MOMINA EPISODE 1

شادی کی رات اپنے تمام حق وصول کرنے کے بعد وہ بستر پہ اپنی نئ نویلی ُدلھن کے ساتھ نیم دراز تھا کے فون کی گھنٹی بجی۔اس نے ہاتھ بڑھا کے فون کرنے والے کا نمبر دیکھا تو بھک سے سارا سرور ُاتر گیا وہ بستر سے ُاٹھتے ہوۓ اپنی نئ نویلی ُدلھن کی جانب ُمڑا۔

“میں ایک بہت ضروری فون کال ُسن کے آیا ہنی تم میرا یہی انتظار کرنا “۔

وہ دروازہ آہستہ سے بند کرتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا وہ کسلمندی سے بستر پر اپنے ُدلھے کا انتظار کرنے لگی کافی وقت گزرجانے کے بعد بھی جب وہ نہ آیا تو ُاس نے باہر جانے کا فیصلہ کیا ,وہ دبے پاؤں اپنے کمرے سے باہر نکل آئ کیوں کہ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا راہداری سے گزرتے ہوۓ اوپر دوسری منزل کی جانب جاتی ہوئ سیڑھیوں سے ُاسے اپنے ُدلھے کی آوازے آرہی تھی تھوڑی سیڑھیاں چڑھنے پرجو ُاس نے سنا ُاس نے ُاس کے پیروں تلے سے زمین کھینچھ لی۔

“ابے یار باس کی کال تھی ,کہنا کیا تھا بول رہاتھا ُاسے ابھی لے کر آؤ, میں نے بھی بول دیا بوس ابھی ُُاس کی ماں اور بہن ساتھ ہے کل صبح لاؤں گا”۔

فون کی  دوسری جانب سے کچھ کہا گیا۔  

ابے کہا سے سالے کراۓ کے رشتہ دار تھے سارے چلے گۓ اپنے اپنے گھروں کو “۔ُاس نے سیگریٹ پھونکتے ہوۓ کہا۔

“فون کے دوسری جانب سے پھر کچھ کہا گیا جس پہ ُدلھے میاں کا قہقہ نکل گیا ۔

“یار دو دن تک تو رکھو گا اپنے پاس اپنی پیاری ُدلھن کو پھر ُاسے ُاس کے اصلی مالک کو بیچ دوگا اچھے خاصے پیسے دے رہا ہے ٹونی, تو دل چھوٹا مت کر جب باس کو دینے لگو گا تو گھنٹہ پہلے تو بھی آجائ, تو بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھولی ہاہاہاہا ” ۔ُاس کے قہقے پورے گھر میں گونجنے لگے۔

وہ اپنی زندہ لاش کو گھسیٹتے ہوۓ واپس اپنے کمرے میں آگئ پھر اپنے زہن کو تیزی سے چلانے لگی ۔

” م م مجھے یہاں سے نکلنا ہوگا میں ان درندوں کے ہاتھ نہیں آؤں گی “۔وہ داۓ جانب کمرےکی اکلوتی کھڑکی کی جانب بڑھ گئ وہاں سے ُاس نے لان کی طرف جھانکا ۔“اگر اوپر سے چھلانگ   لگائ تو ہڈی پسلی تو ٹوٹے گی”۔         ۔

ُاس نے الماری میں جھانکا وہ بلکل خالی تھی پھر ُاس نے بیڈ سے چادر کھینچھ کے ڈریسنگ ٹیبل کے پاۓ کے ساتھ باندھی پھر ُاسے کھڑکی کی طرف سے باہر کی جانب پھینکا اس کی لمبائ دیکھی تو زمین سے تھوڑا اوپر تک چادر آرہی تھی  ُاس نے اللہ کا نام لے کر کھڑکی سے باہر پاؤں لٹکاۓ پھر چادر کو مضبوطی سے تھامے نیچے کی جانب ُاترنے لگی بارہ ِفٹ کے فاصلے سے ُاس نے چھلانگ لگادی, گرنے کی وجہ سے نازک  سےمہندی سے بھرے ہاتھوں پہ ٹوٹے گملے اور کانٹے دار پھول لگے ُاس نے زخموں کی پرواہ کیے بنا دروازے کی جانب دوڑلگادی جو خوش قسمتی سے ُکھلا ہواتھا وہ ِبنا پیچھے   ُمڑے بھاگ رہی تھی۔                          ۔

                      ۞۞۞۞۞۞

کب سے ٹیکسی والے گزر رہے ہیں اماں    پر بیس تیس روپے کم کرانے کے چکر   کرمیں آپ اپنی اتنی پیاری بیٹی کو      دھوپ میں جلارہی ہو”۔مومنا نے کڑکتی ہوئ دھوپ میں چہرے پہ آۓ پسینے کواپنے ڈوپٹے سے صاف کرتے ہوۓ کہا 

“تجھے کیا پتہ بیس تیس روپے کی اہمیت مومنا تو جب خود کماۓ گی نہ تب تجھے معلوم پڑے گا,کس طرح تیری                                                  بہن تین ہزار روپے کی نوکری کے لیے سارا دن اسکول    میں کھڑی رہتی ہے ”   ۔ساجدہ بیگم نے مومنا کی بات پہ برہم ہوتےہوۓ ُاسے جھاڑ پلاۓ

           “مومی کیا ضرورت ہے اماں کو ایسے   کہنے کی وہ ہمارے لیے ہی تو کرتی ہے سب کچھ “۔حرم نے گرمی سے لال  تمتماتے ہوۓ مومنا کے چہرے پے نظرڈالی۔                                                   “چلو بیٹھو ہوگئ ہے ٹیکسی,اے بھیا زرا ٹیکسی تھوڑی پیچھے ڸانا”۔اماں نے پہلے مومنا اور حرم کو ٹیکسی کا بتایا پھر ٹیکسی والے کو 

پیچھے ُبلواکے اس میں بیٹھنے لگی 

“حرم ُرکو مجھے کھڑکی والی سائیڈ پہ بیٹھنا ہے”۔

حرم ُرک گئ کیوں کی اماں کا بھی دم ُگھٹتا تھا اس لیے وہ بھی ہمیشہ کھڑکی والی سائیڈ پی بیٹھتی تھی۔

“امّی یہ سکینہ خالا کے گھر میلاد پہ ذرا اچھا کھانا نہیں تھا قسم۔سے تھوڑا سا سالن ڈونگے میں آیا تھامیں نے رفعت سے دوبارہ مانگا تو پلٹ کے آئ ہی نہ ,میں نے تین چار بار اشارہ کیا پر وہ لڑکی نظریے ملاۓ بغیر نکل گئ”

۔مومنا اپنا کھانے کا غم اپنی بہن اور ماں سے کرنے لگی جس پہ حلیمہ بیگم نے مومنا کی کمر پہ ایک لگائ۔

“تجھے شرم نہیں آتی مومی کسی کو اس طرح شرمندہ نہیں کرتے اگر وہ نہیں لائ تھی تو اس کا۔مطلب اس کے پاس نہیں  ہوگا تو کیوں ُاسے کہ رہی تھی باربار                                   ۔

“جب پوچھنا ہی نہیں تھااماں تو گھر ُبلایاہی کیوں تھا ,ویسے بھی وہ رفعت چڑیل جان کے ایسے کرتی ہے میرے ساتھ”۔

“مومنہ میرے بچے میں تجھے کتنی بار سمجھاؤں کسی کا نام۔بگاڑنا اللہ کو سخت نا پسند ہے اب جو میں تجھے بتا رہی ہوں ِاسے گانھٹ باندھ لے اپنے زہن میں, اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ِارشاد فرماتا ہے سورة الحجرات میں 

“اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ ن کریں وہی ﻇالم لوگ ہیo

تو میرے بچے دیکھا اللہ ہمیں کس طرح صاف تنبیع کررہے ہے, مجھے نہیں لگتا اس سے زیادہ آسان طریقے سے میں تمہیں سمجھا سکتی ہوں اب میں تمہارے منہ سے دوبارہ کسی کا نام۔بگاڑتے ہوۓ نہ سنو کیا سمجھی “۔

“جی اماں نہیں بگاڑو گی اب “۔مومنا نے منہ ُپھلاۓہوۓ  اماں کو جواب دیا مگر دل میں تہیہ کرلیا رفعت سے بدلا لینے کا۔۔

مومنا کھڑکی سے سر ٹکاۓ پاس سے گزرتی ہر بڑی گاڑی کو  حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ دل میں دعا۔مانگنےلگی کاش میرے پاس بھی اتنی بڑی گاڑی ہوتی تو میں بھی رکشے ٹیکسی کے بجاۓ گاڑی میں ُگھومتی ۔۔

“مومی کیا دیکھ رہی ہو ۔حرم نے مومنا کاکندھا ہلایا جو کسی گہری سوچ میں ُگم تھی  ۔

“کچھ نہیں “۔مومنا نے آہستہ آواز۔میں جواب دے کر اپنی آنکھیں موند لی ۔

About admin

Check Also

MOMINA EPISODE 6

 صحیح تو کہا ہے وہ گاڑی والا ہے نہ جو سفید کرولا      میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *