Parsa episode 3

ناراض ہو کسی سے موسی سکندر؟ “۔۔۔۔۔۔

عمر نے اسکا بے تاثر لہجہ اور چہرہ دیکھ کر پوچھا جوآج دو دن بعد  دبئ سے واپس آیا تھا۔۔  جہاں اسے اپنے کام کے  سلسلے میں روکا جارہاتھا۔۔۔۔ وہ کسی بھی صورت میں ایمان کی وجہ سے رکنا نہیں چاہتا تھالہذا اسے دو دن وہاں رک کر آنا پڑا۔۔  جب سے وہ واپس آیا تھا عمر اسکا بگڑا لہجہ اور رویہ محسوس کر رہا تھانہ کوئی بحث نہ کوئی مباحثہ صرف سپاٹ چہرہ لیے کاموں میں مصروف تھا۔۔۔

بس کام کی بات کر کے ایک لفظی جواب دے کر خاموش ہوجاتا تھا۔۔۔

“نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں تم میرے بجاۓ اگر کام پہ دیھان دوگے تو جلد ہی کامیاب ہوجاؤگے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نظر اسے دیکھ کر نظریں پھیر لی تھیں۔۔ چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔۔

“یعنی کچھ تو ہوا ہے خان صاحب کو ,چلے پھر میں چلتا ہوں اور پتہ کرتا ہوں آخر مریض کے درد کی دوا کہا ہیں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکا مزاق اڑاتا لہجہ موسی سکندر کوچبھا تھا جب ہی وہ اس کی جانب پیپر ویٹ اچھالتے ہوۓ کھڑا ہوگیا۔

“اگر اپنی زندگی چاہتا ہے نہ عمر تو شرافت سے اپنی شکل گم کرلے ورنہ میں نے تجھے گم۔کیا تو پھر تو گم۔ہی جاۓ گا “۔۔۔۔۔۔۔

۔وہ معیز کے ایک مکہ جڑتے ہوۓ دروازے کی جانب بڑھا۔

“عمر میں گھر جارہاہوں تو یہاں دیکھ لے کل ملے گے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی کالی ریوو کی جانب بڑھا مگر زہن اتنا بوجھل اور منتشر ہورہا تھا کہ آفس میں دل نہیں لگ رہاتھا وہ تو عمر نے آج کا سارا کام سنبھال لیاتھا ورنہ وہ اکیلا ہوجاتا۔۔۔۔۔ عمر اور اس کی دوستی بچپن سے تھی وہ چچا زاد کزن ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھیں ,عمر کا زیادہ تر وقت موسی کے ساتھ ہی گزرتا تھا چند ماہ پہلے موسی سکندر کی والدہ دل کے مرض میں مبتلا ہوکر اسے اپنے بابا کے سہارے چھوڑگئ تھی اب موسی سکندر خان کی زندگی میں وہی سب کچھ تھے۔۔۔۔۔

                                        ۞۞۞۞۞

“نسرین میری بات کا برا مت منانا پر میں تمہاری صرف پڑوسن ہی نہیں تمہاری سہیلی بھی ہوں تم ایمان کی نوکری کے چکر میں اس کی عمر کیوں نکالی جارہی ہو ؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ والی بوا کی بات سن کر ایمان نے انہیں ناگواری سے دیکھاوہی نسرین پہلوں بدل کر رہ گئ تھی ۔۔۔

“تمہیں تو معلوم ہی ہوگا تم تو کہی آتی جاتی نہیں پر میرا تو سارے محلیں میں آنا جان ہے وہ ساتھ والی رفعت جانے کیا اول فول بول رہی تھی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کو ان کا انداز گراں گزر رہاتھا وہ جانتی تھی اس کی امی کتنی حساس دل کی تھی اگر بوا نے کچھ الٹا سیدھا بول دیا تو امی دل پہ لے کر بیٹھ جاۓ گی ۔

“بوا پلیز ہمیں کچھ نہیں سننا آپ کچھ اور بات کرلے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے انہیں ٹوک دیا۔

“ہاۓ ہاۓ لڑکی باولی ہوگئ ہے ایک تو تمہارے بھلے کے لیے بتاتی ہوں اوپر سے کہتی ہے آپ مت بتاۓ تمہاری ماں کو تو زمانے کی اونچ نیچ کا کچھ معلوم ہی نہیں ہے اب یہ تو مجھے ہی بتا پڑے گا نا “۔۔۔۔۔۔۔۔

بوا کڑوا سا منہ بنا کر ایمان کو گھورنے لگی ۔

“وہ جو ساتھ والی رفعت ہے نا وہ کہتی ہے نسرین کے منہ کو بیٹی کی کمائ لگ گئ ہے!!! اسی لیے اس کی کہی شادی نہیں کرتی میں تو کہ آئ ہوں اس موئ کو ہماری نسرین بہت جلد ایما کے ہاتھ پیلے کرنے لگی ہے میرے منا کے ساتھ ,ظلم خدا کا چوبیس کی ہوگئ ہے لڑکی اب کچھ سوچ لو ورنہ میرے منا کا رشتہ بھی جاۓ گا تمہارے پاس سےبس جلدی جلدی سے تیاری کرلو اس عمر میں تو میں دو بچوں کی ماں تھی”۔۔۔۔۔۔

بوا اپنی عقابی نگاہوں کی زد میں ایمان کو لیے ہوۓ تھی جو تیل میں چپڑے بالوں والے منا کو سوچ کر جھرجھری سی لینے لگی۔

“نسرین میں گھر جارہی ہوں اب میں پرسوں آؤں گی تب تک مجھے تمہارا جواب چاہیے تاکہ میں اس جمعہ کو تمہارے گھر میں بارات لے کر آؤں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوا نے جھٹ تائید چاہی۔

“جی آپہ میں جلد آپ کو کوئی جواب دوں گی “۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایمان کی خونخوار نظریں دیکھ کر گڑبڑا کر بولی تھی۔

“دیکھ لو نسرین !ہم تمہارے دیکھے بھالے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتے دار تو تمہاری غربت کی وجہ سے اتنی پیاری لڑکی کا رشتہ نہیں لیتے کے یہ کوئ لمبا چوڑاجہیز نہیں لاۓ گی !!ا اور مجھے تو تم جو بھی دو گی میں تو چپ کر کے لے لوں گی اپنی تو گھر والی بات ہیں پھر غیروں میں رشتہ کرنے کے لیے ان پر اعتبار مشکل سے آتا ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان بوا کی کڑوی کسیلی باتوں پر اپنی مٹھیوں کو بھینچ کے رہ گئ تھی ۔

“آپ سے کس نے کہا جہیز لانا مجھ پر فرض ہے ؟؟قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس کا اشارہ تک بھی نہیں ملتا کہ اس قسم کی چیزوں کی فراہمی لڑکی یا اس کے گھر والوں کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔اسلامی شریعت اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے آئین میں مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جہیز کا مختصر سامان جو ضروری ہو جمع کرے۔ ۔۔۔۔۔یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مردوں کے ذمہ رکھی ہے مگر آپ جیسے لوگوں کو جب تک کوئ پختہ دلیل نہ دی جاۓ انہیں صبر نہیں آتا اس لیے خاص آپ کے لیے بتارہی ہوں کیوں کہ بقول آپ کے آپ تو لوگوں کے گھروں میں جاتی رہتی ہے تو تھوڑی سی اسلامی تعلیم دے کر کسی معصوم لڑکی کا گھر آباد کردیجے گا ۔۔۔۔۔۔۔

حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی کا ذکر کرتے ہوئے میں آپ کو بتاتی ہوں کیوں کے اس سے بڑی مثال میرے پاس نہیں ہے بوا ۔۔۔  جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی درخواست کی تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس حق مہر کے لئے کیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کچھ نہیں، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟ اسے فروخت کردو۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چارسو اسی درہم میں فروخت کی۔ بعض روایات کی بنا پر جب عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی زرہ خریدی اور بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدیہ کردی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زرہ کی قیمت لے کر رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردی، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ، سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور کچھ درہم انہیں دے کر فرمایا کہ اس رقم سے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے گھر کی ضروری اشیاء خرید لائو اور اس میں سے کچھ درہم حضرت اسماء کو دیئے اور فرمایا کہ اس سے عطر اور خوشبو مہیا کرو اور جو درہم باقی بچے وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھ دیئے گئے۔۔۔۔

( ریفرینس :👈ندوی، معين الدين، سيرالصحابة رضوان الله عليهم اجمعين، اداره اسلاميات لاهور، س ن، ج1، ص256)

آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار صاحبزادیوں کی شادیاں کیں اور کسی کو بھی جہیز نہیں دیا۔۔۔۔۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو دیا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دی ہوئی مہر معجل کی رقم میں سے تھا۔ اسی سے چند چیزوں کا انتظام فرمادیا، ایک چادر، ایک مشک اور ایک تکیہ اور بعض کتابوں میں ایک بستر کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ مزید برآں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سرور کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچپن ہی سے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا اور وہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی بھی تھے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے ان کی کفالت کرتے آئے تھے۔ اس لئے قدرتی بات تھی کہ نیا گھر بسانے کے لئے بطور سرپرست سامان کا انتظام کرتے سو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی زرہ سے یہ سامان فراہم کیا۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ صحابہ کرام، خلفائے راشدین، تابعین، سلف صالحین، قرون اولیٰ اور وسطیٰ میں کہیں دور دور تک یہ رسم جاہلانہ جہیز نظر نہیں آتی۔ اگر جہیز سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو ان ادوار میں اس کے نمونے اورمثالیں ملنی چاہئے تھیں۔کہا ہے وہ مثالیں ؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر بات آجاتی ہےلڑکے کی مردانگی کے اوپر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اس کی ہونے والی شریک حیات کتنا جہیز لا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ یا سسرال والے یہ کہ کر بلیک میل کرنا شروع کردیتے ہیں کے ہمیں تو کچھ نہیں چاہیۓ پر خاندان والوں کو کیا بتاۓ گے کے لڑکی کیا لائ ہے  !! ؤہ تو کہے گے  لڑکی کو خالی ہاتھ بھیج دیا !!!اگر لڑکی  جہیز نہیں لارہی  تو یہ اسکے فقیر ہونے کی علامت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس بیچاری کو سنا سنا کر ویسے ہی ماردیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

آخر ان باتوں کا ذمہ دار کون ہیں․․․․․؟ معاشرہ کی وہ لڑکیاں جو عدم جہیز کی وجہ سے بوڑھی اور برباد ہورہی ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ والدین ․․․․ جو لڑکی کی پیدائش کے وقت سے ہی جہیز کے تصور سے پریشان اور بعد میں جہیز کے لئے رقم جٹانے میں مقروض اور تباہ ہوجاتے ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا مسلم معاشرہ ․․․․ جو آپ کی طرح بے حسی کا شکار ہے ۔۔۔یاوہ دولت مند لوگ ․․․․․ جو دولت کی نمائش کرنا چاہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔ اگر مجھے کسی سے شادی کرنے لیے اسے لمبا چوڑا جہیز دینا ضروری ہے تو میں ایسی شادی سے اچھا ۔۔۔۔گھر بیٹھنا پسند کروں گی آپ اپنے منا کے لیے کوئ امیر لڑکی کا رشتہ ڈھونڈ لے بوا “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوا ایمان کے کڑے تیوروں سے سٹپٹا گئ تھی۔۔

“جاؤ جاؤ لڑکی ایسے ہی گھر بیٹھی رہ جاؤ گی کوئ نہیں ملے گا تمہارے جیسی زبان دراز لڑکی کو۔۔۔۔۔۔  میں تمہیں پھر کہ رہی ہوں نسرین اس جمعہ تک میں انتظار کروں گی باقی تمہاری مرضی ہے میں نے محلیں میں سب کو بتادیا ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ جاتے جاتے بھی جلتی آگ میں تیل چھڑکنا نہیں بھولی تھی ۔

“امی آپ آخر اس عورت کو صاف جواب کیوں نہیں دیتی مجھے نہیں کرنی شادی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کی آنکھ سے نکلا آنسوں نسرین سے پوشیدہ نہ رہ سکا ۔

“تو بیٹا پھر میں کیا کروں اور کوئ متبادل بھی تو نہیں میرے پاس جہاں میں کروں ۔۔۔۔وہ۔زبان کی کڑوی ضرور ہے مگر کہ کے تو سچ ہی گئ ہے۔۔۔۔۔۔ہمارا خاندان لڑکوں سے بھرا پڑا ہے مگر مجال ہے جو کسی نے بھی ہماری غربت کی وجہ سے تمہارا ہاتھ مانگا ہو !!کیوں کے آج کل کے  ستر پرسنٹ لڑکوں کو وہ لڑکیاں چاہیں جو انہیں کہی سیٹ کراسکے ۔۔۔۔۔جو ان کے لیے موٹڑ سائیکل یا گاڑی لاسکے ۔۔۔۔دور کیوں جاتی ہو ایما تمہاری سگی خالہ نے تمہیں چھوڑ کر ایک غیر برادری میں رشتہ کرلیا  کے  میری بہو تو اتنا جہیز لائی ہیں ۔۔۔۔میں کسی سے کیا کہوں ؟”۔۔۔۔۔۔۔

آج وہ اتنی مجبور وبے کس ہوگئ تھی کے وہ اپنے آنسوؤں پہ بندھ نہ باندھ سکی ۔

“امی آپ پریشان مت ہو مجھے شادی کرنی ہی نہیں ہے میں بس اپنے بہن بھائیوں کو پڑھانا چاہتی ہوں آپ میرے بارے میں سوچنا بند کردے آپ کو الّلہ کا واسطہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان اپنی ماں کے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی ۔

“ایسے کیسے سوچنا بند کردوں ایما میرے بعد یہ معاشرہ تجھے کھا جاۓ گا میری بچی ۔۔۔۔اگر اس جمعہ تک اللّہ نے کوئ سبب بنادیا تو ٹھیک ہے ورنہ خود کو تیار کرلینا میں تمہارا نکاح منا سے کردوں گی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نسرین کی روندھائ آواز پہ اس کا دل مانوں کسی نے شکنجے میں لے لیا تھا آج پہلی بار خود پہ ترس آرہا تھا کے اکیلی لڑکی کا رہنا بنا کسی شادی کے کتنا مشکل ہے اس معاشرے میں۔۔۔۔۔۔۔ اسے آج اچھے سے محسوس ہورہاتھا۔

                                 ۞۞۞۞۞۞

کمرے میں ملگجا ساندھیرا تھا بھاری پردے اندر آنے والی کرنوں سے لڑتے انہیں واپس بھگا رہے تھے۔۔ ۔۔۔

اے سی کی ٹھنڈی کولنگ کمرے کا ماحول یخ بستہ بنارہی تھی ۔ ۔۔۔۔

بیڈ پر لیٹا وجود الارم کی بیل پر ہلکا سا کسمسایا۔۔۔۔۔

جو کل والے حلیے میں شرٹ کے بنا لحاف سینے تک اوڑھے لیٹا ہوا تھا وہ ہوش کی دنیا میں آہستہ آہستہ لوٹ رہا تھا۔۔۔

دکھتے سر کو تھامے وہ بلآخر اٹھ بیٹھا ,۔۔
خالی نگاہوں سے وہ کئ لمحے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے اردگرد دیکھتا رہا تھا۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر آٹھ بجاتی گھڑی پہ گئ وہ اچھل کے باہر نکل آیا ۔

“شٹ مین”۔۔۔۔۔۔کریم ۔۔۔۔کریم ۔۔۔۔

وہ اپنے ملازم۔کو آوازیں دینے لگا جو بوتل کے جن کی طرح فوراً اس کے پاس آیا ۔

کپڑے نکالو میرے فوراً”۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ موبائل کو دیکھنے لگا جسے اس نے آفس سے آنے کے بعد سے بند کر رکھا تھا اس میں سے پانچ مس کالز صرف قمر کی تھی ۔وہ تشویش بھرے انداز میں اسے کال کرنے لگا جس نے پہلی بیل پر ہی کال اٹھالی۔

“یس قمر تم فون کیوں کررہے تھے خیریت”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ماتھے پہ سلوٹوں کاجال لیے اس سے پوچھنے لگا۔

“سر وہ آپ کو کچھ ایمان میڈم کے بارے میں بتانا تھا “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہاں ایمان کے زکر پر اس کے لب مسکرا اٹھے تھے وہی قمر کا اس کا نام لینے پر  فورآ سمٹ گئے تھے۔۔۔۔۔۔

“پہلی بات قمر میں نے تم لوگوں کو بلکل بھی یہ اجازت نہیں دی کے تم لوگ ایمان کا نام لو “۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ناگوارلہجے میں  بولا ۔

“سوری سر وہ اصل میں کل بی بی کے گھر کے باہر ایک عورت بہت شور کررہی تھی آس پڑوس کی عورتیں بھی اس کے نزدیک کھڑی تھی “۔۔۔۔۔۔

جب ہی وہ اس کی بات کاٹ کر بولا ۔

“کم ٹو دی پوائنٹ “۔۔۔۔۔۔۔

وہ الجھن بھری حالت میں پیشانی مسلنے لگا ۔۔۔۔ماتھے پر بکھرے کالے بال اور آنکھوں میں نیند کا خمار لیے بلاشبہ وہ ایک خوبرو مرد تھا جو ہر لڑکی کو دیوانہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔قمر جانتا تھا کہ وہ کس کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔۔

“سر وہ بی بی کا اس جمعہ کو نکاح ہے ان کے پڑوسی سے اور وہ لڑکا بلکل بھی اچھا نہیں ہے اس کا اٹھنا بیٹھنا اچھے لوگوں میں نہیں ہیں “۔۔۔۔۔۔۔۔

قمر نے گھبراتے ہوۓ اسے اٹک اٹک کر سارا ماجرا کہ سنایا جسے سن کر وہ گہری سانس لیتا ہواخود پر قابو پانے لگا ۔

“ٹھیک ہے تم نظر رکھوں ان کے گھر پر ۔۔۔۔ ایمان جیسے ہی یونیورسٹی کے لیے نکلے گی مجھے فوراً بتانا “۔۔۔۔۔۔۔

وہ تحمل سے بات کرتا ہوا تیار ہونے کے لیے چلاگیا۔وہ جانتا تھا اس کا اگلا قدم کیا ہوگا۔
                   ۔                  ۞۞۞۞۞۞

سادہ سی مسکان مرتضی ملک کی پیش رفت سمجھ نہیں پارہی تھی جو  نامحسوس طریقے سے اس کی جانب بڑھ رہاتھا وہ آتے جاتے اپنے چٹکلوں سے اسے اپنی جانب راغب کرنے لگا تھا جو اس کی باتوں کا جواب دینے لگی ہفتہ اتوار کی چھٹی میں وہ فون پر مرتضی سے بات بھی کرنے لگی جس کی وجہ سے وہ ان دنوں بہت خوش تھی جب ہی اسے دور سے ایمان چلتی ہوئ نظر آئ ۔۔

“کہا رہ گئ تھی نامراد دو پیڑیڈ مس  کردیۓ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسکان ایمان کے ساتھ بینچ پر بیٹھتی ہوۓ بولی ۔

“کچھ نہیں یار ایک دو جگہ انٹرویوں کے لیے جانا تھا آج وہاں گئ تھی تم سناؤ کیا چل رہاہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان نے مسکان کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ لیتے ہوۓ کہا۔

“کچھ خاص نہیں مرتضی کی سالگرہ آرہی ہے اس ہفتے کو اس کے لیے کوئ تحفہ لینا ہے اور تم اس بار مجھے بلکل بھی نہ نہیں کروگی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے ہاتھ میں تھامے چپس کے پیکٹ سے چپس نکال کر بولی ۔

“دیکھے گے مسکان میں وعدہ نہیں کرتی میرا کافی ٹف شیڈیول ہوتا ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بیگ کندھے پہ لٹکاۓ کھڑی ہوگئ تھی۔

“چلو آؤ سییونگ کا پیریڈ اسٹارٹ ہونے لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا جہاں مسکان موبائل پہ آۓ میسیج کو دیکھ کر معنی خیزی سے مسکرارہی تھی۔

“کیا ہوا مسکان تم۔اتنا مسکرا کیوں رہی ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان نے واپس بینچ پہ بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔

“ایمان میرے ساتھ ذرا ریسٹ روم میں چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ کھینچتی ہوئ ریسٹ روم کی جانب بڑھ گئ ۔

“سنو تو صحیح مسکان پہلے کچھ بتاؤ تو صحیح ہوا کیا ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ایمان اس کے ساتھ ریسٹ روم میں داخل ہوگئ جہاں اور بھی لڑکیاں کھڑی تھی ۔

“تم خاموشی سے بس میرا فون پکڑو اور ایک دو اچھی اچھی سی تصویریں کھینچوں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان متحوش ہوئ مسکان کی کاروائیاں دیکھ رہی تھی جو اپنا ڈوپٹہ کرسی پہ پھینک کر پوز بنا کر کھڑی ہوگئ تھی وہ خاموشی سے اس کی مختلف زاویوں سے تصویریں لے کر فون اس کے ہاتھ میں تھما گئ۔

“اب بتانا پسند کرے گی مجھے مسکان چوہدری صاحبہ آپ کو یہ دورا کو کیوں پڑا تھااس وقت”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے ڈوپٹے کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ بولی جو فون کے بٹن دبانے میں مصروف تھی ۔

“یار وہ مرتضی نے مجھ سے تصویر مانگی تھی تو میں نے اسے گھر سے نکلتے وقت بھیجی تھی۔۔۔۔۔پر ابھی اس کا میسیج آیا تھا کے ڈوپٹے کی وجہ سے میں اسے ٹھیک سے نہیں دکھی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے جھینپی ہوئ آواز میں ایمان کے نزدیک آہستہ سے بولا جسے سن کر وہ آگ بگولہ ہوگئ ۔

“مسکان میں تمہارا کیا کروں یار ۔۔۔۔!!!!میں کیسے تمہیں اس آگ میں کودنے سے بچاؤں مجھے سمجھ نہیں آرہا “۔۔۔۔۔

ایمان اپنا بیک کندھے پہ لٹکاۓ باہر کی جانب نکل گئ ۔

“دیکھ ایمان آج میرا موڈ بہت اچھا ہے تو پلیز یار میں یہ تیرے فضول کے لیکچر سننے کے موڈ میں بلکل نہیں ہوں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسکان کی بات سن کر وہ کلس کے رہ گئ۔

“اچھا تو ذرا ایک بار پھر میرے کہنے پر اس کی بہن کی تصویر مانگنا ذرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تمہیں پوری دنیا کا لیکچر سنادے گا کے میں اپنی بہن کی تصویر کیوں دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایک بات مسکان ہمیشہ یاد رکھنا وہ مرد کبھی آپ کی چادر کی حفاظت نہیں کرسکتا جو آپ سے حلال رشتے کے بغیر مسلسل بنا ڈوپٹےکی تصویر مانگے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کی اس گہری بات نے مسکان کی روح تک کو جھنجوڑ دیا تھا جو اسے بول کر تیزی سے کلاس کی جانب جارہی تھی ۔

                                    ۞۞۞۞۞

“ڈیڈ آپ چاہتے تھے نہ کے میری شادی ہوجانی چاہیے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسی سکندر  چھری کانٹے کی مدد سے پلیٹ میں رکھے اسپینش آملیٹ کو رغبت سے کھاتے ہوۓ بولا جس کی بات سن کر کوفی پیتے سکندر خان نے اپنے خوبرو بیٹے کو چونک کردیکھا۔

“آف کورس ماۓ سن تم۔ایک اشارہ تو کرو سکندر خان اپنے بیٹے کے لیے سب کچھ کرسکتا ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ بولے۔

“تو پھر ڈیڈ لڑکی میں نے ڈھونڈ لی ہے آپ کو بس کسی بھی طرح ان لوگوں کو منانا ہے ۔۔۔وہ ہمیں بلکل بھی نہیں جانتے آپ ٹوٹلی ایک ان نون بن کے جاۓ گے وہاں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسی سکندر کوفی کا گھونٹ بھرتے ہوۓ بولا ۔

“موسی کیا تمہیں اپنے باپ کے گٹس پہ شک ہے؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر خان نے اپنی ابرو اچکا کے پوچھا ۔

“نو ڈیڈ آئ ٹڑسٹ یو “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سکندر خان کی جانب مسکراہٹ اچھالتے ہوۓ بولا ۔

“تو پھر ساری بات کھل کے بتاؤ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ موسی سکندر خان کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے جس نے چیدہ چیدہ ساری باتیں اپنے ڈیڈ کے گوش گزار کردی ۔۔

“اب تم۔بھول جاؤ سب موسی خان بہوں تو ایمان ہمارے گھر کی ہی بنے گی اور وہ بھی اس جمعہ سے پہلے تم مجھے اس کا اڈڑیس وغیرہ دو :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ فرط جزبات سے موسی خان سے بغلگیر ہوتے ہوۓ بولے ۔

“شکریہ ڈیڈ “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے ڈیڈ کے سر پہ بوسہ دیتے ہوۓ آفس کے لیے نکل گیا
۔۔

یہ کہانی آپ کو کیسی لگی اپنی قیمتی راۓ سے آگاہ کرے شکریہ

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *