگا ملائکہ برف پر پیچھے کی جانب ہونے لگی بھیڑیے نے پوری طاقت سے ملائکہ پر چھلانگ لگائ

۔ُاس کی دل سوز چیخ ہواؤکےشور میں کہی کھوگئ۔ملائکہ نے اپنی آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لیے مگر کچھ لمحے گزرنے کے بعد بھی ملائکہ کو خود پر بھیڑیے کا حملہ محسوس نہیں ہوا ُاس نے اپنی۔آنکھیں وا کی جہاں اوزکان ُاس کے آگے ڈھال بنا کھڑا تھا نیچے ِاس کے پیرو میں تازہ خون بہتا ہوا آرہا تھا ملائکہ نے اوزکان کو دیکھا جس کے ہاتھ میں کوئ نوکیلی درخت کی سوکھی ٹہنی تھی جسے اس نے بھیڑیے کے آرپار کیا ہوا تھا ,اوزکان نے پورا زور لگا کے اس بھیڑیے کونیچے ِگرایا۔پھر وہ غصے میں پیچھے پلٹا اور نیچے ِگری ہوئ ملائکہ کو کمر سے تھام۔کے اوپر کی جانب کھینچھا ۔
“پاگل ہوتم اگر میں نہیں پہنچتا تو پتہ ہے کیا ہوتا, کیوں نکلی گاڑی سےتم بولو, تم صرف میری جان نکالنے آئ ہو دنیا میں “۔
ملائکہ کو اوزکان کی ڈانٹ اس وقت ُاس کے منہ سے جھڑتے ہوۓ پھول لگ رہے تھے وہ اپنے مسیحا کو دیکھ کر ُاس کے سینےپہ سر ِٹکا گئ جو ہمیشہ اس کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہوجاتا تھا۔اوزکان جو اسے ابھی مزید ڈانٹنا چاہتا تھا ُاس کی حالت دیکھ کر ترک کرگیا, جب کے ملائکہ اپنے ہاتھ اوزکان کے ِگرد حمائل کیے رونے میں مشغول تھی ۔

“میں بہت دڑگئ تھی آپ اتنی دیر سے نہیں آۓ تھے میں آپ کوڈھونڈنے نکلی تھی تب ہی وہ بھیڑیاں آگیا”۔ملائکہ نے اٹک اٹک۔کر اپنی بات پوری کی اوزکان نے اسے کوئ تسلی بھرا جملہ نہیں کہا خاموشی سے اسے خود سے پیچھے کرتے ہوۓ ُاس کا ہاتھ تھامے گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
ے🔥

6000 سے زیادہ پڑھنے کے باوجود لائک کا بٹن صرف ہزار لوگ کرتے یہ جو بہت غلط بات ہے آپ سب پڑھ کر لائک کیا کرے شکریہ کمنٹ کرنا لازمی ہے

About admin

Check Also

Rooh Ka Sakoon Episode 40-42

“ملائکہ کی بچی تو یہ کس کی گاڑی میں بٹھارہی ہے کیوں ِپٹوانے لگی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *