Rooh Ka Sakoon Episode 12

ٹوٹے ہوۓ ہاتھ کے ساتھ آرز ریشب حاضر ہے فیڈ بیک ضرور دینا
اوزکان صالیح  خاموشی سے اسے روتادیکھ رہا تھا پھر خاموشی سے نگہت خالہ سے انگریزی میں ہمکلام ہوا ۔
“آنٹی پھر کیا سوچا آپ لوگوں نے “۔
اوزکان صالیح ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگاۓکھڑے کھڑے ملائکہ کو دیکھنے لگا جو نظریں نیچے ُجھکاۓ اپنی کمیز کے اوپر ُشہادت کی ُانگلی سےنقش ونگار بنا رہی تھی ۔

بیٹامجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آرہا میرا تو دماغ ماؤف ہوگیا ہے بلکل “۔خالہ جو اپنے بستر کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی ملائکہ کی جانب دیکھنے لگی ۔

“واپس بھیجنا تو سراسر زیادتی ہوگی ,ملائکا کے والد اور میری بہن کا یہ خواب تھا کے ملائکہ ُاسی یونیورسٹی سے پڑھے جہاں سے اس کا باپ پڑھ کے گیا تھا ۔مگر مجھے زمانے سے دڑ لگتا یے اگر ہم۔کسی کو پیسے دے کر یہ کام کرواتے ہے تو یو کے میں تو انویسٹیگیٹرز پورا چیک کرتے ہے کپل کہا رہتا ہے الگ تو نہیں رہتے سچی شادی ہے یا فیک, میں تو سچ میں بہت پریشان ہوں میری می می کیسے رہے گی کسی کے ساتھ “۔نگہت خالہ نے رونا شروع کردیا ۔

“خالہ آپ مجھے واپس بھیج دے آپ پلیز میری وجہ سے پریشان مت ہو”۔

ملائکہ نے سر ُاٹھا کے خالہ کے آنسو پونچے  ۔

“کیسے بھیجو می می تیری ماں نے تو ایک روپیہ مجھ سے نہیں لیا تھاوہ تو بڑی خودار ہے اس نے اپنی ساری جمع پونجی تجھ پہ خرچ کردی میں کیا منہ دکھاؤ گی تیری ماں کو, اور ادریس ُاس کے خواب کو کون پورا کرے گا “۔خالہ سر ُجھکاۓ بیٹھی رہی پھر اوزکان سے مخاطب ہوئ۔



اوزکان بیٹے آپ وکیل سے بات کرے میں پہلے لڑکا دیکھوں گی پھر میں فیصلہ کروگی”۔

“جی آنٹی”۔اوزکان نے کچھ سوچتے ہوۓ سر ہاں میں ہلایا اور خاموشی سے باہر آگیا اور راہداری کے چکر لگانے لگا جیسے ُاس کے زہن میں کچھ چل رہا ہو پھر کچھ دیر بعد اس نے ایک نمبر پہ کال ملائ اور اسے اسپتال کا بتاکے اندر کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔

“آنٹی میری بات ہوگئ ہےوکیل سے  وہ لڑکا آرہا ہے کچھ ہی دیر میں فری ہوکے ہم نے اسے اپنی ایمرجنسی بتادی ہے اگر آپ کو مناسب لگے گا تو آپ بتادیجیے گا باقی کا مینج میں کرلوگا “۔اوزکان صالیح نے یہ بات کہتے ہوۓ اپنی نظرہیں ملائکہ ادریس پر مرکوز رکھی جو اپنے ناخنوں کو بےدردی سے ُکتررہی تھی  ۔اوزکان کی اس بات پہ کچھ پل۔کے لیے چونکی پر سر نہیں ُاٹھایا شاید اسے اپنی سیلف ریسپیکٹ بہت عزیز تھی اسے ایسا محسوس ہوا تھا کے شاید اوزکان صالیح ُاس سے اپنا پروپزل دے گا پر نہیں وہ تو ُاس کے لیے دوسرا لڑکا تلاش کرلایا تھا ۔ملائکہ نے اپنا سر  صوفے کی بیک سے ِٹکا دیا اور آنکھیں موند گئ ۔اوزکان صالیح جو ملائکہ کے چہرےُ کےاتار چڑھاؤ کی  طرف متوجہ تھا خالہ کی آواز پر ان کی طرف متوجہ ہوا ۔

“بیٹا اوزکان آپ نے سہیل کو دیکھا ہے اسے واڑڈ میں کب شفٹ کرے گے “۔

“آنٹی ان کو ہوش آگیا ہے پر منہ پر زیادہ چوٹیں لگنے کی وجہ سے ان سے بات نہیں ہوپارہی باقی ان کی پروگریس ریپوڑٹ بہت اچھی ہے “۔

“شکر اللہ کا “۔اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ملائکہ نے فون دیکھا خالہ اس کی طرف متوجہ ہوئ ۔

“کس کا فون ہے “۔

“امی کا “

می می یہ میرے ہاتھ دیکھ پلیز انہیں کچھ بھی مت بتانا ورنہ۔میرے سر تیری ماں کا خون بھی لگ جاۓ گا اسے تیسرا ہارٹ اٹیک نہ ہوجاۓ “۔

“خالہ آپ کیسی باتیں کررہی ہے میں نہین بتاؤگی کچھ “۔

یہ کہ کے ملائکہ فون لے کر باہرچلی گئ۔ بات ختم۔کرکے ملائکہ۔وہی ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گئ, جانے کیوں اسے اوزکان کے سامنے ایک عجیب سی ُگھٹن محسوس ہورہی تھی شاید اسے اپنا بلواسطہ شادی کے لیے منع کرنا پسند نہیں آرہاتھا, ایسا کیوں ہورہا تھا ملائکہ کو خود سمجھ نہیں آرہاتھا۔ جب ہی اچانک ایک چوبیس پچیس سال کا انگریز لڑکا جو حلیے سے کوئ ٹین ایجر لگ رہاتھا کانوں میں ٹوپس پہنے ناک میں نوز پن ڈالے ہاتھوں میں کافی ساری انگھوٹیاں پہنے وہ لڑکا کم۔اور لڑکی زیادہ لگ رہا تھا وہ اس کے برابر میں آکر بیٹھ گیا ۔ ملائکہ کو بیٹھتے سار ایک آنکھ دبا کے” ہاۓ پڑیٹی گرل “۔کہا جس پہ ملائکہ نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ اور سیدھی ہوکے بیٹھ گئ۔ پھر خالہ کے کمرے کی جانب چل دی ۔

اندر داخل ہوئ تو وکیل صاحب خالہ اور اوزکان کے ساتھ بیٹھے تھے ۔می می خاموشی سے تین سیٹر صوفہ پہ جاکے ِٹک گئ جہاں اوزکان صالیح بیٹھا وکیل صاحب سے بات کرہا تھا جو ُکرسی پہ بیٹھے خالہ اور اوزکان کو سارے ایگریمنٹ رولز بتارہاتھا۔۔

ٹھیک ہے آپ آڑنلڈ کو اندر بلواۓ میں اس سے بات کرنا چاہوگا پہلے “۔وکیل صاحب نے سر ہاں میں ہلایا پھر اسے کال کرنے لگا کچھ ہی دیر میں وہی ہپی نما لڑکا جو ملائکہ کو نیچے ملا تھا کمرے میں داخل۔ہوا۔ملائکہ خاموشی سے ُاٹھ کے خالہ کے بیڈ پہ ان کے پاس بیٹھ گئ۔اب خالہ اور اوزکان ُاس سے۔سوال جواب کرنے لگے جو ان دونوں کی ُامیدوں پہ پورا ُاترتا نظر نہیں آرہا تھا اوزکان صالیح۔نے مزید ُاس کا انٹڑویو نہیں لیا اور خالہ کی طرف دیکھا پھر وکیل صاحب سے اور آڑنلڈ سے ایکسکیوز کیا کے وہ کچھ ڈسکس کرنا چاہتے ہے آپ ویٹنگ ایریا میں ہمارا نتظار کرے ۔وہ دونوں باہر کی جانب چلے گۓ۔

“بیٹا اوزکان میں نے بارہ سال یوکے ایمبیسی میں نوکری کی ہے وہاں پہ دن بھر ہمیں مختلف کلائینٹس کے ساتھ ڈیل کرنا پڑتا تھا اب ماشاللہ سے میں عمر کے اس دوراہے پر ہوں کے میں کسی انسان کو تھوڑا بہت جج کرسکتی ہو پر پتہ نہیں کیوں مجھے یہ لڑکا زمیندار نہیں لگ رہا ہم۔کسی۔اور کو۔دیکھ لیتے ہے “۔اس سے ہہلے اوزکان کوئ راۓ دیتا وہ ملائکہ کی بات پہ چونکا۔

“خالہ میں ُاس سے کرویا کسی اور سے کیا فرق پڑتا ہے وہ پیپر میرج ہی ہوگی آپ لوگ پلیز مزید تردد نہ کرے بس اسی کو۔بلاۓ مجھے بتاۓ کہا سائین۔کرنے ہے ۔اوزکان۔صالیح نے چند پل۔ملائکہ۔کو۔سرد نگاہوں۔سے دیکھا اور خالہ کی جانب متوجہ ہوا ۔

“آنٹی مجھے ملائکہ سے بات کرنی ہے آپ پریشان مت یویۓ گا ہم۔آرہے ہے”۔پھر ُاس کا ہاتھ تھامتا باہر کی جانب نکل گیا وہ خالہ کے سامنے ہکی بکی ہوگئ وہ کیسے ڈھرلے سے ُاس کا ہاتھ تھام۔کر اسے باہر لے آیا جہاں وکیل صاحب بیٹھے تھے ۔

“آپ داکیومنٹس تیار کرے ہم آرہے ہے “۔ملائکہ اوزکان کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ چھاۓ سخت تاثرات اس سے ُچھپے نہیں تھے۔

پھر اسے لیےپارکنگ کی طرف اپنی گاڑی کی نزدیک بڑھ گیا ملائکہ کو گاڑی میں بٹھایا اور اپنے موبایئل سے ایک۔میسج کیاپھر گاڑی کو ہوا کی دوش پہ۔ُاڑاتا لے گیا۔

“اوزکان گاڑی آہستہ چلاۓ پلیز “۔

ملائکہ نے اوزکان کو دیکھا جو۔بھینچے ہوۓ لبوں کے ساتھ گاڑی چلارہا تھا ۔اس نے ملائکہ۔کی۔آواز کا جواب نہیں دیا اور خاموشی سے گاڑی چلاتے ہوۓ کچھ دیر بعد فوٹولیب کے سامنے لا کر کھڑی کردی ۔

“یہ کہا لاۓ ہے آپ مجھے “۔

“شادی کرنی ہے نہ۔تمہیں ُاس آڑنلڈ سے تو بنا تصویر کے اپنی خواہش پوری کیسے کروگی باہر آؤ”۔

جب وہ گاڑی سے باہر نہ۔نکلی تو اوزکان نے ُاس کا ہاتھ تھام کے باہر نکالا پھر اسے لیے اندر داخل ہوگیا پھر کچھ ہی وقت میں اس کی تصویریں لے کر اس کی طرف چابیاں بڑھائ تم۔گاڑی میں بیٹھوں میں آرہا ہوں۔پھر اندر کی جانب چلاگیا ۔کچھ دیر بعد لوٹا اور گاڑی واپس اسپتال کے راستے پر موڑلی ۔

“آپ اپنا فارم۔ِفل کرواۓ کیفی ٹیڑیاں جاکے وکیل صاحب وہی بیٹھے ہے ان کے پاس وقت کم۔ہے انہیں شہر سے باہر جانا ہے ایک ہفتہ کے لیے تو آپ۔جلدی۔جلدی اپنا۔کام۔کرواۓ “۔

ملائکہ نے ُاس کی بات پہ۔پلٹ کر اسے دیکھا پھر خاموشی سے اپنے قدم کیفی ٹیڑیاں کی طرف بڑھادیا ۔ملائکہ کے اندر بہت کچھ ٹوٹا تھا اس وقت شاید وہ اوزکان سے بہت ساری امیدیں باند ُچکی تھی جب اس نے ُاس کی عزت کی حفاظت کی تھی ۔می می نے ایک سرد آہ بھری اور قدم اندر کی جانب بڑھادیے جہاں وکیل صاحب اسے بیٹھے نظر آۓ ملائکہ نے ُشکر ادا کیا آڑنلڈ ادھر نہیں تھا ۔ملائکہ سوچ۔میں پڑھ گئ جس انسان کے ساتھ میں ایک سیکنڈ نہیں۔نکال سکتی میں اس کے ساتھ اتنے ماہ کیسے نکالوگی۔

                    ۞۞۞۞۞۞۞۞

دوسری جانب اوزکان صالیح اور خالہ کے بیچ میں ایک میٹنگ ہوئ جس۔میں اوزکان صالیح نےاپنا پروپوزل ملائکہ کے لیے دیا جس پہ نگہت خالہ بہت خوش ہوئ اور جزباتی ہوکے رونے لگی ۔

“مجھے سمجھ نہیں آرہا میں نے کون سی نیکی کی تھی جو تم میرا اس مشکل وقت میں ساتھ نبھانے آۓ”۔

“آنٹی ایسے مت کہے اللہ کی جس کام میں مصلحت ہوتی ہےوہ اپنے بندوں سے خود کرواتا ہے”۔

“آنٹی بٹ ایک۔پروبلم۔ہے آپ کی سر ِپھری بھانجی اس آڑنلڈ سے شادی کے لیے تیار ہوگئ ہے اس کا کیا کرنا ہے میں اپنے طریقے سے ٹیکل نہیں کرنا چاہتا “۔

“اس کی تم۔ٹینشن مت لو میری اجازت ہے میں خود بات کرلوگی می می سے تم۔اسے اندر بھیجو پر بیٹا میری ایک ریکویسٹ ہے اگر آپ اسے مانو تو میں تھوڑا زہنی سکون میں رہوگی مجھے کوئ اسٹریس نہیں ہوگا  “۔

“جی ُحکم۔کرے آنٹی “۔

“بیٹا بے شک یہ پیپر میرج ہے پر میں چاہتی ہوں تم یہاں کی نزدیکی مسجد سے کوئ مولوی بلواؤ جو آپ دونوں کا اسلامی طور طریقے سے نکاح کرواۓ”۔خالہ نے اپنے ہاتھ مسلتے ہوۓ سر ُجھکاۓ کہا ۔اوزکان صالیح آگے بڑھا اور خالہ کے شانے پہ ہاتھ رکھا ۔

“میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنی امی کو نہیں دیکھاپر آپ کو دیکھ کر لگتا ہے وہ بلکل آپ کی  طرح کی ہوگی آپ پریشان نہیں ہو میں سب ہینڈل کرلوگا “۔

کچھ ہی دیر۔میں ملائکہ۔خالہ کے پاس آگئ اوزکان باہر وکیل کے پاس چلاگیا پھر خالہ نے ساری بات می می سے کہی تو وہ ہتھے سے ُاکھڑ گئ۔

“آپ نے اس سے میرے لیے ہاتھ پھیلاۓ ہے نہ خالہ میں نہیں کروگی بھیک میں کی ہوئ شادی “۔

“می می اگر تو مجھے رتی بھر بھی اپنی ماں کی جگہ سمجھتی ہے نہ تو ُچپ کرکے پیپرز پہ سایئن۔کردے ورنہ۔مجھے اپنا چہرہ مت دکھانا”۔۔

نگہت خالہ نے یہ کہتے ہوۓ اپنی نظریں سامنے دروازے کی طرف کردی۔

“خالہ میرے ساتھ ایسا مت کرے مجھے اپنی انا  بہت عزیز ہے اگر اسے مجھ سے کرناہوتا تو وہ پہلے کہتا اس نے مجھ پہ ترس کھا کے خیرات میں دے رہاہے اپنا نام “۔

ملائکہ نے روتے ہوۓ کہا ۔

“نہیں بیٹا مجھے خود اوزکان نے کہا تھا وہ لوگ اندر آرہے ہے پلیز۔میں بہت زیادہ پریشان ہوں ارحم۔اور سہیل کی وجہ سے,تم تو میری اچھی بیٹی ہونا مجھے اس مشکل سے نکال دو تاکہ میں تمہاری ماں ۔کے سامنے ُسرخرو ہوسکو”۔

نگہت خالہ نے سر ُجھکاۓ آہستہ۔آواز میں کہا دیر بعدکمرے کا دروازہ بجا۔خالہ۔نے یس کہا تو اوزکان صالیح وکیل صاحب اور مولوی صاحب  کےساتھ اندر داخل ہوا۔

ملائکہ نے خالہ کو دیکھا ان کی تنبہی کرتی آنکھیں اوزکان صالیح سے ُچھپی نہ رہ سکی ۔پھر کچھ ہی دیر میں ملائکہ ادریس سے ملائکہ اوزکان بن گئ ۔

اوزکان وکیل صاحب اور مولوی صاحب کو باہر تک چھوڑنے گیا پھر واپس جب اسپتال کے کمرے میں آیا تو ملائکہ خالہ کے نزدیک بیڈ پہ بیٹھی آنسوں بہانے میں مصروف تھی ۔اتنے آنسوں کہا سے آتے ہے اس لڑکی کے پاس ۔

“آؤاوزکان اندر آؤ”۔

بیٹا ملائکہ آپ ذرا باہر سے میرے لیے ایک جوس لے کر آؤ”۔ملائکہ جورونے میں مصروف تھی خالہ کی آواز پہ خاموشی سے باہر کی جانب نکلنے لگی جب اوزکان نے کہا “میں لےآتا ہو “۔

“نہیں آپ بیٹھے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنی ہے “۔

خالہ کی بات پہ اوزکان صالیح نے خاموشی سے سر ُجھکادیا ۔ملائکہ کے جانے کے بعد خالہ کی آواز گونجی۔

“بیٹا ملائکہ تھوڑا سا نہیں کافی ڈسٹڑب ہوگئ ہے ان سب چیزوں سے مجھے سمجھ نہیں آرہا آپ سے کیسے بات کرو آپ نے انسانیت کے خاطر ہمارے لیے اتنا کچھ کیا پر وہ بچی ہے اسے اتنی سمجھ نہیں اگر وہ آپ کے ساتھ کوئ مس بی ہیو کرے تو ُاس کے لیے میں  آپ سے معازرت چاہتی ہوں “۔

“آنٹی یہ آپ کیسی باتیں کررہی ہے آپ بلکل ٹینشن فری ہوجاۓ میں سب کچھ ٹھیک کرلوگا آپ مجھے سہیل کی جگہ سمجھے “۔

“اللہ تمہیں خوشیاں دیکھنا نصیب کرے تمہاری ساری مشکلیں ہل کرے آمین”۔خالہ نے دو تین اور ہلکی ُپھلکی باتیں کی اتنے میں ملائکہ آگئ ستے وے چہرے کے ساتھ خالی کی طرف جوس کا گلاس بڑھایا تب ہی نرس آگئ میم آپ لوگ پلیز باہر آجاۓ وزیٹنگ آورز صبح نو سے شام۔پانچ بجے تک ہے آپ لوگ براہے  مہربانی باہر آجاۓ”۔نرس کہ کے باہر چلی گئ۔

اوکے آنٹی میں چلتا ہوں کل ملتے ہےآپ اپنا دیھان رکھنا میں باہر ہی کھڑا ہوں آپ ان کو باہر بھیج دے”۔اوزکان نے ترچھی نظر کرکے ملائکہ کو دیکھا اور خاموشی سے باہر نکل آیا۔

“ملائکہ بیٹا تمہاری قسمت میں شاید ایسے ہی ہونا لکھا تھا ہم خود کو مخالف سمت چلتی ہوا کے آگے سنبھال نہیں سکتے بہتر ہے کے خود کو ہوا کے دوش پہ چھوڑدو تو تم بھی یہی کرو می می خود کو ہوا کے دوش پہ چھوڑدو, اوزکان کے ساتھ لڑائ مت کرنا وہ لڑکا مجھے پہلی نظر میں اچھالگا ہے تم پلیز اسے تنگ مت کرنا اوکے ادھر آؤ خالہ سے نہیں ملوگی”

ملائکہ نے ان کے ماتھے پر بوسہ  دیا اور خاموشی سے باہر کی جانب آگئ جہاں شدید برفیلے موسم نے اس کے

دانت بجوادیے وہ خاموشی سے آکر بینچ پہ بیٹھ گئ سارا دن ہیٹر میں رہنے سے باہر کی سردی کا اتنا اندازا نہیں ہوتا مگراب ملائکہ کو صحیح معنوں میں کپکپی ۔محسوس ہونا شروع ہوگئ۔


دور گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ ایک ہاتھ میں سیگریٹ دباۓ اوزکان صالیح اس پری وش کو دیکھ رہاتھا جو شدید سردی میں بھی اپنی انا کی خاطر وہاں بیٹھی تھی۔اوزکان صالیح نے سیگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوۓ اپنے قدم۔اس کی جانب بڑھاۓ۔

“آج پھر بینچ پہ سونے کا ارادہ ہے “۔اوزکان صالیح اس کے برابر میں بیٹھتے ہوۓ بولا ۔

“آپ کو ِاس سے کیا آپ آلڑیڈی مجھ پہ بہت احسانات کرچکے ہے جن کو ُاتارنا میری اول ترین ترجیع ہوگی آپ جاۓ یہاں سے مجھے ڈسٹڑب مت کرے “.

اوزکان صالیح کا سیگریٹ پیتا ہاتھ کچھ پل کے لیے ہوا میں معلق ہوا چہرے پہ اک گھمبیر مسکراہٹ چھائ جسے اس نے اپنی عنابی لبوں تلے ُچھپالیا۔

“ملائکہ میں زیادہ بات کو ُتول نہیں دوگا, مجھے نہیں معلوم تمہیں کیا چیز مضطرب کررہی ہے جو تم اس طرح بی ہیو کررہی ہو, مگر میں تمہیں ایک بات بتادو میں بہت الگ قسم کا انسان ہو اپنے سے ُجوڑی ہر چیز کے لے بہت حساس ہوں میں ُانہیں ِسینت ِسینت کر رکھتا ہوں تاکہ انہے  زمانے کے سردوگرم۔سے بچاسکوتو چیز جہاں کی ہو وہ وہی اچھی لگتی ہے اس لیے بنا کوئ سین کرئیٹ کیے میرے ساتھ چلو ورنہ”۔

“ورنہ کیا”۔ملائکہ نے سیگریٹ پیتے اوزکان کو دیکھا جس کے چہرے پہ سرد تاثرات تھے ۔سیگریٹ پیتے اوزکان صالیح نےملائکہ کو دیکھا اس کے چہرے پہ گھمبیر مسکراہٹ چھاگئ تھی ۔اس نے اپنا سیگریٹ پیتا ہاتھ شہادت کی ُانگلی میں دبائیں ملائکہ کی طرف اشارہ کیا۔جو بینچ سے دو قدم دور کھڑی ہوگئ تھی۔

“ورنہ میں ُاٹھا کے لے جاؤ گا”۔اوزکان صالیح دوقدم۔آگے بڑھا اور ملائکہ کو آہستہ آواز میں کہا ۔اوزکان کی بات پہ ملائکہ کے کانوں کی لوؤے ُسرخ ہوگئ۔اوزکان صالیح ایک قدم۔اور آگے بڑھا ۔

“چلو”۔

ملائکہ دو قدم۔پیچھے ہوئ اور سر نہ میں ہلایا اوزکان نے اس بار تین قدم۔بڑھاۓ اس کے اور ملائکہ کے بیچ میں ایک ُانگلی کا فاصلہ رہ گیا ُاس نے بنا کچھ کہے ملائکہ کا ہاتھ تھاما اور  گاڑی کی طرف بڑھنے لگا ُاس دوران ملائکہ اس سے اپنا ہاتھ ُچھڑانے کی کوشش کرنے لگی پر اوزکان صالیح کی مضبوط گرفت سے اب یہ ہاتھ نکلنا مشکل لگ رہاتھا,  پھر اسے فرنٹ ِسیٹ پہ  بٹھاکے خود بھی ڈڑایئونگِ ِسیٹ براجمان ہوگیا۔ 

“یہ کیا طریقہ ہے اوزکان “۔

ملائکہ نے اس پہ برہم۔ہوتے ہوۓ کہا ۔

ڈڑایئونگ کے دوران میں نے باتیں کرنا چھوڑدی ہے امید ہے تم۔اپنی اینرجی ویسٹ نہیں کروگی ۔

“آپ مجھے کہا لے کر جارہے ہے “۔

“محترمہ میں آپ کو کیڈنیپ کر کے نہیں لے جارہا ہم اس وقت صالیح ِولا جارہے ہے “۔

“وہ تو آپ کا گھر ہوا نہ میں وہاں کیوں جاؤں گی “۔

ملائکہ نے اس کی طرف پلٹ کے دیکھا ۔

“ُدیکھوں ملائکہ میں بہت تھک گیا ہو گھر جا کے تمہیں سب ایکسپلین کرتا ہوںپلیز مجھے تھوڑا وقت دو”۔اس کے بعد ملائکہ کچھ نہیں بولی اور خاموشی سے باہر دیکھنے لگی پھر اوزکان نے ایک محل نما گھر کے باہر گاڑی روکی اور ہارن کیا جسے باوردی چوکیدار نے فورًا  کھولا اوزکان گاڑی اندر بھگالے گیا ملائکہ اس محل کا اتنا بڑا گاڑن دیکھ کر حیران رہ گئ جہاں سے گزرتے ہوۓ اس نے کئ ایسے پھول دیکھے جو اس نے زندگی میں شاید کبھی نہ دیکھے ہو کافی لمبا درختوں اور  پھولوں کی بیلوں سے سجا راستہ جو گھر کے اندرونی دروازے کو جاتا تھا دیکھنے والے کی آنکھوں کو خیر کردیتا ہوگا ملائکہ ابھی پھولوں سے لدے ان راستوں میں کھوئ ہوئ تھی کے اوزکان صالیح کی آواز اسے ِاس جنت نظیرمحل سے کھینچ لائ۔

“اندر چلو اینجل”۔وہ اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولتا ہوا کھڑا ہوگیا۔

“مجھے یہاں نہیں آنا اوزکان  آپ مجھے خالہ کے گھر ڈڑاپ کردے “۔

اوزکان صالیح نے لمبی سانس لی اور بنا ملائکہ کو موقع دیۓ اپنے مضبوط بازوؤ میں ُاٹھاۓ اندر کی جانب چل دیا پھر اوزکان صالیح مار بل کی سفید ٹائیلوں پہ اپنے مضبوط قدم جماتا ملائکہ کو لیے اوپر کی جانب چل دیا اس دوران ملائکہ کو اوزکان صالیح نے اپنے ناخنوں سے کھروچنے کی بہت کوشش کی مگر اوورکوٹ پہنے کی وجہ سے اوزکان صا لیح ملائکہ کے واروں سے بچ گیا ۔پھر اسے نہایت احتیاط سے بیڈ پہ بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا ۔جو اس سے اپنا ہاتھ ُچھڑانے کی مسلسل کوشش کررہی تھی ۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *