Rooh Ka Sakoon Episode 13


کیوں نہیں آنا یہاں ,وہاں کیا ہے جو آپ وہاں جانا چاہتی ہے, بولوں”۔اوزکان نے اسے بازوں سے تھامتا ایک جھٹکے سے اپنے نزدیک کرگیا ملائکہ اس اچانک افتاد پہ ہڑبڑا گئ ۔

“اس وقت جب میں نے آپ سے پہلی بار ساتھ چلنے کو کہا تھا تو آپ نے کیا کہا تھا ُاس وقت یاد ہے”۔اوزکان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اپنے لیے اسے خوف نظر آرہا تھا۔

 ” آپ نامحرم ہے میرے لیے میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی, تو آج تومیں تمہارا محرم ہوں اور مجھے نہیں لگتا کے آپ اب یہ فضول کی بات دوبارہ ُدھراۓگی میں بہت زیادہ تھک گیا ہوں بہتر ہوگا ہم ِاس ٹاپک پہ مزید نہیں ُالجھیں گے”۔اوزکان  نے اسے بازو سے تھامے نہایت آرام سے اپنی بات اس کے گوشگزارکردی پھر اسے احتیاط سے خود سے الگ کرتا باہر کی جانب جانے لگا جب وہ اچانک پلٹا۔

“اورایک۔بات جب پیپرز سبمٹ ہوگے کیا سوچ کر کیس فائیل کرو گی,انویسٹیگیٹ کرنے والے جب آۓ گے تو کیا کہوگی کےمحبت کی شادی کرکے آپ الگ گھر میں کیوں رہ رہی ہے؟۔کس بنیاد پر آپ شوہر سے الگ رہ رہی ہے, پہلی فرصت میں وہ تمہارے پیپرز ریجیکٹ کردے گے کے یہ تو فیک شادی ہے۔

اگر آپ چاہتی ہے کے آپ کے والد کا خواب نہ ٹوٹے تو ُچپ کرکے جو میں کہو وہ کرتی جاۓ ورنہ آپ خود سمجھدار ہے “۔ ملائکہ جو ُاس کی بات خاموشی سے ُسن رہی تھی اوزکان صالیح کے باہر بڑھتے ہوۓ قدم۔دیکھ کر اسے آواز دے بیٹھی۔

“ٹھیک ہے میں آپ کی بہت ُشکرگزار ہوں جو آپ نے میری اتنی مدد کی میں چاہ کر بھی اس کا قرض ُاتار نہیں      سکتی مگر میری کچھ شرائط ہے اگر آپ ۔میری بات مانے گے تو میں آپ کی بہت مشکور ہوگی”۔

اور وہ کیا شرائط ہے اینجل “۔اوزکان نے بنا پلٹے ترچھی نگاہ کرکے اسے دیکھا۔وہ جانتا تھا جو بھی شرائط ہوگی فضول ہی ہوگی۔ 

“میں آپ کو پے کروگی میرے ساتھ پیپر میرج کرنے کے لیے جو لائیر نے آڑنلڈ کی ِفیس بتائ تھی میں وہ آپ کو دوگی “۔ملائکہ کی ِاس بات پہ آوزکان صالیح اپنے ہاتھوں کی ُمٹھیوں کو سختی سے بھینچے ملائکہ کی جانب جارہہانا انداز میں بڑھا ۔

“تو تم مجھے پے کروگی شادی جیسے پاکیزہ بندھن کے لیے,اوزکان صالیح کو “۔ُاس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ملائکہ دیوار کے ساتھ لگ گئ۔

“م م ہاں میں پے کروگی اگر آپ نہیں لے گے تو میں واپس چلی جاؤ گی”۔ملائکہ نے ہمت دکھاتے ہوۓ ہکلاکر سرُجکھاۓ کسی مجرم۔کی طرح کانپتی ہوئ آواز میں  قبول کیا ۔

“م م مجھے آپ کا مزید کوئ احسان نہیں چاہیے”۔اوزکان صالیح نےکچھ پل اپنے غصے پہ قابوپانے کی کوشش کی پھر اپنےہاتھ کا ُمکا  ملائکہ کے برابر دیوار پہ زور سےمارا جب کے ملائکہ نے دڑ کر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔ملائکہ نے جب ہاتھ ہٹایا تو وہاں اوزکان صالیح موجود نہیں تھا۔ملائکہ آہستہ آہستہ روتے ہوۓزمین پہ بیٹھتی چلی گئ جب کے اوزکان نے اپنے پیچھے زوردار طریقے سے اپنا غصہ دروازے کو بند کرتے ہوۓ نکالا ۔وہ کمرے کے چکر کاٹنے لگا مگر غصہ تھا کے بڑھتا ہی جارہا تھا۔ُاس نے بیڈ پر اپنا اوور کوٹ پھینک دیا پھر اپنا سیگریٹ نکال کے ُسلگھایا اور گہرے گہرے  کش لینے لگا تاکہ اپنے اندر لگی آگ کو ُبجھا سکے۔ُاس نے شدید ٹھنڈ میں بھی ایک۔باریک سا سوئیٹـڑ پہن رکھا تھا مگر اسے کوئ فرق نہیں پڑھ رہا تھا ۔وہ کمرے سے الحاق گیلری میں آکر کھڑا ہوگیا اور خاموش برف سے ڈھکے اپنے لان کو دیکھنے لگا جہاں ابھی تازہ برف گری تھی ۔

“مجھے پے کروگی تم اینجل, تم نے میرے احساس کو پیسوں میں تولا ہے۔تم۔سمجھےی کیا ہو خود کو, تم نہیں جانتی میں کسی سے کیا گیا وعدہ نبھارہا ہوں ورنہ اوزکان صالیح  کسی کے پاس بھی نہیں جاتا بلکہ لوگ ُاس کے پاس آتے ہے دیکھتے ہے کب تک اپنی خودساختہ انا کا پرچم لہراۓ رکھتی ہو, کہا تھا تمہیں ہم ُترک ہے مصیبت میں کسی کو اکیلا نہیں چھوڑا کرتے دیکھتا ہوں تم میرے پندار سے کیسے باہر جاتی ہو ملائکہ اوزکان صالیح “۔

“اپنی چیزوں کے لیے بہت حساس قسم کا انسان ہوں میں, تمہیں تو پھر میں نے اپنی زندگی میں شامل کیاہے تو تم کیسےجاسکتی ہو میری دسترس سے باہر”۔

                ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“میڈم کو ناشتے کے لیۓ نیچے بلاؤ”۔اوزکان صالیح کالے سوٹ پہ لال ٹائ لگاۓ بالوں کو جیل سے سیٹ کیۓ ناشتے کی ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوۓ اپنے ملازم سے مخاطب ہوا اوزکان صالیح نے ہاتھ میں پہنی گھڑی کی طرف نظر دوڑاتے ہوۓ سیڑھیوں کی جانب دیکھا جہاں سے اسے ملائکہ کی جگہ پیٹڑ نیچے آتا دیکھائ دیا ۔

“سر میڈم کوئ جواب نہیں دے رہی “۔ پیٹڑ کے جواب پر اوزکان کے ماتھے پہ سلوٹیں آئ ۔وہ کوٹ چیر کی بیک پہ رکھتا کالی ڈڑیس شرٹ کی بازوؤں کو فولڈ کرتا اوپر کی جانب بڑھا ساتھ ہی ساتھ پیٹڑ کو  کمرے کی چابیاں لانے کے لیے کہا, اس نے ملائکہ کے کمرے کے باہر کھڑے ہوکر دو تین بار اسے آوازیں لگائ مگر جواب ندارد تھا اب اوزکان کو بھی تفشیش ہونے لگی اس نے ایکسٹڑا چابی کے ذریعے دروازہ کھولا اور کمرے میں نظر دوڑائ اسے ملائکہ بیڈ کے نزدیک زمین پر ُسکڑی سمٹی نظر آئ اوزکان تیزی سے اس کی طرف بڑھا اسے ُاٹھا کے بستر پر لٹایا جس کا جسم۔بخار سے دہک رہاتھا پھر اس کی نبض چیک کی جو بہت دھیمی چل رہی تھی۔اوزکان نے فورًا  اس پر بلینکٹ ڈالا ساتھ ہی کمرے میں موجود ہیٹڑ چلایا پھر اس نے فورًا ڈاکٹر کو کال کی جو تھوڑی دیر میں ہی آگیا ۔ملائکہ کا کمپلیٹ چیک اپ کرنے کے بعد اس نے اسے فوری ٹڑیٹمنٹ دی تاکہ اس کا بخار کا زور ٹوٹے ۔

“ویسے یہ آپ کی کیا لگتی ہے “۔داکٹر نے نسخہ لکھتے ہوۓ اوزکان کی طرف دیکھا ۔

“یہ میری وائف ہے”۔اوزکان نے بیڈ پہ بے ُسدھ پڑی ملائکہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو دو دن میں بلکل ُمرجھاگئ تھی ۔

“انہیں کوئ زہنی پریشانی ہے شاید, آپ انہیں ہر طرح کی ٹینشن سے دور رکھے باقی کوئ بھی پروبلم۔ہو تو آپ مجھے کال کرسکتے ہےیہ تھوڑی دیر تک ہوش میں آجاۓ گی”۔اس نے اوزکان سے ہاتھ ملاتے ہوۓ باہر کی جانب قدم بڑھادیۓ۔

اوزکان صالیح دروازہ بند کرتے ہوۓ اپنے قدم۔اس کی جانب بڑھانے لگا  جو بیڈ پہ بے ُسدھ پڑی تھی اوزکان صالیح اس کے برابر میں دراز ہوتے ہوۓ اسے دیکھنے لگا جو اتنے سے دنوں میں اس کے کتنے نزدیک آچکی تھی جس کا ادراک اسے خود رات کو ہواتھا جب ملائکہ نے یہاں سے جانے کے لیے کہاتھا۔ااسے خود نہیں معلوم تھا اسے غصہ کس بات پر آرہا تھا۔اوزکان صالیحہ اس کے چہرے پہ بکھرے بالوں کو دیکھنے لگا جیسے چاند بدلیوں میں سے جھانک رہا ہو اس وقت اسے بند آنکھوں پہ سایہ فگن پلکوں کی جھالریں اپنی اوڑ کھینچھ رہی تھی ایک عجیب سی کشش تھی جو اسے ملائکہ کو دیکھ کر ہوتی تھی ورنہ بہت سی لڑکیاں اس کی زندگی میں آئ تھی مگر جو اسے ملائکہ کے لیے محسوس ہوتا تھا وہ اسے خود بھی سمجھ نہیں آتا تھااس کے آگے سب کچھ بے معنی لگتا تھا ۔

“میں کیا سوچ رہاہوں یہ لڑکی مجھے لگتا ہے ایڈیکٹ بنا کر دم لے گی”۔اوزکان خاموشی سے باہر نکل آیا پھر پیٹر سے ایک لیڈیز میڈ فوری طور پر رکھنے کے لیے کہا جس پر پیٹڑ نے اپنے مالک کو اچنبھے سے دیکھا کیوں کے اوزکان ِولا میں کسی بھی کام کے لیے کوئ لیڈی ورکر اپوئنٹ نہیں کی جاتی تھی۔

            ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

بینچ پہ بیٹھے کبوتروں کو دانہ ڈالتے اوزکان صالیح اپنے ماضی میں کھویا ہوا تھا جب ہی کوئ اس کے برابر میں آکر بیٹھا ۔

“ہیلو جینٹلمن”۔اوزکان صالیح نے اجنبی کو دیکھا جو عمر میں بمشکل پچاس کے قریب لگ رہے تھے۔اوزکان نے سر کو جنبش دی اور “ہاۓ” کہا۔

“اگر برا نہ مناۓ تو ایک بات بولو ں “۔اجنبی نے اوزکان کو دیکھتے ہوۓ کہا, جس پہ اوزکان نے سر ہاں میں ہلایا۔ 

“اس عمر کے نوجوان تو عموماً یہاں اپنی گرل فڑینڈز کے ساتھ ُگھوم رہے ہوتے ہے اور ہم جیسےُبڈھےیہاں کبوتروں کو دانہ ڈالنے آتے ہے, پر آپ مجھے چونکا رہے ہے نوجوان “۔اوزکان نے اس باتونی اجنبی کو دیکھا جو اسے اپنے ساتھ باتوں میں شامل کرنا چاہ رہا تھا۔اوزکان ان کی بات پہ مبہم سا ُمسکرایا ۔

“مجھے یہ سب پسند نہیں لڑکیوں کے ساتھ ُگھومنا”۔اوزکان نے دانہ ڈالتے ہوۓ کہا۔

“دیکھے ہے میں نے یہاں ایسے بہت سے نوجوان جو اپنی جنس میں دلچسپی رکھتے ہے”۔اجنبی ُبجھے دل کے ساتھ کبوتروں کو دانہ ڈالنے لگے۔

“اونو اولڈ مین! !آپ میرا غلط مطلب لے گۓ میں ترکش مسلمان ہوں یہ چیز اسلام میں حرام ہے, میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کے بنا محرم۔کے لڑکیاں اپنے ساتھ ُگھومانا مجھے پسند نہیں  میں ان سے زیادہ ان بے زبان پرندوں کےساتھ  وقت گزارنہ پسند کرتا ہوں “۔

“یہ تو سن کر اچھا لگا آپ مسلمان ہے”۔

اؤذکان کی بات پہ اجنبی کے چہرے پہ مسکراہٹ چھاگئ

“میں یہاں لیورُپول کے پاس رہتا ہوں یہاں ُمقامی ہوٹل میں نوکری کرتا ہوں اور تم “۔

“میں فلحال پڑھ رہا ہوں ساتھ میں فارغ وقت میں اپنا بزنس دیکھتا ہوں”۔

“یہ تو بہت اچھی بات ہوئ جوان تم۔سے مل کر بہت اچھا لگا اصل میں,میں یہاں ابھی شفٹ ہوا ہوں ورنہ میں پہلے برمنگھم میں تھا اکیلا رہ رہ کر بور ہوگیا تو تمہیں دیکھ کر لگا میرے جیسا کوئ اکیلا بیٹھا ہےگپ شپ کرلیتے ہے”۔

“کیوں آپ کی فیملی کہا ہے “۔

اوزکان نے اب ان کی طرف دیکھا جو پاؤں پسارے بینچ کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھے تھے۔

“بیٹا بس کیا بتاؤ پہلے وقتوں میں حالات ایسے ہوتے تھے کے ہر بندہ اپنا ملک چھوڑ کر پراۓ دیسوں میں جانے کی کرتا تھا میں بھی انہی بدنصیبوں میں سے تھا جو غیرقانونی طریقے سے گھر والوں سے لڑ کر یوکے آیا تھا تاکہ  یہاں کی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ڈگڑی حاصل کرو۔پھر جس دوست کے توسط سے یہاں آیا تھا اس نے پیسے لے کر ایک انگریز سے شادی کرادی تاکہ میں یہاں لیگل ہوجاؤں مگر میں نہیں جانتا تھا وہ دوست نہیں آستین کا سانپ تھا جو مجھے استعمال کررہاتھا اپنے غیر قانونی کاموں کے لیے میرے سارے ڈاکومنٹس اس نے اپنے قبضے میں کرلیے تھے,واپس جا نہیں سکتا تھا مجبوراً میں اس کے کام کرنے لگا اس امید پہ کے شاید میں ایک دن واپس اپنے ملک جاسکوگا “۔اجنبی نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اپنے آنسوں صاف کیۓ۔

“پھر کیا ہوا”۔اوزکان نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کچھ دیر کےتوقف کے بعد پوچھا۔

بس پھر کیا کچھ وقت بعد ہی پکڑاگیا تھا غیرقانونی کام کرتے ہوۓ, پھر یہاں پندرہ سال سزا ہوگئ ,سزا کے بعد جب نکلا تو سب سے پہلے اپنے گھر کی یاد آئ جنہیں میں اس امید پہ چھوڑ آیا تھا کے بہت جلد انہیں بھی اپنے پاس ُبلالوگا تین چار سال تک میں نے پاکستان کے چکر لگاۓ انہیں بہت ُڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ لوگ ایسے غائیب ہوۓ تھے مجھے ملتے ہی نہ تھے۔پھر ایک دن ُامید کی کرن جاگی میں برٹش ایمبیسی کسی کام سے گیا تھا وہاں مجھے میری سالی ملی بس پھر کیا پندرہ سالوں بعد میرا رابطہ اپنی بیوی اور بیٹیوں سے ہوا جو شاید مجھ پہ آمین پڑھ ُچکی تھی ۔پھر معافی تلافی ہوئ تمہاری آنٹی سے دونوں بچیوں سے ملا ,اب تو میری بڑی بیٹی کا نکاح بھی ہوگیا ہے بس آپ سب کچھ سمیٹ رہاہوں انہیں جلد سے جلد اپنے پاس ُبلالو گا “۔

“بہت اچھا لگا سن کر آپ اپنوں سے مل گۓ ورنہ کچھ کے پاس تو امید بھی نہیں ہوتی ملنے کی “۔اوزکان نے ان کے شانے کو تھپتھپاتے ہوۓ کہا اور کھڑا ہوگیا “۔

“برخودار میری ساری کہانی تو سن لی کچھ اپنا بھی بتاتے جاؤ “۔

اجنبی نے کھڑے ہوتے ہوۓ اوزکان کو دیکھا ۔

“اب تو ہم دوست بن گۓ ہے تو روز ملاقت ہوگی کل ملتے ہے آپ سےویسے آپ کانام”۔اوزکان نے اجنبی کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا جو جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام گۓ۔

“محمد ِادریس منصور “

پھرکل ملتے ہے “۔

               ؓ     ۞۞۞۞۞۞۞۞۞

اینجل یہ ُسوپ پیو”۔اوزکان صالیح ملائکہ کو سہارا دیتے ہوۓ بٹھانے لگا جو ابھی بھی غنودگی میں تھی ۔اوزکان اسے چمچ بھربھر کے پلانے لگا جو بخار کی حدت سے لال ہورہی تھی ,اوزکان اسے اپنے ِحصار میں لیے ُاس کے چہرے پہ آۓ بالوں کو اس کے کان کے پیچھے نہایت توجہ سے اڑسنے لگا پھر ُاس کے ُرخصار کو تھپتپھایا جو غنودگی میں تھی,

“اینجل یہ ُسوپ پیو”

ملائکہ نے اپنی آنکھیں وا کی پر غنودگی کی وجہ سے پھر بند کرلی,اوزکان نے ُسوپ سے بھرا چمچ اس کی طرف بڑھایا, پہلے پہل اپنے لب وا نہیں کررہی تھی پر اوزکان کے مسلسل ُسوپ ہونٹوں سے لگانے کی وجہ سےملائکہ نے پینا شروع کردیا,ُسوپ ختم۔کرنے کے بعد اوزکان نے ملائکہ کو میڈیسن دی جسے کھاکے ملائکہ ایک بار پھر بستر کو پیاری ہوگئ۔ اوزکان صالیح اس کا لحاف ٹھیک کرتا باہر کی جانب چل دیا اگلی صبح ملائکہ کی آنکھ جلدی ُکھل گئ ُاس بے خود کو ملامتے کرتے ہوۓ واشروم کا راستہ دکھایامگر کمزوری کے باعث چکراگئ,مگر پھر سے ہمت دکھاتے ہوۓ واشروم گئ,واشروم دیکھ کر ملائکہ کی آنکھیں پوری ُکھل گئ, واشروم کیا تھا پورا روم تھا میرا اور بجو کے جتنا,اتنے بڑے واشروم میں دو تین لوگ تو پاکستان میں آرام سے رہ لیتےہوگے۔

,”کتنا امیر ہے یہ سڑو “۔ملائکہ واشروم۔کی عجیب وغریب چیزوں کو دیکھ کر حیران ہورہی تھی جس میں سے زیادہ تر اس کی سمجھ سے بالاتر تھی ۔کچھ دیر بعد فریش ہوکر وہ تیار ہوئ پھر باہر کی جانب نکل آئ ,سفید پینٹ پہ  مسٹڑڈ رنگ کا لمبا سویٹڑ پہنے گلے میں براؤن مفلر پہنے وہ ِکھلی ِکھلی سی نیچے کی جانب سیڑھیاں ُاترنے لگی جب ہی سامنے سے ٹڑیک سوٹ میں اوزکان صالیح اوپر کی جانب آرہا تھا جب دونوں کا ٹکڑاؤ ہوا ۔

“صبح بخیر”۔اوزکان صالیح نے ملائکہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جس پہ ملائکہ نے بھی دھیمی آواز میں کہا ۔

“صبح بخیر”۔

“کیسی طبعیت ہے اب آپ کی “۔اوزکان وہی سیڑھیوں میں ُاس کا راستے روکے کھڑا تھا۔

“ٹھیک ہے اب,آپ پلیز راستی دیجیۓ مجھے لیٹ ہورہا ہے”۔

ملائکہ نے گھڑی کی طرف نظر ڈوڑاتے ہوۓ  کہا۔

“کہا کی تیاری ہے “۔

اوزکان نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *