Rooh Ka Sakoon Episode 11

 ارحم نے زور دار تھپڑ ملائکہ کے چہرے پہ جڑ دیا۔

اب آواز نہ آۓ تمہاری, مجھے میرا کام خاموشی سے کرنے دو ورنہ پہلے رونی کو ُبلوالوں گا یہاں”۔

 ارحم۔نے ملائکہ کو جبڑے سے زور سے پکڑا ۔

چھوڑو مجھے رزیل انسان”ملائکہ خود کو ُچھڑانے کی بھرپور کوشش کررہی تھی۔

اوزکان! !!!!!وہ روتے ہوۓ اونچی آواز میں اوزکان کو ُپکار رہی تھی۔۔

۔اوزکان بھاگ کر اس کمرے کے باہر گیا جہاں سے ملائکہ اسے ُپکار رہی تھی۔۔

۔اس نے دروازے کو زور سے دھکا مارا ُاس کے باڈی بلڈڑ ہونے کے نتائج اسے آسانی سے مل گۓ ۔دروازہ جھٹکے سے ُکھلا جہاں اندر کا منظردیکھ کر اوزکان کا خون کھول گیا ارحم ملائکہ پہ ُجھکا اسے قابوں کرنے کوشش کررہاتھا۔اوزکان نے اپنے جبڑے کو زورسے بھینچا اور ارحم۔کو پوری قوت سے ملائکہ کے اوپر سے ُاٹھاکے کمرے کے وسط میں رکھے شیشےکے ٹیبل کے اوپر پھینکا جس سے شیشہ ٹوٹ کے کمرے کے فرش پر بکھر گیاپھر ملائکہ کی طرف بڑھا جو بیڈ سے ُاٹھ کر بیٹھ گئ تھی۔

اوزکان نے اس کےچہرہ کواوپر کیا جہاں روتی بلکتی ملائکہ کے چہرے پہ ُانگلیوں کے نشان تھے ۔اس کی سفید ٹی شرٹ گلے کے پاس سے پھٹ گئ تھی اوزکان نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ اور ارحم۔کی طرف بڑھا جو کمرے سےباہر کی طرف بھاگ رہا تھا اوزکان صالیح نے پوری قوت سے اس کے جبڑے پر ُمکا مارا جس سے ُاس کے منہ سے خون کا فوارہ ُپھوٹ پڑا, اوزکان نے اسے گریبان سےپکڑ کر لاتعداد تھپڑوں کی برسات کردی ۔



تیری ہمت کیسی ہوئ اسے ہاتھ لگانے کی, خبیث انسان میں تیرا خون پی جاؤں گا ۔

کیا سوچ کر تونے اسے ہاتھ لگانے کی کوشش کی ۔ اوزکان نے اس کے بال ُمٹھی مین جکڑ کےزمینُ سے اس کا سر ٹکرایا ایک بار دو بار بار بار,  مگر پھر بھی اس کے اندر لگی آگ ُبھج نہیں رہی تھی ۔

بول زلیل انسان ۔اوزکان نے کھڑے ہو کر اب اسےِکک ماری پھر اسے ایک بار پھر گریبان سے پکڑ کے ُاٹھایا ۔جو نیم بےہوش ہوُچکا تھا ۔اوزکان صالیح نے اس کے اوپر نزدیک پڑا پانی کا جگ  ُالٹادیا جس سے ارحم ایک دم سے ہوش میں آیا۔

انہیں ہاتھوں سے تھپڑ مارا تھا نہ تو نے اسے ۔اوزکان صالیح نے اسکا ہاتھ اپنے جوتے کی ایڑی سے فرش پہ بکھرے شیشے پر رگڑ دیا ۔وہ چیخنے لگا۔

چھوڑو مجھے میں نہیں کرو گا کبھی بھی پلیز مجھے جانے دو۔وہ معافیاں مانگنے لگا۔

پانچ منٹ دےرہا ہوں تجھے میں کوئی پولیس کیس نہیں چاہتا, مجھے تو اب ملائکہ کے آس پاس بھی نظر مت آنا ورنہ اگلی بار تجھے سانس لینے کی مہلت نہیں دو گا یہ یاد رکھنا۔

ُاٹھ اورنکل یہاں سے ۔اوزکان نے ارحم کو کالر سے گھسیٹ کر دروازے کے نزدیک پھینکا۔


پھر کمرے کی طرف بڑھا جہاں ملائکہ زمیںن پہ بیٹھی ُگھٹنوں میں سر دیے رورہی تھی ۔اوزکان نے نزدیک پڑا ُاس کا کوٹ ُاٹھا کے اس کے اوپر ڈالا پھر ُاس کے سر پہ ہاتھ رکھا ۔

اینجل سب ٹھیک ہے کچھ بھی نہیں ہوا ُاٹھو۔اوزکان نے ُاس کے نزدیک کھڑے ہوکر اسے آواز لگائ۔جس پہ ملائکہ نے خود پہ قابوں پاتے ہوۓ اوزکان صالیح کے بڑھے ہوۓ ہاتھ پہ اپنا سر رکھ دیا اور اونچی آواز میں رونے لگی ۔

اااااوزکان ۔وہ ہچکیوں کے درمیان بس ُاس کا نام لے رہی تھی ۔

ُاس نے م م مجھے۔!!!!!ملائکہ مسلسل اونچی آواز میں رورہی تھی۔

ششششش!!!!کچھ بھی نہیں ہوا 

ریلیکس اینجل ۔۔

تم بلکل ٹھیک ہو۔یہاں دیکھوں میری طرف ۔اوزکان ُاس کے نزدیک گھٹنوں کے بل بیٹھا۔

ملائکہ میں کیا کہ رہا ہوں ادھر دیکھوں میری طرف ُاس خبیث کو سبق سکھا دیا ہے میں نے اب رو مت۔۔مگروہ مسلسل سر نہ میں ہلارہی تھی ۔کچھ ہی لمحوں بعد اپنے اعصاب پر قابوں نہ پاسکی ,اس سے پہلے ملائکہ کا سر زمین پہ لگتا اوزکان صالیح نے اسے اپنے حصار میں لے لیا ۔اوزکان نے اپنے بازوؤں میں ُجھولتی ملائکہ کو دیکھا جس کے چہرے پہ ابھی بھی ُاس کی ُانگلیوں کے نشان تھے۔آنکھوں پہ آنسوؤں کے موتی ابھی بھی اٹکیں ہوۓ تھے بے ہوشی میں بھی وہ ہچکیاں لے رہی تھی ۔


“ارحم میں تجھے بخشو ں گا نہیں” ۔اوزکان صالیح نےیہ کہتے ہوۓ اپنے لب ملائکہ کی پیشانی پہ رکھنے لگا تو ُاس کے کانوں میں ملائکہ کی کہی ُپرانی بات گونجی “آپ میرے لیے نہ محرم ہے ۔میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی”۔

اوزکان صالیح نے اپنے لبوں کو ُاس کی پیشانی پہ بوسہ دینے سے روک لیا ۔پھر اسے خاموشی سےباہر صوفے پہ لاکر احتیاط سے لٹا دیا ۔۔

 ُاس پر پانی کے چھینٹے مارے جس سے وہ  ہوش میں آگئ۔اور پھر سے ایک بار رونا شروع ہوگئ۔

اینجل یہاں بیٹھوں اور یہ پانی پیو۔اوزکان نے اس کی طرف پانی کا گلاس بڑھایا جو وہ کیچن سے لایا تھا ۔ملائکہ نے سر صوفے کے ساتھ لگادیا ۔بند آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت میں بہ رہے تھے۔

ملائکہ کی طرف اوزکان نے پانی کا گلاس بڑھایا جسے ملائکہ نے لینے سے انکار کردیا۔اوزکان نے ایک بار پھر اس کے آگے کیا ۔

مجھے نہیں پینا۔

اوزکان نے گلاس ملائکہ کے لبوں سے لگایا,ملائکہ نے گھونٹ بھر لیا۔

اور پیو ۔اوزکان نے سر ُجھکاۓ اس کی طرف گلاس پھر بڑھایا۔

بس مجھے اور نہیں چاہیے۔ملائکہ نے ہچکیوں کے دوران کہا۔

آنسوں صاف کرو اینجل ۔اوزکان صالیح کا چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا, اپنے جبڑے کو اتنی زور سے بھینچا کے اسےلگا جیسے ُاس کی شریانے پھٹ جاۓ گی۔۔


“اگر تم خاموش نہیں  ہوئ اینجل تو آئ پرومس یو میں ُاس خبیث کو بیچ چوراہے پر ماروگا جا کے, چاہے مجھے قانوں ہاتھ میں کیوں نہ لینا پڑے”۔

اوزکان صالیح نے دیوار پہ لگے شیشے پہ زور دار  ُمکا مارا جس سے وہ چکنا ُچور ہوگیا۔ شیشے کی آواز پہ ملائکہ نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے جب اس نے سر اُاٹھا کے اوزکان کو دیکھا تووہ دوڑ کے ُاس کے پیچھے گئ اور ُاس کی ُپشت سےسر ٹکاۓ روپڑی۔

پلیز مت کرو ایسے اوزکان ۔۔میں نہیں روؤ گی ۔میری وجہ سےخود کو نقصان مت پہنچاؤ پلیز۔۔

وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔

فون کہا تھا تمہارا ۔اگر ُاسے گھر میں دیکھ لیا تھاتو مجھے ُاسی وقت کال کیوں نہیں کی, ہاتھ نہیں تھے تمہارے اوزکان صالیح نے اپنے خون سے بھرے ہاتھ سے ملائکہ کا بازوزور سے پکڑا ۔

بولو ۔وہ ِچلایا۔

ووہ میرا پاسپوڑٹ جلا رہاتھا۔م م مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ُاس وقت۔اس نے اٹک اٹک کر روتے ہوۓ اوزکان صالیح کو ساری بات بتائ۔۔

“اا اوزکان آپ کا خون نکل رہاہے بہت۔”ملائکہ نے ُاس کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے ُاس نے جھٹک دیا اور کمرے کے چکر لگانے لگا۔اپنا بلیک کوٹ ُاتار کر پھینکا پھر اپنی ہلکی آسمانی رنگ کی ٹائ ُاتاری مگر اندر لگی آگ کی تپش جیسے اندر کی گرمی کو ختم۔نہیں کررہی تھی وہ کالی پینٹ پہ سفید ڈریس شرٹ پہنے اپنے خون سے بھرے ہاتھ سے سیگریٹ سلگانے لگا پھر ایک گہرا کش کے کر ملا ئکہ کی طرف پلٹا ۔

اپنے کپڑے بدل کر آؤ فورًا ۔ُاس نے ملائکہ کی طرف َسر سری سا دیکھا جو شاید بے ہوش ہوتے وقت اپنا کوٹ اندر ہی گرا آئ تھی۔ملائکہ نے اپنے لباس پہ نظر دوڑائ تو اوزکان کے سامنے شرمندگی سے نظریں ُجھکا۔گئ ۔

وہ خالہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئ پھر تھوڑی دیر بعد کالی پینٹ پر کالا سویٹر اور گلے میں ہلکا لال رنگ کا مفلر پہنے باہر آئ جہاں اوزکان کسی سے فون پہ اپنی ُ ترک زبان میں بات کررہاتھا۔ُاس کے ہاتھ میں ملائکہ کا جلا ہوا پاسپوڑٹ تھا جس کے صرف کنارے بچے تھے جہاں سے ارحم نے ُاسے تھام رکھا تھا۔۔

تھوڑی دیر بات کرکے فون بند کیا پھر ملائکہ کی طرف دیکھا جو سر ُجھکاۓ کھڑی تھی۔

چلو میرے ساتھ۔اوزکان نے ملائکہ کو آواز لگائ۔ملائکہ نے اوزکان کی بات پہ سر نہ میں ہلایا ۔

کیا مطلب ۔اوزکان نے ُدرشت لہجے میں پوچھا۔

م م مجے نہیں جانا  آپ مجھے خالہ کے پاس چھوڑدے”۔


“تمہارا دماغ ٹھکانے پر ہے اس وقت رات کے بارہ بج رہے یے, کہا جاؤ گی بتاؤ ویزیٹنگ آور نہیں ہے کوئ اور باہر دیکھوں برف پڑ رہی ہے یا پھر تم یہاں ُرک کر ارحم۔اور ُاس کے ساتھیوں کا انتظار کرنا چاہتی ہو”۔


اوزکان غصے میں ملائکہ کے نزدیک آکر کھڑا ہوگیا ۔ملائکہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے اوزکان صالیح کو دیکھا جس سے جب سے ملی تھی  آج پہلی بار اسےاتنے غصے میں دیکھ  تھا۔

مجھے کچھ نہیں سمجھ نہیں آرہا۔ملائکہ  نے وہی زمین پہ بیٹھ کر ُگھٹنوں پر َسر ُجھکا دیا۔اوزکان کچھ پل اسے دیکھتا رہا پھرایک دم سے کھڑا ہوا اور ملائکہ کا ہاتھ تھاما اور ُاسے ایک جھٹکے سے کھڑا کیا جس سے وہ اوزکان صالیح کے سینے سے ٹکراتی مگر ملائکہ نے خود کو بچانے کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اوزکان صالیح کے سینے پہ دھر دیۓ۔ملائکہ نے سوالیہ نظریں اوزکان پہ کی۔

“میرا نہیں خیال مجھے تمہیں اپنا کریکٹر سرٹیفیکیٹ دینا پڑے گا جب ہی تم۔چلو گی میرے ساتھ ۔میں تم سے پوچھ نہیں رہا تم چل رہی ہو میرے ساتھ ِمس ادریس ورنہ میں تمہارے ساتھ زبردستی بھی کرسکتا ہوں “۔

ُاس نے غصے سے بھرے چہرے سے ملائکہ کو کہا۔

“اپنے ڈاکومنٹس لے کر آؤ سب تمہارے پاس پانچ منٹ ہے باقی سامان صبح لادوگا تمہیں “۔ُاس نے ملائکہ کو پیچھے کی طرف جھٹکا دیا اور خود باہر نکل گیا۔

“بلکہ تم کیا جاؤ گی چلو میرے ساتھ اندر کہا رکھے ہے بتاؤ”۔اوزکان اسے کمرے میں لایا ملائکہ اس کےغصے سے خائف ہوکر زمیںن کی طرف گرے پرس کی طرف اشارہ کیا اوزکان صالیح نے پرس ُاٹھایا اور باہر گاڑی کی جانب آگیا۔

پھر گاڑی کے اندر ملائکہ کو بٹھایا اور ڈڑائیونگ ِسیٹ پر خود آکر بیٹھ گیا۔پھر ریش ڈڑایؤنگ کرتے ہوۓ ۔ایک ہوٹل کے سامنے لاکے بریک لگائ۔ملائکہ نے اوزکان صالیح کی طرف دیکھا جو اسے بلکل نہیں دیکھ رہا تھا۔

“اترو”۔اوزکان صالیح نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا ۔

“اوزکان پلیز مجھے نہیں جانا آپ مجھےیہی رہنے دے ” ۔ملائکہ نے اپنی ُانگلیوں کو چٹخاتے ہوۓ کہا۔اب کی بار اوزکان نے ُاسے ہاتھ سے پکڑ کے باہر نکالا اور ہوٹل کے اندر لےجانے لگا ۔

“اوزکان چھوڑے مجھے”۔ملائکہ نے اپنا ہاتھ کھینچا تب ہی اوزکان نے ایک دم سے پلٹ کر اسے داۓ جانب کھڑی پارکنگ میں گاڑی کے ساتھ لگا کے ُغرا کے کہا۔

اینجل تماشا مت بناؤ بس آج رات کی بات ہے کل تمہارے رہنے کا  انتظام کر دوگا اب چلو اندر,”۔

ملائکہ اس کے پیچھے کھینچی چلی جارہی تھی ۔اوزکان صالیح نے ریسیپشن پہ جا کے ایک سویٹ لیا اس دوران ملائکہ لابی میں خاموشی سے کھڑی رہی ۔وہ لفٹ کے ذریعے اوپر سویٹ میں آۓ۔اس دوران اوزکان صالیح نے ملائکہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔وہ اسے لیے اندر داخل ہوا ۔کشادہ اور خوبصورت یہ دو کمروں پر مشتمل سویٹ تھا جس میں باہری حصے میں سیٹنگ کا انتظام۔تھا اور اندر بیڈروم ۔۔

اب یہاں میرا نہیں خیال تمہیں کوئ پروبلم ہوگی رات گزارنے میں,  یہاں ہزارو لوگ یے جو آج رات بسر کرے گے تو تم اب اندر اپنے روم۔میں جاؤ کسی چیز کی ضرورے ہوگی تو میں باہر ہی ہوں  یہ کہ کے اوزکان اندر بیڈروم میں گیا وہاں سے اپنے لیے ایک تکیا اور بلینکٹ لیا اور باہر لا کے صوفے پر رکھ دیا ۔ ۔پھر روم۔سروس سے کھانا منگوایا ساتھ میں ملائکہ کے لیے میڈیسن بھی پھر ملائکہ کے لکھ منع کرنے کے باوجود اوزکان نے اسے کھانا کھلا کے دوائ کھلائ۔پھر اسے کمرے میں بھیج کر کسی سے فون پہ  اپنی زبان میں بات کرنے لگا جو کمرے میں بیٹھی ملائکہ کے سر سے گزر رہی تھی اس دوران ملائکہ غنودگی میں جانے لگی پھر گیری نیند سوگئ۔

                   ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

ملائکہ نگہت خالہ کے گلے لگی کل کی ساری رواداد سنا رہی تھی جسے سن کر نگہت خالہ رو پڑی اور پاس بیٹھی ملائکہ کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔

مجھے معاف کردو می می مجھے تمہیں ارحم۔کے بارے میں بتادینا چاہیے تھا۔

خالہ ایسے مت روۓ پلیز۔ملائکہ  نے خالہ کے بندھے ہوۓ ہاتھ کھولے اتنے میں اوزکان اندر  داخل ہوا آور سلام۔کیا ۔

اوزکان بیٹے میں۔آپ کا کس طرح شکریہ ادا کرو جب اپنے ہی ُکھلے آسمان تلے ہمارے سر سے چادر اتارے تو دوسرو سے کیا ُامید لگانا”۔

نگہت خالہ اونچی اونچی رونے لگی ۔

“آنٹی آپ پلیز خاموش ہوجاۓ پہلے ساری رات ان محترمہ کو ُچپ کروایا ہے اب آپ شروع ہوگئ ہے”۔


اوزکان نے ان کے سر پہ ہاتھ رکھا۔


“بیٹا وہ۔دل کا ُبرا نہیں ہے بس غلط لوگوں میں رہنے کی  وجہ سے اسے نشے کی لت لگ لگئ ہے۔می می وہ تنہارا گنہگار ہے مگر بیٹا ِاس ماں پر رحم۔کھانا ُاس پر پولیس کیس مت کرنا ورنہ میرا ارحم مزید گناہوں کی دلدل میں پھس جاۓ گا “۔نگہت خالہ نے ایک بار پھر روتے ہوۓ ملائکہ سے التجا کی جسے ملائکہ نے خالہ کے ہاتھ تھام۔کر 

ُان پر بوسہ دیا ور ان کے آ نسوں پونچے۔

اوزکان اب می می کے پیپرز کا  کیا ہوگا یہ تو ایسے ایلیگل کہلاۓ گی ۔نگہت خالہ نے ملائکہ کا ہاتھ تھام کے کہا۔

“میں نے اپنے وکیل سے ساری بات کی ہے ۔وہ اندر آرہا ہے آپ لوگ ٹھیک سے بیٹھ جاۓ”…


               ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

“میم ایسا ہے کے اکاڑڈنگ ٹو یو کے لا ڈیمیج ہوۓ پاسپوڑٹ کو کینسل کردیا جاتا ہے کیوں کے ان کی کچھ شرائط ہے جو معائنہ کرنے والے اسے دیکھ کے ریجیکٹ کردے گے کیوں کے اس میں کچھ بھی نہیں بچا, اب ان کے پاس دو ہی حل ہے فوری طور پر یا تو وہ یہ واپس اپنے ملک چلی جاۓ یا پھر دوسرا اوپشن ہے ان کے پاس کے جب تک۔ان کے ڈاکومنٹس کمپلیٹ نہیں ہوتے یہ یہاں کے کسی نیشنلٹی ہولدڑ سے پیپر میرج کرلے۔ اگر آپ کہے گے تو میں یہاں پہ ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو پیسے لے کر شادی کرلیتے ہے اور ساری انکوائیریز بھی جینون طریقے سے پوری کراتے ہے اب آپ لوگوں کا جو بھی فیصلہ ہوگا میں حاضر ہوں” ۔

وکیل صاحب کھڑے ہوکر اوزکان سے ہاتھ ملاتے ہوۓ باہر نکل آۓ۔

“خالہ آپ مجھے واپس بھجوادے مجھے نہیں رہنا یہاں “۔ملائکہ نگہت خالہ کے کندھے پہ سر ٹکاۓ آنسوؤں کو روکنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی اندر آتے اوزکان نے ملائکہ کی بات سنی”۔


آگے جاری ہے۔۔۔







About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *