Rooh Ka Sakoon Episode 15_18

لگتا ہے تمہیں میری بات پسند نہیں آئی اوزکان مگر یقین مانو ایپیک اب بہت بدل گئ ہے  تم اسے ایک موقع دو”۔اوزکان ایشٹڑے میں سیگریٹ مسلتا ہوا انکل عمر کی بات خاموشی سے سننے لگا۔
“نہیں انکل ایسی بات نہیں اصل میں “۔اوزکان کچھ کہتے کہتے ُرک گیا۔
میں سمجھ سکتا ہوں بیٹےمیں اس کے رہنے کا کہی اور  انتظام کرتا ہوں تم پریشان مت ہو “۔
“نہیں انکل ایسی بات نہیں آپ ُاسے بھیج دے میں ُاس کے لیے گیسٹ روم۔ُکھلواتا ہوں “۔
“شکریہ بہت بہت اوزکان تم۔نے میرا مسئلہ حل کردیا انشاللہ ایپیک تمہارے پاس صبح پہنچ جاۓ گی اپنا بہت سارا دیھان رکھنا مرحبا”۔انکل عمر نے فون بند کرکے اپنی بیوی الماس کی طرف دیکھا ۔
“یہ سب میں نے تمہاری وجہ سے کیا ہے میں بتا نہیں سکتا مجھے کتنی زیادہ شرمندگی ہورہی ہے اوزکان سے بات کرکے, اب اپنی بیٹی کو یہ آخری موقع جو دلوارہی ہو تو سمجھا کے بھیجنا اوزکان ایسا لڑکا نہیں ہے اسے باقی لڑکوں کی طرح مت ہینڈل کرنا ورنہ ایپیک کی شادی اوزکان سے کرنے کا خواب تم۔ماں بیٹی اپنی زندگی سے نکال دینا ,صبح کی ٹکٹ ہوگئ ہے ُاس کی بتادو جاکے”۔عمر صاحب کہ کے اپنے کمرے کی جانب چلے گۓ ۔
“تم بس دیکھتے جاؤعمرکیسے میری بیٹی ِاس رئیس زادے کو پھساتی ہے شادی کے لیے ۔”آنٹی الماس اپنے آپ سے بات کرتے ہوۓ ایپیک کو کال ملا کرخوشخبری سنانے لگی دوسری جانب اوزکان عمر انکل کی کال کے بعد ایپیک کی وجہ سے پریشان ہوگیا تھا وہ اپنے بابا کی وجہ سے عمر انکل سے منہ نہیں موڑسکتا تھا ورنہ ایپیک اپنی ُبری عادات جس میں سرفہرست اوزکان کے لیے پسندیدگی بھی تھی جس سے اوزکان کو سخت ِچڑ تھی کیوں کے ُاس پسندیدگی کے پیچھے ایپیک کی ُچھپی لالچی نظروں سے اوزکان اچھی طرح سے واقف تھا اسی وجہ سے اوزکان نے انکل عمر سے ملائکہ کو ُاس سے دور رہنے کے لیے کہا تھا۔اوزکان خاموشی سے اینجل کے کمرے کی جانب آگیا جہاں وہ شاید دوائیوں کے اثر سے غنودگی میں تھی اوزکان نے اپنے قدم بیڈ کی جانب بڑھادیۓ جہاں لیمپ کی روشنی میں ملائکہ کا چہرہ ُپرنور تارے کی طرح اپنے آب وتاب کے ساتھ جلوے بکھیر رہاتھا ۔ملائکہ کو ِاس طرح دیکھ کر اوزکان کے زہن میں ایک نظم کی یاد تروتازہ ہوئ جو اکثر ُاس کا بیسٹ فرینڈ عامر یونیورسٹی کے زمانے میں اپنی گرلفرینڈ کے لیے رٹے لگاتا تھا اور اوزکان اسے کہتا تھا۔ “عامر یہ نظم تجھے تو یاد ہوئ نہیں پر اونچی اونچی پڑھ کے مجھے یاد کرادی ہے “۔اوزکان کی بات پہ عامر نے فلک شگاف قہقہ لگایا ۔
“چل اچھا ہے نہ تو بھی اپنی گرلفرینڈ کو سنادی “۔جس پر اوزکان نے اس کی کمر پر پاس پڑا ُکشن ُاٹھا کے دے مارا ۔
“گرلفرینڈ کا تو پتہ نہیں پر اگر کبھی شادی جیسا حادثہ رونما ہوا میری زندگی میں تو اپنی محرم کو ضرورسناؤ گا پر تیری طرح کا گدھا نہیں ہوں میں” ۔اوزکان نے گزری باتیں یاد کرکے ملائکہ کا ہاتھ تھاما جو گہری نیند میں تھی ۔
When you sleep you are not with me.
But I am with you.
I watch your closed door and am free to wander,
My consciousness alone with us in the darkened room.

My love is the blanket covering you.
My love is the moonlight on your face.
My love hovers over you like an angel.
Not me. Not you.

Alone, yet with you, I am free to wonder.

Tied to you forever, I am alone and free

As I wait by your closed door
And watch you sleep..

.

وہ ملائکہ کے ماتھے پر مہر محبت ثبت کرتا ُاس کے اوپر لحاف ٹھیک کرتااس کے نزدیک سے تکیا ُاٹھا کے صوفے پر دراز ہوگیا اور آنکھیں بند کرنے کی کوشش کرنے لگا جو  ملائکہ کی موجودگی میں ناممکن تھا۔کبھی کروٹ داۓ جانب لیتا تو کبھی باۓ جانب مگرسکون کسی طرف میسر نہیں تھا آخر میں اوزکان تکیا ایک جانب پھینکتا ہوا ملائکہ کے نزدیک بیٹھ گیا ۔
“اوزکان صالیح کیا وقت آگیا ہے تجھ پر “۔اوزکان ملائکہ کی جانب دیکھتے ہوۓ ُاس کے برابر میں نیم دراز ہوگیا اور ُاس کی طرف ُرخ کرکے ُاسے دیکھنے لگا جو ُاس کی نیند ُاڑا کر خود خواب خرگوش کے مزے ُلوٹ رہی تھی ُاس نے اپنی انگشت ملائکہ کی بند پلکوں کی جھالروں پہ پھیری جو ُاس کے چہرے پہ اوزکان کو سب سے زیادہ اٹڑیکٹ کرتی تھی پھر وہی انگشت آنکھوں کو ُچھوتی ہوئ ان گلاب کی پتیوں کو ُچھونے لگی جو اوزکان صالیح کو اکثر اوقات بڑی ُمشکل میں ڈال دیتی تھی, اوزکان اپنی دل کی آواز پر لبیک بولتا ہوا ُاس کے نزدیک ُجھک گیا ملائکہ کی گرم سانسوں کی تپش اوزکان صالیح کو اپنے چہرے پہ محسوس ہورہی تھی ِاس سے پہلے اوزکان جزبات کے دھارے میں بہ کر کوئ گستاخی کرتاوہ اپنے اندر جلتے ِاس الاؤ سے گھبرا کر ملائکہ کے نزدیک سے ُاٹھ گیا اور کمرے کے ساتھ بنی گیلری میں جاکے کھڑا ہوگیا اور سیگریٹ ُپھونکنے لگاپھر کچھ دیر اوزکان ِاسی طرح باہر شدید سردی میں سیگریٹ کے مرغولے بناتارہا جیسے جیسے وقت گزرتا جارہاتھا سردی میں بھی اضافہ ہوتا جارہاتھا آخر اوزکان نے سردی سے ہار کر اپنا ُرخ اندر کی جانب کیا اور بنا ملائکہ کی طرف دیکھے صوفے پر جاکے لیٹ گیا جہاں ہیٹر کی  حرارت سے اوزکان کو اچھا محسوس ہورہاتھا ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب اوزکان کو ملائکہ کی ہلکی ہلکی آوازیں آنے لگی وہ اپنا۔لحاف ہٹاتا ملائکہ کی جانب دیکھنے لگا جو نیند میں کچھ بڑبڑارہی تھی اوزکان ُاس کے نزدیک گیا اور اسے آواز لگائ ۔
“اینجل کیا ہوا آنکھیں کھولو!”۔اوزکان ملائکہ کا چہرہ تھپتھپانے لگاوہ شاید نیند میں کوئ ُبرا خواب دیکھ رہی تھی
اینجل کیا ہوا میں تمہارےپاس ہوں آنکھیں کھولو “۔اوزکان نے ملائکہ کو شانوں سے تھام۔کر جنجھوڑا جس پہ ملائکہ نے اپنی آنسوں سے بھری آنکھوں کو وا کیا, ُاس کا پورا جسم۔ہچکیوں کی زد میں تھا۔
“کیا ہوا اینجل کیا دیکھا خواب میں کیوں رورہی ہوایسے”۔اوزکان نے ُاس کے کپکپاتے وجود کو اپنے ِاحصار میں لیے لیا, ملائکہ ُاس کا سہارا پاتے ہی ِبکھر گئ ۔
“ووہ اوزکان میں نے خواب میں “۔ُاس نے اٹک اٹک کے روتے ہوۓاوزکان سے کہنے کی کوشش کی مگر آنسوں ُاس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔
“ہاں بتاؤ اینجل کیا ہوا پہلے یہ پانی پیو “۔اوزکان نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کے پاس رکھے جگ میں سےپانی کا گلاس ُانڈیلا اور ملائکہ کے۔لبوں سے لگایا جسے وہ ایک۔ہی سانس میں ِپی گئ ۔
“اور پینا ہے “۔ملائکہ نے نہ میں سر ہلایا ۔
“اب بتاؤ کیا دیکھا مگر بغیر آنسوں بہاۓ “۔اوزکان نے ُاسے اپنے ِحصار میں لیے ُاس۔کے آنسوں صاف کیۓ ۔
“ووہ میں نے دیکھا میرے بابا کو کچھ لوگ بہت زیادہ زدوکوب کررہے تھے میں انہیں جب بھی بچانے جاتی تھی تو میرے پیروں میں آیک زنجیر ہوتی تھی, پھر منظر بدلتا ہے بہت ُاونچی اونچی سیڑھیاں ہوتی ہے جہاں کے سب سے اونچے مینار کے پاس میرے بابا کھڑے ہوتے ہے میں ُان تک جانا چاہتی ہوں پر وہی لوگ جو میرے بابا کو مارتے ہے وہ مجھ تک پہنچ جاتے ہے “۔یہ کہ کے ملائکہ اونچا اونچا رونے لگی ۔
“پھر کیا ہوا اینجل “۔اوزکان نے اپنے سینے سے لگی روتی ہوئ ملائکہ کو دیکھا۔
“پھر میری آنکھ ُکھل گئ میں میرے بابا تک رسائ حاصل نہیں کرسکی”۔وہ ہچکیوں کے درمیان آدھے ادھورے لفظوں میں اوزکان کو  کہنے لگی جو ایک بار پھر غنودگی محسوس کرنے لگی ۔
“م م م مجھے چچچچھوڑ کے مت جاناااااْوزز۔”۔
ملائکہ نیند میں لفظوں کو کھینچِ ِکھینچ کے کہنے لگی جو اوزکان کے کالے اپر کو مضبوطی سے تھامے ہوئ تھی۔
“میں کہی نہیں جارہا اینجل میں تمہارے پاس ہوں “۔اوزکان نے اپنے جلتے ہوۓ لب ملائکہ کے سنہری بالوں پر رکھ دیے ۔اور اسے لیے تکیوں کے سہارے نیم دراز ہوگیا جو ُاس کےِحصار میں قید تھی اپنے اور ملائکہ کے اوپر لحاف برابر کرتا وہ اپنے سینے پر سر رکھے سوتی ملائکہ کودیکھنے لگا جو ُاس کے اپر کو مضبوطی سے تھامے گہری نیند میں چلی گئ تھی مگر وقفہ وقفہ سےوہ ابھی بھی ہچکیاں لےرہی تھی ۔
اوزکان لیمپ کی روشنی میں کبھی چھت پہ نظر ڈوڑاتا تو کبھی اپنے سینے سے لگی ملائکہ کو دیکھتا جو اب سکون سے گہری نیندسورہی تھی ۔اوزکان کےچہرے پہ گھمبیر ُمسکراہٹ چھاگئ تھی۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے میں تمہیں دور سے دیکھنے پر ٹڑپ رہاتھا اور اب ِاس طرح میرے نزدیک آکر تم۔مجھے اور ٹڑپارہی ہو “۔اوزکان ُاسے خود میں بھینچے سونے کی کوشش کرنے لگا۔
                     ۞۞۞۞۞۞۞
صبح ملائکہ اوزکان سے پہلے بیدار ہوگئ, کچھ دیر تو اسے سمجھ ہی نہیں آیا وہ ہے کہا۔جب ُہوش کی دنیا میں قدم۔رکھے تو رات کا سارا واقعہ کسی فلم۔کی طرح دماغ۔میں چلنے لگا ُاس نے اوزکان کے سینے سے سر ُاٹھایا جو اسے اپنے ِحصار میں لیے گہری نیند میں سورہاتھا۔ملائکہ نے اوزکان کے ِحصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی تو وہ نیند سے بیدار ہوگیا ۔
“مرحبا “۔اوزکان اپنی ُمندی ُمندی آنکھوں سے ملائکہ کی خمدار پلکوں پہ اپنے لب رکھتے ہوۓ اسے مرحبا کہا۔اوزکان کی ِاس بے باقی پرملائکہ کےاندر برقی سی دوڑ گئ جو گلابی نائیٹ ڈڑیس میں خود بھی گلابی ہورہی تھی ۔
“چھوڑے مجھے اوزکان “۔ملائکہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر زور لگاتے ہوۓ بولی۔
“عجیب لڑکی ہوزندگی کبھی مضبوطی سے تھام لیتی ہو کےمجھے چھوڑکے جانا نہیں اور کبھی پوری قوت سے پیچھے ہوجاتی ,جو بھی ہو دونوں صورتوں میں ٹڑپتا اوزکان صالیح ہی ہے”۔ُاس کی گھمبیر سرگوشی میں ملائکہ کو گھبراہٹ ہونے لگی۔
“اوزکان ن ن رات کے لیے سوری میں نے آپ کو بہت تنگ کیا پلیز مجھے جانے ددے”۔
۔سوری کس لیے میری زندگی یہ تو میرا امتحان تھا خیر دیکھ لو میرا ایمان بلکل مضبوط رہا اپنی۔محرم کے سامنے بھی میں نے وعدہ خلافی نہیں کی, ہاں چھوٹی موٹی میں کرتا رہتا ہوں اتنا تو چلتا ہے “۔اوزکان نے اپنے ِحصار سے نکلنے کی تگ ودو کرتی ہوئ ملائکہ کو دیکھا جو اس کی بات سن کر اوزکان کی طرف دیکھنے لگی جو اسے ایک آنکھ دباتا ہوا بستر سے نکلا ۔
“کیا کہا آپ نے  کیا, کیا آپ نے رات میں میرے ساتھ “۔ملائکہ حواسباختہ سی اوزکان کو بیڈ پہ بیٹھے دیکھنے لگی جو اپنے ِسلکی بالوں کو ہاتھوں کی مدد سے پیچھے کی طرف کرنے لگا ۔
“وہی جو شوہر اپنی محرم۔کے ساتھ کرتا ہے “۔
“کیا”۔ملائکہ کے کیا پر اوزکان کی ہنسی ُچھوٹ گئ ۔
“منہ تو بند کرلو یار تمہاری قسم۔مزاق کررہاہوں,میں میلسی کو بھیج رہاہوں فریش ہوجاؤ پھر ناشتہ کرتے ہے “۔اوزکان یہ کہتے ہوۓ اپنے روم۔کی طرف بڑھ گیا ۔وہی ملائکہ کے لیے سوچنے کے کئ در کھول گیا
                         ۞۞۞۞۞۞۞۞
آج بڑیدفوڑد میں سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی چل رہی تھی اوزکان ملائکہ کو زبردستی ُاٹھا کے باہر لان میں لے آیا تھا تازہ ہوا کے لیے ابھی دونوں بیٹھ کر کافی کے مزے لے ہی رہے تھے جب ہی پانچ ُفٹ آٹھ انچ سے نکلتا قد اونچی ہیلز۔پہنے کالی ڈینم اور سفید بلیزر پہنے وہ کالے بالوں کو کھولے اوزکان کی طرف بڑھی جس کے تیکھے نقش کسی بھی مرد کا۔دل۔اپنی طرف کھینچ سکتا تھا ۔
“مرحبا ایپیک”۔اوزکان نے کھڑے ہوکر ُاس کا استقبال کیا جو اوزکان کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو۔نظر انداز کرتی ہوئ سیدھا اس کے سینے سے آلگی پھر بنا اوزکان کو۔موقع دیۓ ُاس کےعارض پر اپنے لب رکھ دیے جس پر ملائکہ جو آنکھیں پھاڑے ُاس کھٹکنی بلی کو دیکھ رہی تھی جو بڑے مزے سے اوزکان سے ِچمٹی ہوئ تھی ۔۔۔جاری ہے
باقی کی ایپیسوڈ میں لاہور جاکے اپلوڈ کروگی میری بہنوں مجھے شرمندہ۔نہ۔کیاکرو یہاں سے پوسٹ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے تو اپنا دیھان رکھنا ۔۔۔۔

About admin

Check Also

Rooh Ka Sakoon Episode 40-42

“ملائکہ کی بچی تو یہ کس کی گاڑی میں بٹھارہی ہے کیوں ِپٹوانے لگی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *