Parsa episode 1-2

اس ناول  کے تمام  جملہ حقوق کلاسک کے ریڈرز کے پاس جمع ہورہے ہیں اس لیے لومڑیوں سے التماس  ہے کے اسے دبا  کے پوسٹ کرے آئی ڈونٹ مائنڈ❌❌❌❌❌📣اور جن جن کو اسے نہیں پڑھنا میرے ریڈرز کے علاوہ وہ شوق سے مت  پڑھیں  شکریہ اور ایک بات یہ رمضان سے پہلے ہی مکمل ہوجاۓ گا کیوں کے میں رمضان میں بند ہوجاتی ہوں یو نو شیطان 

“ایمان !وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا!وہ میرے جزبات سے کھیل رہاتھا “۔۔۔۔

مسکان نے سسکتے ہوۓ اپنی بیسٹ فرینڈ کو دیکھا جو یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں بیٹھی دھوپ سینک رہی تھی ۔

“کیا ہوا ہے مسکان !تم ایسے رو کیوں رہی ہو مجھے بتاؤ کیا کہا ہے مرتضی نے ؟”۔۔۔

ایمان اس کی بکھری حالت دیکھ کر متحوش ہوگئ تھی ۔

“ایما ! وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا ,وہ جسٹ ٹائم پاس کررہاتھاوہ کہتا ہے میں اس جیسے لڑکے کی معیار پر پورا نہیں اترتی “۔۔۔۔

وہ روندھائی لہجے میں کہتی ہوئی اس کے برابر میں گرنے کے انداز میں گھٹنوں کے بل دھم سے گری تھی۔

“مسکان میری جان پہلے تم یہ پانی پیو پھر کوئ بات کرے گے”۔
ایمان نے متفکرانہ انداز میں اسے دیکھ کر اپنے یونیورسٹی بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر اس کی جانب بڑھائ۔

“اب تم  بتاؤ کیا کہا تم سے مرتضی ملک نے “۔

                                              ۞۞۞ٔ
مسکان چوہدری کا تعلق اپر ہائی کلاس سے تھا ۔والدین کی اکلوتی اولاد جسے اللّہ نے دولت ,عزت چاہت اور حسن سے بے تحاشا نوازا تھا وہی ایمان علی سرخ سپید رنگت ,غازوں کی سرخی ,گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹ, حسن سے تو وہ بھی مالا مال تھی پر اس کا تعلق مڈل کلاس سے تھا جہاں والد کے انتقال کے بعد سارے گھر کا بوجھ اس کے ناتواں شانوں پہ آگرا تھا وہ اپنی پڑھائ کے ساتھ ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پڑھائی کا بھی خرچہ خود اٹھاتی تھی۔
ایمان اور مسکان کی دوستی یونیورسٹی کے پہلے سال سے ہوئ تھی ۔
وہ لائبریری میں آدھے گھنٹے سے موجود تھی اور اب یہ انتظار بہت کٹھن لگ رہاتھا گزرتا ہوا ایک ایک لمحہ اس پر بہت بھاری تھا صرف کسی کا انتظار ہوتا تو بات الگ تھی مگر یہاں تو اضطراب تھا خدشات وابہام تھےخوف و خدشات اس کے ہر جزبے پر حاوی ہورہے تھے۔

“کہا رہ گئ تھی تم یار کب سے تمہارا انتظار کرر ہی تھی “۔
مسکان ایمان کو دیکھ کر اپنی کتاب کے اوراق پلٹتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوئ ۔

“یار میں پیٹڑن ڈڑافٹنگ کا پیریڈ لے رہی تھی تم کیوں نہیں آئ لینے ؟”۔
ایمان نے بک شیلف سے اپنی مطلوبہ کتاب  نکالتے ہوۓ پوچھا ۔

“یار میرے موڈ نہیں تھا تم یہ سب چھوڑو ادھر آؤ اور میری بات سنو “۔
جب ہی لائبریرین کی جھڑکی پر دونوں نے اپبے سر کتاب پر جھکالیے ۔

“باہر چلو جلدی مجھے بات کرنی ہے تم سے “۔۔۔
مسکان ایمان کو باہر آنے کا اشارہ کر کے نکل گئ کچھ ہی دیر میں وہ بھی اپنی کتابیں سمیٹتی ہوئ باہر کی جانب آگئ جہاں وہ اسے لیب کے باہر کھڑی ہوئ نظر آئ۔

“ایمان !ایمان! ایمان ! آئ ایم ان لوو یار ,مجھے پیار ہوگیا ہے “۔۔۔۔
وہ فرط جزبات میں ایمان کو بازوؤں سے تھام کے گھوماتے ہوۓ بولی جو اس کی بات پر انگشت بدنداں ہوگئ۔

“یہ کیا کہ رہی ہو مسکان تم پاگل تو نہیں ہوگئ “۔۔۔۔
اس کی بات سن کر ایمان کے ابرو تن گۓ وہ لہجے میں بلا کی سختی لیے بولی۔

“ایما میں بلکل ٹھیک کہ رہی ہوں آج مرتضی ملک نے میری جانب خود پیش رفت کی تھی مجھے اپنی سالگرہ پہ انوائٹ کرنے کے لیے  “۔۔۔۔
وہ خوشی کی تمازت سے اس کا گلابی ہوتا چہرہ دیکھ کر چونک گئ تھی جو یونیورسٹی کے پہلے دن سے ہی اپنے سے ایک سال سینیر مرتضی ملک کی سحر انگیز شخصیت کو پہلی ہی نظر میں دل دے بیٹھی تھی ۔مرتضی ملک اپنی خوبصورتی سے واقف تھا وہ اسے کیش کروانے کا بہت ماہر بھی تھا جو نا محسوس طریقے سے مسکان کی جانب پیش رفت کرنے لگا۔

“مسکان  واٹ ربش یار !ایک تو معلوم نہیں تم لڑکیوں کو ہو کیا جاتا ہےکوئ بھی تم سے دو چار ہنس کر باتیں کیا کرلے تم لوگ تو فوراً عشق محبت کے چکروں میں پڑجاتی ہو !!میری بات ہمیشہ یاد رکھو میں یہ نہیں کہتی تمہیں عشق نہیں کرنا چاہیے یا تمہیں کوئی حق نہیں محبت کرنے کا !تم کرو پر صرف اپنے محرم  سے جسے اللّہ  تم پہ حلال کرے گا خود کو سنبھال کے رکھوں اس انسان کے لیے جسے اللّہ نے تمہارے لیے چنا ہوگا ,یہ مکرو فریب کی محبت پہ توجہ دے کر خود کو برباد مت کرو مسکان “۔۔۔۔
ایمان اسے ملامت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ بولی جس نے سلگتی ہوئ نظر اس پہ ڈال کر چپ سادھ لی تھی۔

ْ”ایما میں تجھ سے اس ٹاپک پہ بلکل نہیں الجھنا چاہتی تو بہتر ہوگا تم میری خوشی میں خؤش ہو ورنہ مجھے کچھ بھی مت بولو “۔۔۔
مسکان غصے کو ضبط کرنے کی کوشش میں بپھری ہوئی شیرنی کی طرح ٹہلنے لگی جسے دیکھ کر ایمان کو اس پر ترس آگیا ۔

” اچھا دوست ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو اپنے دوست کو صحیح غلط میں تمیز سکھا سکے میں تمہیں ٹوک لوں گی ,تنبیع کرلوں گی پر ٹھیک راستے کا تعین تمہیں خود کرنا پڑے گا  اگر تمہیں برا لگتا ہے تو میں تمہیں بلکل نہیں بولوں گی پر کھائ میں گرتا دیکھ کر تکلیف سب سے زیادہ مجھے ہی ہوگی “۔۔۔۔۔۔
وہ مسکان کا گلے کا ہار بنی ہوئ اس کے نزدیک آہستہ سے بولی ۔

“اچھا سب چھوڑو اب جلدی سے میرے ساتھ چلو مجھے بازار جانا ہے کچھ شاپنگ کرنی ہے “۔۔۔۔
وہ اپنے شولڈر کٹ  بالوں میں  ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولی ۔

“نہیں یار آج نہیں!آج میرے اسکول میں بچوں کا پیپر ہے اور تم تو جانتی ہو اسکول والے ٹیچرز سے کتنی محنت کرواتے ہیں تھوڑی سی بھی کوتاہی برداشت نہیں کرتے”۔۔۔۔
وہ گہری سانس لیتے ہوۓ بولی ۔
“ایما تم یونیورسٹی کے بعد کیسے دوپہر کی شفٹ میں جاتی ہو؟ میں تو کبھی نہ جاؤں اتنے سے پیسوں کے لیے ,تم اپنی فیلڈ میں کہی اپلائی کیوں نہیں کرتی ؟”۔۔۔۔۔
اس کی سوالیہ نگاہیں جواب سننے کی منتظر تھیں۔

“کون دے گا نوکری یار ابھی تو میری پڑھائ مکمل ہونے میں پورا سال باقی ہے بنا ایکسپیرینس کے نوکری ملنا ویسے بھی مشکل ہوجاتا ہے ,اب تو گھر کے حالاتوں کو دیکھ کر میں مزید کسی نوکری کی تلاش میں ہوں تاکہ گھر کا خرچہ ٹھیک سے چلاسکوں “۔۔۔۔۔

وہ دونوں یونیورسٹی کے فیشن ڈیزائننگ کے ڈیپارٹمنٹ سے باتیں کرتے ہوۓ باہر نکل رہی تھی  جب ہی سامنے سے آتے موسی سکندر کی خود پہ پڑتی والہانہ نظروں کو وہ نظر انداز کرتے ہوۓ سپاٹ چہرے کے ساتھ سیدھا نکل گئ۔

“ہاۓ میں مرجاؤں اس سائیلنٹ عاشق پہ قسم سے ایمان پچھلے دو سال سے تیرے راستے میں نگاہیں بچھاۓ بیٹھا ہے پر تمہیں تو قدر ہی نہیں سچے پیار کی اگر یہ غریب نہ ہوتا تو قسم سے اتنے ہینڈسم لڑکے کو میں کبھی بھی نہ چھوڑتی “۔۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے والی تلخ باتوں کو بھولے وہ استہزائیہ انداز میں بولتی ہوئ ایمان کے پیچھے بھاگی تھی جو تیز گام بنی پارکنگ ایریاں کی طرف بڑھ رہی تھی ۔

“کچھ تو شرم کرلے مسکان کیا اول فول بولے جارہی ہے “۔۔۔۔۔۔
وہ اسے آنکھیں دکھاتے ہوۓ بولی ۔

“ٹھیک  تو بول رہی ہوں کیا پرسنیلٹی ہے بندے کی اف !!  وہ پچھلے دو سال سے تیرے لیے خوار ہورہاہے آخر مسئلہ کیا ہے؟ تجھے کیوں نہیں دکھتی اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت “۔وہ اس کے ڈوپٹے کے اندر سے بلکھاتی چوٹی کو کھینچتے ہوۓ بولی۔
“کیوں کے مجھے کسی نامحرم کی آنکھوں میں جھانکنے کا بلکل بھی شوق نہیں میں بہت عام سی مسلمان ہوں جسے گھر والوں نے جو سکھایا وہ سیکھ گئ انہوں نےمجھے میٹڑک میں جاتے ہی  مسکان بی بی سکھادیا تھا کے لڑکی کھلی تجوری کی طرح ہوتی ہے !!تو میں اس کی حفاظت کرنے میں لگ گئ جب میں کالج میں آئی تو  امی نے مجھے پہلے دن بٹھا کےکیا سمجھایا کچھ معلوم ہے؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بدستور اس پر نگاہیں جما کر بولی جس کے چہرے کے غیر معمولی تاثرات اسے ٹھٹکنے پر مجبور کررہے تھے۔

“وہ بولی بیٹا جب بیٹیاں گھروں سے باہر کسی بھی مقصد کے لیے نکلتی ہے چاہے وہ پڑھائی ہو یا نوکری ہو یا کچھ بھی ہو, اس وقت وہ اکیلی نہیں ہوتی وہ اپنے ساتھ اپنے باپ دادا اپنے بھائی کی عزت ساتھ لے کر نکلتی ہیں تو بیٹا ہمیشہ یاد رکھنا لڑکی کی عزت شیشے کی کانچ کی طرح ہوتی  ہے اگر اس میں ذرا سا بھی بال آجاۓ تو وہ شیشہ بیکار ہوجاتا ہے مگر میں تم سے بھی پہلے تمہارے بھائ زید کو سکھاتی ہوں کے بیٹا جب گھر سے باہر نکلو تو ہمیشہ یاد رکھوں سڑک پہ چلنے والی ہر لڑکی ہر عورت تمہاری ماں بہن جیسی ہوتی ہیں آج تم انہیں دیکھ کر اپنی نظریں نیچےجھکاؤں گے  کل کو لوگ تمہارے گھر عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے تو میں نے اس روز سےاس  شیشے  کو اونچی جگہ پہ لگانے کی کوشش ہےجس میں آج تک میں مصروف ہوں تاکہ اس میں کوئ بال نہ آجاۓ ,میں اپنے احساسات اپنی نظریں اپنی سوچ کا محور صرف اس انسان کو بناؤں گی جس کے میں نکاح میں ہوں گی اس کے علاوہ کوئ بھی مجھے دیکھتا ہے ,نہیں دیکھتا ہے یہ میرا سر درد نہیں ہے اگر میں نیچی نگاہ والی بنوں گی تو اللّہ بھی مجھے نیچی نگاہ والا مرد دے گا جس کی پاک نظریں صرف مجھ پہ اٹھا کرے گی جو اپنی سوچ کا محور صرف مجھے بناۓ گا ,میں ایسی بننا چاہتی ہوں۔سمجھی اب مجھے کبھی بھی موسی سکندر کے بارے میں کچھ بھی مت بولنا  ٰ”۔
اس کے رسانیت سے کہنے پر مسکان نے اسے متعجب ہوکر دیکھا جو پارکنگ کی جانب بنی سیڑھیوں پہ جاکے بیٹھ گئ 

تھی۔

“یعنی اگر وہ بندہ تجھے سچے دل سے پسند بھی کرتا ہو تجھ سے شادی بھی کرنا چاہتا ہو پر تو اپنے سوکالڈ امی والے لیکچر کی وجہ سے منع کرے گے یا یوں کہ لے تجھے اجازت ہی نہیں دی گئ کے تو اپنی پسند سے شادی کرے ٹھیک کہا نا میں نے؟۔نہ گھر والوں کی جانب سے نہ مزہب کی جانب سے تجھ سےتو اچھی پھر میں ہی ہوں جو آزاد خیال تو ہوں ؟”۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمان کو اس کا پرسکون ٹھہرا ہوا لہجہ حیران کرگیا تھا جو اس کی بات کی اصل حقیقت جاننا چاہتی تھی جو اس کے پس منظر میں کار فرما تھی۔

“تم سے کس نے کہا کے ہمارا مزہب اجازت نہیں دیتا شادی کرنے کے لیے ؟اسلام شادی کے معاملے میں مرضی، پسند، محبت اور مفاہمت کوآخری حدتک اہمیت دیتا ہے اگر غور کروگی تو تمہیں معلوم ہو گا کہ معاشرہ کے اندر ساری خباثتیں محض اسلئے پائی جاتی ہیں کہ لوگ قرآن مجیدسے دور ہیں اور اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔ہم اس معاملے میں مردوں سے بہت پیچھے ہیں۔ جب تم اور میں  یہ جانتی ہی نہ ہوگی کہ قرآن مجید نے ہمیں  کیا ذ مہ داری سونپی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے حقوق جان پاۓ گے؟”۔ہمارے لئے تو سب سے پہلی مثال ہی حضرت خدیجہ کی ہے جو عرب کی سب سے بڑی کاروباری خاتون تھیں۔ آزاد خیالی کی مثال یہ کہ خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شادی کی پیشکش بھیجی تھی انہوں نے, جسے ہمارے پیارے آقاحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  نے قبول کیا تھا تو پھر اور کس طرح کی آزاد خیالی کو تم سوچتی ہو ؟ رہی بات گھر والوں کی اجازت نہ دینے کی تو ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ میرا پہلا فرض بنتا ہےکہ میں اپنی تعلیم پر توجہ دوں ہماری زندگی کا وہ وقت جو ہم تعلیم پر خرچ کرتے ہیں وہ بہت مختصر ساہوتا مسکان!! ہماری بقیہ زندگی کا انحصار اسی پر ہوتا ہے اس لیے میں اپنے لیے اس اہم ترین عرصے کو پوری ذمہ داری اور دور اندیشی کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں ایسی تمام دلچسپییوں سے بچنا چاہتی ہوں جو محض وقتی خوشی اور آرام دیتی ہیں”۔  وہ اسے ایک استادکی طرح سمجھاتی ہوئ بولی جو زمانے کی اونچ نیچ سے ناآشنا ہو ۔

“اب گونگی کیوں ہوگئ ہو ؟اگر میری کسی بھی بات کا جواب تمہارے پاس نہیں ہے تو گھر جا کے ان سب کے بارے میں سوچنا پھر ایک نۓ سرے سے آکر مجھ سے سوال کرنا یقین مانو مسکان اس وقت میرا سیروں خون بڑھ جاتا ہے جب تم۔مجھ سے ایسے سوال کرتی ہو اب میں مزید اس ٹاپک پہ تم سے کسی دن فرصت سے بات کروں گی فلحال تم مجھے شرافت سے ڈڑاپ کردو ورنہ میں خود جارہی ہوں مجھے دیر ہوگئ ہے اسکول سے  “۔ایمان نے اسے گہری سوچ مستغرق دیکھ کر اندازہ لگالیا تھا کہ وہ ابھی سمجھنے کے عمل سے گزررہی ہے اسی لیے وہ خاموشی سے باہر کی جانب نکل گئ۔

                                             ۞۞۞۞

“موسی صاحب ایک بات تو بتاۓ اگر آپ برا نہ مناۓ تو کیا خادم آپ سے ایک بات پوچھ سکتا ہے ؟”۔۔۔۔۔
عمرمودب بنا موسی سکندر سے بولا جو آنکھوں سے اوجھل ہوتی ایمان علی کو دیکھ رہاتھا۔

“ہاں پوچھوں ؟پر یار پلیز کوئ فضول بکواس مت کرنا “۔
وہ ماتھے پہ تیوری چڑھاۓ بولا ۔۔۔۔۔۔

“میں یہ سوچ رہاتھا کے تو دی گریٹ سکندر خان کا اکلوتا سپوت جو اپنے بلبوتے پر اتنا بڑے بڑینڈ کو اون کرتا ہے اسے آخر کیا ضرورت ہے خود کو غریب بنا کر اس یونیورسٹی میں گھومنے کی ؟ جس کے گھر کے اندر دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں کھڑی ہوتی ہے وہ خود اس یونیورسٹی میں سیکینڈ ہینڈ  مہران پہ آتا ہے آخر ماجرا کیا ہے بوس؟”۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے آخری بات شرارت سے کہتے ہوۓ اسے دیکھا جو گہری سوچ میں غرق کالے قمیض شلوار میں ملبوس لمبا چوڑا مردانگی اور وجاہت میں سب سے نمایا ہی لگ رہاتھا۔

“تجھے کہا تھا نا کوئ فضول گوئ مت کری پر تو باز نہیں آتا “۔۔۔
وہ تنک کر بولا ۔

“زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے موسی اگر میں آج اتفاق سے تمہاری یونیورسٹی فائل پہ دستخط کرانے نہ آتا تو مجھے تو یہ ماجرا معلوم ہی نہیں ہونا تھا شرافت سے بتاؤمجھے”۔۔۔۔۔۔۔

اس نے دانت پیستیں ہوۓ کہا جو اپنے منہ پہ قفل لگاۓ بیٹھا تھا۔

“آں —ہاں—لگتا ہے میرے یار کے دل پر کوئ قابض ہوگئ ہے”۔۔

عمر کی معنی خیز خاموشی پر وہ جھینپ کے اسے مکہ جڑ گیا۔
“زیادہ بکواس نہ کر چل جلدی آفس سارا کام پینڈنگ میں ہیں “۔وہ اسے اپنے ساتھ زبردستی باہر کی جانب لے گیا۔۔۔۔۔
                                      ۞۞۞۞۞
یہ آج سے دو سال پرانی بات تھی جب چونتیس سالا موسی سکندر نے اپنے آفس کے لیے یونیورسٹی سے اپنے استاد کی مدد سے بہترین اسٹودنٹس کا انتخاب کرنا تھا مگر حد سے سوا لڑکیوں کی بھیڑ دیکھ کر اسےسمجھ نہیں آرہا تھا یہاں ہو کیا رہاتھا مگر ان کے ہاتھوں میں تھامے ہوۓ پلے کارڈز دیکھ کر اس کے کانوں سے دھواں نکل آیا  جن پہ کچھ اس طرح سے لکھا تھا میرا جسم میری مرضی، میں تو ایسے ہی بیٹھوں گی ,میک اپ، کھانا پکانا، گھر کے کام کاج‘‘ جیسے موضوعات پر فضول گوئ کی گئ تھی وہ ان پلے کاڑڈز کو دیکھ کر آگے کی جانب نکل رہاتھا جہاں دو گروپس آپس میں اسی بات پر ایک دوسرے سے الجھ رہے تھیں جب ہی اس نےدیکھا جو کاسنی رنگ کے ڈوپٹے کے ہالے میں پاکیزہ سا چہرہ لیے اسٹیج پہ مائک تھام کر چڑھ رہی تھی ۔

“آخر آپ لوگ کیوں نہیں “میرا جسم ,شوہر کو کھانا نا دینا اور گھر کے کام کاج‘‘ جیسے موضوعات سے باہر  نکل رہے  اس بحث کا حاصل کچھ نہیں ہوگا”۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے مضبوط لہجے اور اعتماد سے ہجوم میں کھڑے لڑکیوں اور لڑکوں کو خاموش کراگئ تھی وہی موسی سکندر اسے مبہوت زدہ سا دیکھے گیا تھا۔

“عورت آزادی  مارچ کی تیاریوں کو دیکھ کر  میرے ذہن میں بھی کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ آخر اس مارچ کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ گزشتہ دو تین سالوں سے نکالا جانے والا عورت مارچ کیا واقعی خواتین کے حقوق انہیں دلوا سکاہیں ؟”۔۔۔۔۔۔۔

وہ قدرے توقف کے بعد گویا ہوئ۔

“یہاں میری خواتین کے حقوق سے مراد ان کا عزت واحترام، ذہنی اور جسمانی تشدد سے محفوظ رکھنا، تعلیم حاصل کرنے کا حق، ان کے عزت نفس کی خیال،  رائےکا احترام، اپنی پسند اور نا پسند کا حق رکھنا، کام کی مکمل اجرت ملنا وغیرہ شامل ہیں مگر افسوس میری بہنیں یہاں خود کو اس پروٹیکٹو شیل سے باہر نکال رہی ہیں جسے اللّہ نے ہمارا محافظ بنایا ہیں”۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک نگاہ اس کی سرمئ آنکھوں میں ڈالی جو ہجوم میں کھڑی لڑکیوں پہ ناگوار نظر ڈال کر ایک بار پھر گرجی تھی وہ کوئ عام لڑکی نہیں تھی —اس کے دل سے بے ساختہ آواز آئ تھی۔۔  اگر عام ہوتی تو موسی سکندر اس کی جانب کبھی بھی راغب نہیں ہوتا اس کےدل نے مضبوط دلیل دے کر  خود کو لاجواب کر دیا تھا۔۔۔

“خواتین کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے اس حقیقت سے مجھے بلکل انکار نہیں لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اب تک عورت مارچ ریلیوں سے متاثرہ خواتین کو کوئی فائدہ پہنچا؟ کیا عورت مارچ سے جو بچیاں تعلیم سے محروم ہیں ان کے خاندان انہیں اسکول بھیجنا شروع ہو گئے؟ کیا اب بچیاں ونی، کاروکاری  اور سوارا نہیں کی جا رہیں؟ کیا جن خواتین پر تشدد کیا جاتا تھا اب ان پر نہیں کیا جا رہا؟ کیا خواتین کو کام کی جگہ پر مردوں کے برابرحقوق اور تنخواہیں دی جانے لگیں ہیں؟ کیا محنت کش مزدور خواتین کو اس مہنگائی کے دور کے مطابق اجرت دی جانے لگی ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب اس لیے بھی ضروری ہیں کہ کسی بھی کام کو شروع کرنے کے بعد اس کے نتائج سے ہی ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کتنا کامیاب رہا؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہجوم میں کھڑی پلے کاڑڈز تھامے لڑکیوں کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھ کر پوچھنے لگی جن کے پاس ایمان کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔

“ہم خواتین کو سمجھنا ضروری ہے کہ تمام مرد ایک جیسے نہیں  ہوتے۔ اس لیے ان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع نہ کردیں ورنہ جو باشعور حضرات ہیں وہ بھی آپ کے نکتہ نظر کو سمجھ نہیں پائیں گے اور اصلاح کبھی بھی سخت زبان کے استعمال سے ممکن نہیں۔ عورت آزادی مارچ کی ریلیوں میں مرد حضرات کو اگر وِلن بنا کر ان پر تنقید  کے نشتر چلائے جائیں گے تو یقین جانیے معاشر ےمیں درستگی نہیں مزید بگاڑ آئے گا، آپ کے موقف کو غلط بھی سمجھا جائے گا اور ہو سکتا ہے یہی عورت آزادی مارچ  عام خواتین کے لیے مزید مسائل کا سبب بن جائے”۔۔۔۔۔۔۔
ایمان علی نہ آج گھبرارہی تھی اور نہ ہی جھجک رہی تھی اس کے لہجے میں چٹانوں سی سختی چھائ ہوئ تھی جسے موسی سکندر بہت گہری نظروں سے دیکھ رہاتھا۔

“حیدرآباد کی رنگ برنگی، دلکش، کھنکتی کانچ کی چوڑیاں پورے پاکستان میں مقبول ہیں۔ اس شعبے سے منسلک خواتین کے حوالے سے آپ کو مختلف میڈیا رپورٹس ملیں گی۔ خواتین کی خوبصورت کلائیوں کے لیے یہ مزدور خواتین جب کانچ کی چوڑیاں بناتی ہیں تو بھٹے کے شعلے اِن خواتین کی انگلیاں اور انگھوٹے کی کھال جلا دیتے ہیں۔ ان مزدور خواتین کو  پچیس درجن چوڑیاں بنانے کے لیے صرف سترروپے ملتے ہیں۔ اور دیہاڑی کے لیے صرف ساڑھے تین سو روپے دیے جاتے ہیں۔ ہے نہ حیران کن بات؟ جبکہ   حکومت نے  مزدور  کی ماہانہ اجرت سترہ ہزار پانچ سو روپے مقرر کر رکھی ہے تو کیا آپ نے اس پر آزادی مارچ کی ؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
وہ اپنے کرخت لہجے میں واضح سوال کر گئ تھی۔

“عورت آزادی مارچ کے لیے خواتین مہنگے اور مشہور برانڈز کے کپڑے بنارہی ہیں۔ کیا وہ جانتی ہیں کہ اس  لباس کو بنانے کے لیے برانڈ کے مالک نے اپنے ہاں کام کرنے والی غریب خواتین کو کتنا معاوضہ دیا؟ خود اس مارچ میں ملبوسات بنانے والے مشہور ڈیزائنرز موجود ہوں گے، کیا وہ ریلی کے شرکا کو بتائیں گے کہ وہ اپنے ہاں ملازمت کرنے والی خواتین کو کتنی اجرت دیتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کے سوال کرنے پر موسی سکندر خان اپنے لبوں کو بھینچھے ہوۓ سینے پر بازوں لپیٹے گرے پینٹ پر کالی ڈڑیس شرٹ میں الجھا کھڑا سوچ رہاتھا کے واقعی اس نے کبھی اس بارے میں اتنا  نہیں سوچا تھا جتنا اس پری پیکر نے سوچ رکھا تھا “۔

“نجی اسکولوں میں گریجویٹ خواتین اساتذہ کی تنخواہ تین سے چار ہزار روپے ماہانہ ہے جبکہ ماسٹرز خواتین اساتذہ کو سات، آٹھ ہزار روپے مہینہ تک تنخواہ دی جاتی ہےجونوکری چلی جانے کے خوف کے باعث یہ آواز بھی نہیں اٹھاتیں اور نہ کوئی ان خواتین کی مشکل حل کرنے کے لیے عملی کام کرتا ہےاس لیے صنفی مساوات حاصل کرنے کے لیے صرف قوانین میں ہی تبدیلی کی ضرورت نہیں بلکہ قوانین کو بامقصد طریقے سے لاگو کرنے کی بھی ضرورت ہے اور اس کے لیے باشعور سیاسی اور سماجی کارکنان، مختلف اداروں میں اعلٰی عہدوں پر فائز خواتین اور مردوں کی قیادت کو سامنے آنا ہو گا تاکہ معاشرے میں رچے بسے ثقافتی معمولات اور رویوں میں تبدیلی لائی جاسکے۔ اب صرف باتوں یا مارچ سے نکل کر کچھ عملی کام کر کے دکھانا ہو گا امید کروں گی آپ لوگوں کو میری بات اچھے سے سمجھ آئ ہوگی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ موسی سکندر  متاثر کن انداز میں اسے دیکھ کر رہ گیاجس کے پاس ہر بات کا کامل جواب تھا وہ ہر دلیل کو رد کرتی سب کو لاجواب کر رہی تھی۔۔
وہ اپنی بات مکمل کرکے جیسے ہی نیچے جانے لگی جب ہی ایک لڑکی کی آواز پہ وہ واپس پلٹی جو ہاتھ میں مائک تھامے اسے للکار رہی تھی ۔

“ہاں جی تو محترمہ باتیں تو بہت اچھی اچھی کرتی ہو پر مجھے تم سے صرف ایک سوال کا جواب چاہیۓکیا تمہیں اچھا لگتا ہےجب تمہیں کہی باہر جانا ہو تو تمہیں کسی مرد کی اجازت درکار ہو یا تم۔ان کے بنا گھر سے باہر نہیں نکل سکتی ؟کیا تمہیں اچھا لگتا ہے جب وہ تمہیں بات بات پہ ٹوکتا ہو کے یوں نہ کرو ,وہ نہ کرو ٹھیک سے چلو کپڑے صحیح سے پہنو”۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہجوم میں کھڑیں سب ہی لڑکے اس لڑکی کے سوالوں پر شورو غل کرنے لگیں وہی موسی سکندر خان کے ابرو تن گۓ جب اس نے اس پاکیزہ پری پیکر کی گھنیری پلکوں کی لرزش واضع دیکھی تھی  جب ہی اس نے اپنا نازک مخروطی ہاتھ ہجوم میں کھڑیں طالب علموں کی جانب کیا جس پر سب نے خاموشی اختیار کرلی ۔

“ہنسی آتی ہے مجھے آپ جیسے لوگوں کی بچکانا باتوں پر خیر میں زیادہ لمبی چوڑی تقریر نہیں کروں گی کچھ دنوں پہلے میری نظروں سے ایک دلچسپ نظم کہ لے یا تحریر جو بھی تھی مجھے بہت پسند ہے میں آپ کو وہی سنادیتی ہوں جس میں آپ کے سب ہی سوالوں کا جواب ہیں ویسے تو میرے شوہر ہے نہیں اگر ہوتے تو ,تو میری بھی سوچ یہی ہوتی “۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ دیر کے توقف سے بولی۔۔۔

“مجھے اچھا لگتا ہے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کہیں باہر جاتے ہوئے وہ مجھ سے کہتا ہے “رکو! میں تمہیں لے جاتا ہوں یا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں”۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھ سے ایک قدم آگے چلتا ہے۔ غیر محفوظ اور خطرناک راستے پر اسکے پیچھے پیچھے اسکے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے اس نے میرے خیال سے قدرے ہموار راستے کا انتخاب کیا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب گہرائی سے اوپر چڑھتے اور اونچائی سے ڈھلان کی طرف جاتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر مجھے چڑھنے اور اترنے میں مدد دینے کے لیے بار بار اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کسی سفر پر جاتے اور واپس آتے ہوئے سامان کا سارا بوجھ وہ اپنے دونوں کاندھوں اور سر پر بنا درخواست کیے خود ہی بڑھ کر اٹھا لیتا ہے۔ اور اکثر وزنی چیزوں کو دوسری جگہ منتقل کرتے وقت اسکا یہ کہنا کہ “تم چھوڑ دو یہ میرا کام ہے”۔
مجھے اچھا لگتا ہے ۔۔
جب وہ میری وجہ سے شدید موسم میں سواری کا انتظار کرنے کے لیے نسبتاً سایہ دار اور محفوظ مقام کا انتخاب کرتا ہے۔
تو جھے اچھا لگتا ہے ۔۔
جب وہ مجھے ضرورت کی ہر چیز گھر پر ہی مہیا کر دیتا ہے تاکہ مجھے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باہر جانے کی دقت نہ اٹھانی پڑے اور لوگوں کے نامناسب رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔
جب وہ مجھے میرے سارے غم آنسوؤں میں بہانے کے لیے اپنا مظبوط کاندھا پیش کرتا ہے اور ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے۔۔۔
جب وہ بدترین حالات میں مجھے اپنی متاعِ حیات مان کر تحفظ دینے کے لیے میرے آگے ڈھال کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے “ڈرو مت میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا”۔
تو یقین مانو مجھے اچھا لگتا ہے ۔۔۔
جب وہ مجھے غیر نظروں سے محفوظ رہنے کے لئے نصیحت کرتا ہے اور اپنا حق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ “تم صرف میری ہو”۔
لیکن افسوس ہم میں سے اکثر لڑکیاں ان تمام خوشگوار احساسات کو محض مرد سے برابری کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے کھو دیتی ہیں جب مرد یہ مان لیتا ہے کہ عورت اس سے کم نہیں تب وہ اسکی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا چھوڑ دیتا ہے۔ تب ایسے خوبصورت لمحات ایک ایک کر کے زندگی سے نفی ہوتے چلے جاتے ہیں، اور پھر زندگی بے رنگ اور بدمزہ ہو کر اپنا توازن کھو دیتی ہے*.
مقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجیے یقین مانے زندگی بہت مختصر سی ہے”۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مرعوب کردینے والی تقریر کے بعد جیسے ہی مائک رکھ کر پلٹی ہجوم میں کھڑیں سب ہی طالب علموں نے اسے تالیاں بجا کر سراہا جو کسی کی بھی جانب دیکھے بنا اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئ۔جو اپنے ساتھ ساتھ موسی سکندر خان کا دل بھی لے گئ ۔
                                       ؓ۞۞۞۞۞
“یار مرتضی آج کل تیری شکاری طبیعت کہی جا سوئی ہے “۔
برہان اپنے جگری دوست مرتضی ملک کو دیکھ کر بولا جو سگریٹ کے کش لیتے ہوۓ اپنے موبائل پر مصروف تھا۔

“کیا مطلب میں سمجھا نہیں ؟”۔

وہ اپنی ایک آئی برو اچکا کے بولا ۔

“یار مطلب اپنے اندر کا سویا ہوا شکاری جگا کوئ بچی نہیں آئی کتنے دنوں سے تیرےپاس “۔

وہ چہرے پہ بیزاریت لاتےہوۓ بولا۔

“اچھا اچھا “۔
مرتضی ملک کا فلک شگاف قہقہ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں کھڑیں طالب علموں نے بھی پلٹ کر اس کے جناتی قہقے پر دیکھا تھا۔
“بچی کیا تو جتنی بچیاں کہے گا تیرا بھائ تجھے پھسا کر دکھاۓ گا آخر صورت ہی ایسی پائ ہے تیرے ہیرو نے خیر آج کل میرے مشن میں تھڑڈایر کی مسکان چوہدری ہیں “۔
مرتضی ملک لبوں پہ مسکراہٹ دباۓ ہوۓ اسے آہستہ سے بتانے لگا۔
“کیا وہ پرکٹی مسکان چوہدری جو تجھے ہر وقت گھورتی رہتی تھی “۔۔۔۔۔۔۔

برہان خوشگوار کیفیت سے بولا ۔

“ہاں وہی مسکان چوہدری ہفتے کو اسے اپنی سالگرہ پر بلایاہے میں نے ہوٹل میں “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک آنکھ جھپک کے اس کے ہاتھ پر تالی مار کے قہقے لگانے لگا جس کے لہجے اور انداز سے مکرو فریب صاف جھلک رہاتھا۔

“کیا پر تیری سالگرہ تو جون میں نہیں آتی “۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان متحیر سا اسے دیکھنے لگا۔

“ابے گھامڑ اپنا ہر دن ہی سالگرہ کا ہوتا ہے جب بھی ساتھ کوئ بچی ہوتی ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ برہان کے سر پر چپت لگاتے ہوۓ بولا جو اس کی بات سمجھ آنے پر فلک شگاف قہقے لگانے لگا ۔
                                             ۞۞۞۞۞
ماضی۔۔۔

“سر عاقب مجھے آپ سے ایک درخواست کرنی تھی اگر آپ مناسب سمجھے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی سکندر نے تمہید باندھتے ہوۓ اپنی کلائ میں بندھی گھڑی میں دیکھا۔

“موسی بیٹے آپ اس طرح بات کرکے مجھے شرمندہ کررہے ہے آپ اس یونیورسٹی کے ٹڑسٹیز میں سے ہے آپ بس حکم کرے “۔۔۔۔

“اصل میں آپ کو تو معلوم ہی ہوگا میں اپنے بزنس میں کافی زیادہ مصروف ہوتا ہوں مگر میری فیلڈ ایسی ہے جس میں مجھے نۓ نۓ ٹیلنٹ کے ساتھ ایکسپیریمنٹ کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اس لیے میں ہر سال اس یونیورسٹی سے بہترین طالب علموں کا انتخاب کرتا ہوں پر اس بار میں چاہتا ہوں کے مجھے جب بھی وقت ملا کرے میں ان طالب علموں کے ساتھ مل کر پڑھا کروں “۔۔۔۔۔۔۔

عاقب صاحب حیرت کی تصویر بنے موسی سکندر کو دیکھنے لگے جو لندن سے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے باوجود یہاں کے طالب علموں کے ساتھ پڑھنا چاہتا تھا۔

“سر یہ تو ہمارے لیے فخر کی بات ہوگی مگر آپ پڑھیں گے کیوں آپ تو خود اتنے ملٹی ٹیلینٹڈ ہے آپ کو تو لیکچرز دینے چاہیے یہاں پر آکے”۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ماتھے پہ سلوٹیں لاۓ اسے دیکھنے لگے جس کا لہجہ دیکھ کر انہوں  نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔

“نہیں سر مجھے یہاں ایک طالب علم کی حیثیت سے وقت گزارنا ہے ہفتے میں جس دن بھی فارغ ہوا تو یہاں کا رخ ضرور کروں گا امید کروں گا آپ کو خوشی ہوگی میرے یہاں آنے سے “۔
۔۔
موسی سکندر دوٹوک انداز میں بولتے ہوۓ اپنے قدم۔باہر کی جانب بڑھانے لگا جہاں اس کا مینیجر انتظار میں کھڑا تھا۔

“قمر ابھی جو اسٹیج پرعورت مارچ کے لیے لڑکی تقریر کررہی تھی ان کے بارے معلومات حاصل کرو “۔۔۔۔۔۔

موسی سکندر ارد گرد میں نظر دوڑاتا ہوا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا ۔
“یس سر “۔
                                      ۞۞۞۞
جاری ہے اچھی لگے تو لائک کرکے اپنی حاضری کا یقین دلاۓ اور یقین مانے  یہ مکمل یہی پوسٹ ہوگا۔۔۔

Refrence:Aurat march 🔥
                 Bloggers news🔥

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *