MOMINA EPISODE 2

  آسمان پہ چمکتے یہ تارے کتنےخوبصورت لگتے ہے نہ حرم چارپائ پہ لیٹی مومنا اپنے برابر  میں بیھٹی حرم سے مخاطب ہوئ جو لیٹنے کے لیے پرتول رہی تھی۔شدید گرمی اور حبث کے موسم میں یہ تینوں ماں بیٹیاں عموماًصحن میں سوتی تھی۔جب مومنا کی آواز پہ حرم نے ُاس کی جانب دیکھا

                                           کتناوسیع ہے نہ یہ آسمان اللہ نے ِاس میں کوئ کمی نہیں چھوڑی کہی کوئ شگاف نہیں جہاں نظر پھیرو وہاں تک نظر تھک کر لوٹ آۓ گی مگر کوئ کمی نظرنہیں آۓ گی ہے نہ حرم “۔مومنا نے کھوۓ ہوۓ انداز میں تاروں سے بھرے آسمان کو دیکھتے ہوۓ کہا۔

“ہاں مومی کیوں کے اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہے کئ بے شمار آیات میں  جیسے کےسورةالملک کی آیت تین میں۔

“جس نے اوپر نیچے آسمان بناۓ تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤگے۔پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں کوئ خلل نظر آتا ہے؟۔

حرم نے چرپائ پہ نیم دراز۔ہوتے ہوۓ اپنی بہن کو دیکھا جس نے آج ہر بار کی طرح ُاسے قرآن کا مستند حوالہ دینے پر ٹوکا نہیں, نہ ہی ُاسےحافظہ جی کہا ۔

“مومی آج تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ گڑیا”۔حرم نے اپنی چھوٹی بہن کی طرف کروٹ لے کر ُاس کے سر پہ ہاتھ رکھا جس پر مومی نے ُاس کے ہاتھ کو جھٹکا اور آسمان کی طرف دیکھتے       ہوۓ کہا                                       ۔۔                                     

  تو پھر آپا ُاس نے ہماری زندگی میں اتنے خلل کیوں بناۓ کیوں ہماری زندگی بھی اس آسمان کی نہ طرح بنائ جس میں کوئ خلل نہ ہو بلکہ چراغا ہو روشن سےستارے چمکتے ہوجس میں کوئ ٹاٹ کےپیوند نہ ہو۔ُاس نے کیوں ہماری زندگیوں میں اتنی مشکلات رکھی آپا, جب میں تمہیں اور اماں کو اتنی محنت کرتے دیکھتی ہوں تو میرا دل خون کے آنسوں روتا ہے, میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ابو کو یونہی بستر سے لگے دیکھا یے ہم دونوں نے اپنا پچپن لوگوں کے نۓ  کپڑوں کے دھاگے کاٹ کاٹ کر گزرا ہے کے ِاس کے ایوز ہمیں چند پیسے ملے گے جس سے ہماری اماں کی مدد ہوجاۓ گی جو لوگوں کے کپڑے سلائ کرکر کے ساری ساری رات جاگتی رہتی تھی تاکہ وقت پہ سوٹ ِِسل سکےاور ہمیں پیسے مل جاۓ جس سےہماری ضرورتیں پوری ہوجاۓ۔مومنا کی آنکھوں سے گرم سیال مسلسل بہ رہاتھا۔ایک بار یاد ہے حرم آپا اماں کے ہاتھ میں چھالے نکل آۓتھے دن رات سلائی کر کر کے جس پہ اماں نے کچھ دن کے لیے سوٹ سینا بند کردیۓ تھےہمارے حالات کتنے خراب ہوگۓ تھے, مجھے آج بھی وہ وقت یاد آتا ہے تو میرے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے یے جب ہم رات گۓتک ُبھوکے تھے اور ہم نے کچھ نہیں بنایا تھا پھر اماں ہمارے لیے اتنی رات کوگلی کے کونے پہ بنی دکان پہ سودا لینے چاچا سے ُادھار گئ تھی ,میں انہیں دروازے کی اوٹ سے دیکھ رہی تھی آپا ,ہماری اماں سب سے پیچھے انتظار میں کھڑی تھی کے جیسے ہی سارے خریدار دکان سے باہر نکلے گے تب میں اندر جا کے ُادھار سودا مانگو گی ”                                          مومنا کی آنکھوں سے گرم سیال نکل کرتکیے میں جزب ہونےلگے۔

                 ہماری اماں کتنی خودار ہے نہ حرم آپا, وہ ُاس وقت کتنی مجبور تھی کے ہماری خاطر اپنی خوداریت کو چھوڑ کے وہ دکان کے باہر انتظار میں کھڑی رہی کے کب دکان خالی ہو اور وہ اندر جا کے اپنے بچ کے لیے سودا لے “۔حرم نے اپنی چھوٹی معصوم۔بہن کو دیکھا جو بظاہر اپنی حرکتوں سے انہیں لاابالی سی لگتی تھی پر وہ توبہت گہری نکلی, اس نے مومی کے آنسوں پونچے اورخود کے بھی ۔ 

            مومی میری جان سب ٹھیک ہوجاۓ گا ایک بار یہ میری ڈگڑی مکمل۔ہوجاۓ پھر دیکھنا میں کسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں اپلائ کروگی مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے ہمارے دن بھی بدلے گے “۔

“کچھ نہیں بدلے گا آپا تم یونہی دھکے کھاتی رہوں گی ہماری خاطر ,کیا کرتی ہو اب بھی سارا سارا دن بولو ,صبح اماں نے یاد دلایا تھا نہ بھول گئ کے تم تین ہزار کمانے کے لیۓ سارا سارا دن لیب میں کھڑی رہتی ہو کیا اللہ کو تم پہ ترس آیا ؟۔نہیں نہ تو کیوں بھروسہ کرو میں بولو! !مجھے بھی عروج کی طرح موبائل چاہیے میں بھی ُاس کی طرح بس میں دھکے کھانے کے بجاۓ کالج کی وین میں جانا چاہتی ہوں    ,میں بھی چاہتی ہوں تم صرف پڑھوں تمہاری شادی ہو ہماری اماں بینائ کمزور ہونے کے باوجود لوگوں کے کپڑے سیتی ہے تاکہ گھر کا خرچا چل سکے میں چاہتی ہو وہ کچھ نہ کرے اب آرام کرے ,بتاؤ دے گا مجھے اللہ یہ سب کچھ حرم آپی بتاؤ!نہیں ہے نہ تمہارے پاس کوئ جواب “۔مومنا نے حرم کی طرف آنسوؤں سے بھرے چہرے سے دیکھا ۔            ۔                  ۔

About admin

Check Also

Thirst of Billionaire episode 2

 Shaukat finally confessed, feeling burdened by their mistreatment. “I’ve seen them,” he said. “But it’s …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *